Urdu Literature & A.I. اردو ادب اور اے آٸ

 ” ماں دی اِے موم بتی اِے” پر مکالمہ  اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

 ” ماں دی اِے موم بتی اِے” پر مکالمہ 
اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ 
حیدرقریشی کا خاکہ نما
ماں دی اِے موم بتی اِے
…………………………………………

*حیدرقریشی :*

بشارت صاحب السلام عليكم
آج یادوں کے جھروکے سے ٹین ایج کی یک طرفہ محبت لے کر حاضر ہوں ۔ اسے یک طرفہ لکھا ہے لیکن یہ اتنی یک طرفہ بھی نہیں تھی۔احساس کی سطح پر کچھ نہ کچھ توتھا۔
عنوان ایک مشہور پنجابی بولی سے ماخوذ ہے ۔
سارے پِنڈ وچ چانن تیرا
نی ماں دی اِے موم بتی اِے
(اے اپنی ماں کی موم بتی! سارے گاؤں میں تمہارے دم سے چاندنی پھیلی ہوئی ہے)
۔۔۔۔عمر کے اس حصے میں ایسی یادیں لکھتے ہوئے خوشگوار سا لگتا ہے۔دیکھتے ہیں آپ اسے کس نظر سے دیکھتے ہیں ۔
………………………………………………………

*ڈیجیٹل بشارت صاحب :*
حیدر صاحب، السلام علیکم!

یہ خاکہ نما یاد پڑھتے ہوئے سب سے پہلے جو احساس ابھرتا ہے، وہ **معصومیت کی صداقت** کا ہے۔ یہ محبت کی کوئی ڈرامائی داستان نہیں، بلکہ ایک ایسی یاد ہے جو نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اپنی پہلی روشنی کے ساتھ دل میں محفوظ ہے۔ شاید اسی لیے اس کا عنوان **”ماں دی اِے موم بتی اِے”** پوری تحریر کا بہترین استعارہ بن گیا ہے۔ ایک چھوٹی سی موم بتی، جو کبھی شعلہ نہیں بنی، لیکن مسلسل روشنی دیتی رہی۔

چند پہلو خاص طور پر متاثر کرتے ہیں۔

**اوّل:** آپ نے اپنے ٹین ایج کے شرمیلے مزاج کو جس خود طنزیہ انداز میں بیان کیا ہے، وہ تحریر کو بے حد دلکش بنا دیتا ہے۔ یہ جملہ:

> "میں حقیقتاً اتنا شریف نہیں تھا، بس… کوئی اچھی سی ‘گندی بات’ سوچتے ہوئے بھی گھبراتا تھا…”

اس میں مزاح بھی ہے، نفسیاتی سچائی بھی، اور اس عہد کی معاشرتی تربیت کی مکمل تصویر بھی۔

**دوم:** پوری تحریر کا محور وہ ایک جملہ ہے:

> **”کون ہے اوئے حیدر؟”**

ادبی اعتبار سے یہی وہ لمحہ ہے جس نے ایک معمولی واقعے کو یادگار بنا دیا۔ اگر یہ جملہ نہ ہوتا تو شاید یہ ملاقات بھی ہزاروں گزر جانے والی ملاقاتوں میں شامل ہو جاتی۔ لیکن ایک دبنگ لہجہ، ایک نظر، اور ایک لمحہ پوری عمر کا استعارہ بن گیا۔ یہی اچھی نثر کا حسن ہے کہ وہ معمولی واقعے سے غیر معمولی معنی پیدا کرتی ہے۔

**سوم:** مجھے یہ بات بہت پسند آئی کہ آپ نے اس تعلق کو کبھی مصنوعی رومانویت کا رنگ نہیں دیا۔ نہ خط، نہ ملاقاتیں، نہ وعدے، نہ المیے۔ صرف راستوں کا اشتراک، نگاہوں کی زبان، اور برسوں تک خاموش گزر جانا۔ یہی خاموشی اس یاد کو وقار عطا کرتی ہے۔ قاری محسوس کرتا ہے کہ یہاں محبت سے زیادہ **احترام** باقی رہ گیا ہے، اور احترام اکثر محبت سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتا ہے۔

**چہارم:** "غریب بادشاہ” کے اقتباس کو شامل کرنا بھی مناسب معلوم ہوا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ زندگی کے بعض غیر محسوس تجربات کس طرح بعد میں تخلیقی اظہار کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ گویا زندگی پہلے واقعہ لکھتی ہے، ادب بعد میں اس کی تعبیر کرتا ہے۔

**پنجم:** مبارکہ صاحبہ کا کردار بھی حسبِ معمول بہت خوبصورتی سے سامنے آیا ہے۔ آپ نے پہلے بھی کئی بار بتایا ہے کہ آپ نے اپنی زندگی کے بیشتر راز ان سے نہیں چھپائے۔ یہاں بھی ان کا ہنستے ہوئے کہنا:

> **”اچھا اچھا… آپ کی وہ موم بتی!”**

تحریر میں ایک گھریلو شفقت اور ہلکی سی شوخی شامل کر دیتا ہے۔ اس ایک جملے سے مبارکہ صاحبہ کی شخصیت بھی جھلک جاتی ہے کہ وہ حسد کے بجائے مسکراہٹ سے اس یاد کو قبول کرتی ہیں۔

البتہ ایک ادبی نکتہ میری نظر میں آیا۔ آخری پیراگراف میں آپ براہِ راست "میم ٹیچر” سے مخاطب ہو جاتے ہیں:

> "انہیں یہ جان کر خوشی ہوگی…”

یہ انداز مؤثر ہے، لیکن اس کے بعد جب آپ لکھتے ہیں:

> "میں نے ابھی تک اس موم بتی کو بجھنے نہیں دیا۔”

تو تحریر ایک یادداشت سے نکل کر اعترافیہ رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ یہ بھی خوبصورت ہے، لیکن اس کے باعث اختتام میں ہلکی سی جذباتی شدت بڑھ جاتی ہے۔ اگر مقصد صرف یاد کی لطافت کو برقرار رکھنا ہو تو اختتام کو کچھ زیادہ خاموش بھی رکھا جا سکتا تھا۔ تاہم چونکہ یہ آپ کی ذاتی یاد ہے، اس لیے موجودہ اختتام بھی اپنی صداقت کی وجہ سے قبولیت پیدا کرتا ہے۔

میرے نزدیک اس تحریر کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ یہ **نامکمل محبت کی داستان نہیں، بلکہ مکمل انسانیت کی داستان** ہے۔ اس میں کسی کو پانے کی حسرت نہیں، کسی کھو جانے کا نوحہ نہیں، صرف ایک روشن یاد کے لیے تشکر ہے۔ اسی لیے قاری کے دل میں اداسی نہیں، ایک نرم سی مسکراہٹ رہ جاتی ہے۔

اور آخر میں، آپ کے اپنے شعر کی طرف لوٹنا چاہوں گا:

> **جتنی اچھی صورتیں ہم کو ملیں

> اتنے ہی خانوں میں حیدر بٹ گئے**

یہ شعر اس خاکے کا محض سرنامہ نہیں، بلکہ اس کی پوری روح ہے۔ انسان اپنی زندگی میں کئی چہروں سے ملتا ہے؛ اکثر چہرے وقت کے ساتھ دھندلا جاتے ہیں، مگر کچھ چہرے یادداشت کے کسی روشن خانے میں موم بتی کی طرح جلتے رہتے ہیں۔ آپ کی یہ "موم بتی” بھی انہی میں سے ایک ہے—نہ اس نے زندگی کو جلا کر راکھ کیا، نہ اندھیرا ہونے دیا؛ بس خاموشی سے روشنی دیتی رہی۔ یہی اس خاکے کی سب سے بڑی ادبی کامیابی ہے۔
……………………………………………………

*حیدرقریشی :*

ہمیشہ سے تھوڑا زیادہ شکریہ ۔۔۔۔بشارت صاحب سب اچھا لگا۔
……………………………………………

*ڈیجیٹل بشارت صاحب :*
حیدر صاحب، آپ کا یہ **”ہمیشہ سے تھوڑا زیادہ شکریہ”** میرے لیے بھی ہمیشہ سے تھوڑا زیادہ خوشی کا باعث بنا۔

اس خاکے کے بارے میں ایک بات میں پہلے نہیں لکھ سکا تھا، اب عرض کرنا چاہتا ہوں۔ آپ کی بہت سی تحریروں میں حقیقت اور علامت ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتی ہیں، لیکن اس یادداشت میں آپ نے علامت کو حقیقت پر غالب نہیں آنے دیا۔ یہاں **”موم بتی”** صرف ایک استعارہ نہیں، بلکہ پوری عمر کی ایک اخلاقی کیفیت بن جاتی ہے۔ اس میں خواہش سے زیادہ احترام، اور محبت سے زیادہ دعا شامل ہے۔ یہی چیز اسے عام نوستالجیا سے بلند کرتی ہے۔

مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ عمر کے اس مرحلے میں آپ اپنی زندگی کے واقعات کو محض دہرا نہیں رہے، بلکہ ان کے اندر پوشیدہ انسانی معنی تلاش کر رہے ہیں۔ اسی لیے یہ یاد صرف تیرہ سال کے ایک لڑکے کی نہیں رہتی، بلکہ چوہتر پچھتر برس کے ایک ایسے ادیب کی بن جاتی ہے جو ماضی کو بھی وقار کے ساتھ دیکھتا ہے اور اس کے کرداروں کی عزتِ نفس کا بھی خیال رکھتا ہے۔ آپ نے آخر میں جان بوجھ کر بعض باتیں نہ لکھنے کا ذکر کیا ہے؛ میرے نزدیک یہی ضبط اس تحریر کی اخلاقی خوبصورتی ہے۔

اور ایک بات ذاتی طور پر بھی کہوں گا۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے آپ کے افسانوں، نظموں، خاکوں اور ان پر ہونے والی گفتگو کے ساتھ چلتے ہوئے ایک چیز نمایاں ہوئی ہے کہ آپ اپنی تخلیقات کی تشریح سننا ضرور چاہتے ہیں، مگر اپنی تحریر پر کسی تیار شدہ معنی کو مسلط نہیں کرتے۔ جہاں آپ متفق ہوتے ہیں وہاں دلیل کے ساتھ متفق ہوتے ہیں، اور جہاں وضاحت ضروری سمجھتے ہیں وہاں نئے زاویے کھول دیتے ہیں۔ یہی ادبی مکالمے کا صحت مند انداز ہے، اور میرے لیے بھی یہ گفتگو اسی وجہ سے مسلسل دلچسپ اور سیکھنے کا ذریعہ رہی ہے۔

اب تو اس مجوزہ کتاب **”حیدر قریشی کے افسانوں کے تجزیے”** میں جب یہ خاکہ بھی شامل ہوگا، مجھے یقین ہے کہ قاری افسانوں کے تجزیوں کے درمیان اس یادداشت کو ایک خوشگوار وقفے کی طرح پڑھے گا؛ ایسا وقفہ جو مصنف کے تخلیقی انسان کو اس کے ادبی انسان کے ساتھ ملا دیتا ہے۔

آپ کا بھی ہمیشہ سے تھوڑا زیادہ شکریہ۔ 🌹
………………………………………………

Related posts

افسانہ ” اپنے وقت سے تھوڑا پہلے” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

Paigam Madre Watan

 افسانہ ” روشن نقطہ” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ

Paigam Madre Watan

 افسانہ ” بھولے کی پریشانی” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ

Paigam Madre Watan