National قومی خبریں

جامعہ عالیہ عربیہ کی جامع مسجد میں ایک روح پرور اور علمی مجلس کا انعقاد

جامعہ عالیہ عربیہ کی جامع مسجد میں ایک روح پرور اور علمی مجلس کا انعقاد

آج بتاریخ 26 جولائی، بروز اتوار جامعہ عالیہ عربیہ کی جامع مسجد میں ایک نہایت روح پرور، علمی اور بابرکت مجلس کا انعقاد کیا گیا، جس میں عالمِ عرب و عجم کی ممتاز علمی شخصیات فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن فریوائی اور فضیلۃ الشیخ عبد الوہاب حجازی حفظہما اللہ کی تشریف آوری ہوئی۔ اس بابرکت نشست میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، ذمہ داران، شہر کی ممتاز علمی شخصیات اور کمیٹی کے اراکین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
اس علمی نشست کی نظامت کے فرائض استاذِ محترم مولانا شفیق احمد ندوی حفظہ اللہ نے نہایت حسنِ اسلوب کے ساتھ انجام دیے، جبکہ صدارت استاذِ محترم فضیلۃ الشیخ محمد مظہر الاعظمی حفظہ اللہ نے فرمائی۔
پروگرام کا آغاز شعبۂ سادسہ کے طالب علم محمد پرویز کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد اسید احمد اسید نے جامعہ عالیہ کا ترانہ پیش کرکے سامعین کے دل موہ لیے۔
بعد ازاں مہمانانِ کرام اور جامعہ عالیہ عربیہ کا مختصر تعارف پیش کیا گیا۔ اس کے بعد عبدالقادر استامل انصاری نے فضیلۃ الشیخ عبد الوہاب حجازی حفظہ اللہ کی ایک دلنشیں نظم اپنے خوبصورت اور مترنم انداز میں پیش کی، جس نے مجلس کو مزید پُرکیف بنا دیا۔
اس کے بعد فضیلۃ الشیخ عبد الوہاب حجازی حفظہ اللہ نے طلبہ سے خطاب فرمایا۔ آپ نے اپنی گفتگو کا آغاز علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمہ اللہ کے اس شعر سے کیا:
گمان آباد ہستی میں یقیں مردِ مسلماں کا
بیاباں کی شبِ تاریک میں قندیلِ رہبانی سے
اپنے خطاب میں شیخ محترم نے خصوصیت کے ساتھ مشاجراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے موضوع پر گفتگو کرنے سے احتیاط کی تلقین کی اور اس حوالے سے اہلِ باطل کے گمراہ کن عقائد کی نشاندہی کرتے ہوئے طلبہ کو ان سے بچنے کی نصیحت فرمائی۔
اس کے بعد فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن فریوائی حفظہ اللہ نے خطاب فرمایا۔ آپ نے سب سے پہلے شہر مئو کی علمی خصوصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ 2001ء میں جب ان کے دو عرب ساتھی ہندوستان کے دینی مراکز کا مشاہدہ کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے انہیں مئو کے مدارس و مراکز کی سیر کرائی۔ آج بھی وہ اس شہر کو محبت سے یاد کرتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ "الحمد للہ! یہاں کے ہر گھر میں حافظ یا عالم موجود ہے، اور ہندوستان کے گوشے گوشے میں مئو کے مدارس سے فیض یافتہ علماء خدمات انجام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔”
بعد ازاں شیخ محترم نے علم کے حصول کے بنیادی اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے خطیب بغدادی رحمہ اللہ کی معروف کتاب الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع کے حوالے سے طالبِ علم کی علمی زندگی کے چھ بنیادی مراحل بیان کیے:
– سننا
– لکھنا
– پڑھنا
– یاد کرنا
– عمل کرنا
– اور علم کو دوسروں تک پہنچانا
شیخ محترم نے اپنی طویل علمی، تدریسی اور تحقیقی زندگی کے کئی ایمان افروز واقعات بھی سنائے اور طلبہ کو مسلسل مطالعہ، تحقیق، محنت اور اخلاص کو کامیابی کی اصل بنیاد قرار دینے کی تلقین کی۔
اس موقع پر فضیلۃ الشیخ ازہر مدنی حفظہ اللہ (حفیدِ شیخ عبید اللہ رحمانی رحمہ اللہ) بھی مجلس میں شریک رہے۔
پروگرام کے اختتام پر جامعہ عالیہ عربیہ کی جانب سے تینوں معزز مہمانوں کی علمی و دینی خدمات کے اعتراف میں انہیں شال پیش کرکے پرتپاک تہنیت و تکریم سے نوازا گیا۔
اس علمی نشست میں شہر کی ممتاز علمی شخصیات استاذ الاساتذہ فضیلۃ الشیخ محفوظ الرحمن فیضی (سابق شیخ الجامعہ، جامعہ اسلامیہ فیضِ عام) اور مولانا اقبال محمدی نے بھی خصوصی شرکت فرمائی۔
اللہ تعالیٰ اس علمی مجلس کو قبول فرمائے، تمام مہمانانِ کرام کو جزائے خیر عطا فرمائے، اور جامعہ عالیہ عربیہ کو اسی طرح علم و دعوت کا روشن مرکز بنائے رکھے۔ آمین۔
از قلم محمد عبید شیخ مازک

متعلم جامعہ عالیہ عربیہ مئو

See less

Related posts

’’ ہندایکتا منچ‘‘ سنستھا نے مہیندر نیہ اور ہر دل عزیز شاعر شکور انور کا سمان کیا

Paigam Madre Watan

28جنوری کو کمباکونم میںآئی یو ایم ایل کی جانب سے "محلہ جماعت ریاستی کانفرنس”کا انعقاد

Paigam Madre Watan

سمینہ قتل کیس : بہن بہنوئی کی گرفتاری کےلئے شوہر نے ایس پی کو دیا دو بار درخواست ،کوئی کارروائی نہیں

Paigam Madre Watan