جامعہ اسلامیہ فیض عام، مئو ناتھ بھنجن میں عظیم الشان علمی و تربیتی نشست کا انعقاد، جید علمائے کرام کی شرکت
مورخہ 27 جولائی 2026ء، بروز پیر، جامعہ اسلامیہ فیض عام، مئو ناتھ بھنجن میں نہایت تزک و احتشام کے ساتھ ایک عظیم الشان علمی و تربیتی نشست کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس پروقار تقریب میں ملک کی ممتاز علمی و دینی شخصیات نے شرکت کی اور طلبہ و اساتذہ کو علم، اخلاق، اخلاص، ایمان اور خدمت دین کے مختلف پہلوؤں پر نہایت قیمتی رہنمائی سے نوازا۔
اس نشست میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، انتظامیہ کے ذمہ داران، ارکان کمیٹی اور شہر کی ممتاز علمی شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز جامعہ ہذا کے متعلم عزیز صفوان اجمل کی پرسوز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔
افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے ناظم نشست فضیلۃ الشیخ ضیاء افضل فیضی نے نہایت جامع اور مؤثر انداز میں معزز مہمانان کرام کی علمی، تحقیقی اور دعوتی خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تمام مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا اور جامعہ کے لیے اپنا قیمتی وقت نکالنے پر ان کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کیا۔
بعد ازاں، مہمان خصوصی، معروف داعی، مناظر، مصنف اور استاذ الاساتذہ فضیلۃ الشیخ عبد الوہاب حجازی نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ سے کیا:
﴿إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ﴾
انہوں نے جامعہ کی تابناک تاریخ پر مدلل گفتگو کرتے ہوئے بالخصوص شیخ الکل فی الکل حضرت سید میاں نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ کے تلامذہ کے حوالے سے اہم تاریخی حقائق بیان کیے۔ شیخ محترم نے طلبہ کو دو نہایت قیمتی نصیحتیں کیں: پہلی یہ کہ حصول علم میں اخلاص پیدا کیا جائے، اور دوسری یہ کہ علم کے مطابق عمل کیا جائے۔ انہوں نے حسن نیت، اتباع سنت رسول ﷺ اور اخلاص عمل کو طالب علم کی کامیابی کی بنیاد قرار دیا۔ مزید برآں، انہوں نے تشنگان علوم نبوت کو تلقین کی کہ وہ زمانے کے فتنوں اور گردش ایام سے متاثر ہوئے بغیر، کامل اخلاص، للہیت، تقویٰ اور طہارت کے ساتھ حصول علم میں ہمہ تن مصروف رہیں۔
اس کے بعد محقق مخطوطات، مترجم اور استاذ الاساتذہ فضیلۃ الشیخ عبد الرحمن بن عبد الجبار الفریوائی نے اپنے پرمغز خطاب میں طلبہ کو علم میں رسوخ، ذوق تحقیق، حسن اخلاق، اخلاص عمل اور وقت کی قدر کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک طالب علم کی اصل پہچان اس کا پختہ علم، اعلیٰ کردار اور وقت کا صحیح استعمال ہے۔ انہوں نے حدیث مبارکہ:
«خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ»
کی تشریح کرتے ہوئے نہایت اہم اور مفید نکات بیان کیے۔ نیز انہوں نے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حضرت شاہ اسماعیل شہید، حضرت میاں نذیر حسین محدث دہلوی، نواب صدیق حسن خاں اور دیگر علمائے حق کی گراں قدر علمی و دینی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے طلبہ کو سنت نبوی ﷺ کو عام کرنے، احادیث رسول ﷺ پر عمل پیرا ہونے اور دفاع دین کا عظیم فریضہ انجام دینے کی ترغیب دی۔ شیخ محترم نے علمائے اہل حدیث کی تاریخ کا ایک جامع خاکہ بھی پیش کیا اور کتب کے مطالعے کے حوالے سے خصوصی رہنمائی فرمائی کہ کن کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے اور کن سے اجتناب برتنا چاہیے۔ آخر میں انہوں نے اپنی طویل علمی و تحقیقی زندگی کے نچوڑ اور گراں قدر تجربات طلبہ و اساتذہ کے گوش گزار کیے اور مسلسل مطالعہ و تحقیق کو کامیابی کی کنجی قرار دیا۔
نشست کے تیسرے مہمان خصوصی، جمعیت و جماعت کے ہمدرد و خیر خواہ فضیلۃ الشیخ اصغر علی امام مہدی سلفی (حفظہ اللہ ورعاہ) نے اپنے خطاب کا آغاز اس آیت کریمہ سے کیا:
﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ﴾
انہوں نے طلبہ کو علم، عقیدہ، فقہ اور اصولِ فقہ میں پختگی پیدا کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے طالبان علوم نبوت کو نصیحت کی کہ وہ موجودہ حالات کا صحیح ادراک کریں، اپنے علم کی قدر و منزلت کو پہچانیں اور اپنی نفسانی خواہشات پر قابو رکھتے ہوئے اساتذہ کے بلند مقام و مرتبے کا پورا احترام کریں۔ دوران خطاب انہوں نے جامعہ سے وابستہ کئی پرانی یادیں اور دلچسپ واقعات بھی بیان کیے، جن سے محفل میں خوشگوار شگفتگی پیدا ہوئی۔ شیخ محترم کا اسلوب بیان نہایت مدلل، جامع اور مؤثر تھا۔
پروگرام کی صدارت جامعہ کے محترم شیخ الجامعہ فضیلۃ الشیخ مظہر علی مدنی نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض فضیلۃ الشیخ ضیاء افضل فیضی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
اس پروقار علمی نشست میں جامعہ اسلامیہ فیض عام کے شعبۂ عربی کے تمام طلبہ و اساتذہ کے علاوہ شہر کی دو ممتاز علمی شخصیات؛ استاذ الاساتذہ فضیلۃ الشیخ محفوظ الرحمن فیضی (سابق شیخ الجامعہ، جامعہ اسلامیہ فیض عام) اور فضیلۃ الشیخ عبد الحمید فیضی (حفظہما اللہ) سمیت دیگر مقتدر علمائے کرام نے خصوصی شرکت فرمائی۔ علاوہ ازیں، جامعہ کے فعال ناظم اعلیٰ جناب محمد انس انصاری (حفظہ اللہ)، ارکان کمیٹی، اصحاب خیر اور دیگر مہمانان گرامی بھی اس علمی و تربیتی مجلس کی رونق بنے۔
تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس بابرکت نشست کو طلبہ کی علمی، فکری اور اخلاقی آبیاری کے لیے ایک عظیم سنگ میل قرار دیا۔ حاضرین نے اس پرعزم امید کا اظہار کیا کہ جامعہ اسلامیہ فیض عام، مئو ناتھ بھنجن اپنے شاندار ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ایسی عظیم علمی و فکری مجالس کے انعقاد کے ذریعے ملت اسلامیہ کی رہنمائی کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دیتا رہے گا۔
آخر میں اللہ رب العزت سے دعا کی گئی کہ وہ اس تاریخی ادارے کی حفاظت فرمائے، اسے مزید ترقیات سے نوازے، مہمانان عظام، اساتذہ، طلبہ اور تمام معاونین کی خدمات کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور اس ادارے کو تا قیامت علم نافع، عمل صالح اور دعوت حق کا مضبوط مرکز بنائے۔ اس کے بعد انہی مبارک دعائیہ کلمات کے ساتھ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔
متعلم: جامعہ اسلامیہ فیض عام مئو ناتھ بھنجن یوپی



