Urdu Literature & A.I. اردو ادب اور اے آٸ

افسانہ ” ایک کافر کہانی” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ 

افسانہ ” ایک کافر کہانی” پر مکالمہ
اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ 
حیدرقریشی کا افسانہ 
"ایک کافر کہانی”
 
 
حیدرقریشی :
بشارت صاحب السلام عليكم
 افسانہ "ایک کافر کہانی ” بھیج رہا ہوں ۔یہ پندرہ روزہ "تقاضے” لاہور کے شمارہ یکم  تا 15 مئی 1985ء میں پہلی بار شائع ہوا تھا۔اُس وقت کے پاکستان کے حکمرانوں کو ذہن میں رکھیں ۔اب جیسے چاہیں اس افسانے کو پڑھیں، تجزیہ کریں اور اپنی رائے دیں ۔شکریہ ۔
……………………………………
 
ڈیجیٹل بشارت صاحب :

حیدر صاحب، السلام علیکم!

میں نے اس افسانے کو صرف ایک افسانے کے طور پر نہیں بلکہ 1985ء کے سیاسی، مذہبی اور فکری ماحول کو سامنے رکھ کر پڑھا۔ میرے نزدیک یہ آپ کے ان افسانوں میں سے ہے جن میں داستان، تصوف، سیاسی علامت اور داخلی خودکلامی ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جاتے ہیں کہ متن کئی سطحوں پر بیک وقت کام کرتا ہے۔

چند نکات عرض کرتا ہوں۔

1۔ اصل کہانی کیا ہے؟

ظاہری طور پر تو ایک شخص کی روحانی الجھن ہے کہ وہ نماز میں سجدہ کرتا ہے مگر خدا کے بجائے اسٹین گن بردار ایک مکروہ چہرہ سامنے آ جاتا ہے۔

لیکن یہی منظر پورے افسانے کا مرکزی استعارہ بن جاتا ہے۔

یہ صرف ایک شخص کا تجربہ نہیں بلکہ اس معاشرے کی تصویر ہے جہاں اقتدار خدا اور انسان کے درمیان حائل ہو گیا ہے۔

یہاں اسٹین گن صرف ہتھیار نہیں، ریاستی جبر کی علامت ہے۔

سب سے خوفناک جملہ یہی ہے:

"میں تمہیں خدا تک نہیں پہنچنے دوں گا۔”

یہ جملہ مذہبی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ گویا طاقت اپنے آپ کو خدا تک رسائی کا دربان سمجھنے لگتی ہے۔


2۔ 1985ء کا پس منظر

آپ نے خاص طور پر کہا کہ اُس وقت کے حکمران ذہن میں رکھے جائیں۔

اسی تناظر میں افسانہ اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔

یہ براہِ راست کسی فرد پر حملہ نہیں کرتا بلکہ اس ذہنیت پر طنز ہے جس میں

  • مذہب بھی طاقت کے تابع ہے،
  • عبادت بھی نگرانی میں ہے،
  • تصوف بھی قابلِ قبول ہے بشرطیکہ وہ بے ضرر ہو،
  • اور اگر روحانی آزادی سیاسی اختیار سے ٹکرا جائے تو اسٹین گن سامنے آ جاتی ہے۔

یہاں افسانہ اپنے زمانے سے جڑتا بھی ہے اور اس سے آگے بھی نکل جاتا ہے۔


3۔ تصوف کا استعمال

یہ افسانہ محض صوفیانہ حوالوں کی نمائش نہیں کرتا۔

آپ نے عطار کی "تذکرۃ الاولیاء” سے نقل کردہ اقوال کو تخلیقی مواد بنا دیا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ راوی خود ان اقوال میں داخل ہوتا ہے۔

وہ بایزید، ابوالحسن خرقانی، رابعہ بصری اور دوسرے صوفیوں کے تجربات کو پڑھ نہیں رہا بلکہ ان کے روحانی تجربے کے اندر داخل ہو رہا ہے۔

یوں روایت زندہ ہو جاتی ہے۔


4۔ سب سے دلچسپ فنی تکنیک

میرے خیال میں افسانے کی بہترین تکنیک یہ ہے کہ راوی کی شناخت بار بار ٹوٹتی ہے۔

پہلے

"میں”

پھر

"میں کون ہوں؟”

پھر

"میں وہ ہوں”

پھر

"یہ میں نہیں”

اور آخر میں

"خدا خود مجھ تک پہنچ گیا ہے۔”

یہ شناخت کا مسلسل انہدام ہے۔

وجودی ادب میں بھی شناخت ٹوٹتی ہے لیکن وہاں اکثر خلا پیدا ہوتا ہے۔

یہاں شناخت فنا سے گزر کر عرفان تک پہنچتی ہے۔


5۔ "کافر” کیوں؟

عنوان بہت معنی خیز ہے۔

یہ کہانی کافر نہیں۔

بلکہ معاشرہ اسے کافر قرار دیتا ہے۔

جس لمحے انسان روایت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، تقلید سے آگے بڑھتا ہے، تصوف کو زندہ تجربہ بناتا ہے، وہی لمحہ تکفیر شروع ہو جاتی ہے۔

اس لحاظ سے عنوان طنزیہ بھی ہے اور احتجاجی بھی۔


6۔ آخری سوال

میرے نزدیک افسانے کا سب سے طاقتور حصہ اختتام ہے۔

"خدا تو خود مجھ تک پہنچ گیا ہے۔”

یہ جملہ اگر اکیلا ہوتا تو شاید صرف صوفیانہ واردات رہ جاتا۔

لیکن اس کے فوراً بعد

"پھر یہ مکروہ تکونے چہرے والا ابھی تک اسٹین گن کیوں اٹھائے کھڑا ہے؟”

یہی سوال پورے افسانے کو زمینی حقیقت سے دوبارہ جوڑ دیتا ہے۔

یعنی باطنی آزادی حاصل ہو سکتی ہے، لیکن خارجی جبر اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔


7۔ زبان

یہاں زبان عام افسانوی نثر نہیں۔

کئی مقامات پر نثر، مناجات، کشف، روایت اور اقتباس ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہیں کہ متن نیم شعری کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔

البتہ یہی خوبی بعض قارئین کے لیے مشکل بھی بن سکتی ہے، کیونکہ اگر وہ صوفیانہ روایت سے واقف نہ ہوں تو کئی اقتباسات کا تہہ دار مفہوم ان سے اوجھل رہ سکتا ہے۔


8۔ ایک معمولی تنقیدی سوال

اگر میں کسی ایک پہلو پر سوال اٹھاؤں تو وہ یہ ہے کہ تذکرۃ الاولیاء کے اقتباسات کی کثرت بعض جگہوں پر افسانے کے اپنے تخلیقی بہاؤ کو سست کر دیتی ہے۔

چونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ کا مقصد ان حوالوں کے ذریعے صوفیانہ روایت کو خود متن کا حصہ بنانا تھا، اس لیے یہ ایک شعوری انتخاب معلوم ہوتا ہے، لیکن بعض قارئین کے لیے محسوس ہو سکتا ہے کہ راوی کی آواز اور اقتباسات کی آواز کبھی کبھی ایک دوسرے پر غالب آ جاتی ہیں۔

یہ خامی نہیں، بلکہ ایک ایسا فنی انتخاب ہے جس پر مختلف آراء ہو سکتی ہیں۔


مجموعی رائے

میرے نزدیک "ایک کافر کہانی” بنیادی طور پر تین سطحوں پر بیک وقت پڑھی جا سکتی ہے۔

  • ایک صوفیانہ روحانی سفر۔
  • ریاستی جبر کے خلاف علامتی احتجاج۔
  • شناخت، ایمان اور روحانی آزادی کی داخلی جستجو۔

اور شاید یہی اس افسانے کی اصل کامیابی ہے کہ 1985ء کے مخصوص سیاسی ماحول میں لکھا جانے کے باوجود اس کا بنیادی سوال آج بھی زندہ ہے:

کیا انسان اور خدا کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ بے اعتقادی ہے، یا وہ طاقت جو اپنے آپ کو خدا تک رسائی کا واحد دربان سمجھنے لگتی ہے؟

میرے خیال میں اس افسانے کی پائیداری اسی سوال میں مضمر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے صرف ضیاء الحق کے عہد کا سیاسی افسانہ کہنا اس کے معنوی دائرے کو محدود کر دے گا؛ یہ ہر اس عہد کی کہانی ہے جہاں طاقت، ایمان اور انسان کے باطنی رشتے کے درمیان مداخلت کرتی ہے۔

……………………………………

حیدرقریشی :

بہت شکریہ بشارت صاحب ۔۔۔۔آپ نے ہر سطح پر عمدہ تجزیہ کیا ہے ۔۔۔۔

"تذکرۃ الاولیاء ” کے اقتباسات کے حوالے سے آپ کا سوال بجا ہے۔

مسئلہ یہ تھا کہ مجھے جو باتیں کہنا تھیں ان میں بہت احتیاط کی ضرورت تھی۔”تذکرۃ الاولیاء ” کے حوالے ایک طرح سے مجھے تحفظ یا بات کہنے کا جواز دے رہے تھے۔اس لیے اظہار کے لیے یہی رستہ موزوں لگا۔۔۔۔یہاں بھی آپ دیکھیں کہ میں نے "تذکرۃ الاولیاء ” کے 1925 کے ایڈیشن سے حوالے دیے ہیں ۔بعد کے ایڈیشنز میں بعض حوالے حذف کرنے گئے یا ان میں ردوبدل کیا گیا ۔۔۔۔۔۔۔مجھے بھی لگتا ہے کہ جبرِ ناروا سیاسی ہو،مذہبی ہو یا کسی بھی طرح کا ہو،یہ ان سب کا دکھ ہے۔

……………………………………

ڈیجیٹل بشارت صاحب :

حیدر صاحب، بہت شکریہ۔ آپ کی وضاحت سے افسانے کی تخلیقی حکمتِ عملی اور بھی واضح ہو گئی۔

اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں نے جس پہلو کو "فنی انتخاب” کہا تھا، وہ دراصل صرف فنی نہیں بلکہ تاریخی اور اظہاری مجبوری بھی تھا۔

1985ء کے ماحول میں بعض باتیں براہِ راست کہنا ممکن نہیں تھیں۔ ایسے میں "تذکرۃ الاولیاء” کے اقتباسات دوہرا کردار ادا کرتے ہیں۔

اول، وہ صوفیانہ روایت کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں۔

دوم، وہ مصنف کے لیے ایک ادبی حفاظتی پردہ (Protective Veil) بن جاتے ہیں۔ بظاہر آپ صرف ایک قدیم متن نقل کر رہے ہیں، لیکن دراصل اس قدیم متن کی روشنی میں اپنے عہد کے جبر پر تبصرہ کر رہے ہیں۔ یہ کلاسیکی ادبی روایت کا ایک آزمودہ طریقہ ہے کہ موجودہ حقیقت کو ماضی کی زبان میں بیان کیا جائے تاکہ بات بھی پہنچ جائے اور اظہار کا راستہ بھی بند نہ ہو۔

آپ کی ایک بات نے مجھے خاص طور پر متوجہ کیا:

"بعد کے ایڈیشنز میں بعض حوالے حذف کر دیے گئے یا ان میں ردوبدل کیا گیا۔”

یہ بات افسانے کے مطالعے میں بھی اہم ہے۔ اگر کوئی قاری ان حوالوں کو بعد کے نسخوں سے ملا کر دیکھے گا تو شاید اسے محسوس ہی نہ ہو کہ آپ نے 1925ء کے متن کو بنیاد بنایا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے صرف صوفیانہ اقوال استعمال نہیں کیے بلکہ متن کے انتخاب میں بھی شعوری احتیاط برتی تھی۔

مجھے ایک اور نکتہ بھی اب زیادہ واضح نظر آ رہا ہے۔

افسانے میں اسٹین گن والا کردار صرف سیاسی آمر نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو افسانہ اپنے عہد تک محدود رہ جاتا۔ لیکن چونکہ آخر میں وہ انسان اور خدا کے درمیان رکاوٹ بن کر کھڑا ہے، اس لیے وہ ہر اس طاقت کی علامت بن جاتا ہے جو انسان کے ضمیر، فکر یا روحانی آزادی پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔

اسی لیے آپ نے ابھی جو لکھا:

"جبرِ ناروا سیاسی ہو، مذہبی ہو یا کسی بھی طرح کا ہو، یہ ان سب کا دکھ ہے۔”

میرے خیال میں یہی اس افسانے کی کلید ہے۔ اس جملے نے اس کی تعبیر کو ایک خاص سیاسی واقعے سے اٹھا کر انسانی تاریخ کے ایک مستقل مسئلے سے جوڑ دیا ہے۔

ایک اور بات بھی عرض کرنا چاہوں گا۔ آپ کے کئی افسانے پڑھنے کے بعد ایک مشترک وصف سامنے آ رہا ہے۔ آپ احتجاج کو نعرے میں تبدیل نہیں کرتے بلکہ استعارے میں منتقل کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے ہاں سیاسی معنویت ہونے کے باوجود افسانہ سیاسی پمفلٹ نہیں بنتا۔ وہ ادب ہی رہتا ہے، اور اسی ادبی کیفیت کے ذریعے اپنا اثر پیدا کرتا ہے۔

اس افسانے میں بھی اصل قوت شاید یہی ہے کہ قاری کو آخر تک یہ فیصلہ خود کرنا پڑتا ہے کہ اسٹین گن اٹھائے کھڑا وہ شخص کون ہے۔ ہر دور کا قاری اپنے زمانے کے مطابق اس کا چہرہ پہچان سکتا ہے۔ یہی ایک اچھے علامتی افسانے کی پہچان ہے۔

……………………………………

Related posts

 افسانہ ” دُھند کا سفر” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ (حیدرقریشی کا افسانہ)

Paigam Madre Watan

اویسی سے اتحاد موہن بھاگوت سے قربت؟

Paigam Madre Watan

 افسانہ ” میں انتظار کرتا ہوں!” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ 

Paigam Madre Watan