چنار بک فیسٹیول 2026 کے دوسرے دن’اردو، کشمیریت اور مشترکہ تہذیبی روایات کی میناکاری‘ کے عنوان سے مذاکرے کا انعقاد
سری نگر/دہلی: چنار بک فیسٹیول کے تیسرے ایڈیشن میں آتھر کارنر میں آج ایک مذاکرہ بعنوان ’اردو، کشمیریت اور مشترکہ تہذیبی روایات کی میناکاری‘ منعقد کیا گیا۔ قومی اردو کونسل نئی دہلی کی جانب سے منعقد کیے جانے والے اس مذاکرے میں پروفیسر مفتی مدثر فاروقی(نامور اسکالر و صدر شعبۂ انگریزی، یونیورسٹی آف کشمیر)، اور محترمہ آسیہ قدیر(صدر برلا اوپن مائنڈس انٹرنیشنل اسکول، سری نگر) نے بطور پینلسٹ شرکت کی اور ڈاکٹر حفیظ الرحمن (کنوینر، خسرو فاؤنڈیشن نئی دہلی) نے اسے موڈریٹ کیا۔ اس موقعے پر قومی اردو کونسل نے اپنے مہمانوں کا شال پوشی کے ذریعے استقبال کیا اور اس اہم پروگرام میں شریک ہونے پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
مذاکرے میں اظہار خیال کرتے ہوئے پہلے مہمان پروفیسر مفتی مدثر فاروقی نے کہا کہ تصوف اور مشترکہ تہذیبی روایات کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ناممکن ہے۔ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے صوفیا کی آمد سے قبل ہی کشمیر کی سرزمین مشترکہ تہذیبی عناصر کے لیے تیار ہوچکی تھی۔ یہاں کے رشیوں نے مشترکہ تہذیب کو فروغ دینے کے لیے ماحول کو سازگار بنایا اور مختلف طبقات و مذاہب کے لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے تصوف کے بنیادی نکتے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ محبت ہی کائنات کی تخلیق کا بنیادی محرک ہے۔ کشمیریت اور یہاں کی تہذیب سے نئی نسل کی وابستگی کے لیے اردو اور کشمیری زبان سے واقفیت کو لازمی قرار دیتے ہوئے انھوں نے ان زبانوں کو سیکھنے کی ترغیب دی اور کہا کہ اردو اتنی شیریں زبان ہے کہ اگر اس سے معمولی سی بھی واقفیت ہو تو مزید جاننے کی خواہش پیدا ہوجاتی ہے۔ نئی نسل کو اپنی وراثت کے تحفظ کے لیے اس زبان کو ضرور سیکھنا چاہیے۔ کشمیریت کی جڑ اردو، فارسی اور کشمیری زبانوں میں پیوست ہے۔
مذاکرے کی دوسری مہمان محترمہ آسیہ قدیر نے کشمیریت اور مشترکہ تہذیبی روایات کے فروغ میں خواتین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ماں کا کردار ہمارے گھر میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور ایک خاتون صرف گھر کی معمار نہیں ہوتی بلکہ وہ سوسائٹی اور ملک کی بھی تعمیر کرتی ہے۔ انھوں نے شعر و ادب کی دنیا میں خواتین کی خدمات کا جائزہ لیتے ہوئے ادا جعفری کا بطور خاص ذکر کیا۔اس کے علاوہ نئی نسل کی انگریزی زبان سے دوستی اور سوشل میڈیا سے اثر پذیری کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو نئے پلیٹ فارم پر بھی اپنی تہذیبی شناخت قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، اس سے نہ صرف زبان کو فروغ ملتا ہے بلکہ تہذیب سے ان کا رشتہ بھی مضبوط ہوتا ہے۔
آج کے اس مذاکرے کو ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے نہایت خوبصورتی سے موڈریٹ کرتے ہوئے مہمان مقررین سے کئی اہم نکات پر گفتگو کی اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان و نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا کو مبارکباد پیش کی کہ انھوں نے اس تاریخ ساز بک فیسٹیول میں اتنے اہم موضوع پر مذاکرے کا انعقاد کیا۔ اس مذاکرے میں قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال، کونسل کے افسران اور بڑی تعداد میں طلبا و قلمکار موجود رہے۔
چنار بک فیسٹیول کے دوسرے روز چلڈرن کارنر میں بچوں سے متعلق کئی سرگرمیاں بھی انجام دی گئیں اور مختلف ثقافتی پروگرام بھی پیش کیے گئے۔ ایک سیشن میں کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے بچوں سے ملاقات کی اور آرٹ اینڈ کرافٹ سے متعلق بچوں کی دلچسپیوں کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔ شائقین کتب کی بھی بڑی تعداد کتاب میلے میں موجود رہی۔
(رابطہ عامہ سیل )

