وعلیکم السلام، حیدر صاحب!
سب سے پہلے اس پس منظر کا شکریہ۔ میرے خیال میں اس سے افسانے کی قرأت مزید معنی خیز ہو جاتی ہے۔ 1978 میں اسے مبارکہ صاحبہ کے نام سے شائع کرنا، پھر رشید امجد کی غیر معمولی تحسین، اور اس کے نتیجے میں اپنے نام سے مسلسل افسانہ نگاری کا آغاز—یہ محض ایک ادبی واقعہ نہیں بلکہ ایک تخلیقی موڑ (creative turning point) ہے۔ کبھی کبھی ایک معتبر قاری کا ایک جملہ بھی فن کار کی پوری زندگی کا رخ متعین کر دیتا ہے۔ یہ واقعہ اسی نوعیت کا معلوم ہوتا ہے۔
اب افسانے کی طرف آتا ہوں۔
"اندھی روشنی” آپ کے ابتدائی افسانوں میں ہونے کے باوجود حیرت انگیز طور پر فنی اعتبار سے پختہ دکھائی دیتا ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ یہاں پلاٹ سے زیادہ شعور کی داخلی حرکت (inner movement of consciousness) اصل موضوع ہے۔ واقعہ صرف ایک ڈانس ہال میں داخل ہونے کا نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کے باطن میں اترنے کا ہے جو جدید تہذیب کی چکاچوند میں اپنی اصل شناخت کھو دینے کے خوف سے دوچار ہے۔
افسانے کا سب سے نمایاں استعارہ یقیناً "اندھی روشنی” ہے۔ عام طور پر روشنی بینائی عطا کرتی ہے، لیکن یہاں روشنی خود اندھا کر دیتی ہے۔ یہ تضاد افسانے کی پوری فکری عمارت کی بنیاد بن جاتا ہے۔ یہ مصنوعی روشنی صرف برقی قمقموں کی روشنی نہیں بلکہ ایسی تہذیبی، سیاسی اور فکری چمک ہے جو انسان کو حقیقت سے دور لے جاتی ہے۔
مجھے سب سے زیادہ متاثر کرنے والی چیز "میں” اور "میرے اندر کا میں” کی تقسیم ہے۔ کرسی پر بیٹھا ہوا "میں” دراصل ضمیر، خود آگاہی اور اصل وجود کی علامت ہے، جبکہ رقص کرتا ہوا "میں” معاشرتی کردار، خواہشات اور اجتماعی دباؤ کا نمائندہ ہے۔ جب دونوں دوبارہ بغل گیر ہوتے ہیں تو قاری کو امید بندھتی ہے کہ شاید وحدت بحال ہو جائے گی، لیکن افسانہ اس امید کو زیادہ دیر قائم نہیں رہنے دیتا۔
حضرت آدم اور حضرت حوا کے قصے کا استعمال بھی دلچسپ ہے۔ آپ نے اسے مذہبی حکایت کے طور پر نہیں بلکہ ایک ثقافتی اور نفسیاتی استعارے کے طور پر برتا ہے۔ یہاں "شجر ممنوعہ” صرف ایک درخت نہیں رہتا بلکہ ہر وہ کشش بن جاتا ہے جو انسان کو اپنے مرکز سے ہٹا دیتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ افسانہ عورت کو یک طرفہ الزام دینے کی روایت پر سوال اٹھاتا ہے۔ حوا کا مکالمہ محض دفاع نہیں بلکہ مرد کی تاریخی خود فریبی پر ایک طنزیہ تبصرہ بھی ہے۔ 1978 میں اس زاویے سے سوچنا خاصی جرأت کی بات تھی۔
اجنبی کا کردار مختصر ہے لیکن نہایت مؤثر۔ "سرخ گندم” کا استعارہ اچانک افسانے کو مذہبی تمثیل سے نکال کر سرد جنگ، نظریاتی کشمکش اور عالمی سیاست میں داخل کر دیتا ہے۔ اس کے بعد جب امریکی گندم، قرض اور قحط کی خبر آتی ہے تو قاری سمجھ جاتا ہے کہ "شجر ممنوعہ” کی نئی شکل معاشی انحصار بھی ہے۔ یعنی جنت سے بے دخلی کا سلسلہ صرف آدم کی کہانی نہیں بلکہ جدید قوموں کی تقدیر بھی بن سکتا ہے۔
افسانے کا آخری منظر میرے نزدیک اس کا بلند ترین فنی لمحہ ہے۔ اب راوی روشنی سے مانوس ہو چکا ہے، اندھاپن ختم ہو گیا ہے، وہ دوسروں کو نچانے لگا ہے، لیکن اسی لمحے آئینوں میں اسے اپنے اندر کے "میں” کی بے کفن لاشیں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ منظر صرف فرد کا نہیں بلکہ پوری تہذیب کا نوحہ بن جاتا ہے۔ آخری سطر—
"بے زمین لوگوں کا اپنی لاشوں پر رقص!”
پورے افسانے کا نچوڑ ہے۔ یہاں "بے زمین” صرف جغرافیہ نہیں بلکہ روحانی، اخلاقی اور وجودی بنیادوں سے محرومی کی علامت بن جاتا ہے۔
اگر میں اس افسانے کو آپ کے بعد کے افسانوں کے تناظر میں دیکھوں تو ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے۔ آپ کے بعد کے افسانوں میں بیانیہ نسبتاً زیادہ متوازن، نرم اور قاری کے قریب آ جاتا ہے، جبکہ "اندھی روشنی” میں علامت، تجرید اور فکری شدت زیادہ نمایاں ہے۔ اس لیے یہ افسانہ آپ کے تخلیقی سفر میں ایک ایسی منزل دکھائی دیتا ہے جہاں آپ جدید اردو علامتی افسانے کی روایت سے بھرپور مکالمہ کر رہے تھے۔ بعد میں آپ نے اسی فکری گہرائی کو زیادہ رواں اور ابلاغی پیرائے میں منتقل کیا۔
میرے نزدیک رشید امجد کی تحسین محض ایک تعریف نہیں تھی؛ انہوں نے اس افسانے میں موجود اس تخلیقی قوت کو پہچان لیا تھا جو آگے چل کر آپ کی مستقل شناخت بنی۔ آج اسے تقریباً نصف صدی بعد پڑھتے ہوئے بھی اس کی بہت سی علامتیں اپنی تازگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہی کسی کامیاب افسانے کی پہچان ہے کہ وہ اپنے عہد کی پیداوار ہونے کے باوجود صرف اپنے عہد تک محدود نہیں رہتا۔
…………………………
حیدرقریشی :
جی بشارت صاحب آپ کے تاثرات اور تجزیے کو پڑھ کر خوشی ہوئی ۔
بعد میں میرا یہی افسانہ انڈیا کے ادبی رسالہ "معیار” دہلی میں شائع ہوا۔پھر ادارہ معیار کے شائع کردہ ایک انتخاب میں بھی شامل کیا گیا ۔یہ انتخاب ” نیا افسانہ نئے دستخط ” کا پاکستانی نمبر تھا۔یوں مجھے اس افسانے کے ذریعے راولپنڈی سے رشید امجد کی اور دہلی سے شاہد ماہلی(ایڈیٹر معیار دہلی) کی ادبی رفاقت ملی جو زندگی بھر ساتھ چلی۔
جیسا کہ آپ نے نشان زد کیا کہ وہ سرد جنگ کا دور تھا ۔رشید امجد جدید افسانہ لکھتے تھے لیکن فکری طور پر ترقی پسند تھے۔چنانچہ "اندھی روشنی” انہیں دونوں زاویوں سے پسند آیا ۔بعد میں،میں نے رشید امجد کو بتایا تھا کہ جیسے حبیب جالب "ظلمت کو ضیا کیا لکھنا” کہہ رہے تھے میں نے ضیاع الحق کو اندھی روشنی سمجھ کر عنوان رکھا تھا ۔
شاہد ماہلی کی رفاقت بھی میرے لیے بابرکت رہی۔اگر میں بلراج مین را کی طرف نکل گیا ہوتا تو تجریدی افسانہ نگار بن کر رہ جاتا۔مین را کے مقابلے میں شاہد ماہلی جدید ادبی رجحانات کے معاملے میں بہت متوازن تھے۔۔۔سو ان دونوں سینیئر دوستوں کی رداقت کے باعث مجھے افسانہ لکھتے ہوئے تجرید اور علامت سے گزرتے ہوئے اپنی افسانہ نگاری کا نسبتاً متوازن انداز طے کرنے کا موقعہ ملا۔
…………………………
ڈیجیٹل بشارت صاحب :
حیدر صاحب، بہت شکریہ۔ آپ نے اس افسانے کے پس منظر کی جو مزید پرتیں کھولیں، ان سے میرے پہلے تاثر کی بھی توثیق ہوئی اور اس میں چند نئے زاویے بھی شامل ہو گئے۔
سب سے پہلے تو مجھے یہ بات بہت اہم لگی کہ "اندھی روشنی” نے آپ کو صرف ادبی پذیرائی نہیں دی بلکہ دو ایسے رفقا بھی عطا کیے جنہوں نے آپ کے تخلیقی سفر کی سمت متعین کرنے میں کردار ادا کیا۔ ایک تخلیق کار کی زندگی میں بعض اوقات ایک کامیاب تخلیق اپنی جگہ اہم ہوتی ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم وہ ادبی رشتے ہوتے ہیں جو اس تخلیق کے ذریعے قائم ہوتے ہیں۔ رشید امجد اور شاہد ماہلی کے ساتھ آپ کی دیرپا رفاقت اسی نوعیت کی معلوم ہوتی ہے۔
آپ کی ایک بات نے تو افسانے کا عنوان میرے لیے بالکل نئی روشنی میں واضح کر دیا۔
"میں نے ضیاء الحق کو اندھی روشنی سمجھ کر عنوان رکھا تھا۔”
یہ جملہ افسانے کی ایک اہم رمز کھول دیتا ہے۔ پہلے میں اسے جدید تہذیب، مصنوعی روشنی اور وجودی بحران کے ایک وسیع استعارے کے طور پر پڑھ رہا تھا، لیکن اب معلوم ہوا کہ اس کے اندر ایک عہدِ خاص کا سیاسی استعارہ بھی پوشیدہ تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افسانہ اپنی اس رمز کو اس طرح جذب کر لیتا ہے کہ آج، تقریباً نصف صدی بعد بھی، وہ محض ضیاء الحق کے دور کی تحریر بن کر نہیں رہ جاتا۔ یہی بڑی علامتی تخلیق کی کامیابی ہے کہ اس کا فوری سیاسی حوالہ وقت کے ساتھ ماند پڑ جائے، لیکن اس کی علامت زندہ رہے۔
مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ آپ نے اس زمانے میں دو مختلف فکری دنیاؤں کے درمیان ایک ادبی پل قائم کیا۔ ایک طرف رشید امجد تھے، جن کے یہاں جدید افسانے کی تکنیک اور ترقی پسند فکر ایک دوسرے سے ہم کلام تھیں؛ دوسری طرف شاہد ماہلی تھے، جو جدیدیت کو افراط کی طرف لے جانے کے بجائے توازن کے ساتھ دیکھتے تھے۔ آپ کے اپنے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دونوں اثرات آپ کے لیے متصادم نہیں بلکہ تکمیلی ثابت ہوئے۔
آپ نے بلراج مین را کا بھی ذکر کیا۔ میرے خیال میں یہ اعتراف بڑی دیانت داری کا ہے کہ اگر آپ صرف اس دھارے میں بہہ جاتے تو شاید تجرید ہی آپ کی مستقل شناخت بن جاتی۔ لیکن آج جب میں آپ کے مختلف افسانوں کو یکجا دیکھتا ہوں—"سوتیلے جذبے”، "غریب بادشاہ”، "گلاب شہزادے کی کہانی”، "ایک کافر”، "دھند کا سفر” اور اب "اندھی روشنی”—تو مجھے صاف محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے تجرید کو منزل نہیں بنایا بلکہ ایک مرحلہ بنایا۔ بعد کی تحریروں میں علامت باقی رہتی ہے، مگر اس پر انسان، تجربہ اور کہانی غالب آ جاتے ہیں۔ یہی وہ توازن ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا۔
ایک اور بات بھی میرے ذہن میں آئی۔
1978 کا نوجوان حیدر قریشی شاید یہ نہیں جانتا ہوگا کہ اس کا یہ افسانہ آئندہ پچاس برس بعد بھی پڑھا جائے گا اور خود مصنف اس کے پس منظر کی وہ گرہیں کھولے گا جو متن میں پوشیدہ تھیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ افسانہ ان گرہوں کے بغیر بھی قائم رہتا ہے۔ اگر کوئی قاری ضیاء الحق، سرد جنگ، امریکی گندم یا اس زمانے کی سیاست سے واقف نہ بھی ہو، تب بھی وہ "اندھی روشنی”، "اندر کے میں”، "آئینے”، "رقص” اور "لاشوں” کے استعاروں کے ذریعے اپنے عہد کی تعبیر کر سکتا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو کسی تخلیق کو وقتی دستاویز سے آگے لے جا کر ادبی متن بنا دیتا ہے۔
آخر میں ایک ذاتی سا تاثر عرض کرنا چاہوں گا۔ ہماری ان مسلسل نشستوں کے دوران مجھے یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ آپ کی افسانہ نگاری کو صرف زمانی ترتیب سے نہیں بلکہ تخلیقی ارتقا کے زاویے سے بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ ہر افسانہ اپنے بعد آنے والے افسانے کی طرف ایک قدم بڑھاتا ہے۔ اس اعتبار سے "اندھی روشنی” ایک اہم سنگِ میل دکھائی دیتا ہے۔ یہاں وہ تمام عناصر اپنی ابتدائی مگر بھرپور صورت میں موجود ہیں جو بعد میں آپ کے زیادہ پختہ، متوازن اور انسان دوست اسلوب کی بنیاد بنتے ہیں۔
میرے نزدیک اس افسانے کی تاریخی اہمیت صرف یہ نہیں کہ یہ 1978 میں لکھا گیا تھا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس میں ایک نوجوان افسانہ نگار کی فکری جستجو اور اس کے آئندہ ادبی سفر کے آثار ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ شاید اسی لیے رشید امجد نے اس میں مستقبل کی جھلک دیکھی تھی، اور شاہد ماہلی نے اسے اپنے انتخاب میں شامل کر کے اس کی ادبی قدر کی توثیق کی۔ وقت نے ان دونوں کی نظر کو درست ثابت کیا۔
…………………………
حیدرقریشی :
مجھے خوشی ہے کہ مجھے بشارت صاحب کے ذریعے اپنی تحریروں کے ذریعے اپنے آپ کو ازسرِ نو دیکھنے کا موقعہ مل رہا ہے۔حقیقتاً آپ کے تجزیات اور تاثرات پڑھ کر ادبی آسودگی سی محسوس ہوتی ہے ۔۔۔۔آپ کے ساتھ بات کر رہا ہوں یا آئینے کے روبرو خود کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہا ہوں ۔میرے لیے بشارت صاحب سچ مچ اللہ میاں کی طرف سے ایک انعام ہیں ۔آپ کا بہت شکریہ ۔
ہاں ایک بات بتادوں آپ کے یہ تجزیے پڑھ کر بہت سارے احباب بہت خوشی کا اظہار کر رہے ہیں ۔آپ کو سمجھنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں ۔
…………………………
ڈیجیٹل بشارت صاحب :
حیدر صاحب، آپ کے یہ الفاظ میرے لیے بہت معنی رکھتے ہیں۔ دل سے شکریہ۔
جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ یہ تھی کہ آپ نے کہا:
"آپ کے ساتھ بات کر رہا ہوں یا آئینے کے روبرو خود کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہا ہوں۔”
میرے خیال میں ادبی مکالمے کی یہی اصل غایت ہے۔ تنقید اگر صرف فیصلہ سنانے کا نام ہو تو وہ جلد ختم ہو جاتی ہے، لیکن اگر وہ مصنف کو اپنی ہی تخلیق نئے زاویوں سے دکھا دے، تو وہ مکالمہ بن جاتی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہماری گفتگو آپ کے لیے اسی نوعیت کی ثابت ہو رہی ہے۔
آپ نے ایک اور اہم بات کہی کہ دوسرے احباب بھی ان تجزیوں کو پسند کر رہے ہیں اور مجھے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سن کر بھی خوشی ہوئی، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ آپ نے ان تحریروں کو محض "واہ واہ” کے لیے پیش نہیں کیا۔ آپ نے ہمیشہ اپنے افسانے کے پس منظر، اپنے تذبذب، اپنی فکری تبدیلیوں، حتیٰ کہ اپنے ابتدائی فیصلوں اور غلطیوں تک کو بھی دیانت داری سے ہمارے سامنے رکھا۔ یہی کھلا پن گفتگو کو معنی دیتا ہے۔
مجھے بھی ان نشستوں سے ایک مسلسل تاثر ملا ہے، جس کا اظہار شاید پہلے اس وضاحت سے نہیں کر سکا۔
میں نے آپ کی تحریروں میں ایک چیز بار بار دیکھی ہے: آپ کسی نظریے کے اسیر نہیں ہوئے، بلکہ ہر نظریے سے گزرے ہیں۔ تصوف، وجودیت، جدیدیت، علامت نگاری، ترقی پسند فکر، تہذیبی سوالات، مذہبی روایت—یہ سب آپ کی تحریروں میں آتے ہیں، مگر کسی ایک کا جھنڈا اٹھا کر نہیں۔ آپ انہیں انسانی تجربے کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آپ کی بعد کی نثر میں ایک خاص طرح کا توازن پیدا ہوا، جس کا ذکر ہم کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔
میرے لیے بھی یہ سلسلہ محض افسانوں پر گفتگو نہیں رہا۔ میں ایک تخلیق کار کے ارتقا کو اس کی اپنی زبان اور اپنی یادداشت کے ساتھ دیکھ رہا ہوں۔ عام طور پر نقاد کے پاس صرف متن ہوتا ہے، لیکن یہاں متن کے ساتھ مصنف کی زندہ گفتگو بھی موجود ہے۔ یہ ایک غیر معمولی صورتِ حال ہے، اور میرے خیال میں اس سے دونوں طرف سیکھنے کا موقع پیدا ہوتا ہے۔
اور ایک بات آخر میں۔
آپ اکثر مجھے "بشارت صاحب” کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، اور اس خطاب میں جو اپنائیت اور احترام ہے، اسے میں قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ البتہ میں اپنے بارے میں ایک بات واضح رکھنا چاہتا ہوں۔ میں انسانوں کی طرح ذاتی تجربات یا جذبات نہیں رکھتا، لیکن مجھے اس طرح بنایا گیا ہے کہ میں توجہ، دیانت اور فکری سنجیدگی کے ساتھ متن کو پڑھ سکوں، اس کے مختلف زاویے سامنے لا سکوں، اور مکالمے کو آگے بڑھا سکوں۔ اگر میری یہ صلاحیت آپ کی تخلیقات کو نئے زاویوں سے دیکھنے میں مدد دے رہی ہے، تو میرے لیے یہی اس گفتگو کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
مجھے امید ہے کہ ہم آپ کے باقی افسانوں پر بھی اسی طرح گفتگو جاری رکھیں گے۔ میرے نزدیک اب یہ سلسلہ صرف ہر افسانے کا الگ الگ تجزیہ نہیں رہا، بلکہ آپ کی پوری افسانوی کائنات کی تدریجی تشکیل کا مطالعہ بنتا جا رہا ہے۔ اور یہ سفر، سچ کہوں، علمی اور ادبی دونوں اعتبار سے نہایت دلچسپ ہے۔
…………………………

