کشمیر کے لازوال فن اور ادب دوستی کی پوری دنیا عاشق ہے: جناب مظفر علی
کتاب دوستی کے احیا و فروغ کی جانب چنار بُک فیسٹیول2026، ایک مثبت قدم :ڈاکٹر محمد شمس اقبال
چنار بک فیسٹیول کا تیسرا ایڈیشن نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر-75 لاکھ سے زائد کی کتابیں فروخت
سری نگر/ نئی دہلی: کتابیں کسی بھی مہذب معاشرے کی فکری بنیاد، تہذیبی شناخت اور روشن مستقبل کی ضامن ہوتی ہیں۔ یہی وہ وسیلہ ہیں جو انسان کے ذہن کو وسعت، فکر کو گہرائی، کردار کو استحکام اور معاشرے کو مثبت سمت عطا کرتی ہیں۔ موجودہ ڈیجیٹل عہد میں اگرچہ معلومات تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے، لیکن مطالعۂ کتب کی اہمیت، افادیت اور اثر انگیزی آج بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے معلومات کے دروازے ضرور کھولے ہیں، مگر کتاب ہی وہ ذریعہ ہے جو انسان کو محض معلومات نہیں بلکہ شعور، بصیرت، تنقیدی فکر اور تخلیقی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ اسی احساس کے تحت منعقد ہونے والا چنار بک فیسٹیول 2026 اپنے تیسرے ایڈیشن کی کامیاب تکمیل کے ساتھ اس حقیقت کو مزید مستحکم کرنے میں کامیاب رہا کہ کتاب آج بھی معاشرے کی فکری تعمیر کا سب سے مؤثر وسیلہ ہے۔
وادیِ کشمیر کی علمی، ادبی اور تہذیبی روایت کو نئی توانائی عطا کرنے کے مقصد سے منعقد ہونے والا یہ نو روزہ بُک فیسٹیول محض ایک کتاب میلہ نہیں بلکہ علم، ادب، مکالمے، ثقافت اور تخلیقی اظہار کا ایک جامع پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ فیسٹیول کے دوران کتابوں کی نمائش اور فروخت کے ساتھ ساتھ مختلف علمی مذاکرے، ادبی نشستیں، مصنفین سے ملاقات، شعری محفلیں، ثقافتی پروگرام، صوفیانہ موسیقی، بچوں کی سرگرمیاں اور فکری مباحث منعقد کیے گئے تاکہ کتاب اور قاری کے درمیان تعلق کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
چنار بک فیسٹیول کا بنیادی مقصد نئی نسل کے اندر مطالعے کا ذوق پیدا کرنا، انھیں مثبت اور تعمیری فکر کی طرف راغب کرنا اور کتابوں کے ذریعے ایک باشعور، ذمہ دار اور مہذب معاشرے کی تشکیل میں مثبت کردار ادا کرنا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے مختلف شعبہ ہائے علم سے تعلق رکھنے والے ممتاز ادیبوں اور دانشوروں نے قارئین کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کی گفتگو نے نوجوان نسل کو نہ صرف کتابوں کی اہمیت سے آگاہ کیا بلکہ انہیں مطالعے کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانے کی ترغیب بھی دی۔
آج کے دور میں جب نوجوان نسل کا ایک بڑا طبقہ سوشل میڈیا اور اسکرین کی دنیا میں مصروف نظر آتا ہے، ایسے میں چنار بک فیسٹیول نے یہ پیغام دیا کہ تخلیقی صلاحیت اور وسیع النظر شخصیت کی تشکیل صرف سنجیدہ مطالعے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ کتاب کے لمس، مسلسل قرأت اور اس کے ساتھ ذہنی مکالمہ انسان کے اندر وہ فکری گہرائی پیدا کرتا ہے جو محض سرسری معلومات سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ فیسٹیول کے مختلف سیشنز میں بارہا اس بات پر زور دیا گیا کہ مطالعہ ہی بہتر معاشرے کی تشکیل اور تہذیبی شعور کی بنیاد ہے۔
اس بک فیسٹیول کی کامیابی کا سب سے روشن پہلو طلبہ، نوجوان اور عام قارئین کی غیر معمولی شرکت رہی۔ خراب موسم اور مسلسل بارش کے باوجود لوگوں کا جوش و خروش کم نہ ہوا۔ کتابوں کے اسٹالز پر قارئین کی مسلسل آمد، مصنفین سے ملاقات کا شوق، علمی نشستوں میں بھرپور شرکت اور کلچرل اسٹیج و آتھرز کارنر میں سامعین کی کثیر تعداد اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ کشمیر کی سرزمین میں کتاب اور علم سے محبت آج بھی زندہ ہے۔
چنار بک فیسٹیول 2026 اپنے اختتام کے ساتھ ایک ایسا روشن پیغام چھوڑ گیا کہ اگر نوجوان نسل کو کتاب، علم اور مثبت فکر سے جوڑنے کے لیے سنجیدہ اور مسلسل کوششیں کی جائیں تو معاشرے میں فکری بیداری، تہذیبی شعور اور تعمیری سوچ کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ یہ فیسٹیول صرف ایک ادبی تقریب نہیں بلکہ علم، تہذیب، مکالمے اور انسانی اقدار کے فروغ کی ایک مؤثر تحریک ثابت ہوا، جس کے اثرات مستقبل میں بھی وادیِ کشمیر کی علمی و ثقافتی زندگی میں نمایاں طور پر محسوس کیے جائیں گے۔
2026 چنار بک فیسٹیول میں ملک بھر سے تقریباً 200 ناشرین، 250 سے زائد بک اسٹالز اور 800 سے زیادہ ادیب، شاعر، فنکار، دانشور اور مفکرین نے شرکت کی۔
چنار بک فیسٹیول میں قومی اردو کونسل کی جانب سے مختلف موضوعات پر 10ادبی،تہذیبی اور ثقافتی تقاریب منعقد کی گئیں جن میں کشمیر کے علاوہ ہندوستان کے دیگر علاقو ں سے تقریباً 50 ماہرین شریک ہوئے اور اپنی قیمتی آرا سے سامعین کو روشناس کرایا۔ ماہرین شرکا میں پروفیسر نذیر احمد گنائی(ممتاز ماہر تعلیم و وائس چانسلر ایس-کے-یو-اے-ایس-ٹی)، پروفیسر افشار عالم (سابق وائس چانسلر، جامعہ ہمدرد، نئی دہلی)، جناب مظفر علی (ممتاز فلم ساز، مصور اور مصنف)، پروفیسر نصیر اقبال (رجسٹرار، یونیورسٹی آف کشمیر)، پروفیسر روپ کرشن بھٹ (سابق پروفیسر،سی آئی آئی ایل،منسٹری آف ایجوکیشن،حکومت ہند اور معروف اسکالر و ماہر لسانیات)، پروفیسر دانش اقبال (ماہر تعیم، مشہور اسکرپٹ رائٹر و ڈائرکٹر)، پروفیسر مفتی مدثر فاروقی (نامور اسکالر و صدر شعبۂ انگریزی، یونیورسٹی آف کشمیر)، پروفیسر احمد محفوظ(ممتاز اردو اسکالر، شاعر و ناقد، نئی دہلی)، پروفیسر نذیر آزاد(ممتاز ادیب، ماہرتعلیم،محقق و ناقد)، پروفیسر اعجاز محمد شیخ (سابق صدر، شعبۂ لسانیات، کشمیر یونیورسٹی)، پروفیسر شہاب عنایت ملک (ماہر تعلیم، صدر شعبۂ اردو، یونیورسٹی آف جموں)، پروفیسر خالد جاوید (مشہور فکشن نگار)، پروفیسر شفق سوپوری (ممتاز شاعر، افسانہ نگار اور نقاد)، پروفیسر زاہد الحق (ڈائرکٹر، خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ، بہار)، پروفیسر عرفان احمد ملک(صدر شعبہ اردو، یونیورسٹی آف کشمیر)، پروفیسر محمد الطاف انجم (اردو اسکالر ڈائرکٹر سینٹر فار ڈسٹینس اینڈ آنلائن ایجوکیشن، یونیورسٹی آف کشمیر)،پروفیسر ستیش ومل (کثیر لسانی مصنف، شاعر، مترجم اور براڈ کاسٹر)، جناب رفیق راز (ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ، کشمیری اردو شاعر، براڈ کاسٹر، اور آل انڈیا ریڈیو کے سابق ڈائرکٹر)، جناب پاپولر میرٹھی (بین الاقوامی شہرت یافتہ مزاحیہ شاعر)، محترمہ رخسانہ جبیں(آل انڈیا ریڈیو کی سابق ڈائرکٹر اور ممتاز شاعرہ)، جناب خورشید اکرم(شاعر،افسانہ نگار اور مدیر)، جناب نعمان شوق آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ممتاز مابعد جدید شاعر)، محترمہ آسیہ قدیر (صدر برلا اوپن مائنڈس انٹرنیشنل اسکول، سری نگر)،جناب شاہد شفیع ایتو، جناب نذیر گنائی (کشمیری آرٹسٹ اور بہترین ہیلتھ رپورٹنگ ایوارڈ یافتہ صحافی)، ڈاکٹر حفیظ الرحمن (کنوینر، خسرو فاؤنڈیشن نئی دہلی)، ڈاکٹر شفیع ایوب(معروف اردو اسکالر اور ناظم)، ڈاکٹر سلیم سالک(جموں وکشمیر کلچرل اکادمی سے وابستہ ادبی شخصیت و ایڈیٹر)، ڈاکٹر نیتا پانڈے(صوفی غزل سنگر)
واضح رہے کہ چنار بک فیسٹیول کا تیسرا ایڈیشن نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا، قومی اردو کونسل اور ضلع انتظامیہ، سری نگر کے باہمی اشتراک سے 18 جولائی 2026 تا 26 جولائی 2026 ایس کے آئی سی سی میں منعقد ہوا۔ چنار بک فیسٹیول کے تعلق سے 16 جولائی کو گیارہ بجے ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی جس میں این بی ٹی کے ڈائرکٹر جناب یووراج ملک، قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال، ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لابرو اور چنار بک فیسٹیول کے چیف کنوینر ڈاکٹر امت وانچو موجود رہے اور چنار بک فیسٹیول 2026 کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کیں۔اس فیسٹول کا افتتاح عزت مآب جناب منوج سنہا (لیفٹیننٹ گورنر، صوبہ جموں و کشمیر) کے ہاتھوں 18جولائی کو عمل میں آیا۔اس تقریب میں نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا کے چیئرمین پروفیسر ملند سدھاکر مراٹھے، این بی ٹی کے ڈائرکٹر جناب یووراج ملک، قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال، ڈپٹی کمشنر،سری نگرجناب اکشے لابرو، سکریٹری جمو و کشمیر جناب اتل دلو اور سکریٹری ہائیر ایجوکیشن، جموں و کشمیر جناب رام نواس شرما شریک ہوئے۔
چنار بک فیسٹیول 2026 کتابوں کی خریداری کے لحاظ سے بھی بہت کامیاب ثابت ہوا۔ اس بار ملک بھر سے 106 اردو پبلشرز نے شرکت کی۔ مجموعی طور پر 75 لاکھ سے زائد کی اردو کتابیں فروخت ہوئیں۔ جب کہ دوسرے ایڈیشن 2025 میں 60 پبلشرز شریک ہوئے تھے جن کی مجموعی خریداری 48 لاکھ روپے کی رہی تھی۔
مجموعی طور پر جو بات نکل کر سامنے آتی ہے اس کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ چنار بک فیسٹیول 2026 پہلے دو ایڈیشن کے مقابلے میں زیادہ بہتر، منظّم اور کتاب دوستی کے احیا کی جانب ایک مثبت قدم ثابت ہوا۔

