ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی ضمانت اور کمپنی کے مستقبل پر نظریں مرکوز
ہیرا گروپ کی جائیدادوں کی رجسٹری، قانونی کارروائی نیا مرحلہ شروع
نئی دہلی / حیدرآباد (رپورٹ: مطیع الرحمن عزیز) ہیرا گروپ آف کمپنیز سے متعلق جاری قانونی کارروائی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا میں گزشتہ دنوں مسلسل سماعتوں کے بعد عدالت نے تلنگانہ کے رجسٹرار کو ہیرا گروپ کی 16 جائیدادوں کی رجسٹری کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس حکم کے بعد مقدمے کی آئندہ پیش رفت، خصوصاً کمپنی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی ضمانت اور کمپنی کے مستقبل کے حوالے سے مختلف حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ سماعت کے دوران ہیرا گروپ کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ کمپنی کی جائیدادیں موجودہ انداز میں نسبتاً کم قیمت پر فروخت یا منتقل ہونے سے کمپنی کی مالی اور انتظامی بنیادیں شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جائیدادوں کی مناسب اور حقیقی مارکیٹ ویلیو کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف کمپنی بلکہ ان ہزاروں افراد پر بھی مرتب ہوں گے جن کا سرمایہ یا مفاد کمپنی سے وابستہ ہے۔
قبل ازیں بھی ہیرا گروپ کی قانونی ٹیم نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ دعویٰ کرنے والے سرمایہ کاروں (کلیمنٹس) کی حقیقی تعداد اور ان کے دعووں کی جانچ کرائی جائے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کتنے افراد واقعی متاثرہ فریق ہیں۔ وکلاءکا استدلال تھا کہ اس جانچ کے بغیر کمپنی کے اثاثوں کی فروخت یا رجسٹری جیسے اقدامات قبل از وقت ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم عدالت نے اس مرحلے پر اس درخواست کو قبول نہیں کیا اور کارروائی اپنے مقررہ قانونی طریقہ کار کے مطابق جاری رکھی۔ ہیرا گروپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ کمپنی کے پلیٹ فارم پر اب بھی بڑی تعداد میں ایسے سرمایہ کار موجود ہیں جو کمپنی کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنی سرمایہ کاری کے تحفظ اور واپسی کے منتظر ہیں۔ ان کے مطابق چند شکایات کی بنیاد پر پوری کمپنی کے اثاثوں کے خلاف سخت اقدامات مناسب نہیں ہیں، بلکہ تمام حقائق اور دعووں کی مکمل جانچ کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ ہونا چاہیے۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے موجودہ احکامات مقدمے کے میرٹ پر حتمی فیصلہ نہیں بلکہ زیرِ سماعت قانونی کارروائی کا حصہ ہیں۔ مقدمہ ابھی مختلف قانونی مراحل سے گزر رہا ہے اور عدالت کی جانب سے آئندہ بھی مزید احکامات جاری کیے جا سکتے ہیں۔ ہیرا گروپ کے حامی اس بات کی امید ظاہر کر رہے ہیں کہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو ضمانت ملنے کے بعد کمپنی اپنی قانونی حکمتِ عملی کو مزید موثر انداز میں آگے بڑھا سکے گی۔ ان کا ماننا ہے کہ کمپنی کے خلاف اب تک ہونے والی سماعتوں میں ایسا کوئی حتمی عدالتی فیصلہ سامنے نہیں آیا جس میں کمپنی کو قصوروار قرار دیا گیا ہو، اس لیے انہیں مستقبل میں مثبت پیش رفت کی توقع ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔
ادھر ہیرا گروپ کی سی ای او ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی ذاتی مشیر اور قانونی معاون نازنین عرف عابدہ کی ضمانت کی درخواست حیدرآباد کی سیشن کورٹ نے مسترد کر دی ہے۔ ان کی قانونی ٹیم نے عدالت کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حکم کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کریں گے۔ وکلاءکے مطابق ان کی موکلہ صرف کمپنی میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہی تھیں اور ان کے خلاف ضمانت مسترد کیے جانے کے فیصلے پر قانونی طور پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے۔ اس وقت تمام نظریں سپریم کورٹ کی آئندہ سماعتوں پر مرکوز ہیں۔ قانونی ماہرین، سرمایہ کار اور ہیرا گروپ سے وابستہ افراد اس انتظار میں ہیں کہ عدالت مستقبل میں اس مقدمے کے مختلف پہلووں، کمپنی کے اثاثوں، سرمایہ کاروں کے مفادات اور دیگر قانونی نکات پر کیا حتمی احکامات صادر کرتی ہے۔

