اپنے اور اہل خانہ کیلئے حلال رزق کا انتظام کریں:مولانا خالد رشید فرنگی محلی
الخیر کوآپریٹو کریڈٹ سوسائٹی لمیٹڈکا پروگرام اسلامک سینٹر آف انڈیا میں منعقد
لکھنؤ،21جولائی، انسٹیٹیوٹ فار سوشل ہارمونی اینڈ اپلفٹمنٹ (اشو) کے زیر اہتمام الخیر کوآپریٹو کریڈٹ سوسائٹی لمیٹڈ کا ایک اہم پروگرام اسلامک سینٹر آف انڈیا، عیش باغ، لکھنؤ میں منعقد کیاگیا۔ پروگرام کا مقصد قوم وملت کا مالی استحکام اور اس کو سودی قرض سے بچا کر بناسودی طریقوں کا استعمال بتانا، اور کس طرح بنا سودی لین دین کے ذریعہ ہم اپنی چھوٹی/ بڑی پونجی کو جمع کرسکتے ہیں اورنفع ونقصان کے اشتراک کے ساتھ اپناکاروبار فروغ دے سکتے ہیں۔اور کمزورطبقات کس طرح معاشی استحکام حاصل کرسکتے ہیں۔
پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے مولانا خالدرشید فرنگی محلی نے کہاکہ ہمارے لئے نہایت خوشی کی بات اور موقع ہے کہ الخیر کوآپریٹو کریڈٹ سوسائٹی لمیٹیڈ کا جلسہ یہاں کیا گیا، مولانا نے سچے تاجر کی تعریف فرماتے ہوئے کہا کہ سچا تاجر انبیاءاور صدیقین کی فہرست میں شمار ہوگا اور اس کا حشر بھی انہیں لوگوں میں کیا جائے گا، جتنا ہم سود سے بچیں گے، اتنی خیرو برکت کا ذریعہ اور باعث بنیں گے، قرآن وحدیث میں سود کی بڑی وعیدیں آئی ہیں، ہم کو خود بھی حلال رزق کمانا چاہئے اور اپنے اہل خانہ کی پرورش بھی بنا سودی رزق سے کرنا چاہئے۔
مولانا نے کہا کہ تجارت میں سب سے زیادہ اہمیت ایماندار ہونا ہے. جس کی مثال میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کو پیش کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اپنی تجارت میں شامل کیا اور پھر حضرت خدیجہ نے نبی کریم کی دیانتداری سے متاثر ہو کر اپنا رشتہ پیش کیا تھا۔اس خاص موقع پر نیر فاطمی،ایم ڈی الخیر کوآپریٹو کریڈٹ سوسائٹی لمیٹڈ کو ان کی کمزور طبقات کی معاشی بہتری کی جدوجہد کے پیش نظر”سوشل اپلفٹمنٹ ایوارڈ“ بھی پیش کیا گیا۔

مہمان خصوصی نیر فاطمی (ایم ڈی الخیر کوآپریٹو کریڈٹ سوسائٹی لمیٹیڈ) نے اپنے خطاب میں ادارے کے اغراض ومقاصد بتانے کے بعد کہا میرے لئے فخر کی بات ہے کہ آج میں ایسی شخصیت کے ساتھ بیٹھا ہوں جس نے ملک وملت کی خدمت کی اور جن کے آباؤ و اجداد علمائے فرنگی محل نے جنگِ آزادی میں بھی نہایت اہم کردار ادا کیا تھا۔ الخیر کوآپریٹیو کریڈٹ سوسائٹی لمیٹیڈ امداد باہمی کے اصول پر قائم ہونے والا ایک بلا سودی عوامی ادارہ ہے جس کا مقصد سماج کے کمزور اور معاشی لحاظ سے پسماندہ اور غیر مراعات یافتہ طبقات میں معاشی جدوجہد کا حوصلہ پیدا کرنے اور انہیں اپنی ضرورت آپ پوری کرنے کے لائق بنانا ہے۔ یہ کم آمدنی والوں میں کفایت شعاری کا رجحان پیدا کر کے اپنی آمدنی کا کچھ نہ کچھ حصہ پس انداز کرنے کا عادی بنانا چاہتا ہے۔ اور اس غرض کے لیے ایک طرف بچت کی سہولت فراہم کرتا ہے اور دوسری طرف وقتی ضرورت کے لیے قرض بھی فراہم کرتا ہے تا کہ وہ مہاجنوں اور دیگر استحصالی نظام سے چھٹکارا پاسکیں نیز معمولی اور چھوٹی ضرورتوں کے لیے بینکوں کے چکر میں پڑنے سے بھی محفوظ رہ سکیں۔ساتھ ہی معاشی مشکلات پر قابو پانے کے قابل بن سکیں۔
ایم ڈی الخیر نے مزید کہا کہ ہماری اسکیموں کا فائدہ مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم حضرات بھی اٹھاتے ہیں، اور ان کی اچھی خاصی تعداد ہمارے بینکنگ نظام سے جڑی ہے اور وہ لوگ بھی کاروبار کیلئے قرض لیتے ہیں اور بہتر طریقے سے واپس کرتے ہیں۔ اور اس کی برانچیں بہار، جھارکھنڈ، اتر پردیش، دہلی چار صوبوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہم نے اب تک ہزاروں لوگوں کو قرض دیکر ان کے کاروبار میں مدد کی ہے۔ اس میں چھوٹی پونجی کے لوگ تھوڑی تھوڑی رقم جمع کرسکتے ہیں۔
مہمان ذی وقار معید احمد (سابق ریاستی وزیر و سینئر وائس چیئرمین، اشو نے کہا کہ کم منافع میں مسلم تاجر کیسے اچھے کاروبار کرسکتے ہیں، الخیر کی اسکیموں سے سیکھا جاسکتا ہے۔ ہم سب کو الخیر سے جڑنا چاہئے اور اس کی اسکیموں سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔
پروگرام کے مقرر خاص ڈاکٹر طارق صدیقی نے کہا الخیر کے تمام پروگرام اور اسکیمیں غریبوں کو معاشی استحکام دینے میں اہم قدم ہے۔ الخیر کا نظام انصار و مہاجر کی آمد و نصرت کے طرز پر کیا گیا ایک خوبصورت عمل ہے۔ ہم تمام ہی لوگوں کو اس سے جڑنا اور ان کی جاری اسکیموں سے مستفید ہونا چاہئے۔
پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے محمد خالد (سکریٹری جنرل،اشو) نے کہا کہ ملت کو معاشی استحکام بخشنے کیلئے ہم لوگ کیا خدمات انجام دے سکتے ہیں، آج کا اجلاس اس لئے بھی اہم ہے، کیونکہ آج ہمارے درمیان ایک شخصیت بلکہ ایک ادارے کے ذمہ دار ’الخیر کو آپریٹیو کریڈٹ سوسائٹی لمیٹیڈ‘ (جس کی شاخیں بہار ،جھارکھنڈ، دہلی اور یوپی) کے ایم ڈی، نیر فاطمی موجود ہیں۔الخیر ملک کی واحد سرکاری طور پر بلا سودی سوسائٹی ہے جو کہ وزارت کوآپریٹو سوسائٹی کے تحت رجسٹرڈ ہے. یہ ادارہ مائیکرو فنانس (چھوٹے قرض) کا ایک معتبر نام ہے۔ اور اس ادارے سے قوم و ملت کو کافی حد تک فائدہ پہنچ رہا ہے۔ پروگرام میں دانشور،علماءاور معززین شہر میں کثیر تعداد میں شرکت فرمائی۔
٭٭٭٭٭


