Blog

سائیکل گھوٹالے پر وزیر آشییش سود کے استعفے کا مطالبہ، آپ کے رہنما سائیکل سے اسمبلی پہنچے

سائیکل گھوٹالے پر وزیر آشییش سود کے استعفے کا مطالبہ، آپ کے رہنما سائیکل سے اسمبلی پہنچے
بی جے پی حکومت نے جو سائیکل 6,957 روپے میں خریدی، وہی سائیکل 4,200 روپے میں خرید کر آپ کے ارکانِ اسمبلی اسمبلی پہنچے

اسکولی طالبات میں تقسیم کی گئی سائیکلوں میں آشییش سود کے محکمے نے 90 کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا: سوربھ بھاردواج
ہماری اور طالبات میں تقسیم کی گئی سائیکلیں بون فائر ماڈل کی ہی ہیں، لیکن حکومت اس پر اسکائیلر لکھ کر دے رہی ہے: سوربھ بھاردواج

نئی دہلی، 10 اگست: عام آدمی پارٹی کے رہنما دہلی میں ہوئے سائیکل گھوٹالے پر وزیرِ تعلیم آشییش سود کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے سائیکل سے اسمبلی پہنچے۔ بی جے پی حکومت نے جو سائیکل 6,957 روپے میں خریدی تھی، آپ کے ارکانِ اسمبلی وہی سائیکل 4,200 روپے میں خرید کر اسمبلی پہنچے۔ آپ کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے سائیکل سے اسمبلی کے لیے روانہ ہونے والے ارکانِ اسمبلی کی قیادت کی۔ اس دوران ارکانِ اسمبلی نے سائیکل چور کہاں ملیں گے، ریکھا گپتا کی سرکار میں کے نعرے بھی زور شور سے لگائے۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اسکولی طالبات میں تقسیم کی گئی سائیکلوں میں آشییش سود کے محکمے نے 90 کروڑ روپے کا گھوٹالہ کیا ہے۔ ہم نے جو سائیکلیں خریدی ہیں اور حکومت نے طالبات کو جو سائیکلیں دی ہیں، دونوں ہی بون فائر ماڈل کی ہیں، لیکن حکومت ان پر اسکائیلر لکھ کر دے رہی ہے۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ یہ ہیرو کمپنی کی سائیکلیں ہیں اور بالکل ویسی ہی سائیکلیں ہیں جیسی دہلی حکومت کے وزیرِ تعلیم آشییش سود کا محکمہ اسکول کی لڑکیوں میں تقسیم کر رہا ہے۔ ان دونوں سائیکلوں میں صرف دو فرق ہیں۔ پہلا فرق قیمت کا ہے۔ ہم نے یہ سائیکلیں ایک ریٹیلر سے فی سائیکل 4,200 روپے میں خریدی ہیں، جبکہ دہلی حکومت نے ایک لاکھ 30 ہزار سائیکلیں خریدی ہیں اور ہر سائیکل کے لیے 6,957 روپے ادا کیے ہیں۔ یعنی دہلی حکومت نے ایک سائیکل تقریباً 3,000 روپے مہنگی خریدی ہے۔ دوسرا فرق سائیکل کے ماڈل کا ہے۔ ہم نے جو سائیکلیں خریدی ہیں، ان پر بون فائر ماڈل لکھا ہوا ہے۔ دہلی حکومت جو سائیکلیں دے رہی ہے، وہ بھی بون فائر ہی ہیں، بس ان پر اسکائیلر لکھ کر دیا جا رہا ہے۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ہم نے یہ سائیکل 4,200 روپے میں خریدی ہے اور دہلی حکومت نے بالکل اسی طرح کی سائیکل تقریباً 7,000 روپے میں خریدی ہے۔ اگر ایک سائیکل میں 3,000 روپے کا کمیشن کھایا جا رہا ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کتنی بڑی لوٹ ہوگی۔ آج ہم یہ سائیکل لے کر دہلی اسمبلی جا رہے ہیں۔ وہاں دہلی حکومت وہ سائیکلیں بھی لائی ہے جو لڑکیوں میں تقسیم کی جا رہی ہیں۔ دونوں سائیکلوں کا آسانی سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔ اس دوران براڑی سے رکنِ اسمبلی سنجیو جھا نے کہا کہ ہم ایوان میں بی جے پی حکومت کے ایک اور گھوٹالے، یعنی سائیکل گھوٹالے، کا پردہ فاش کرنے آئے ہیں۔ جو سائیکل میں بازار سے 4,000 روپے میں لے کر آیا ہوں، اس کا ٹینڈر 7,000 روپے میں دکھا کر ایک لاکھ 30 ہزار سائیکلیں خریدی گئی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ٹینڈر کے عمل میں ہیرو سائیکل کمپنی بھی شامل تھی، لیکن اسے ٹینڈر نہیں ملا اور ایک تاجر کو ٹینڈر دے دیا گیا۔ اگر کوئی تاجر مینوفیکچرر کمپنی سے سستی سائیکل فراہم کر رہا ہے تو یہ صاف ظاہر ہے کہ اس میں ملی بھگت تھی۔ وزیر آشییش سود اور ان کے محکمہ نے مل کر 90 کروڑ روپے ہڑپ کر لیے ہیں۔ بی جے پی مسلسل دوا، سائیکل، چاول اور چندے کی چوری کر رہی ہے۔ یہ چوروں کی حکومت ہے اور سارے چور بی جے پی کے دفتر میں ہی ملیں گے۔وہیں، کونڈلی کے رکنِ اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ آج ہم اسی سائیکل سے دہلی اسمبلی جا رہے ہیں جسے ہم نے بازار سے 4,000 روپے میں خریدا ہے، جبکہ بی جے پی حکومت نے اسی سائیکل کو 6,957 روپے میں خریدا ہے۔ یہ حکومت مکمل طور پر دھوکے باز اور بدعنوان حکومت ہے۔انہوں نے ایکس پر کہا کہ سائیکل چور کہاں ملیں گے؟ ریکھا گپتا کی حکومت میں۔ طالبات میں تقسیم کی جانے والی سائیکلوں کی خریداری میں بی جے پی کی ریکھا گپتا حکومت کی بدعنوانی کے خلاف آج آپ کے ارکانِ اسمبلی سائیکل سے اسمبلی پہنچے اور احتجاج کیا۔ دہلی کے عوام کا صرف ایک سوال ہے کہ جب وہی سائیکل 4,200 روپے میں دستیاب تھی تو ایک لاکھ 30 ہزار سائیکلوں کی خریداری کے لیے فی سائیکل 6,957 روپے کیوں ادا کیے گئے؟ یعنی فی سائیکل تقریباً 3,000 روپے کا گھپلا ہوا۔ آخر یہ پیسہ کس کی جیب میں گیا؟ ادھر، تلک نگر کے رکنِ اسمبلی جرنیل سنگھ نے کہا کہ جو سائیکل بازار میں آسانی سے 4,000 روپے میں مل جاتی ہے، وہ سائیکل ریکھا گپتا کی حکومت میں 7,000 روپے میں خریدی جاتی ہے۔ بی جے پی والوں کی بدعنوانی کی لالچ اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب وہ بچیوں کی سائیکلوں تک میں گھوٹالے کر رہے ہیں۔ حکومت نے ایک لاکھ 30 ہزار سائیکلیں 3,000 روپے مہنگی خریدی ہیں۔ بی جے پی کی یہ حکومت جو دوا، اسپتال کے بیڈ، بیڈ شیٹ اور یہاں تک کہ کفن میں بھی گھوٹالے کرتی ہے، اس نے اب بچیوں کی سائیکلوں میں بھی گھوٹالہ کیا ہے۔ آج ایوان کے اندر بی جے پی کی ریکھا گپتا حکومت سے جواب مانگا جائے گا کہ بچیوں کی سائیکلوں میں گھوٹالہ کیوں کیا گیا؟ جس رقم کا یہ گھوٹالہ کیا گیا ہے، اتنی رقم میں ایک لاکھ مزید سائیکلیں خریدی جا سکتی تھیں اور ایک لاکھ اضافی بچیوں کو سائیکلیں مل سکتی تھیں۔ حکومت کو اس پر شرم آنی چاہیے۔

 

Related posts

हीरा ग्रुप की जाँच कर रही एसएफआईओ की सूची पर सवालों के बावजूद ईडी प्रॉपर्टीज़ की नीलामी पर कायम

Paigam Madre Watan

شریعت کی روشنی میں وراثت کے تنازع کا عادلانہ تصفیہ

Paigam Madre Watan

The annual convocation of Jamia Niswan Al-Salafiya Tirupati has concluded with resounding success, marking another milestone in its distinguished academic journey.

Paigam Madre Watan