ہیرا گروپ کی جانچ کر رہی ایس ایف آئی او کی فہرست پر
سوالات کے باوجود ای ڈی پراپرٹیز کی نیلامی پر قائم
فہرست کی مکمل جانچ کے بعد ہی نیلامی کی اپیل، مبینہ طور پر نظرانداز؛ دعووں اور اصل واجبات کے تعین پر بھی سوالات
نئی دہلی/حیدرآباد (رپورٹ : مطیع الرحمن عزیز) ہیرا گروپ آف کمپنیز اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ سے متعلق معاملہ ایک مرتبہ پھر مختلف قانونی اور انتظامی سوالات کے باعث توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ معاملے کی تحقیقات، سرمایہ کاروں کے دعووں، ایس ایف آئی او کی جانب سے تیار کردہ فہرست اور ہیرا گروپ کی جائیدادوں کی نیلامی کے حوالے سے متعدد سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ہیرا گروپ سے متعلق مختلف ایف آئی آرز اور سرمایہ کاروں کے دعووں کو (ایس ایف آئی او) کی نگرانی میں یکجا کرنے کا مقصد یہ تھا کہ دعووں کو ایک مرکزی نظام کے تحت جمع کرکے متاثرہ افراد کی تعداد اور ان کے حقیقی مالی دعووں کا تعین کیا جا سکے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ ایس ایف آئی او کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں بعض ایسی خامیاں موجود ہیں جن کی مکمل جانچ ضروری ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض سرکاری سطح کے بیانات میں ایس ایف آئی او کے پاس جمع دعویداروں کی تعداد تقریباً 14,000 بتائی گئی ہے، جبکہ ایس ایف آئی او کی ویب سائٹ پر دستیاب فہرست میں تقریباً 11,373 نام دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب بعض آزاد ذرائع کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حقیقی طور پر ایس ایف آئی او کے سامنے دعویٰ جمع کرانے والوں کی تعداد اس سے کم ہو سکتی ہے۔ ان مختلف اعداد و شمار کے باعث یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ حتمی طور پر تصدیق شدہ کلیمینٹس کی تعداد کتنی ہے اور فہرست میں شامل ہر دعوے کی دستاویزی حیثیت کیا ہے؟ رپورٹ میں یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ بعض افراد نے مبینہ طور پر دوسرے لوگوں کے دستاویزات حاصل کرکے انہیں کلیمینٹ لسٹ میں شامل کرایا۔ تاہم، اس دعوے کی حتمی تصدیق متعلقہ تحقیقاتی ادارے کی دستاویزی جانچ کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ مکمل فہرست کی تصدیق اور چھان بین کو معاملے کا اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ہیرا گروپ معاملے میں سرمایہ کاروں کی مبینہ واجب الادا رقم کے حوالے سے بھی مختلف اعداد و شمار سامنے آتے رہے ہیں۔ کہیں ہزاروں کروڑ روپے کے دعوے کیے گئے، تو کہیں اس سے مختلف اعداد پیش کیے گئے۔ رپورٹ میں ایس ایف آئی او کی دستیاب فہرست کی بنیاد پر مجموعی دعووں کی رقم تقریباً 560 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ تاہم، اس رقم کو حتمی واجب الادا رقم قرار دینے سے قبل ہر دعوے کی تصدیق، اصل سرمایہ کاری، کمپنی سے موصول شدہ رقم اور دیگر مالی لین دین کا باقاعدہ حساب ضروری ہوگا۔خصوصاً اگر کسی سرمایہ کار نے ماضی میں کمپنی سے کوئی رقم بطور منافع، واپسی یا کسی اور مد میں حاصل کی ہے تو حتمی واجب الادا رقم طے کرتے وقت اس رقم کو بھی حساب میں شامل کرنا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ایسے موصول شدہ منافع یا ادائیگیوں کی مجموعی رقم تقریباً 300 کروڑ روپے تک بتائی جا رہی ہے، تاہم اس عدد کی بھی سرکاری دستاویزات سے تصدیق ضروری ہے۔
اسی تناظر میں بنیادی سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر جائیدادوں کی نیلامی سرمایہ کاروں کے دعووں اور واجبات کی وصولی کے لیے کی جا رہی ہے تو کیا پہلے کلیمینٹس کی مکمل تصدیق، اصل واجبات کے تعین اور فہرست کی تطہیر ضروری نہیں؟ ہیرا گروپ کی جانب سے قانونی کارروائیوں کے دوران مبینہ طور پر یہ مو ¿قف بھی پیش کیا گیا کہ پہلے کلیمینٹس کی فہرست کی مکمل جانچ کی جائے، اس کے بعد جائیدادوں کی نیلامی کا عمل آگے بڑھایا جائے۔ اس موقف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اگر فہرست میں کسی قسم کی غلطی، تکرار، غیر متعلقہ دعوے یا غیر تصدیق شدہ اندراج موجود ہو تو اس کی بنیاد پر جائیدادوں کی قیمت مقرر کرنا یا نیلامی کرنا بعد میں مزید قانونی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے۔
معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جائیدادوں کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم آخرکار کن حقیقی دعویداروں کو اور کس حساب سے دی جائے گی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دعویداروں کی شناخت، ان کی اصل سرمایہ کاری، موصول شدہ رقم اور بقایا واجبات کا ایک واضح اور قابلِ تصدیق ریکارڈ موجود ہو۔ لہٰذا سوال صرف یہ نہیں کہ کتنی جائیداد نیلام کی جا رہی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ جس مالی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے جائیدادیں فروخت کی جا رہی ہیں، اس ذمہ داری کی درست اور حتمی مقدار کیا ہے؟ مبصرین کے مطابق اگر ایس ایف آئی او کی فہرست ہی اس پورے عمل کی بنیادی دستاویز ہے تو اس کی مکمل جانچ اور تصدیق کے بغیر نیلامی کے عمل کو آگے بڑھانے سے مستقبل میں نئے دعوے، اعتراضات اور قانونی تنازعات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ہیرا گروپ معاملے میں متاثرہ سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اسی کے ساتھ کمپنی، اس کے اثاثوں اور قانونی حقوق کا تحفظ بھی قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ کسی بھی فریق کے خلاف حتمی رائے قائم کرنے سے قبل دعووں، مالی اعداد و شمار اور متعلقہ دستاویزات کی غیر جانب دارانہ تصدیق ضروری ہے۔اس لیے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایس ایف آئی او کی کلیمینٹ لسٹ کی مکمل جانچ، دعویداروں کی تصدیق، اصل بقایا رقم کا تعین اور کمپنی سے پہلے وصول کی گئی رقوم کا حساب مکمل کیا جائے، تاکہ جائیدادوں کی نیلامی اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کی تقسیم کا عمل شفاف، قابلِ اعتماد اور قانونی اعتراضات سے پاک ہو۔ آخرکار اس معاملے میں اصل ضرورت کسی فریق کے حق یا مخالفت میں رائے قائم کرنے سے زیادہ حقائق کی مکمل چھان بین، شفاف تحقیقات اور تمام متعلقہ فریقوں کے قانونی حقوق کے تحفظ کی ہے۔ یہی طریقہ متاثرہ سرمایہ کاروں کو بھی حقیقی انصاف فراہم کر سکتا ہے اور کسی کمپنی یا اس کے اثاثوں کے بارے میں غلط یا غیر مصدقہ معلومات کی بنیاد پر ہونے والے فیصلوں سے بھی بچا سکتا ہے۔

