National قومی خبریں

بدلتے ہوئے تعلیمی و سماجی ماحول میں اردو کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری : پروفیسر نیلوفر خان

بدلتے ہوئے تعلیمی و سماجی ماحول میں اردو کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری : پروفیسر نیلوفر خان
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور مرکز برائے فاصلاتی و آنلائن تعلیم، کشمیر یونیورسٹی کے باہمی اشتراک سے اردو اساتذہ کے لیے پانچ روزہ ورکشاپ کا افتتاح

سری نگر/دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور مرکز برائے فاصلاتی و آنلائن تعلیم، کشمیر یونیورسٹی کے باہمی اشتراک سے پانچ روزہ ورکشاپ بعنوان ‘اردو اساتذہ کی صلاحیت سازی: قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی روشنی میں’ کا افتتاح آج گاندھی بھون آڈیٹوریم، کشمیر یونیورسٹی میں عمل میں آیا۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت وائس چانسلر، کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انھوں نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی علمی، ادبی اور تعلیمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات پر بے حد خوش ہیں کہ این سی پی یو ایل نے مرکز برائے فاصلاتی و آنلائن تعلیم، کشمیر یونیورسٹی کے ساتھ باہمی اشتراک کرتے ہوئے اس اہم ورکشاپ کے انعقاد میں بھرپور تعاون کیا۔ انھوں نے اس موقعے پر این سی پی یو ایل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی رہنمائی میں کونسل اردو زبان کے فروغ، ترویج اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہی ہے۔ انھوں نے چنار بک فیسٹیول میں این سی پی یو ایل کی فعال اور مؤثر شرکت کا بھی خصوصی ذکر کیا اور کہا کہ نو روز تک جاری رہنے والی علمی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں نے کشمیری عوام کو اردو زبان و ادب سے جوڑے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جو ادارے کی سنجیدہ علمی و ادبی وابستگی کا مظہر ہے۔ پروفیسر نیلوفر خان نے کہا کہ اردو زبان کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے تاکہ یہ بدلتے ہوئے تعلیمی اور سماجی ماحول میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔ مرکز برائے فاصلاتی و آنلائن تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس ادارے کے طلبہ نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور انھیں یقین ہے کہ یہ پانچ روزہ ورکشاپ اردو اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی۔
مہمانِ اعزازی ڈاکٹر شمع کوثر یزدانی، اسسٹنٹ ڈائرکٹر (اکیڈمک)، این سی پی یو ایل نے کہا کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ملک بھر میں اردو زبان و ادب کے فروغ، معیاری ادبی کتب کی اشاعت، اساتذہ کی تربیتی سرگرمیوں کے انعقاد اور جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ مختلف پروگراموں کے ذریعے اردو کی ترویج و اشاعت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ این سی پی یو ایل کی مسلسل کوشش ہے کہ اردو کو نئی نسل سے جوڑا جائے اور اسے روزگار، تحقیق اور جدید تعلیم کے میدان میں مزید کارگر بنایا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اساتذہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ نئی تدریسی مہارتوں اور تعلیمی رجحانات سے خود کو مسلسل آراستہ کرتے رہیں۔
مہمانِ اعزازی پروفیسر شہناز(ڈین، اسکول آف اوپن لرننگ) نے کہا کہ ورکشاپس کا بنیادی مقصد اساتذہ کی علمی و تدریسی صلاحیتوں کو نکھارنا اور ان کی کمزوریوں کو دور کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا بلکہ زندگی بھر جاری رہتا ہے۔ ان کے مطابق زبان صرف اظہارِ خیال کا وسیلہ نہیں بلکہ کسی بھی قوم کی تہذیب، ثقافت اور شناخت کی امین ہوتی ہے، اور اردو اس اعتبار سے ایک نہایت زرخیز اور متمول زبان ہے۔
قبل ازاں استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے پروفیسر الطاف انجم( ڈائریکٹر، مرکز برائے فاصلاتی و آنلائن تعلیم) نے کہا کہ ہر زبان اپنی انفرادیت اور حسن رکھتی ہے اور اس کی خوبصورتی اس کے صحیح استعمال میں مضمر ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس پانچ روزہ ورکشاپ کے ذریعے اردو اساتذہ کو قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے اہم نکات، جدید تدریسی طریقوں اور لسانی تربیت سے روشناس کرایا جائے گا۔
افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر محمد رفیع( اسسٹنٹ پروفیسر، مرکز برائے فاصلاتی و آنلائن تعلیم) نے کی جبکہ کلماتِ تشکر ڈاکٹر شوکت رشید وانی (ایسوسی ایٹ پروفیسر، مرکز برائے فاصلاتی و آنلائن تعلیم) نے پیش کیے۔
افتتاحی اجلاس کے بعد مرکز برائے فاصلاتی و آنلائن تعلیم کے کانفرنس ہال میں تین تکنیکی سیشن منعقد ہوئے۔ پہلے سیشن میں پروفیسر شفق سوپوری نے ‘شعر: شرح، تفہیم اور تعبیر’ کے موضوع پر تفصیلی اور فکرانگیز گفتگو کی، جبکہ اس سیشن کی صدارت پروفیسر شفیقہ پروین( سابق ڈائریکٹر، مرکز برائے فاصلاتی و آنلائن تعلیم) نے کی۔
صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اردو اساتذہ کو وقت کے تقاضوں کے مطابق نئے نئے تدریسی طریقے سیکھنے چاہئیں تاکہ بچوں میں اردو زبان کے تئیں دلچسپی پیدا کی جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے تدریسی عمل میں مدد لی جا سکتی ہے، تاہم اس پر مکمل انحصار تعلیمی نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ ٹیکنالوجی کو معاون وسیلہ بنائیں، نہ کہ اس کا متبادل۔
دوسرے تکنیکی سیشن میں جناب شاکر شفیع نے ‘اردو شاعری کی تدریس کے طریقۂ کار’ پر جامع لیکچر دیا۔ اس نشست کی صدارت پروفیسر انوار عالم پاشا (سابق چیئرپرسن ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جے این یو) نے کی۔ انھوں نے شرکائے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ دراصل خود صلاحیت ساز ہوتے ہیں اس لیے ان کی ذمے داری بھی زیادہ ہوتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ تدریس کے اصول و ضوابط کی پابندی ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور جدید تدریسی طریقوں کے ذریعے کلاس روم کو زیادہ دلچسپ اور مؤثر بنا سکتے ہیں۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں ان کی ذہنی سطح، عمر اور نفسیاتی ضروریات کا خاص خیال رکھنا نہایت اہم ہے۔
تیسرے تکنیکی سیشن میں ڈاکٹر عظمت اللہ خان احساس نے ‘تدریسی مہارتیں، بچوں کی نفسیات اور اردو اساتذہ کا کردار’ کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ اس سیشن کی صدارت جناب شاکر شفیع نے کی۔ صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے انھوں نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے اس پالیسی کی مختلف خصوصیات، عملی و تخلیقی تدریس، اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔

Related posts

भवन व अन्य सन्निर्माण कार्य से जुडे़ श्रमिकों के लिए ब्लॉक स्तर पर स्थापित होंगे हैल्प-डेस्क: अनिल विज

Paigam Madre Watan

مسلم رائے دہندگان سے اظہار تشکر

Paigam Madre Watan

लोगों के जीवन स्तर को ऊंचा उठाने के लिए प्रदेश सरकार निरंतर कार्यरत : मुख्यमंत्री

Paigam Madre Watan