Blog

نئی دہلی میں طلبہ پر لاٹھی چارج: کیا نوجوانوں کی آواز سننے کے بجائے اسے دبایا جا رہا ہے؟

نئی دہلی میں طلبہ پر لاٹھی چارج: کیا نوجوانوں کی آواز سننے کے بجائے اسے دبایا جا رہا ہے؟

تحریر: محمد یوسف کمال
پی جی اسکالر: دارالہدی اسلامک یونیورسٹی، کیرالا

جمہوریت محض انتخابات کے انعقاد یا حکومتوں کی تشکیل کا نام نہیں بلکہ اس کی اصل روح عوامی رائے کے احترام، اختلافِ فکر کو برداشت کرنے اور شہری آزادیوں کے تحفظ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ایک ایسا نظام، جہاں شہری بلا خوف و خطر اپنے مسائل بیان کر سکیں، حکومت سے سوال کر سکیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے پُرامن احتجاج کر سکیں، وہی حقیقی معنوں میں جمہوری معاشرہ کہلانے کا مستحق ہوتا ہے۔ لیکن جب کسی ریاست میں احتجاج کرنے والوں کے ہاتھوں میں پلے کارڈ ہوں اور جواب میں ریاست کے ہاتھوں میں لاٹھیاں، آنسو گیس اور گرفتاریوں کے احکامات ہوں، تو یہ سوال لازماً پیدا ہوتا ہے کہ جمہوریت اپنے اصل مفہوم پر قائم بھی ہے یا نہیں۔
بھارت، جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیا جاتا ہے، گزشتہ چند برسوں سے مختلف عوامی احتجاجات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ کبھی کسان اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں، کبھی خواتین انصاف کا مطالبہ کرتی ہیں، کبھی اقلیتیں اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتی ہیں، اور اب ملک کی نوجوان نسل اپنے تعلیمی مستقبل اور روزگار کے تحفظ کے لیے احتجاج پر مجبور دکھائی دے رہی ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ملک میں صرف معاشی ترقی کے اعداد و شمار کافی نہیں، بلکہ عوامی اعتماد، شفاف طرزِ حکمرانی اور اداروں کی ساکھ بھی اتنی ہی اہم ہے۔
کل ہی یعنی ۲۰ جولائی کو نئی دہلی کے جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے ہزاروں طلبہ اور نوجوانوں پر دہلی پولیس کی جانب سے کیا گیا لاٹھی چارج اسی سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔ بظاہر یہ کارروائی قانون و انتظام برقرار رکھنے کے لیے کی گئی، مگر اس کے پس منظر میں موجود تعلیمی بحران، امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیاں، نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور حکومت کے طرزِ عمل نے اس واقعے کو ایک معمولی احتجاج سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ یہ محض چند طلبہ کی ناراضی نہیں بلکہ ایک ایسی نسل کی بے چینی ہے جو اپنے مستقبل کو غیر یقینی حالات میں گھرا ہوا دیکھ رہی ہے۔
اس واقعے نے کئی بنیادی سوالات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ اگر نوجوان اپنے تعلیمی حقوق اور شفاف امتحانی نظام کا مطالبہ کریں تو کیا انہیں طاقت کے ذریعے خاموش کرایا جانا چاہیے؟ کیا احتجاج کا جواب مذاکرات کے بجائے لاٹھی چارج ہونا چاہیے؟ اور کیا ریاست کی ذمہ داری صرف امن و امان برقرار رکھنا ہے یا عوام کے اعتماد کو بحال رکھنا بھی اس کی آئینی ذمہ داریوں میں شامل ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں کے اعتماد سے وابستہ ہوتا ہے، اور جب یہی اعتماد متزلزل ہونے لگے تو اس کے اثرات محض تعلیمی اداروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے اور سیاسی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔
احتجاج کی اصل وجہ
نئی دہلی میں ہونے والے حالیہ احتجاج کو اگر صرف ایک روز کے مظاہرے یا سیاسی سرگرمی کے طور پر دیکھا جائے تو یہ حقیقت کا ادھورا مطالعہ ہوگا۔ درحقیقت اس احتجاج کی جڑیں گزشتہ کئی ماہ سے جاری ان واقعات میں پیوست ہیں جنہوں نے بھارت کے تعلیمی نظام کی شفافیت اور انتظامی صلاحیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ قومی سطح کے مختلف امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، سوالیہ پرچوں کے افشا، نتائج میں تضادات اور آن لائن جانچ کے نظام پر اٹھنے والے اعتراضات نے لاکھوں طلبہ کو شدید ذہنی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔
آج کے دور میں مقابلہ جاتی امتحانات نوجوانوں کے لیے صرف ایک امتحان نہیں بلکہ ان کے مستقبل، روزگار اور سماجی حیثیت کا فیصلہ کرنے والے اہم ترین مراحل سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے میں اگر یہی امتحانات مشکوک ہو جائیں تو محنت، قابلیت اور میرٹ پر نوجوانوں کا اعتماد کمزور ہونا فطری بات ہے۔ یہی احساس گزشتہ چند ماہ سے بھارت کے مختلف حصوں میں شدت اختیار کرتا رہا اور بالآخر ہزاروں طلبہ نے اجتماعی طور پر اپنی آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ایک غیر شفاف نظام کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ امتحانات کو مکمل شفاف بنایا جائے، پرچہ لیک جیسے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوں، ذمہ دار عناصر کو سخت سزا دی جائے اور مستقبل میں ایسی خرابیاں دوبارہ پیدا نہ ہوں۔ ان کا استدلال تھا کہ اگر لاکھوں نوجوان برسوں کی محنت کے بعد بھی ایک ناقص نظام کی وجہ سے اپنے مستقبل سے محروم رہ جائیں تو یہ صرف انفرادی نقصان نہیں بلکہ قومی سرمایہ ضائع ہونے کے مترادف ہے۔
یہ احتجاج اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ نوجوان نسل اب محض خاموش تماشائی بننے کے لیے تیار نہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں انہیں اپنے حقوق، آئینی آزادیوں اور ریاستی ذمہ داریوں کا پہلے سے زیادہ شعور حاصل ہے۔ اسی شعور نے انہیں منظم کیا، ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور انہیں یہ احساس دلایا کہ اگر وہ اپنی آواز خود بلند نہیں کریں گے تو شاید ان کے مسائل کبھی سنجیدگی سے نہیں سنے جائیں گے۔ اس اعتبار سے یہ احتجاج صرف امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف نہیں بلکہ شفاف حکمرانی، جواب دہی اور بہتر مستقبل کے لیے نوجوان نسل کی اجتماعی آواز بھی ہے۔
وزیرِ تعلیم سے استعفے کا مطالبہ
احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات میں سب سے نمایاں مطالبہ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا تھا۔ بظاہر یہ ایک سیاسی مطالبہ محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں طلبہ کا یہ مؤقف کارفرما ہے کہ جب قومی سطح کے امتحانات بار بار تنازعات کا شکار ہوں، سوالیہ پرچے لیک ہوں، نتائج پر سوالات اٹھیں اور لاکھوں امیدوار اضطراب کا شکار ہوں تو اس کی اخلاقی اور انتظامی ذمہ داری متعلقہ وزارت پر عائد ہوتی ہے۔ جمہوری نظام میں وزارت صرف اختیارات کا نام نہیں بلکہ جواب دہی کی علامت بھی ہوتی ہے۔ دنیا کی کئی جمہوریتوں میں اگر کسی وزارت کے ماتحت بڑے پیمانے پر انتظامی ناکامی سامنے آئے تو متعلقہ وزیر اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ پیش کرتا ہے یا کم از کم آزادانہ تحقیقات کے مکمل ہونے تک اپنے عہدے سے الگ ہو جاتا ہے۔ اسی اصول کی بنیاد پر بھارتی طلبہ بھی یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ تعلیمی بحران کی ذمہ داری کا تعین صرف نچلے درجے کے ملازمین تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اعلیٰ سطح پر بھی جواب دہی کا نظام قائم ہو۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ اگر ہر بار صرف کمیٹیاں تشکیل دے کر معاملے کو وقتی طور پر ٹال دیا جائے تو عوام کا اعتماد کبھی بحال نہیں ہوگا۔ ان کے نزدیک استعفے کا مطالبہ کسی شخصی مخالفت کا اظہار نہیں بلکہ اس اصول کا تقاضا ہے کہ عوامی اداروں میں احتساب سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں بار بار وزیرِ تعلیم کے استعفے کے نعرے سنائی دیے اور یہی مطالبہ بعد میں پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی دہرایا گیا۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کسی بھی بڑے بحران کا حل صرف ایک استعفے میں پوشیدہ نہیں ہوتا، لیکن یہ بھی اتنا ہی درست ہے کہ مؤثر احتساب کے بغیر کسی نظام پر عوام کا اعتماد قائم نہیں رہ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مطالبہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام میں جواب دہی اور شفافیت کے قیام کی علامت بن چکا ہے۔
پولیس کا لاٹھی چارج اور حکومتی رویہ
طلبہ کے مطالبات، احتجاج کی وجوہات اور وزیرِ تعلیم سے استعفے کے مطالبے نے جب قومی سطح پر توجہ حاصل کرنی شروع کی تو یہ توقع کی جا رہی تھی کہ حکومت نوجوانوں کے خدشات کو دور کرنے کے لیے مذاکرات یا کسی بامعنی اقدام کا راستہ اختیار کرے گی۔ لیکن عملی طور پر صورتِ حال اس کے برعکس نظر آئی۔ احتجاج کے اگلے مرحلے میں ریاستی مشینری نے قانون و نظم کے نام پر سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ حکومت احتجاج کو ایک عوامی مسئلے کے بجائے محض سکیورٹی کے زاویے سے دیکھ رہی ہے۔
پیر کے روز جب ہزاروں طلبہ، نوجوان اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندے جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے لگے تو دہلی پولیس پہلے ہی پوری طرح متحرک تھی۔ پارلیمنٹ کے اطراف بیریکیڈز لگا دیے گئے، اہم شاہراہوں کو بند کر دیا گیا، متعدد میٹرو اسٹیشنوں کے ایگزٹ گیٹ عارضی طور پر بند کر دیے گئے اور بڑی تعداد میں انسدادِ ہنگامہ آرائی فورس تعینات کر دی گئی۔ جیسے ہی مظاہرین نے آگے بڑھنے کی کوشش کی، پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے شیل داغے اور متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔ اس کارروائی میں کئی طلبہ زخمی بھی ہوئے، جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں۔
دہلی پولیس نے اپنے مؤقف میں کہا کہ مظاہرین نے احتجاج اور مارچ کے لیے پیشگی اجازت حاصل نہیں کی تھی، اس لیے قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کی گئی۔ پولیس کا یہ بھی کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے اطراف حساس سکیورٹی زون ہونے کی وجہ سے کسی غیر مجاز مارچ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگرچہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ موقف اپنی جگہ اہم ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر عوامی احتجاج کا جواب صرف طاقت کے استعمال سے دیا جانا چاہیے، یا ایسے مواقع پر مذاکرات اور اعتماد سازی کے دیگر ذرائع بھی اختیار کیے جا سکتے تھے؟
اس واقعے نے حکومتی طرزِ عمل پر بھی نئی بحث چھیڑ دی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں بلکہ صرف مطالبات کی فہرست ہو، تو ریاست کا پہلا فرض انہیں سننا ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں منتشر کرنا۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں طاقت کا استعمال آخری راستہ سمجھا جاتا ہے، پہلا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی میں ہونے والا لاٹھی چارج صرف ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ حکومت اور نوجوان نسل کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اگر ریاست اختلافی آوازوں کو سننے کے بجائے انہیں دبانے کا تاثر دے تو اس سے وقتی طور پر احتجاج تو ختم ہو سکتا ہے، لیکن عوامی بے چینی اور عدم اعتماد میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ برقرار رہتا ہے۔
الغرض! نئی دہلی میں طلبہ پر لاٹھی چارج کا واقعہ صرف ایک احتجاج کی کہانی نہیں بلکہ یہ تعلیمی نظام کی شفافیت، نوجوانوں کے مستقبل اور جمہوری اقدار سے جڑا ایک اہم مسئلہ ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ طاقت کے استعمال کے بجائے طلبہ کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنے، شفاف تحقیقات کو یقینی بنائے اور تعلیمی نظام میں مؤثر اصلاحات نافذ کرے۔ جمہوریت کی مضبوطی اسی میں ہے کہ اختلافی آوازوں کو دبانے کے بجائے انہیں سنا جائے اور مسائل کا حل مکالمے، انصاف اور جواب دہی کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ اگر نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کر لیا جائے تو یہی طبقہ ملک کی ترقی اور استحکام کا سب سے مضبوط ستون ثابت ہو سکتا ہے۔

Related posts

ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ کہتے ہیں

Paigam Madre Watan

ہیرا گروپ کے ساتھ برسوں سے جاری ظلم کی عظیم داستان

Paigam Madre Watan

مملکتِ توحید سعودی عربیہ — قائدِ عالمِ اسلام، زندہ باد، پائندہ باد  (تحریر : مطیع الرحمن عزیز)

Paigam Madre Watan