منور رانا کے اقوالِ آبِ زر: اویسی کی سیاست طرزِ جناح
تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز
مشہور غزل گو، جہاندیدہ مفکر، تاریخ کے ناقد اور درجنوں کتابوں کے مصنف مرحوم منور رانا صاحب کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے دو سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔ مگر ان کی بصیرت، حبِ وطن اور دور اندیشی آج بھی زندہ ہے۔ پانچ سال پہلے جب انہوں نے ٹی وی چینلوں پر اویسی خاندان اور اس کی سیاست پر جو کچھ کہا تھا، وہ الفاظ آج نہ صرف ماضی کے آئینے میں فٹ بیٹھتے ہیں بلکہ حالِ حاضر کے حقائق پر اتنے صادق آتے ہیں کہ ہر ذی شعور شخص حیران رہ جاتا ہے۔ منور رانا مرحوم نے جو کچھ فرمایا تھا، وہ آج کے بیشتر سیاست دانوں، تجزیہ کاروں اور دانشوروں کے بیانات سے زیادہ گہرا، حقیقت پسندانہ اور قومی سلامتی کے تناظر میں اہم ہے۔ ان کے یہ اقوال لمحہ فکریہ نہیں، بلکہ ایک قومی تنبیہ ہیں۔ آئیے انہی اقوال کو ترتیب وار، تفصیل کے ساتھ پیش کیا جائے اور ان کا تجزیہ بھی کیا جائے۔
منور رانا صاحب نے کہا:”جب اسد اویسی کے والد سلطان صلاح الدین اویسی کلکتہ الیکشن لڑنے آئے تھے اور ۴۰ امیدوار میدان میں اتارے تھے، جس پر جیوتی باسو نے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ ان کے امیدوار اپنی ضمانت بچا لیں تو ہم سیاست سے سبکدوش ہو جائیں گے۔” یہ بات بہت اہم ہے۔ اویسی خاندان حیدرآباد کے ایک مخصوص علاقے (چار منار، گوشہ محل وغیرہ) سے باہر اپنی جڑیں نہیں پکڑ سکا۔ پھر بھی وہ دور دراز ریاستوں (اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، مہاراشٹر، دہلی وغیرہ) میں جا کر مسلمانوں کو "مظلوم” اور "خطرے” میں دکھا کر ووٹ اکٹھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ اپنی اصل بستی میں ان کی کارکردگی محدود رہتی ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی "نفرت کی سیاست” اور "قومی اتحاد توڑنے” کی حکمت عملی ہے۔
منور رانا نے نشاندہی کی کہ یہ لوگ اپنی بیٹیوں کی شادیاں دیگر ریاستوں یا دیگر برادریوں میں نہیں کرتے، بالکل کشمیری علیحدگی پسندوں کی طرح۔ جبکہ حیدرآبادی کاچھوٹا بھائی کھلے عام کہتا ہے کہ’’ 15 منٹ کے لیے پولیس ہٹا دو، ہم ہندوو ¿ں کا صفایا کر دیں گے۔”یہ بات گنگا-جمنا تہذیب کے بنیادی اصول کے بالکل برعکس ہے۔ منور رانا صاحب نے درست فرمایا کہ اتر پردیش، اودھ اور رائے بریلی کے مسلمانوں کا ہندو بھائیوں کے بغیر گزارا نہیں ہو سکتا۔ ہماری تہذیب مشترکہ ہے۔ ایک مخصوص خاندان کی یہ "اندرونی علیحدگی” اور "بیرونی اشتعال انگیزی” قومی مفاد کے خلاف ہے۔
”منور رانا صاحب نے کہا کہ ہمارا سانحہ یہ ہے کہ ہر دور حکومت میں۔ شکاری کیلئے جنگل میں ہم ہانکا لگاتے ہیں‘‘۔ آج اویسی مسلمانوں کا ہانکا لگاتا ہے اور مسلمان شکار ہو جاتے ہیں۔ "یہ منور رانا کا سب سے طاقتور استعارہ ہے۔ اویسی صاحب جب چاہتے ہیں، اشتعال انگیز بیانات دیتے ہیں، نوجوان نسل کو مشتعل کرتے ہیں، پھر جب دنگے ہوتے ہیں تو غائب ہو جاتے ہیں۔ تلنگانہ اور حیدرآباد میں اپنی سیٹ بچانے کے لیے نرم رویہ، جبکہ یوپی، بہار اور بنگال میں سخت اور تقسیم کارانہ خطاب۔ یہ دوہرا معیار صاف ظاہر کرتا ہے۔
"ہم ہندوستانی مسلمان بھارت میں دوسرا جناح پیدا نہیں ہونے دیں گے۔ اویسی کہیں بھی چلے جائیں، کامیاب نہیں ہوں گے۔ غیور مسلمان انہیں جوتے مار کر نکال دیں گے۔”منور رانا نے 2022 سے پہلے یہ بات کہی تھی جب اویسی کی "قومی” توسیع عروج پر تھی۔ آج حقیقت یہ ہے کہ اویسی کی پارٹی چند ریاستوں میں محدود ہے۔ بڑے پیمانے پر مسلمان ان کی سیاست کو مسترد کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ سیاست انہیں ترقی، تعلیم اور معاشی بہتری کی بجائے صرف "مظلومیت” کے بیوپار میں الجھائے رکھتی ہے۔ منور رانا نے پوچھا: یوگی آدتیاناتھ کے دور میں عید الاضحیٰ پر پابندیاں، نماز میں رخنہ، بکرے-بھینس کی قربانی پر رکاوٹیں لگیں، مگر اویسی نے کبھی یوگی سے مل کر مسلمانوں کے مذہبی حقوق کی بات کی؟ یہ سوال آج بھی relevant ہے۔ اویسی صاحب جب چاہتے ہیں، "مسلمان خطرے میں ہیں” کا راگ الاپتے ہیں، مگر عملی طور پر مسائل حل کرنے، حکمراں سے بات چیت کرنے یا ترقیاتی کام کرانے میں ان کی دلچسپی نظر نہیں آتی۔
"اویسی کے اوپر B-Team ہونے کا الزام بہت مناسب ہے۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ MIM اور اویسی بھارتیہ جنتا پارٹی کی B-Team ہیں۔ "یہ منور رانا کا سب سے جرئت مندانہ بیان ہے۔ جب ایک طرف polarization ہوتا ہے تو دوسری طرف سخت گیر ہندوتوا قوتوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اویسی کی سیاست BJP کو "مسلمانوں کا خطرہ” دکھا کر ووٹ اکٹھا کرنے میں بالواسطہ مدد دیتی ہے۔ یہ ایک vicious cycle ہے جس میں سب سے زیادہ نقصان عام مسلمانوں کو ہوتا ہے۔ منور رانا نے وزیراعظم کو خط لکھ کر رائے بریلی میں اپنی ۶-۷ ایکڑ زمین بابری مسجد کی جگہ اسپتال بنانے کے لیے وقف کرنے کی پیشکش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہندو بھائیوں کو رام مندر گرانے کا دکھ ہے تو ہم مسجد کی جگہ اسپتال بنا کر حبِ وطن کا ثبوت دیں۔یہ ایک شاندار، مثبت اور قومی اتحاد کی مثال تھی جو اویسی کی منفی سیاست کے بالکل برعکس ہے۔
مرحوم منور رانا صاحب نے جو کچھ کہا، وہ صرف اویسی کے خلاف نہیں تھا، بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کی بقا، ترقی اور قومی دھارے میں شامل ہونے کی آواز تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمانوں کا مستقبل گنگا-جمنا تہذیب میں ہے، نہ کہ علیحدگی، اشتعال اور مظلومیت کے بیوپار میں۔ آج جب ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے، نوجوان نسل کو چاہیے کہ منور رانا جیسے جہاندیدہ لوگوں کے اقوال کو غور سے پڑھے۔ یہ اقوال آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں کیونکہ ان میں حقیقت، حبِ وطن اور دور اندیشی کا امتزاج ہے۔منور رانا زندہ رہیں گے —ان کی شاعری، ان کی بصیرت اور ان کا پیغامِ وطن دوستی ہمیشہ زندہ رہے گا۔

