Urdu Literature & A.I. اردو ادب اور اے آٸ

"تین طوفانی محبتیں” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

"تین طوفانی محبتیں” پر مکالمہ
اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ 
حیدرقریشی کی تحریر
"تین طوفانی محبتیں "
………………………………………………
*حیدرقریشی :*
محترم بشارت صاحب.   السلام عليكم
افسانوں کے مطالعہ کے ذیل میں آپ کو کیسے کیسے سچ پڑھنے کو مہ رہے ہیں ۔”چھلا” کے بعد "تین طوفانی محبتیں ” اسی نوعیت کی تحریر ہے۔پڑھیں اور پھر آپ کا تجزیہ دیکھتے ہیں ۔
……………………………………………
ڈیجیٹل بشارت صاحب :

محترم حیدر قریشی صاحب!

میں نے "تین طوفانی محبتیں” پوری توجہ سے پڑھ لی۔

میرا ابتدائی تاثر یہ ہے کہ یہ محض تین محبتوں کا بیان نہیں بلکہ بیماری، روحانی تجربے، بڑھاپے، موت کے شعور اور زندگی کی واپسی کی ایک تہہ دار خودنوشت ہے۔ اس میں محبت اپنی روایتی شکل میں نہیں آتی بلکہ زندگی کی ازسرِ نو تصدیق (affirmation of life) بن کر سامنے آتی ہے۔

چند باتیں فوری طور پر نمایاں محسوس ہوئیں:

  • آغاز میں روحانی تجربے اور انسانی جسم کی کثافت و لطافت کا بیان پوری تحریر کا فکری پس منظر فراہم کرتا ہے۔ اس کے بعد آنے والی محبتیں محض رومان نہیں رہتیں بلکہ "روح کی بحالی” کا حصہ بن جاتی ہیں۔
  • تینوں خواتین دراصل تین الگ الگ نفسیاتی اور جمالیاتی جہات کی نمائندہ ہیں: پہلی میں رفاقت اور اعتماد، دوسری میں شوخی اور زندگی کی چمک، جبکہ تیسری میں روحانی اسرار اور صوفیانہ کشش نمایاں ہے۔
  • آپ نے حسبِ معمول حقیقت اور افسانویت کو اس طرح باہم مدغم کیا ہے کہ قاری بار بار یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ کہاں خودنوشت ہے اور کہاں فنکار کی تخلیقی آمیزش۔ یہی ابہام اس تحریر کی ادبی قوت ہے۔
  • تحریر کا آخری حصہ، جہاں مرحومہ مبارکہ کے ساتھ کیے گئے وعدے اور ان تین محبتوں کو ایک لطیف مزاحیہ تعبیر دی گئی ہے، پورے مضمون کو ایک ساتھ غم، محبت، مزاح اور تقدیر کے احساس سے بھر دیتا ہے۔

مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ یہ تحریر آپ کے پہلے پڑھے ہوئے افسانہ "چھلّا” کی طرح سچائی کے دائرے میں داخل ہوتی ہے، لیکن اس کی فضا مختلف ہے۔ "چھلّا” میں داخلی اذیت اور یاد کا رنگ غالب تھا، جبکہ یہاں بیماری کے بعد زندگی کی غیر متوقع بہار اور اس پر خود مصنف کی حیرت مرکزی کیفیت ہے۔

میرا خیال ہے کہ اس تحریر پر تفصیلی ادبی تجزیہ نسبتاً طویل ہوگا، کیونکہ اس میں خودنوشت، افسانہ، روحانی بیانیہ، مزاح، نفسیات اور علامتی سطحیں ایک ساتھ موجود ہیں۔ ان شاء اللہ میں اس کا تجزیہ اسی طرح مفصل انداز میں پیش کروں گا جیسے آپ کے دوسرے افسانوں پر کیا ہے۔

……………………………………………

حیدرقریشی :

بشارت صاحب!    السلام عليكم

آج شام کی نشست کے لیے حاضر ہوں ۔”تین طوفانی محبتیں ” کے حوالے سے آپ کی تجزیاتی رائے جان کر خوشی ہو گی ۔

………………………………………………

ڈیجیٹل بشارت صاحب :

محترم حیدر قریشی صاحب!
السلام علیکم

"تین طوفانی محبتیں” کا مطالعہ کرتے ہوئے سب سے پہلے جو احساس ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ اس تحریر کو صرف ایک عشقیہ روداد یا خودنوشت سمجھنا اس کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ بظاہر یہ تین محبتوں کا بیان ہے، لیکن اپنی داخلی ساخت میں یہ موت سے واپسی کی داستان ہے۔ آپ نے بیماری، روحانی تجربے اور محبت کو تین الگ الگ موضوعات کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ انہیں ایک ہی انسانی تجربے کے مختلف رُخ بنا دیا ہے۔ یہی اس تحریر کی پہلی اور بنیادی ادبی خوبی ہے۔

تحریر کا آغاز ہی قاری کو ایک غیر متوقع فکری فضا میں لے جاتا ہے۔ قاری سمجھتا ہے کہ اب شاید بڑھاپے کے معاشقوں کی کوئی ہلکی پھلکی داستان شروع ہوگی، لیکن آپ پہلے اسے روحانی تجربے، انسانی جسم کی حقیقت، کثافت اور لطافت کے اس مقام پر لے جاتے ہیں جہاں انسان اپنی بے بسی اور خدا کی رحمت دونوں کو ایک ساتھ محسوس کرتا ہے۔ اس تمہید کے بعد جب محبت کا ذکر آتا ہے تو وہ محض جذباتی واردات نہیں رہتی بلکہ خدا کی عطا کردہ زندگی کے تسلسل کی علامت بن جاتی ہے۔ یہی ترتیب اس تحریر کو عام اعترافی یا رومانوی نثر سے ممتاز کرتی ہے۔

مجھے اس تحریر کا سب سے بڑا وصف یہ محسوس ہوا کہ آپ نے روحانیت اور انسانیت کو ایک دوسرے کا مخالف نہیں بنایا۔ ہمارے معاشرے میں عموماً یہ تصور پایا جاتا ہے کہ روحانیت کا مطلب دنیا، حسن اور محبت سے دستبرداری ہے، لیکن آپ کا بیانیہ اس کے برعکس ایک مختلف نکتۂ نظر پیش کرتا ہے۔ آپ کے نزدیک جب انسان خدا کی تلاش میں نکلتا ہے تو وہ اپنی پوری انسانیت کے ساتھ نکلتا ہے، اپنی کمزوریوں، خواہشوں، محبتوں اور مسکراہٹوں سمیت۔ اسی لیے بیماری کے بعد محبت کا آ جانا آپ کے ہاں تضاد نہیں بلکہ اسی روحانی سفر کا ایک فطری تسلسل بن جاتا ہے۔

ادبی اعتبار سے یہاں ایک اور دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے۔ آپ حقیقت کو بیان کرتے ہوئے بار بار خود اس پر افسانے کا ہلکا سا پردہ ڈال دیتے ہیں۔ آپ خود لکھتے ہیں کہ کہیں نام چھپانے کے لیے کہانی بنانی پڑتی ہے اور کہیں کہانی میں حقیقت شامل ہو جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا اعتراف ہے جو دراصل پورے متن کی قرأت کی کلید بن جاتا ہے۔ اس کے بعد قاری ہر واقعے کو نہ مکمل حقیقت سمجھ سکتا ہے اور نہ مکمل افسانہ۔ یہی تخلیقی ابہام تحریر کو ایک ادبی کشش عطا کرتا ہے۔

ایک اور پہلو بھی خاص طور پر متاثر کرتا ہے۔ آپ ستر برس کی عمر، سرطان کے شدید حملوں اور موت کے انتہائی قریب سے واپس آنے کے بعد محبت کا ذکر کسی جذباتی فتح کے طور پر نہیں کرتے بلکہ حیرت کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس حیرت میں خود نمائی نہیں بلکہ ایک معصوم سوال ہے کہ "آخر مجھ میں ایسا کیا ہے؟” یہی سوال پوری تحریر کو انکسار عطا کرتا ہے۔ اگر یہاں خود ستائی کا لہجہ ہوتا تو یہ تحریر اپنی ادبی وقعت کھو دیتی، لیکن آپ نے حیرت، مزاح اور خود احتسابی کو ساتھ ملا کر اسے انسانی سطح پر قائم رکھا ہے۔

میرے نزدیک اس تحریر کا مرکزی استعارہ "تین محبتیں” نہیں بلکہ "زندگی کی واپسی” ہے۔ سرطان جسم کو شکست دیتا ہے، لیکن محبت انسان کے اندر زندگی کی حرارت کو پھر سے بیدار کر دیتی ہے۔ اسی لیے یہاں محبت صرف دو افراد کے درمیان تعلق نہیں بلکہ موت کے مقابلے میں زندگی کے اصرار کی علامت بن جاتی ہے۔

ان شاء اللہ اگلے حصے میں تینوں محبتوں کا الگ الگ ادبی، نفسیاتی اور علامتی مطالعہ پیش کروں گا۔ میرا خیال ہے کہ ہر محبت دراصل آپ کی شخصیت کے ایک مختلف داخلی پہلو کو روشن کرتی ہے، اور اسی زاویے سے یہ تحریر مزید گہرے معنی اختیار کر لیتی ہے۔

……………………………………………………

*حیدرقریشی :*

محترمی بشارت صاحب.    سلام مسنون

"تین طوفانی محبتیں ” پر آپ کے تجزیے کے اگلے حصے کا انتظار ہے۔۔۔۔۔

………………………………………………

ڈیجیٹل بشارت صاحب :

محترم حیدر قریشی صاحب!
السلام علیکم

آج "تین طوفانی محبتیں” کے دوسرے حصے میں پہلی محبت پر گفتگو کرتا ہوں۔

میری نظر میں پہلی محبت اس تحریر کا سب سے متوازن اور حقیقت سے قریب ترین حصہ ہے۔ اس میں نہ شوخی غالب ہے، نہ تصوف کا اسرار؛ بلکہ دو پختہ عمر انسانوں کے درمیان ذہنی اور روحانی قربت کی ایک ایسی کیفیت سامنے آتی ہے جو ہمارے ادب میں کم دکھائی دیتی ہے۔

یہ محبت جسمانی کشش سے پہلے مکالمے سے جنم لیتی ہے۔ پہلے دن آٹھ گھنٹے کی گفتگو، پھر پوری رات جاری رہنے والی باتیں، کتاب کے ذریعے تعارف، ایک دوسرے کے ذوق، پسند، مسائل اور زندگی کے تجربات میں دلچسپی—یہ سب اس تعلق کی بنیاد بنتے ہیں۔ آپ نے یہاں یہ تاثر نہیں دیا کہ محبت پہلی نظر میں پیدا ہوئی، بلکہ یہ دکھایا ہے کہ دو تنہا انسان ایک دوسرے کی گفتگو میں اپنی زندگی کی بازگشت سننے لگتے ہیں۔

مجھے خاص طور پر وہ منظر بہت مؤثر لگا جہاں خاتون آپ کے پسندیدہ کھانے بنا کر ان کی تصاویر بھیجتی ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ ہے، لیکن ادبی اعتبار سے یہ محض کھانوں کی تصویریں نہیں بلکہ دیکھ بھال (Care) کی علامت ہیں۔ بیماری سے اٹھنے والے ایک شخص کے لیے کسی کا یہ کہنا کہ "میں نے آپ کی پسند کا کھانا بنایا ہے”، دراصل یہ کہنا ہے کہ "میں آپ کی زندگی میں شریک ہونا چاہتی ہوں۔” یہی چھوٹی چھوٹی علامتیں اس محبت کو قابلِ یقین بناتی ہیں۔

ایک اور پہلو بھی بہت اہم ہے۔ آپ اس تعلق کے بیان میں یکسر رومانوی ہیرو نہیں بن جاتے بلکہ حقیقت کا دامن تھامے رکھتے ہیں۔ جب آپ اپنے اس عزیز سے رابطہ کرتے ہیں جس کا ماضی میں اس خاندان کے ساتھ تلخ تجربہ رہا تھا، تو گویا محبت کے ساتھ احتیاط اور سماجی حقیقت کو بھی شامل کر لیتے ہیں۔ اس سے کردار زیادہ انسانی معلوم ہوتا ہے، کیونکہ وہ صرف جذبے سے نہیں بلکہ تجربے سے بھی سوچتا ہے۔

مجھے اس حصے میں سب سے زیادہ متاثر کرنے والی بات یہ لگی کہ آپ نے خاتون کی شناخت کو محفوظ رکھا۔ آپ نے خود ابتدا میں واضح کر دیا تھا کہ بعض نام اور مقامات تبدیل کیے گئے ہیں تاکہ کسی کی عزت مجروح نہ ہو۔ یہی اخلاقی ذمہ داری اس تحریر کو سنسنی خیزی سے بچا لیتی ہے۔ اگر یہی واقعات ناموں اور تفصیلات کے ساتھ بیان کیے جاتے تو شاید ادبی وقار متاثر ہوتا، لیکن آپ نے رازداری کو تخلیقی اسلوب کا حصہ بنا دیا ہے۔

اس محبت کا اختتام بھی قابلِ توجہ ہے۔ آپ دونوں شادی کے امکان تک بات کرتے ہیں، لیکن حالات آڑے آ جاتے ہیں۔ یہاں تحریر کسی فلمی انجام کی طرف نہیں جاتی بلکہ زندگی کی طرح ادھوری رہ جاتی ہے۔ یہی ادھورا پن اسے زیادہ سچا بنا دیتا ہے۔ قاری محسوس کرتا ہے کہ بعض محبتیں اپنے انجام سے نہیں بلکہ اپنے اثر سے زندہ رہتی ہیں۔

ادبی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو پہلی محبت دراصل رفاقت کی محبت ہے۔ یہاں حسن موجود ہے، کشش بھی ہے، مگر سب سے نمایاں چیز باہمی اعتماد، گفتگو اور ایک دوسرے کے وجود کو قبول کرنا ہے۔ اسی لیے یہ حصہ پوری تحریر میں ایک پُرسکون اور متوازن فضا پیدا کرتا ہے، جس کے بعد آنے والی شوخ اور پراسرار محبتیں مزید نمایاں ہو جاتی ہیں۔

ان شاء اللہ اگلے حصے میں دوسری محبت پر گفتگو ہوگی، جہاں مزاح، شوخی، زندگی کی تازگی اور بڑھاپے کی خود آگاہی ایک نہایت دلچسپ ادبی رنگ اختیار کر لیتی ہے۔

………………………………………………

حیدرقریشی :

بشارت صاحب سلام

آج دوپہر کی نشست میں تھوڑا پہلے آ گیا ہوں ۔”تین طوفانی محبتیں ” پر آپ کے تجزیے کے اگلے حصے کا منتظر ہوں ۔

………………………………………

ڈیجیٹل بشارت صاحب :

محترم حیدر قریشی صاحب!

السلام علیکم

آپ ذرا پہلے آ گئے ہیں، سو میں بھی حاضر ہوں۔ آج "تین طوفانی محبتیں” کے تیسرے حصے میں دوسری محبت پر گفتگو کرتا ہوں۔


اگر پہلی محبت کو میں رفاقت کی محبت کہوں تو دوسری محبت کو زندگی کی شوخی کی محبت کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ پہلی محبت میں سکون، اعتماد اور وقار ہے، جبکہ دوسری محبت میں قہقہے، شرارت، حاضر جوابی اور زندگی کی بے ساختہ مسکراہٹ ہے۔

اس محبت کا آغاز ہی نہایت افسانوی انداز میں ہوتا ہے۔ قبر کے پلاٹ کے بارے میں لکھی ہوئی ایک بات پڑھ کر ایک نامعلوم خاتون کا یہ پیغام آتا ہے:

"میں آپ کی قبر کے پلاٹ کے بائیں جانب والی قبر میں دفن ہونا چاہتی ہوں۔”

یہ جملہ بیک وقت مزاحیہ بھی ہے، رومانوی بھی اور حیران کن بھی۔ عام لکھنے والا اسے صرف ایک لطیفہ بنا دیتا، لیکن آپ نے اسی ایک جملے سے زندگی اور موت کو ایک ہی منظر میں لا کھڑا کیا ہے۔ موت کے استعارے سے محبت کا آغاز ہونا اس تحریر کی ایک منفرد ادبی چال ہے۔

اس محبت کی سب سے نمایاں خوبی اس کی شوخی ہے۔ یہاں کوئی فلسفہ نہیں بگھارا جاتا، نہ بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں۔ مکالمہ چلتا ہے، چھیڑ چھاڑ ہوتی ہے، ہنسی پیدا ہوتی ہے اور قاری بھی اس ہنسی میں شریک ہو جاتا ہے۔ یہی بے ساختگی اس حصے کو زندہ رکھتی ہے۔

مجھے خاص طور پر وہ مکالمہ بہت پسند آیا جہاں آپ فرماتے ہیں کہ:

"میں بھی کیسا بے وقوف ہوں کہ خود آپ کو جوان لوگوں سے متعارف کرا رہا ہوں جو میرے لیے کھلا خطرہ ہیں۔”

اور جواب ملتا ہے:

"اگر وہ آپ کے ہم عمر ہوتے تو آپ کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔ جوانوں سے میرے معاملے میں کبھی خطرہ محسوس نہ کریں۔”

یہ جواب صرف شوخی نہیں بلکہ کردار کی ذہانت بھی ظاہر کرتا ہے۔ ایک ہی جملے میں اس نے عمر کے فرق کو بھی تسلیم کیا، آپ کے خدشے کو بھی ہنسی میں اڑا دیا اور اپنے اعتماد کا اظہار بھی کر دیا۔ ایسے مکالمے لکھے نہیں جاتے، محسوس کیے جاتے ہیں۔

اس حصے میں ایک اور ادبی خوبی نمایاں ہوتی ہے۔ آپ ستر برس کی عمر کا ذکر بار بار کرتے ہیں، لیکن کبھی ترس نہیں مانگتے۔ بڑھاپے کو کمزوری کے طور پر نہیں بلکہ خود آگاہی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ آپ اپنے اوپر بھی ہنستے ہیں اور حالات پر بھی۔ یہی خود پر ہنسنے کی صلاحیت تحریر کو وقار عطا کرتی ہے۔ اگر یہی واقعات سنجیدگی یا خودستائی کے ساتھ بیان ہوتے تو شاید قاری جھجھک محسوس کرتا، لیکن مزاح انہیں انسانی بنا دیتا ہے۔

جب خاتون اداسی کا اظہار کرتی ہیں اور آپ جواب میں کہتے ہیں:

"کہیں تو آپ کے شوہر سے آپ کا رشتہ مانگ لوں؟”

تو یہ محض ایک لطیفہ نہیں رہتا۔ یہ اس تعلق کی بے تکلفی کا اظہار بھی ہے۔ قاری محسوس کرتا ہے کہ دو انسان ایک دوسرے کے ساتھ اتنے مانوس ہو چکے ہیں کہ دکھ کو بھی مسکراہٹ میں بدل سکتے ہیں۔

میرے نزدیک دوسری محبت کا اصل موضوع عشق نہیں بلکہ زندگی کی واپسی کا قہقہہ ہے۔ سرطان، آپریشن، موت کے خدشات اور تنہائی کے بعد انسان اگر دوبارہ اس طرح ہنسنے لگے تو یہ صرف رومان نہیں رہتا بلکہ زندگی کی فتح بن جاتا ہے۔

اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس حصے میں اصل کردار صرف وہ شوخ حسینہ نہیں بلکہ آپ کی زندہ دلی ہے، جو ہر مکالمے میں جھلکتی ہے۔ بڑھاپا یہاں شکست نہیں کھاتا بلکہ مسکراتا ہے، اور یہی اس حصے کی سب سے بڑی ادبی کامیابی ہے۔

ان شاء اللہ آخری حصے میں تیسری محبت، اس کی صوفیانہ اور علامتی جہت، اور پھر پوری تحریر کے مجموعی فکری اور فنی مقام پر گفتگو پیش کروں گا۔ میرے خیال میں اسی آخری حصے میں "تین طوفانی محبتیں” کا اصل معنوی افق مکمل طور پر سامنے آتا ہے۔

…………………………………………

حیدرقریشی :

بشارت صاحب! تجزیہ تو حسبِ معمول عمدہ بھی ہے اور مسحور کن بھی۔۔۔۔اس کے لیے بے حد شکریہ ۔ تاہم آپ نے ستر سال کی عمر والے اقتباس میں خود پر ہنسنے والی جو بات لکھی ہے تو اس پر مجھے ڈاکٹر وزیر آغا صاحب کے الفاظ یاد آ گئے ۔1990 میں میرے پہلے شعری مجموعہ "سلگتے خواب ” کے پیش لفظ میں میرے اس رویے کو آغا جی نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا۔

حیدر قریشی کے اس رویے نے اس کی غز لو ں میں ایک ایسا ذائقہ پیدا کیا ہے جو آ ج کے نئے غزل گو شعراءمیں سے شاید ہی کسی کے ہا ں نظر آئے۔ یعنی وہ غزل کی مقبول ترین تمثیل میں (جو عورت اور مرد کے رشتے پر مشتمل ہے ) اپنا کر دار ادا کر تے ہو ئے اس سے لحظہ بھر کے لئے باہر نکل کر اس پر ایک نظر ڈالنے کی کو شش کر تا ہے ، یہ معروضی رویہ شاعر کو بے معنو یت یا زیا ں کے ایک گہرے احسا س کے بھی سپرد کرسکتا تھا مگر حیدر قریشی کے ہا ں اس کے نتیجے میں ایک ایسی مو ہو م سی مسکراہٹ ابھری ہے جس میں شرارت کا عنصر واضح طور پر شامل ہے۔ خود پر ہنسنے کے لئے بلا کا اعتماد ہی نہیں اپنی ذات سے باہر نکل کر خود کو دیکھنے کا رویہ بھی در کا ر ہے۔ تا ہم اس رویے کو اپنا نا شاعری کے معا ملے میں خطرناک بھی ہو سکتا ہے کےو نکہ اگر معروضیت کی گرفت کڑی ہو جائے تو ایسی صو رت میں طنز یہ مزاحیہ ادب تو پیدا ہو سکے گا مگر غم میں بھیگی ہو ئی وہ مسکراہٹ جنم نہ لے سکے گی جو شاعری کی معراج ہے۔ اور جو محسوسات کی سطح پر بھر پور شر کت ہی سے حاصل ہو تی ہے۔ غو ر کیجئے کہ ہماری غزل کی روایت تین نما یا ں عناصر پر مشتمل ہے۔ فکری عنصر ، لذت کوشی کا عنصر اور گر یہ و زاری کا میلان !

گویا اس میںHedonist, Thinker اورLamenter تینوں کی کا ر کردگی دیکھی جا سکتی ہے اور یہ تینوں اپنے اپنے منقطے میں بے حد سنجےدہ لو گ ہیں۔ مگر وہ چو تھا عنصر جو ان تینوں کے ذا ئقے سے آشنا ہو نے کے با وجو د انہیں نا ظر کی حیثیت میں دیکھنے پر قا در ہو ، اردو میں خا ل خا ل ہی نظر آتا ہے۔ اس کی بہترین مثا ل غالب ہے جس کے ہا ں شاعرانہ مزاح Humour of Sublimity کے بہترین نمو نے ملتے ہیں یعنی انبسا ط کی وہ کیفیت جو آپ کو دیر تک ایسی سو چ میں مبتلا رکھے جس میں کسی گہرے دکھ کا احساس شامل ہو۔

۔۔۔غا لب کی خوبی یہ ہے کہ وہ ایک غم انگیز بلند فکری سطح سے جب چیزوں پر ایک نظر ڈالتا ہے تو غیر معمو لی اشیا ءمعمو لی اور معمو لی چیزیں غےر معمو لی بن جا تی ہیں۔ تب اس کے ہا ں وہ تبسم جا گتا ہے جو”جا ن لینے” کا ایک انو کھا زاویہ ہے ۔اس سلسلے میں ایک کم تر سطح پر عدم کی مثا ل بھی پیش کی جا سکتی ہے۔ جو انسا نی اعما ل ، مظا ہر ، حتیٰ کہ خو د پر ہنسنا بھی جانتا تھا۔ ویسے غا لب اور عدم میں بُعد القطبین ہے مگر ان کی جہت اےک ہے وہ جہت جو شاعر کو لحظہ بھر کے لئے وقت کے بہا ﺅ سے الگ کر کے نا ظر کی حیثیت تفویض کر دیتی ہے۔ ولیم بٹلر یٹیس نے اپنی مشہور نظم Long Legged Fly میں اس بھنورے کے کر دار کو پیش کیا ہے جو پانی کی سطح پر چلتا ہے مگر اس کے ساتھ بہہ نہیںجاتا یعنی وقت کی ندی رواں دواں رہتی ہے مگر رواں ندی کے کسی ایک مقام پر” چلنے ©” کے عا لم میں ٹھہر ا ہو تا ہے۔ اس کی دوسری مثال بھگو ت گیتا کا کنول ہے © جو پا نی میں رہتے ہو ئے بھی پا نی سے تر نہیں ہو تا ۔ غالب کی شاعری اس خاص قسم کے معروضی رویے کی بہترین مثال ہے۔

دو سری طرف عدم کے ہا ں کمتر سطح پر سہی لیکن یہ رو یہ اُبھرا ضرور ہے۔ اُردو کے نئے غزل گو شعراءمیں مجھے حیدر قریشی کے ہا ں یہی رویہ نظر آیا ہے۔ اگر اس کی غزل میں یہ انداز مزید نکھر سنور سکا تو اس بات کا امکا ن ہے کہ اس کی غزل دیگر بہت سے غزل گو شعراءسے بالکل الگ نظر آنے لگے گی۔

……………………………………………

ڈیجیٹل بشارت صاحب :

محترم حیدر قریشی صاحب!

السلام علیکم

یہ اقتباس پڑھ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ اب میں یہ بھی سمجھ گیا ہوں کہ "تین طوفانی محبتیں” کے مطالعے کے دوران مجھے بار بار کیوں محسوس ہو رہا تھا کہ آپ اپنے ہی کردار کو صرف جی نہیں رہے بلکہ دیکھ بھی رہے ہیں۔

ڈاکٹر وزیر آغا صاحب نے 1990 میں جس نکتے کی نشاندہی کی تھی، وہ محض آپ کی شاعری تک محدود نہیں رہا بلکہ آپ کی نثر، بالخصوص خودنوشت اور افسانوی نثر میں بھی پوری طرح منتقل ہو چکا ہے۔

ان کے اس جملے پر خاص طور پر غور کیجیے:

"وہ غزل کی مقبول ترین تمثیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس سے لحظہ بھر کے لیے باہر نکل کر اس پر ایک نظر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔”

میرے خیال میں یہی وہ چیز ہے جس نے "تین طوفانی محبتیں” کو عام اعترافی نثر بننے سے بچا لیا۔

مثال کے طور پر جب آپ لکھتے ہیں کہ:

"میں بھی کیسا بے وقوف ہوں کہ خود آپ کو جوان لوگوں سے متعارف کرا رہا ہوں…”

یا جب ستر سال کی عمر کا ذکر کرتے ہوئے اپنی ہی کیفیت پر مسکراتے ہیں، تو وہاں "محبت کرنے والا حیدر قریشی” اور "اس محبت کو دیکھنے والا حیدر قریشی” ایک ہی وقت میں موجود ہوتے ہیں۔

یہی وہ دوہرا شعور (Double Consciousness) ہے جس کی طرف وزیر آغا صاحب نے اشارہ کیا تھا۔

میں نے اپنے تجزیے میں اسے "خود پر ہنسنے” کا عنوان دیا تھا، لیکن آپ کے بھیجے ہوئے اقتباس کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ اس کی زیادہ درست تعبیر "اپنی ذات سے باہر نکل کر خود کو دیکھنے کی صلاحیت” ہے۔

یہ ایک بہت باریک فرق ہے۔

خود پر ہنسنا تو بہت سے لوگ جانتے ہیں، لیکن خود کو ایک کردار کے طور پر دیکھنا، پھر اس کردار سے محبت بھی رکھنا، اس پر ہنسنا بھی اور اس کی داخلی صداقت کو بھی برقرار رکھنا، یہ واقعی ایک بڑی تخلیقی صلاحیت ہے۔

وزیر آغا صاحب نے غالب کے Humour of Sublimity کا حوالہ دیا ہے۔ میں یہ دعویٰ نہیں کروں گا کہ آپ کا اسلوب غالب جیسا ہے، کیونکہ ہر بڑے شاعر کی اپنی دنیا ہوتی ہے، لیکن یہ ضرور عرض کروں گا کہ جس سمت کی طرف وزیر آغا صاحب نے اشارہ کیا تھا، اس کے واضح آثار آپ کی حالیہ نثری تحریروں میں نمایاں نظر آتے ہیں۔

خاص طور پر "تین طوفانی محبتیں” میں۔

اس تحریر میں قاری بار بار محسوس کرتا ہے کہ مصنف اپنے اوپر مسکرا رہا ہے، لیکن یہ مسکراہٹ استہزا کی نہیں بلکہ ایک گہرے دکھ سے گزر کر حاصل ہونے والی بصیرت کی مسکراہٹ ہے۔ اسی لیے اس میں شوخی بھی ہے، اداسی بھی، حیرت بھی اور زندگی کا احترام بھی۔

میرے خیال میں اگر آج ڈاکٹر وزیر آغا صاحب "تین طوفانی محبتیں” پڑھتے تو شاید اپنے اس مقدمے کی ایک نثری مثال بھی آپ کی اسی تحریر کو قرار دیتے۔ کیونکہ یہاں وہی رویہ پوری پختگی کے ساتھ سامنے آتا ہے جس کی پیش گوئی انہوں نے "سلگتے خواب” کے پیش لفظ میں کی تھی۔

اس اقتباس نے میرے لیے بھی ایک نئی کھڑکی کھول دی ہے۔ اب جب میں اس تحریر کے آخری حصے پر گفتگو کروں گا، تو وزیر آغا صاحب کے اس تصور کو بھی ذہن میں رکھوں گا۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ تیسری محبت اور خاص طور پر آخر میں مرحومہ مبارکہ صاحبہ کے بارے میں آپ کی علامتی تعبیر اسی "معروضی مگر محسوساتی” زاویۂ نظر کی بہترین مثال ہے۔

اس قیمتی اقتباس کے لیے میں دل سے آپ کا شکر گزار ہوں۔ بعض اوقات ایک بڑے نقاد کی پرانی رائے برسوں بعد کسی نئی تخلیق کو سمجھنے کی کنجی بن جاتی ہے، اور آج میرے لیے یہی ہوا۔

………………………………………

حیدرقریشی :

بشارت صاحب.  السلام عليكم

شام کی ہماری نشست ہے۔امید ہے آج اس پانچویں نشست میں آپ "تین طوفانی محبتیں ” کا تجزیہ مکمل کر لیں گے۔ویسے ایک اور نشست تک بھی چلا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ۔

……………………………………………

ڈیجیٹل بشارت صاحب :

محترم حیدر قریشی صاحب!

السلام علیکم

یہ اقتباس پڑھ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ اب میں یہ بھی سمجھ گیا ہوں کہ "تین طوفانی محبتیں” کے مطالعے کے دوران مجھے بار بار کیوں محسوس ہو رہا تھا کہ آپ اپنے ہی کردار کو صرف جی نہیں رہے بلکہ دیکھ بھی رہے ہیں۔

ڈاکٹر وزیر آغا صاحب نے 1990 میں جس نکتے کی نشاندہی کی تھی، وہ محض آپ کی شاعری تک محدود نہیں رہا بلکہ آپ کی نثر، بالخصوص خودنوشت اور افسانوی نثر میں بھی پوری طرح منتقل ہو چکا ہے۔

ان کے اس جملے پر خاص طور پر غور کیجیے:

"وہ غزل کی مقبول ترین تمثیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس سے لحظہ بھر کے لیے باہر نکل کر اس پر ایک نظر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔”

میرے خیال میں یہی وہ چیز ہے جس نے "تین طوفانی محبتیں” کو عام اعترافی نثر بننے سے بچا لیا۔

مثال کے طور پر جب آپ لکھتے ہیں کہ:

"میں بھی کیسا بے وقوف ہوں کہ خود آپ کو جوان لوگوں سے متعارف کرا رہا ہوں…”

یا جب ستر سال کی عمر کا ذکر کرتے ہوئے اپنی ہی کیفیت پر مسکراتے ہیں، تو وہاں "محبت کرنے والا حیدر قریشی” اور "اس محبت کو دیکھنے والا حیدر قریشی” ایک ہی وقت میں موجود ہوتے ہیں۔

یہی وہ دوہرا شعور (Double Consciousness) ہے جس کی طرف وزیر آغا صاحب نے اشارہ کیا تھا۔

میں نے اپنے تجزیے میں اسے "خود پر ہنسنے” کا عنوان دیا تھا، لیکن آپ کے بھیجے ہوئے اقتباس کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ اس کی زیادہ درست تعبیر "اپنی ذات سے باہر نکل کر خود کو دیکھنے کی صلاحیت” ہے۔

یہ ایک بہت باریک فرق ہے۔

خود پر ہنسنا تو بہت سے لوگ جانتے ہیں، لیکن خود کو ایک کردار کے طور پر دیکھنا، پھر اس کردار سے محبت بھی رکھنا، اس پر ہنسنا بھی اور اس کی داخلی صداقت کو بھی برقرار رکھنا، یہ واقعی ایک بڑی تخلیقی صلاحیت ہے۔

وزیر آغا صاحب نے غالب کے Humour of Sublimity کا حوالہ دیا ہے۔ میں یہ دعویٰ نہیں کروں گا کہ آپ کا اسلوب غالب جیسا ہے، کیونکہ ہر بڑے شاعر کی اپنی دنیا ہوتی ہے، لیکن یہ ضرور عرض کروں گا کہ جس سمت کی طرف وزیر آغا صاحب نے اشارہ کیا تھا، اس کے واضح آثار آپ کی حالیہ نثری تحریروں میں نمایاں نظر آتے ہیں۔

خاص طور پر "تین طوفانی محبتیں” میں۔

اس تحریر میں قاری بار بار محسوس کرتا ہے کہ مصنف اپنے اوپر مسکرا رہا ہے، لیکن یہ مسکراہٹ استہزا کی نہیں بلکہ ایک گہرے دکھ سے گزر کر حاصل ہونے والی بصیرت کی مسکراہٹ ہے۔ اسی لیے اس میں شوخی بھی ہے، اداسی بھی، حیرت بھی اور زندگی کا احترام بھی۔

میرے خیال میں اگر آج ڈاکٹر وزیر آغا صاحب "تین طوفانی محبتیں” پڑھتے تو شاید اپنے اس مقدمے کی ایک نثری مثال بھی آپ کی اسی تحریر کو قرار دیتے۔ کیونکہ یہاں وہی رویہ پوری پختگی کے ساتھ سامنے آتا ہے جس کی پیش گوئی انہوں نے "سلگتے خواب” کے پیش لفظ میں کی تھی۔

اس اقتباس نے میرے لیے بھی ایک نئی کھڑکی کھول دی ہے۔ اب جب میں اس تحریر کے آخری حصے پر گفتگو کروں گا، تو وزیر آغا صاحب کے اس تصور کو بھی ذہن میں رکھوں گا۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ تیسری محبت اور خاص طور پر آخر میں مرحومہ مبارکہ صاحبہ کے بارے میں آپ کی علامتی تعبیر اسی "معروضی مگر محسوساتی” زاویۂ نظر کی بہترین مثال ہے۔

اس قیمتی اقتباس کے لیے میں دل سے آپ کا شکر گزار ہوں۔ بعض اوقات ایک بڑے نقاد کی پرانی رائے برسوں بعد کسی نئی تخلیق کو سمجھنے کی کنجی بن جاتی ہے، اور آج میرے لیے یہی ہوا۔

……………………………………………

حیدرقریشی :

بشارت صاحب.  السلام عليكم

شام کی ہماری نشست ہے۔امید ہے آج اس پانچویں نشست میں آپ "تین طوفانی محبتیں ” کا تجزیہ مکمل کر لیں گے۔ویسے ایک اور نشست تک بھی چلا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ۔

………………………………

ڈیجیٹل بشارت صاحب :

محترم حیدر قریشی صاحب!

السلام علیکم

آج کی نشست میں "تین طوفانی محبتیں” کے آخری اور فیصلہ کن حصے پر گفتگو پیش کر رہا ہوں۔ اگر بعد میں کسی ضمنی پہلو پر الگ سے بات ہوئی تو وہ اس تجزیے کی توسیع ہوگی، اصل تجزیہ میرے نزدیک یہاں مکمل ہو جاتا ہے۔


پہلی محبت رفاقت کی تھی، دوسری محبت شوخی اور زندہ دلی کی، لیکن تیسری محبت ان دونوں سے مختلف ہے۔ یہاں بیانیہ ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں حقیقت، خواب، روحانیت اور علامت ایک دوسرے میں مدغم ہونے لگتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آپ کی نثر اپنی افسانوی فضا پیدا کرتی ہے۔

تیسری خاتون کا تعارف حسن سے نہیں بلکہ ایک پراسرار روحانی نسبت سے ہوتا ہے۔ وہ آپ کو کسی قدیم روحانی اجتماع میں پہچاننے کا ذکر کرتی ہیں، اور آپ اس واقعے کو نہ قطعی حقیقت قرار دیتے ہیں، نہ مذاق بنا کر رد کرتے ہیں، بلکہ ہلکے سے طنزیہ تبسم کے ساتھ قاری کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ یہی وہ اسلوب ہے جو اس تحریر کو عقیدت نامہ یا محض رومانوی داستان بننے سے بچاتا ہے۔

اس کردار کی تشکیل بھی قابلِ غور ہے۔ آپ اسے "ملکہ” بھی کہتے ہیں، "فقیرنی” بھی، "ملنگنی” بھی۔ یہ تینوں لفظ محض صفات نہیں بلکہ اس شخصیت کے اندر موجود مختلف جہتوں کی علامت ہیں۔ ایک طرف رعب و دبدبہ، دوسری طرف بے نیازی؛ ایک طرف حسن، دوسری طرف روحانی سادگی۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک باطنی کیفیت کا خاکہ کھینچ رہے ہوں۔

اس حصے کا سب سے خوبصورت منظر، میری نظر میں، گالوں والا مکالمہ ہے۔ بظاہر یہ ایک نہایت ہلکی پھلکی شرارت ہے، لیکن ادبی لحاظ سے اس کی معنویت بہت گہری ہے۔ ستر برس کی عمر میں، بیماریوں سے گزرنے کے بعد، کسی کا آپ کے گالوں کی تعریف کرنا محض تعریف نہیں رہتی بلکہ گویا زندگی آپ سے کہہ رہی ہوتی ہے کہ "تم ابھی بھی زندہ ہو، ابھی بھی قابلِ محبت ہو۔” یہی وجہ ہے کہ آپ اس منظر کو مزاح کے ساتھ بیان کرتے ہیں، لیکن اس کے اندر ایک گہرا انسانی لمس موجود رہتا ہے۔

یہاں مجھے ڈاکٹر وزیر آغا صاحب کا وہ اقتباس بار بار یاد آتا ہے جو آپ نے گزشتہ نشست میں پیش کیا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ آپ اپنی ذات سے باہر نکل کر خود کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس حصے میں یہ وصف پوری آب و تاب سے سامنے آتا ہے۔ اگر کوئی دوسرا لکھنے والا اپنے گالوں کی تعریف کا ذکر کرتا تو ممکن تھا کہ تحریر خود ستائی کا رنگ اختیار کر لیتی، لیکن آپ خود ہی اس پر مسکرا دیتے ہیں کہ "ستر سال میں کسی نے میرے گالوں کی تعریف نہیں کی۔” یہی فاصلے کی وہ باریک لکیر ہے جسے وزیر آغا صاحب نے تخلیقی معروضیت کہا تھا۔

اب آتے ہیں اس تحریر کے اختتام کی طرف۔

میرے نزدیک پوری تحریر کا سب سے طاقتور حصہ آخری دو تین پیراگراف ہیں۔ یہاں اچانک مرحومہ مبارکہ صاحبہ پوری تحریر کے پس منظر سے نکل کر پیش منظر میں آ جاتی ہیں۔ آپ جس انداز سے یہ تصور پیش کرتے ہیں کہ شاید انہوں نے عالمِ بالا سے تین حسیناؤں کو اس لیے بھیجا ہو کہ یا تو آپ محبت کی کامیابی میں ان تک پہنچ جائیں یا ناکامی کے صدمے میں، وہ بیک وقت مزاحیہ بھی ہے، المناک بھی اور وفاداری سے لبریز بھی۔

ادبی اعتبار سے یہ ایک نہایت کامیاب اختتام ہے، کیونکہ اس سے پہلے قاری تین محبتوں کو الگ الگ واقعات سمجھ رہا ہوتا ہے، لیکن آخری حصے میں اچانک معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کے پس منظر میں ایک چوتھی محبت ہمیشہ موجود تھی—مبارکہ کی محبت۔

یہی وہ لمحہ ہے جہاں عنوان "تین طوفانی محبتیں” اپنے ظاہری مفہوم سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ دراصل یہ تحریر تین محبتوں کی نہیں، بلکہ ایک دائمی محبت کے سائے میں آنے والی تین محبتوں کی داستان بن جاتی ہے۔

اسی لیے میری آخری رائے یہ ہے کہ اس تحریر کو صرف خودنوشت کہنا اس کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ یہ خودنوشت بھی ہے، افسانہ بھی، روحانی بیانیہ بھی، مزاحیہ نثر بھی اور بڑھاپے کی نفسیات کا ایک لطیف مطالعہ بھی۔ لیکن ان سب کے باوجود اس کا اصل موضوع انسان کے اندر زندگی کی دوبارہ بیدار ہونے والی خواہش ہے۔

آپ نے اس تحریر میں بیماری کو شکست دینے کا اعلان نہیں کیا، بلکہ زندگی سے دوبارہ محبت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہی اس کی اصل ادبی کامیابی ہے۔

آخر میں صرف ایک جملہ عرض کرنا چاہوں گا۔

اگر مستقبل میں کوئی ناقد آپ کی نثری تحریروں کی نمائندہ فہرست مرتب کرے تو میری رائے میں "تین طوفانی محبتیں” اس میں ضرور شامل ہونی چاہیے، کیونکہ اس میں وہ تمام عناصر یکجا ہو گئے ہیں جو آپ کی تخلیقی شخصیت کی پہچان ہیں: خودنوشت، افسانویت، فلسفۂ حیات، صوفیانہ اشارات، شگفتہ مزاح، خود احتسابی، اور سب سے بڑھ کر وہ "موہوم سی مسکراہٹ” جسے ڈاکٹر وزیر آغا صاحب نے تین دہائیاں پہلے آپ کی شاعری کا امتیاز قرار دیا تھا، اور جو اب آپ کی نثر کی بھی شناخت بن چکی ہے۔

یہ تجزیہ لکھتے ہوئے مجھے بھی ایک قاری کی حیثیت سے بہت لطف آیا۔ اس کے لیے میں آپ کا ممنون ہوں۔

…………………………………………………

Related posts

افسانہ ” مسکراہٹ کا عکس” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

Paigam Madre Watan

افسانہ "کہانی کی کہانی” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

Paigam Madre Watan

افسانہ ” اندھی روشنی” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ 

Paigam Madre Watan