ابونصر فاروق:8298104514
اور ذرا انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ سنادو، جب اُن دونوں نے قربانی کی تو اُن میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہیں کی گئی،اُس (برے بھائی)نے کہا میں تجھے مار ڈالوں گا، اُس(اچھے بھائی) نے جواب دیا اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتاہے۔(۲۷) اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہ اٹھاؤںگا، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔(۲۸) میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن کر رہے۔ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے۔(۲۹)آخر کار اُس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اُس کے لیے آسان کر دیا اور وہ اُسے مار کر اُن لوگوں میں شامل ہو گیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔(۳۰ )پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تا کہ اُسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے۔یہ دیکھ کر وہ بولا افسوس مجھ پر! میں اس کوے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا اس کے بعد وہ اپنے کئے پر بہت پچھتایا۔ (المائدہ:۲۷تا۳۱ )
قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔ اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام مسلم رکھا تھا اور اس قرآن میں بھی تمہارا یہی نام ہے، تاکہ رسول تم پر گواہ ہوں اور تم لوگوں پر گواہ بنو…(الحج:۷۸)
( قربانی کی دعا کا ترجمہ:…بیشک میں اپنا رخ کرتاہوںاُس کی طرف جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا اور میں یکسو مسلم ہوں اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں،میری نمازاورمیری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرناسب کچھ رب العالمین کے لئے ہے۔میں شرک کرنے والا نہیں ہوں،اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے،اور میں اہل اسلام میں سے ہوں۔یا اللہ یہ قربانی تیرے لئے ہے اور تیری ہی طرف سے ہے،بسم اللہ اللہ اکبرے ہوئے تیز چھری جانور کے گلے پر پھیر دیجئے اور ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھئے : یا اللہ اسے میری طرف سے قبول فرما جیسے کہ تونے اپنے دوست ابراہیم علیہ السلام اوراپنے حبیب حضرت محمدﷺ کی طرف سے قبول فرمایا،حضرت محمدﷺ پر درود و سلام ہو۔اگر دوسرے کی جانب سے کرے تو منی کے بجائے مِنْکہے اور اس کے بعد جس کے نام سے قربانی ہو ،اُ سکا نام اور اُ س کے والد کا نام لیجئے۔
نہ اُن کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون،مگر اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔اُس نے اُن کو تمہارے لئے اس طرح مسخر کیا ہے تاکہ اُس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اُس کی تکبیر کرو اور اے نبیﷺ بشارت دے دو نیکو کار لوگوں کو ۔(الحج:۳۷)
رسولﷺ ملاحظہ فرمائیے:نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ جس شخص کو (قربانی کی) وسعت ہو او ر وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ پھٹکے۔(ابو داؤد)
نبی کریمﷺنے فرمایا کہ قربانی کے دن اللہ کے نزدیک آدمی کا سب سے محبوب عمل خون بہانا ہے۔قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنی سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا۔ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتا ہے، اس لئے خوش دلی کے ساتھ قربانی کرو۔(ترمذی)نبی ﷺنے فرمایا کہ قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے نیکی ملے گی۔ (ترمذی)
نبی کریمﷺنے فرمایا کہ صرف دو دانت والی (یعنی ایک سال والی)بکری کی قربانی کرو۔ (بخاری)عبد الرحمن ؓبن عوف نے کہا:نبی کریمﷺنے فرمایا کہ جب عشرہ ذو الحجہ شروع ہو جائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنے کا ارادہ کرے تو وہ اپنے بالوں اور ناخنوں کونہ کاٹے۔(مسلم) نبی کریمﷺنے فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی تو اُس نے اپنی ذات کے لیے جانور ذبح کیا اور جس نے نماز کے بعد قربانی کی اُس کی قربانی پوری ہوئی ۔ اُس نے مسلمانوں کی سنت کو پا لیا۔(بخاری) نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی ، و ہ دوبارہ قربانی کرے۔(بخاری) نبی کریمﷺنے فرمایا کہ جو جانور لنگڑا ہو، اندھا ہو،بیمار ہو یا لاغر اور کمزورہو اُس کی قربانی نہ کرو۔ (ترمذی) نبی کریمﷺنے فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین ن سے زیادہ نہ کھایا کرو۔(بخاری)(یہ حکم اُس وقت کے لئے تھا جب مسلمان مفلس تھے) جب اگلے سال (قربانی کا دن آیا تو) صحابہ نے عرض کیا کہ کیا ہم لوگ پچھلے سال کی طرح کریں؟ نبی کریمﷺنے فرمایا ؛نہیں وہ ایسا سال تھا جب لوگ سخت ضرورت مند تھے تو میں نے چاہاکہ (قربانی کا گوشت )اُن میں پھیل جائے۔ (مسلم)شروع میں مسلمان تنگی کا شکار تھے اور مفلس تھے اس لئے حکم دیا گیا کہ قربانی کا گوشت کھانے کے ساتھ بانٹو بھی جمع کر کے مت رکھو۔ ایک صحابی دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے۔ ایک نبیﷺ کی طرف سے اور دوسرا اپنی طرف سے۔ اُن سے پوچھا گیا تو اُنہوں نے بتایا کہ مجھے اسی کا حکم نبی اکرمﷺنے دیا ہے اس لئے میں اس کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ (ترمذی)
بعض اہل علم نے میت کی طرف سے قربانی کی رخصت دی ہے اور بعض لوگ اس قربانی کو درست نہیں سمجھتے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ بات زیادہپسندیدہ ہے کہ میت کی طرف سے قربانی نہ کر کے رقم صدقہ کر دی جائے۔اگر قربانی کی جائے تو اس میں سے کچھ بھی خود نہ کھائے۔(ترمذی)
نبیﷺنے ایک مینڈھے کی قربانی کی اور فرمایایہ میری امت کے اُن لوگوں کی طر ف سے ہے جنہوںنے قربانی نہیں کی ہے۔(ترمذی) یہ عمل نبیﷺ کا مخصوص عمل تھا۔ اُنہوں نے نبی کی حیثیت سے پوری امت کے لئے قربانی کی تھی۔اب دنیا میں کوئی آدمی نبیﷺ کی حیثیت نہیں رکھتا ہے اس لئے وہ ایک جانور پوری امت کی طرف سے نہیں کر سکتا ہے۔امت کی جگہ خاندان کی طرف سے ایک جانور کرنے کی بھی کوئی روایت نہیں ملتی ہے۔ہاں جو لوگ نادار ہیں اور گھر کا ایک ہی آدمی قربانی کرسکتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کی قربانی کو گھر بھر کی طرف سے قبول کر لے گا اورپورے گھر کو قربانی کے اجر و انعام سے نوازے گا۔
نبیﷺ نے فرمایا اگر بکری یا گائے کی قربانی کے بعد اس کے پیٹ سے مردہ بچہ نکلے تو چاہو تو اسے کھالو۔ جانور کی قربانی کرنے میں اس بچہ کی قربانی بھی شامل ہے۔(ابو داؤد)صحابہ روایت کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے موقع پر اونٹ اور گائے کو سات آدمیوں کی طرف سے نحر(ذبح) کیا گیا۔اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اونٹ دس آدمیوں کی طرف سے بھی کفایت کر جائے گا۔(ترمذی) علی ؓنے کہا کہ گائے کی قربانی سات آدمیوں کی طر ف سے کرو۔حجیہ نے پوچھا اگر اس کے پیٹ سے بچہ نکلے تب ؟ اُنہوںنے کہا گائے کے ساتھ اُس کو بھی ذبح کر دو۔(ترمذی)
نادار لوگوں کو بکرے کا گوشت کھانے کو نہیں ملتاہے، اس لئے مالدار لوگوں کوچاہیے کہ زیادہ سے زیادہ بکرے کی قربانی کر کے مفلس ضرورت مندوں میں گوشت تقسیم کریں۔ہر گھر کو اتنا گوشت بھیجنا چاہئے کہ وہ کم سے کم ایک وقت بکرے کے گوشت کا کھانا کھالے۔جن لوگوں کے یہاں قربانی ہوئی ہو وہ ایک دوسرے کو بدلے میں گوشت بھیجیں یہ نیک عمل نہیں صرف دنیا داری ہے۔اس سے بچنا چاہئے۔
یہاں پر ایک مسئلہ قابل غور ہے کہ جو لوگ قربانی کرتے ہیں کیا اُن کو قربانی کی دعا یا دہے ؟ کیا وہ اس دعا کا معنی اور مطلب سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ کے سامنے کیا اقرار کر رہے ہیں ؟ دیکھا یہ جاتا ہے کہ کم ہی ایسے گھر ہوں گے جہاں لوگوں کو یہ دعا یاد ہے۔عام طور پر کوئی پرچہ یا دعا کی کتاب تلاش کی جاتی ہے تا کہ اُ س میں لکھی دعا پڑھ کر قربانی کی جائے۔گویا قربانی ایسا عمل ہے جس کے لئے عبادت کے پہلو سے کوئی تیاری پہلے سے نہیں کی گئی تھی۔دعا کا پڑھنا ایک رسم ہے ، اس کا قربانی کرنے کے عقیدے اور عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو لوگ یہ جانتے ہی نہیں ہیں کہ قربانی کس کی یاد میں اور کس کے حکم سے کی جارہی ہے، اُن کی قربانی دکھاوے کے سوا کیا ہے ؟ اور عبادت کے نام پر دکھاوا کرنا شرک جیسا عمل ہے جس کو اللہ تعالیٰ کسی قیمت پر معاف نہیں کرے گا ۔
کیامیری یہ تحریر مسلمانوں کا ایمان جگا پائے گی ……اور وہ اپنے رویے پر نظر ثانی کریں گے یا زندگی بھر قربانی کا عمل شوق کی تکمیل اور نام ونمود کے لئے کیا جاتا رہے گا ؟ تعجب یہ ہے کہ مسلمان فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں لیکن قربانی کے اس طرز عمل میں سب کا مکمل اتفاق ہے۔شاید ہی کچھ لوگ اوپر لکھی باتوں کا پاس و لحاظ کرتے ہیں۔
بہت ہی سادہ ؤرنگیں ہے داستان حرم
نہایت اس کی حسین ابتدا ہیں اسماعیل

