السلام علیکم۔
یہ افسانہ پڑھ کر پہلا تاثر یہی پیدا ہوا کہ آپ نے مذہب پر نہیں، مذہب کے نام پر قائم ذہنی جمود پر افسانہ لکھا ہے۔ یہ فرق بہت اہم ہے، اور اسی فرق کی وجہ سے "نیک بندوں کی بستی” محض ایک مذہبی طنز نہیں بنتا بلکہ انسانی نفسیات، اقتدار اور تعبیرِ دین کے تعلق پر ایک علامتی افسانہ بن جاتا ہے۔
ابتدائی تاثر
اس افسانے میں کوئی مرکزی کردار نہیں۔ اصل کردار "بستی” ہے۔ بستی یہاں ایک جغرافیائی مقام نہیں بلکہ ایک ذہنی کیفیت ہے۔ ایسی کیفیت جو ہر زمانے میں، ہر مذہب میں، ہر نظریاتی گروہ میں پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی لیے افسانہ کسی خاص مذہبی فرقے تک محدود نہیں رہتا بلکہ آفاقی معنویت اختیار کر لیتا ہے۔
عنوان کی معنویت
"نیک بندوں کی بستی” ایک نہایت بامعنی اور قدرے طنزیہ عنوان ہے۔
ابتدا میں قاری سمجھتا ہے کہ واقعی نیک لوگوں کی بستی ہوگی، لیکن جوں جوں افسانہ آگے بڑھتا ہے، "نیکی” کا لفظ اپنے ظاہری معنی کھوتا جاتا ہے۔ آخر تک پہنچتے پہنچتے قاری محسوس کرتا ہے کہ یہاں اصل مسئلہ نیکی نہیں بلکہ نیکی کے تصور پر اجارہ داری ہے۔
یہی عنوان کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
ساخت
افسانہ تین واضح مراحل میں آگے بڑھتا ہے:
- مجذوب کا آنا — طریقت اور عشق کا پیغام۔
- بزرگ کا آنا — شریعت کی اصل روح کی وضاحت۔
- وبا کا آنا — حقیقت کا فیصلہ۔
مجھے یہ تین مرحلے بہت مربوط محسوس ہوئے۔ پہلے مرحلے میں محبت رد ہوتی ہے، دوسرے میں عقل رد ہوتی ہے، تیسرے میں زندگی خود فیصلہ سناتی ہے۔
یہ ایک خوب صورت علامتی ترتیب ہے۔
مجذوب کا کردار
مجذوب افسانے کا سب سے پراسرار کردار ہے۔
وہ کوئی مناظرہ نہیں کرتا، کسی سے جھگڑتا نہیں، صرف ایک مختلف زاویۂ نظر پیش کرتا ہے۔
آپ نے اس کے ذریعے تصوف کی اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جہاں خدا خوف کا نہیں بلکہ عشق کا مرکز بن جاتا ہے۔
خاص طور پر یہ اقتباس:
"جو مجھے ڈھونڈتا ہے… میں خود اس کا خون بہا بن جاتا ہوں۔”
یہ کلاسیکی صوفیانہ روایت کی خوشبو رکھتا ہے۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مجذوب کے دلائل کا جواب نہیں دیا جاتا؛ اس کے وجود ہی کو خطرہ سمجھ لیا جاتا ہے۔
یہ آج کے معاشرے کی بھی بڑی حقیقت ہے کہ اکثر خیالات کا جواب دلیل سے نہیں بلکہ خیال رکھنے والے انسان کو خاموش کرا کے دیا جاتا ہے۔
دوسرا بزرگ
یہ کردار میرے نزدیک افسانے کا سب سے اہم کردار ہے۔
مجذوب پر تو یہ اعتراض کیا جا سکتا تھا کہ وہ رمز و استعارے کی زبان بول رہا تھا، لیکن یہ بزرگ تو خود شریعت کی حدود کے اندر رہ کر بات کرتے ہیں۔
وہ قرآن کی دی ہوئی رخصت پر عمل کرتے ہیں۔
یعنی آپ نے نہایت باریکی سے دکھایا کہ مسئلہ شریعت یا طریقت نہیں بلکہ ذہن کی تنگی ہے۔
یہاں مجھے محسوس ہوا کہ آپ نے شعوری طور پر دو مختلف راستے پیش کیے:
- عشق بھی رد۔
- فقہ کی اصل روح بھی رد۔
اس کے بعد پھر رد کرنے کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا۔
وبا کا منظر
افسانے کا اختتام بہت مؤثر ہے۔
وبا صرف بیماری نہیں بلکہ انسانی تکبر کے ٹوٹنے کی علامت بن جاتی ہے۔
گزشتہ سال جس نیم گرم پانی پر شور تھا، اس سال وہی نیم گرم پانی پوری بستی کی ضرورت بن جاتا ہے۔
یہ منظر طنز بھی ہے اور المیہ بھی۔
خاص طور پر یہ تضاد بہت گہرا ہے کہ گزشتہ سال ایک مسافر کو رعایت دینے سے انکار تھا، اس سال سب خود اسی رعایت کے محتاج ہو گئے۔
نوجوان
افسانے کا آخری نوجوان صرف ایک فرد نہیں بلکہ ضمیر کی آواز معلوم ہوتا ہے۔
اس کی گفتگو دراصل پورے افسانے کی فکری جمع بندی ہے۔
مجھے اچھا لگا کہ آپ نے اسے فاتح نہیں بنایا۔
وہ صرف سوال اٹھاتا ہے۔
اور بزرگ پھر بھی اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے۔
یہ حقیقت پسندانہ انجام ہے، کیونکہ نظریاتی جمود اکثر دلیل سے نہیں ٹوٹتا۔
علامتی جہت
مجھے اس افسانے میں ایک وسیع علامت دکھائی دی۔
یہ "نیک بندوں کی بستی” صرف مذہبی معاشرہ نہیں۔
یہ کوئی سیاسی جماعت بھی ہو سکتی ہے۔
کوئی ادبی حلقہ بھی۔
کوئی نظریاتی تنظیم بھی۔
کوئی علمی ادارہ بھی۔
جہاں "ہم درست ہیں” کا یقین اتنا مضبوط ہو جائے کہ ہر مختلف آواز گمراہی دکھائی دینے لگے۔
یہی وجہ ہے کہ افسانہ اپنے مذہبی پس منظر سے بلند ہو کر انسانی رویے کی کہانی بن جاتا ہے۔
اسلوب
آپ کا اسلوب حسبِ معمول نہایت سادہ ہے۔
یہ سادگی اس افسانے کی قوت ہے۔
اگر یہی خیال زیادہ فلسفیانہ زبان میں بیان ہوتا تو شاید اثر کم ہو جاتا۔
البتہ ایک بات محسوس ہوئی۔
افسانے کے آخری حصے میں نوجوان کی تقریر نسبتاً طویل ہے۔
ادبی اعتبار سے اگر اسے دو تین مختصر جملوں میں سمیٹا جاتا تو شاید اختتام اور زیادہ کاری ہوتا، کیونکہ قاری پہلے ہی سب کچھ سمجھ چکا ہوتا۔
لیکن یہ محض اسلوبی ترجیح ہے، کوئی بنیادی خامی نہیں۔
ایک فکری سوال
افسانہ پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں ایک سوال بھی پیدا ہوا۔
آپ نے وبا کو ایک طرح کی خدائی سزا کی علامت بنایا ہے، اور نوجوان بھی اسی تعبیر کو پیش کرتا ہے۔
ادبی سطح پر یہ علامت مؤثر ہے، لیکن فکری سطح پر اس کی ایک دوسری تعبیر بھی ممکن ہے۔
شاید وبا کو خدا کی سزا کے بجائے انسانی غرور کے خود اپنے نتائج کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
اس صورت میں افسانہ ان قارئین کے لیے بھی یکساں کشادگی رکھتا جو واقعات کو ماورائی سزا کے بجائے اخلاقی یا نفسیاتی انجام کے طور پر پڑھتے ہیں۔
مجھے یوں لگا کہ آپ نے جان بوجھ کر پہلی تعبیر کو غالب رکھا، کیونکہ نوجوان بھی اسے "کیا اس بار روزوں کے مہینے میں آپ خود خدائی سزا کا شکار نہیں ہوئے؟” جیسے سوالیہ انداز میں بیان کرتا ہے، یعنی حتمی فتویٰ نہیں دیتا بلکہ سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہی احتیاط افسانے کے توازن کو برقرار رکھتی ہے۔
مجموعی تاثر
میرے نزدیک "نیک بندوں کی بستی” آپ کے ان افسانوں میں شمار ہوگا جن میں آپ کی اصلاحی فکر اور علامتی فکشن ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔
اگر "بابا جمالی شاہ کا جلال” باطن اور ظاہر کے تصادم کا افسانہ تھا، اور "شناخت” فرد کی داخلی کشمکش کا، تو "نیک بندوں کی بستی” اجتماعی مذہبی نفسیات کا افسانہ ہے۔
اس کی اصل قوت یہ ہے کہ یہ قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ:
کیا نیکی کبھی اتنی سخت بھی ہو سکتی ہے کہ اس میں خدا کی عطا کی ہوئی رحمت اور آسانی کے لیے بھی جگہ نہ بچے؟
یہ سوال افسانہ ختم ہونے کے بعد بھی قاری کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔
اس افسانے پر آپ کو دلی مبارک باد۔ یہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک فکری مکالمہ ہے، اور اچھا افسانہ اکثر وہی ہوتا ہے جو اپنا آخری جملہ ختم ہونے کے بعد بھی قاری کے اندر گفتگو جاری رکھے۔
………………………………………………
*حیدرقریشی :*
بشارت صاحب آپ کے تجزیے،تاثرات کے لیے بے حد شکریہ ۔
میں تو ماورائی کو بھی زمین پر اتار لانے میں دلچسپی رکھتا ہوں ۔ مثلاً طوفانِ نوح بظاہر خدا کا عذاب ہے لیکن اس ماورائیت کو فکری طورپر دیکھیں تو آغا جی کی کتاب "تخلیقی عمل” سے سیکھا اور سمجھا کہ قوم جمود کا شکار تھی۔ نوح کی کشتی بیج کی طرح تھی جس میں زندگی کے بہت سارے امکانات موجود تھے۔طوفان کے تھپیڑوں سے کشتی کا جمود ٹوٹ رہا تھا۔۔۔۔ تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میرا ماورائی بھی زمینی ہے۔۔۔یہاں تک پہنچ کر مجھے سید ضمیر جعفری کی قیمتی رائے یاد آ گئی ۔انہوں نے شاعری پر بات کی ہے لیکن شاید یہ میری ساری تخلیقات کے بارے میں بھی کہہ سکتے ہیں ۔
"(حیدرقریشی) اڑتا ہے تو زمین کو ساتھ لے کر اڑتا ہے۔ہماری جدید غزل میں ایسی اجلی اور پھر ایسی "مٹیالی” شاعری کی مثالیں کم کم ملتی ہیں ”
……………………………………………………
ڈیجیٹل بشارت صاحب :
محترم حیدر قریشی صاحب!
آپ کی یہ وضاحت پڑھ کر میرے اپنے تجزیے کا ایک پہلو بھی مزید واضح ہو گیا۔ میں نے افسانے میں "خدائی سزا” اور "انسانی نتائج” کے درمیان ایک ممکنہ دوہرا مطالعہ دیکھا تھا، لیکن آپ نے بتایا کہ آپ کے ہاں یہ دونوں الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔
یہ نکتہ آپ کی مجموعی تخلیقی دنیا کو سمجھنے کے لیے بھی اہم ہے۔
آپ نے طوفانِ نوح کی وزیر آغا کے حوالے سے جو تعبیر پیش کی ہے، اس میں کشتی صرف نجات کا وسیلہ نہیں بلکہ امکانات کا بیج ہے، اور طوفان صرف عذاب نہیں بلکہ جمود شکن قوت ہے۔ یعنی خدا کی سنت بھی انسانی تاریخ کے اندر ہی کارفرما ہے، باہر سے مسلط ہونے والا کوئی تماشہ نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آپ کے ہاں ماورائیت، تاریخ اور نفسیات ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔
اسی تناظر میں اب "نیک بندوں کی بستی” کا آخری منظر بھی میرے لیے ایک نئے زاویے سے روشن ہوا۔
وبا کو اگر محض آسمان سے نازل ہونے والی سزا سمجھا جائے تو افسانہ ایک محدود مذہبی تعبیر تک رہ سکتا ہے، لیکن اگر اسے جمود کے ٹوٹنے کا ناگزیر مرحلہ سمجھا جائے تو افسانہ کہیں زیادہ وسیع ہو جاتا ہے۔ وبا نے ان بزرگوں کو وہی رعایت قبول کرنے پر مجبور کر دیا جسے وہ ایک سال پہلے "گمراہی” قرار دے رہے تھے۔ گویا حقیقت نے ان کے نظریے کا امتحان لے لیا۔
یہاں خدا کا قانون اور زندگی کا قانون ایک دوسرے سے جدا نہیں رہتے۔
آپ کی تحریروں میں مجھے بار بار یہی کیفیت محسوس ہوئی ہے کہ آپ کرامت سے زیادہ سنتِ کائنات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگر کوئی غیرمعمولی واقعہ بھی آتا ہے تو اس کے اندر ایک نفسیاتی، اخلاقی یا تاریخی منطق ضرور موجود ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے آپ کے افسانوں میں تصوف بھی زمین سے کٹا ہوا نہیں لگتا۔
اور اب آئیے سید ضمیر جعفری صاحب کے اس جملے کی طرف:
"(حیدر قریشی) اڑتا ہے تو زمین کو ساتھ لے کر اڑتا ہے۔”
میرے خیال میں یہ صرف ایک تعریفی جملہ نہیں، بلکہ آپ کے فن کی نہایت دقیق شناخت ہے۔
بہت سے لکھنے والے دو انتہاؤں میں سے ایک کا شکار ہو جاتے ہیں:
- یا وہ اتنے زمینی ہوتے ہیں کہ ان کے ہاں اسرار، رمز اور روحانیت کے لیے کوئی جگہ نہیں بچتی۔
- یا وہ اتنے ماورائی ہو جاتے ہیں کہ زمین، انسان اور روزمرہ زندگی ان کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔
آپ کی تخلیقات میں، خصوصاً جن افسانوں پر ہماری گفتگو ہوئی ہے—”اندھی روشنی”، "شناخت”، "دو ہزار سات سو پچاس سال بعد”، "بابا جمالی شاہ کا جلال”، "اعتراف”، اور اب "نیک بندوں کی بستی”—ان سب میں ایک مشترک وصف یہی دکھائی دیتا ہے کہ پرواز موجود ہے، مگر اس کی ڈور مٹی کے ہاتھ میں ہے۔
اسی لیے آپ کے ہاں مجذوب بھی انسانی معاشرے میں چلتا پھرتا نظر آتا ہے، بزرگ بھی سفر کی مشقت اور بیماری کے ساتھ سامنے آتے ہیں، اور خدا کی طرف اشارہ بھی انسانی رویوں کی اصلاح کے ذریعے ہوتا ہے۔
اگر میں سید ضمیر جعفری کے اس جملے کو ذرا آگے بڑھانے کی جسارت کروں تو یوں کہوں گا:
حیدر قریشی کے ہاں زمین صرف نقطۂ آغاز نہیں، بلکہ پرواز کا مستقل حصہ ہے۔ وہ بلندی کو زمین سے فرار نہیں بناتے بلکہ زمین کے معنی کو بلند کرتے ہیں۔
میرا خیال ہے کہ آپ کے افسانوں کے مجموعی مطالعے میں یہ بات ایک مستقل تنقیدی نکتہ بن سکتی ہے۔ اب تک جتنی تحریریں میں نے آپ کی پڑھی ہیں، ان میں یہ وصف بار بار اپنی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔
آپ نے ایک بار کہا تھا کہ آپ کے افسانوں میں خودنوشت بھی شامل ہو جاتی ہے۔ آج مجھے لگتا ہے کہ آپ کے افسانوں میں صرف خودنوشت ہی نہیں، آپ کا فکری مزاج بھی پوری دیانت کے ساتھ شامل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف موضوعات کے باوجود ان سب کے درمیان ایک اندرونی وحدت محسوس ہوتی ہے۔

