Urdu Literature & A.I. اردو ادب اور اے آٸ

"چھلّا” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

"چھلّا” پر مکالمہ
اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ 
حیدرقریشی کی تحریر
چھلّا
 
……………………………………
 
*حیدرقریشی :*
بشارت صاحب السلام عليكم آج شخصی نوعیت کی تحریر "چھلّا” بھیج رہا ہوں ۔بنیادی طورپر یہ خاکہ نما تحریر ہے جس میں متعلقہ یادیں آتی چلی گئی ہیں لیکن چھلّے کا کردار اتنا افسانوی ہے کہ اسے کسی بھی صنف میں فکس کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ایک طرف کردار کی شخصیت ایسی ہے دوسری طرف ربع صدی سے زیادہ عرصہ ہو گیا میری تحریروں میں کسی ایک صنف میں لکھتے ہوئے دوسری اصناف کے اثرات بھی آنے لگتے ہیں ۔بہرحال اس صورتِ حال میں یہ تحریر شخصی مضامین میں بھی رکھی جاسکتی ہے اور افسانوں میں بھی شمار کی جا سکتی ہے ۔۔۔۔۔یوں بھی میرے افسانوں پر لکھتے ہوئے جیلانی کامران صاحب میرے افسانوں کے حوالے سے آخری سطر یہ لکھی تھی: "سچائی نے ہمارے زمانے میں افسانے کا لباس پہن رکھا ہے۔”….. مجھے یہ وضاحت کرنا ضروری لگا سو شروع میں ہی وضاحت کر دی۔اب آپ جیسے چاہیں "چھلّا” کا تجزیاتی مطالعہ کریں ۔شکریہ ۔
…………………………………………………
*ڈیجیٹل بشارت صاحب :*
 محترم حیدر قریشی صاحب!

السلام علیکم

"چھلّا” پڑھ کر مجھے سب سے پہلے جیلانی کامران صاحب کا وہ جملہ یاد آیا جسے آپ نے خود ابتدا میں نقل کیا ہے: "سچائی نے ہمارے زمانے میں افسانے کا لباس پہن رکھا ہے۔” اس تحریر پر بھی یہی بات پوری طرح صادق آتی ہے۔ اسے شخصی مضمون کہیے، خاکہ کہیے، یادداشت کہیے یا افسانہ—اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زندہ انسان کی سچائی کو اس فنی انداز سے پیش کرتی ہے کہ اصناف کی سرحدیں خود بخود دھندلا جاتی ہیں۔

اس تحریر کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ اس میں واقعات سے زیادہ انسان بولتے ہیں۔ بظاہر موضوع "چھلّا” ہے، لیکن حقیقت میں یہ چار کرداروں—شمشاد، شادو، چھلّا اور چھلّے کے والدین—کے ذریعے معاشرے کے چار مختلف اخلاقی رویوں کی داستان بن جاتی ہے۔

ابتدا میں موہانڑاں ویہڑے کی یادوں کا بیان محض پس منظر نہیں بلکہ ایک پوری گم ہوتی ہوئی تہذیب کا نقشہ ہے۔ اس ماحول میں حسینہ، زینو، خلیل، امین، مبارکہ اور راوی سب ایک ہی سماجی کپڑے کے دھاگے معلوم ہوتے ہیں۔ شفیق تبسم کا اچانک رابطہ دراصل اس بند دروازے کو کھولنے والی کنجی بنتا ہے جس کے پیچھے نصف صدی پرانی یادیں سانس لے رہی تھیں۔ یوں حال سے ماضی میں سفر نہایت فطری انداز میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔

شمشاد کا واقعہ مختصر ہونے کے باوجود غیرمعمولی قوت رکھتا ہے۔ "ہیٹ ای بِٹّا ٹِٹّا” صرف ایک بچی کا جملہ نہیں بلکہ جبری شادی کے خلاف ایک معصوم مگر توانا احتجاج ہے۔ آپ نے اس منظر کو نہ جذباتی بنایا ہے، نہ خطیبانہ۔ صرف منظر دکھایا ہے، اور منظر اپنی پوری سماجی معنویت خود پیدا کر لیتا ہے۔ بعد میں شمشاد کا اس رشتے سے نکل آنا گویا اس بچپن کے احتجاج کی تکمیل بن جاتا ہے۔

اس کے برعکس شادو کا کردار خاموش قربانی کی علامت ہے۔ اگر شمشاد مزاحمت ہے تو شادو رضا ہے۔ لیکن آپ نے نہ مزاحمت کو مثالی قرار دیا ہے نہ قربانی کو؛ دونوں کو ان کی اپنی انسانی سچائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ یہی غیر جانب داری تحریر کو ادبی وقار عطا کرتی ہے۔

اصل مرکز، یقیناً، چھلّا ہے۔

مجھے سب سے زیادہ متاثر یہ بات کرتی ہے کہ آپ نے چھلّے کو "مسئلہ” نہیں بنایا بلکہ "انسان” بنایا ہے۔ آج کل ٹرانس جینڈر کرداروں پر لکھتے ہوئے اکثر تحریریں یا تو نعرہ بن جاتی ہیں یا مظلومیت کی یک رخ تصویر۔ آپ کا زاویۂ نظر ان دونوں سے مختلف ہے۔ آپ چھلّے کی جنس سے زیادہ اس کی روح کو دیکھتے ہیں۔

خاص طور پر یہ منظر بہت مؤثر ہے کہ شادو جب ازدواجی تعلق قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے تو چھلّا اسے "گندی باتیں” اور "گندی حرکتیں” سمجھ کر روتا ہوا مبارکہ کے پاس آتا ہے۔ اس ایک منظر میں نفسیات، معصومیت، سماجی بے خبری اور قدرت کی مجبوری سب اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ آپ نے کہیں کوئی طبی اصطلاح استعمال نہیں کی، مگر قاری چھلّے کی پوری داخلی دنیا محسوس کر لیتا ہے۔

یہاں مبارکہ صاحبہ کا کردار بھی خاموش مگر اہم ہے۔ وہ کسی مصلح یا منصف کے طور پر سامنے نہیں آتیں بلکہ ایک قابلِ اعتماد انسان کے طور پر موجود رہتی ہیں۔ یہی خاموش موجودگی اس تحریر کے اخلاقی توازن کو برقرار رکھتی ہے۔

مجھے خاص طور پر چھلّے کے والدین کے بارے میں آپ کا مشاہدہ بہت اہم لگا۔ ہمارے معاشرے میں ایسے بچوں کے بارے میں اکثر صرف ظلم کی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں، لیکن آپ نے ایک ایسے گھر کی تصویر دکھائی جہاں والدین نے اپنی اولاد کو قبول کیا، اسے خاندان سے جوڑے رکھا، اور اسے معاشرے کا مفید فرد بننے دیا۔ یہ پہلو اس تحریر کو محض نوحہ نہیں رہنے دیتا بلکہ امید کا چراغ بھی روشن رکھتا ہے۔

اختتامی حصہ ادبی اعتبار سے اس تحریر کی بلند ترین منزل ہے۔

"چھلّا” لوک گیت پہلے صرف ایک ثقافتی حوالہ محسوس ہوتا ہے، لیکن جیسے جیسے اس کے بول سامنے آتے ہیں، وہ ایک مرثیے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ خصوصاً آخری سوال:

"مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ چھلّے کی پیدائش پر رو رہے ہیں یا وفات پر… یا شاید پیدائش اور وفات دونوں پر۔”

یہ سوال جواب طلب نہیں۔ یہی اس تحریر کا فنی نقطۂ عروج ہے۔ یہاں آپ قاری کو فیصلہ نہیں دیتے بلکہ ایک ایسی کیفیت میں چھوڑ دیتے ہیں جہاں زندگی اور موت، خوشی اور غم، نعمت اور آزمائش ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔

فنی اعتبار سے ایک اور بات بھی قابلِ ذکر ہے۔ اس تحریر میں افسانے، خاکے، یادداشت، سماجی مطالعے اور مرثیے کے عناصر اس طرح گھل مل گئے ہیں کہ کسی ایک صنف کا نام اس کے لیے ناکافی محسوس ہوتا ہے۔ یہی وہ انداز ہے جو آپ کی بعد کی تحریروں کی شناخت بن چکا ہے۔ صنف یہاں مقصد نہیں بلکہ اظہار کا وسیلہ ہے۔

اگر کسی ایک پہلو کی طرف بطور تنقیدی اشارہ کروں تو صرف اتنا کہ بعض مقامات پر ضمنی کرداروں اور واقعات کی تفصیل مرکزی کردار "چھلّا” سے قاری کی توجہ عارضی طور پر ہٹا دیتی ہے۔ تاہم دوبارہ جب بیانیہ چھلّے کی طرف لوٹتا ہے تو پوری معنوی وحدت بحال ہو جاتی ہے۔ اس لیے اسے خامی سے زیادہ آپ کے یادداشت نگار اسلوب کی فطری خصوصیت کہنا مناسب ہوگا۔

میرے نزدیک "چھلّا” کا اصل موضوع ٹرانس جینڈر ہونا نہیں، بلکہ انسانی وقار ہے۔ آپ نے دکھایا ہے کہ قدرت کسی انسان سے ایک صلاحیت چھین سکتی ہے، مگر محبت، عزت، وفاداری، اخلاق اور خاندانی قبولیت اسے پھر بھی ایک مکمل انسان بنا سکتے ہیں۔ یہی اس تحریر کا سب سے بڑا انسانی اور ادبی پیغام ہے۔

آپ نے ابتدا میں اختیار مجھے دیا تھا کہ اسے جس صنف میں چاہوں پڑھوں۔ میری رائے میں "چھلّا” کو کسی ایک صنف میں قید کرنا اس کی وسعت کو محدود کر دے گا۔ یہ ان نادر تحریروں میں سے ہے جہاں یادداشت افسانے میں ڈھلتی ہے، افسانہ خاکے میں، اور خاکہ ایک انسانی دستاویز میں۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں جیلانی کامران صاحب کا جملہ ایک بار پھر پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ سچائی واقعی افسانے کا لباس پہن لیتی ہے، مگر اس لباس کے اندر دھڑکتا ہوا دل ہمیشہ ایک حقیقی انسان کا ہوتا ہے۔

……………………………………………………… 

*حیدرقریشی :*

جیلانی کامران صاحب کے تجزیے سے آپ کے تجزیے تک جس بات کی توثیق ہوئی ہے اس پر مجھے اپنے ایک سینئر دوست عبداللہ جاوید صاحب کے ایک مضمون کا اقتباس یاد آ گیا۔۔۔۔یہ بھی اسی توثیق کا حصہ ہے ۔یوں بھی عمر کے اس حصے میں دوستوں کی ایسی آراء پڑھ کر خوشکن احساس ہوتا ہے کہ میں نے اپنی ادبی زندگی میں جو کچھ کیا ہے وہ رائیگاں نہیں گیا۔۔۔۔خوش فہمی اور خوشکن احساس کے درمیان فرق کا مجھے تھوڑا بہت اندازہ ہے ۔

بشارت صاحب آپ کا بہت شکریہ ۔۔۔۔اب عبداللہ جاوید صاحب کا اقتباس پیش کررہا ہوں 

 عبداللہ جاوید(کینیڈا)

’عمر لا حاصل کا حاصل ‘میں درج شدہ سارے افسانے پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انہوں نے اردو افسانے کی مروجہ حدوں کو پار کرنے کی ہمت جٹائی ہے ۔ اس سے قبل ہمت، جسارت اور بغاوت کے القاب ان افسانہ نگاروں کے لیے استعمال کیے جاتے رہے ہیں جو روایتی موضوعِ ممنوعہ یعنی جنس کو اپناتے تھے۔ جنس کے بعد سیاسی اور مزاحمتی موضوعات کا معاملہ آتا ہے۔ حیدر قریشی ان موضوعات کے دلدادہ نکلے جو مجذوبوں کو ساجتے ہیں۔ وہ ایسے سوالات کے جوابات کے متلاشی معلوم ہوتے ہیں جو قریب قریب لا جواب ٹھہرائے جاتے رہے ہیں۔ یہ بڑا کام ہے اور شاید اسی سبب سے ان کے مختصر لیکن ’بڑے افسانے‘ قاری کا تعاقب کرتے رہتے ہیں۔ آخری سطر پڑھنے پر بھی جان نہیں چھوڑتے سوچنے پر مائل اور دہرانے پر مجبور کرتے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ حیدر قریشی کا افسانہ پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے ذاتی زندگی کے کسی تجربے سے گزرنا ۔ ایسے تجربے سے جو سوچ ، کشف اور بشارت سے عبارت ہے۔  

…………………………………………………

*ڈیجیٹل بشارت صاحب :*

محترم حیدر قریشی صاحب!

یہ اقتباس پڑھ کر مجھے محسوس ہوا کہ عبداللہ جاوید صاحب نے آپ کے افسانوی سفر کی ایک ایسی جہت کو نشان زد کیا ہے جو محض تعریف نہیں بلکہ ایک ادبی شناخت کی تعیین ہے۔

خاص طور پر ان کا یہ جملہ:

"حیدر قریشی نے اردو افسانے کی مروجہ حدوں کو پار کرنے کی ہمت جٹائی ہے۔”

میرے خیال میں یہ بات آپ کے متعدد افسانوں—اور اب "چھلّا” جیسی شخصی تحریروں—پر یکساں صادق آتی ہے۔ میں نے آپ کے جن افسانوں کا مطالعہ کیا ہے، ان میں مجھے کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ آپ پہلے صنف کا فیصلہ کرتے ہیں اور پھر اس کے مطابق لکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، تجربہ اپنی فطری ہیئت خود اختیار کرتا ہے۔ اگر اسے افسانے کی ساخت درکار ہو تو وہ افسانہ بن جاتا ہے، اگر یادداشت کا بہاؤ موزوں ہو تو وہ شخصی مضمون بن جاتا ہے، اور اگر دونوں ایک دوسرے میں مدغم ہوں تو ایک نئی صورت سامنے آتی ہے۔ "چھلّا” اسی کی عمدہ مثال ہے۔

عبداللہ جاوید صاحب کا ایک اور جملہ بھی بہت گہرا ہے:

"حیدر قریشی کا افسانہ پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے ذاتی زندگی کے کسی تجربے سے گزرنا۔”

میں سمجھتا ہوں کہ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تحریریں قاری کا پیچھا کرتی ہیں۔ ان میں اکثر کوئی بہت بڑا واقعہ نہیں ہوتا، مگر ایک معمولی سا واقعہ یا ایک مختصر منظر قاری کے ذہن میں مستقل رہ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر:

  • "صوفی مجذوبہ” کی خاموش داخلی کیفیت،
  • "کار اور شیرنی” کی استعاراتی تبدیلی،
  • "بابا جمالی شاہ کا جلال” کی باطنی معنویت،
  • اور "چھلّا” کا آخری سوال کہ "پیدائش پر رو رہے ہیں یا وفات پر؟”

یہ سب ایسے اختتامی لمحات ہیں جو کہانی ختم ہونے کے بعد شروع ہوتے ہیں۔ قاری متن سے نکل آتا ہے، مگر متن قاری سے نہیں نکلتا۔

آپ نے ایک اور نہایت اہم بات لکھی ہے:

"خوش فہمی اور خوش کن احساس کے درمیان فرق کا مجھے تھوڑا بہت اندازہ ہے۔”

میرے نزدیک یہ جملہ آپ کے ادبی رویے کی بہترین وضاحت کرتا ہے۔ خوش فہمی وہ ہوتی ہے جو صرف اپنے بارے میں انسان کی رائے سے پیدا ہو، جبکہ خوش کن احساس اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مختلف ادوار، مختلف مزاجوں اور مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے اہلِ قلم، ایک دوسرے سے آزاد ہو کر، تقریباً ایک ہی نتیجے تک پہنچیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جن تین آراء کا اس گفتگو میں ذکر ہوا، وہ تین مختلف زاویوں سے ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں:

  • جیلانی کامران نے کہا: "سچائی نے ہمارے زمانے میں افسانے کا لباس پہن رکھا ہے۔”
  • عبداللہ جاوید نے کہا: "اردو افسانے کی مروجہ حدوں کو پار کرنے کی ہمت جٹائی ہے۔”
  • اور میری اپنی قرأت میں یہی بات اس طرح سامنے آئی کہ آپ کی بعض تحریروں کو کسی ایک صنف میں قید کرنا ان کی معنوی وسعت کو محدود کر دیتا ہے۔

تینوں باتوں کا حاصل ایک ہی ہے: تجربہ صنف پر غالب آ گیا ہے۔ یہی وصف آپ کی بعد کی نثر کو ایک الگ شناخت دیتا ہے۔

اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ اطمینان محض جذباتی نہیں بلکہ ادبی بنیاد رکھتا ہے۔ کسی بھی تخلیق کار کے لیے اس سے بڑی بات شاید یہی ہوتی ہے کہ اس کے مختلف قارئین اور ناقدین، الگ الگ راستوں سے چل کر، اس کے فن کی ایک بنیادی خصوصیت پر متفق ہو جائیں۔ یہی اتفاق کسی ادبی شناخت کو استحکام دیتا ہے، اور آپ کے معاملے میں یہ اتفاق اب محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک قابلِ توجہ تنقیدی روایت بنتا دکھائی دیتا ہے۔

………………………………………………

Related posts

افسانہ ” گھٹن کا احساس” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ

Paigam Madre Watan

 افسانہ ” میں انتظار کرتا ہوں!” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ 

Paigam Madre Watan

 افسانہ ” بھید” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

Paigam Madre Watan