National قومی خبریں

ہیرا گروپ کی جائیدادوں کو نیلام کر ای ڈی نے جمع کئے 300 کروڑ ۔ کلیمنٹ سرمایہ کاروں کی رقم صرف 50 کروڑ، بلا وجہ نیلامی کیوں؟

ہیرا گروپ کی جائیدادوں کو نیلام کر ای ڈی نے جمع کئے 300 کروڑ
کلیمنٹ سرمایہ کاروں کی رقم صرف 50 کروڑ، بلا وجہ نیلامی کیوں؟

نئی دہلی / حیدرآباد (رپورٹ: مطیع الرحمن عزیز) ہندستان کا بیدار باشندہ اور خصوصا میڈیا برادری اس بات سے واقف ہیں کہ ہیراگروپ آف کمپنیز کا مسئلہ کئی سوالوں میں الجھا ہوا ہے اور آئے دن ایجنسیوں کی منشا پر سوالات مزید گہرے ہوتے چلے جا رہے ہیں، حالیہ 19 جنوری کو ہوئے ہیرا گروپ کی 23 جائیدادوں کی نیلامی میں انفارسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) کی پریس ریلیز سے معلوم ہوا کہ 159 کروڑ روپئے کا انتظام کیا گیا ہے، اس سے قبل ہیرا گروپ کی جائیدادوں کی نیلامی میں لگ بھگ 120 کروڑ روپئے کا انتظام کیا گیا تھا، اس طرح سے کل ملا کر لگ بھگ 300 کروڑ روپئے کا انتظام ہو گیا۔ یہاں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ ہیرا گروپ کی نیلامیوں پر نیلامی پیمانے کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، نا تو کسی طرح کی جانچ ہوئی اور نا ہی کوئی ٹرائل شروع ہوا۔ شکایت کنندہ افراد کی تعداد 12000 بتائی جاتی ہے اور ہیرا گروپ اور اس کی سی ای او ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا دعوی ہے کہ ایس ایف آئی او کی لسٹ میں شامل افراد کی تعداد بڑھا چڑھا کر دکھانے کیلئے ایک فرد کا نام کئی بار استعمال کیا گیا ہے، اور کمپنی کے دعوے کے مطابق شکایت کنندہ افراد کے رقم کی مقدار صرف پچاس کروڑ روپئے ہے۔ جو بھی ہو انفارسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی نیلامی تاریخ میں بار بار تبدیلی اور کمپنی کے دعوی کے مطابق ہیرا گروپ کی جائیدادوں کو مارکیٹ ویلیو سے بہت کم قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے، اس طرح سے کمپنی کو نیلام کرکے برباد کرنے سے ملک کی اکونومی پر بھی اثر پڑے گا، لہذا بہتر قدم یہ ہوگا کہ پہلے جانچ پڑتال مکمل ہو، تاکہ سب کچھ صاف اور واضح ہو جائے، اور کمپنی کی مزید پراپرٹی نیلامی سے بچ جائے کیونکہ کمپنی کے پلیٹ فارم پر اپنے معاہدے کے تحت 75 فیصد سے زیادہ افراد قائم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ کمپنی چلے اور ان کو پہلے کی طرح تجارت کے ذریعہ منافع رقم ملتی رہے، کیونکہ سود فری تجارت کا مطلب ہے نفع نقصان میں برابر کی شراکت اور بلا منتخب رقم کے فائدہ حاصل کرنا۔ ای ڈی کے موقف پر سوالیہ نشان اس لئے بھی اٹھنا لازم ہے کیونکہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے اپنے آخری حکم میں 16 جائیدادوں کی نیلامی پر مہر لگایا تھا، مگر یہاں 23 جائیدادوں کی نیلامی کہیں نا کہیں سپریم کورٹ کی حکم عدولی اور ای ڈی کی منشا پر سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔
ہندوستان میں مالیاتی لین دین کے الزامات میں ملوث کمپنیوں کی تفتیش اور جائیدادوں کی بازیابی کا معاملہ اکثر پیچیدہ اور متنازعہ ثابت ہوتا ہے۔ ہیرا گروپ آف کمپنیز کا کیس بھی انہی میں سے ایک ہے، جہاں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی کارروائی تیز ہو چکی ہے، مگر کمپنی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور سرمایہ کاروں کے مفادات کی آمیزش نے صورتحال کو مزید الجھا دیا ہے۔ 19 جون 2026 کو ای ڈی کے حیدرآباد زونل آفس نے 23 منسلک (اٹیچڈ) جائیدادوں کی نیلامی مکمل کی، جس سے تقریباً 159 کروڑ روپے کا انتظام ہوا۔ اس سے قبل کی نیلامیوں میں تقریباً 120-140 کروڑ روپے کا اضافہ ہو چکا تھا، جس کے نتیجے میں کل وصولی 300 کروڑ روپے کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ای ڈی کا موقف ہے کہ یہ تمام جائیدادوں پریونشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (PMLA) کے تحت منسلک تھیں اور نیلامی سپریم کورٹ کی ہدایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے MSTC (میٹل سکریپ ٹریڈ کارپوریشن) کے ذریعے شفاف طریقے سے کی گئی۔ حاصل رقم متاثرہ سرمایہ کاروں کی واپسی کیلئے استعمال کی جائے گی۔ دوسری جانب ہیرا گروپ اور اس کی سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا دعویٰ ہے کہ شکایت کنندہ افراد کی تعداد بڑھا چڑھا کر دکھائی گئی ہے۔ ایک ہی شخص کا نام متعدد بار درج کیا گیا۔اصل (کلیمنٹ) سرمایہ کاروں کی رقم صرف 50 کروڑ روپے کے قریب ہے۔ کمپنی کا پلیٹ فارم اب بھی فعال ہے اور 75 فیصد سے زائد صارفین/شراکت دار چاہتے ہیں کہ کاروبار جاری رہے تاکہ سود فری شراکت داری کے تحت منافع و نقصان میں حصہ داری جاری رہے۔ یہ دعوے اٹھاتے ہیں کہ جائیدادوں کی مارکیٹ ویلیو سے کہیں کم قیمت پر نیلامی کی جا رہی ہے، جو کمپنی کو غیر ضروری طور پر تباہ کر رہی ہے۔ ابھی تک مکمل ٹرائل شروع نہیں ہوا، نہ ہی الزامات کی حتمی تصدیق ہوئی ہے۔ پھر بھی جائیدادوں کی بڑے پیمانے پر نیلامی کیوں؟ کیا یہ قبل از وقت اقدام نہیں؟ سپریم کورٹ نے بعض جائیدادوں کی نیلامی کی اجازت دی تھی۔ 23 جائیدادوں کی نیلامی کہیں عدالتی حکم کی خلاف ورزی تو نہیں؟ کمپنی کے وکلاءاس پہلو پر زور دے رہے ہیں۔
بار بار تاریخ تبدیل ہونے اور کم قیمتوں پر فروخت کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ ہیرا گروپ جیسے ادارے ہزاروں افراد کو روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ اگر کمپنی کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا بغیر مکمل تفتیش کے، تو ملازمین اور وابستہ کاروباری افراد متاثر ہوں گے۔ ملک کی معیشت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر مسلم کمیونٹی کے ان حصوں میں جہاں سود فری تجارت پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ متاثرین کو جلد از جلد انصاف ملنا چاہیے، مگر بے گناہ کاروبار کی تباہی بھی نہ ہو۔ ای ڈی کا کام جرائم کی آمدنی کی بازیابی اور متاثرین کی حفاظت ہے، جو سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو رہا ہے۔ یہ عمل شفاف اور تیز ہونا ضروری ہے تاکہ ہزاروں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو۔ دوسری طرف، کمپنی کے دعووں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر الزامات میں مبالغہ آرائی ہوئی ہے یا جائیدادوں کی قیمت کم لگائی گئی ہے تو یہ انصاف کی خلاف ورزی ہو گی۔ تمام الزامات کی تیز ترین اور شفاف تفتیش مکمل کی جائے۔ سرمایہ کاروں کی حقیقی فہرست اور دعووں کی تصدیق کی جائے۔ باقی جائیدادوں کی نیلامی سے پہلے عدالتی نگرانی میں مکمل آڈٹ کروایا جائے۔ ممکن ہو تو کمپنی کے فعال حصوں کو بحال کرنے کا راستہ تلاش کیا جائے تاکہ متاثرین کو طویل مدتی فائدہ ہو۔ یہ کیس نہ صرف مالی معاملات بلکہ قانونی عمل، معاشی استحکام اور عوامی اعتماد کے سوالات اٹھاتا ہے۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کو دونوں فریقوں کے دلائل کو متوازن انداز میں پیش کرنا چاہیے تاکہ حتمی انصاف ہو سکے۔

Related posts

ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی گرفتاری کے پیچھے ای ڈی حیدرآباد کے غیر قانونی کارروائی کا راز فاش

Paigam Madre Watan

पेशेवर देशद्रोहियों को बेनकाब करूंगी: डॉ. नौहेरा शेख

Paigam Madre Watan

संदिग्ध हत्यारे ईडी अधिकारी बनकर बंगले में घुसे

Paigam Madre Watan