Blog

پروفیسر ارشاد بیاروی کی والدہ کی تعزیت میں جلسہ

پروفیسر ارشاد بیاروی کی والدہ کی تعزیت میں جلسہ

لکھنؤ،  پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد خان بیاروی کی والدہ کا انتقال ان کے آبائی گاؤں موضع بیارہ قاضی میں ہوا، اور وہیں آج ان کی تدفین بھی عمل میں آئی، ان کے جنازہ میں کثیر تعداد میں علاقائی سیاسی اور سماجی لوگوں نے شرکت کی اور مغفرت کی دعا کی۔

اس سلسلے میں ایک تعزیتی جلسہ تنظیم محبان اردو کے دفتر’’سمیع ہال‘‘ ہیوٹ روٹ، بھانمتی چوراہے پر منعقد ہوا۔ تعزیتی جلسے میں تنظیم محبان اردو کے جنرل سیکریٹری اور صحافی ضیاء اللہ صدیقی ندوی نے ڈاکٹر ارشاد احمد خان بیاروی کی والدہ کے بارے میں اپنے تعزیتی کلمات میں کہا کہ مرحومہ فریق النساء زوجہ مرحوم ماسٹر نذر خان نہایت نیک اور بزرگ خاتون تھیں، صوم صلوۃ کی پابندی کے ساتھ نہایت غریب پرور، ملنسار اور دوسروں کے دکھ درد میں کام آنے والی خاتون تھیں، ان کی موت سے نہ صرف اہل خانہ بلکہ ان کے تمام پڑوسی اور علاقائی لوگ کافی غمگین ہیں، اور سب لوگ ایسا محسوس کررہیں گویا ان لوگوں نے اپنا سرپرست کھودیا۔ مرحومہ کے پسماندگان میں 5 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہیں، مرحومہ نے ماشاء اللہ اپنے تمام بیٹے بیٹیوں کی نہایت عمدہ تربیت کی اور ان سب کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا، اور سبھی بچوں کی شادیاں اپنی زندگی میں ہی کردیں، ان کے بیٹوں میں پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد خان بیاروی ماشاء اللہ تنظیم محبان اردو کے صدر اور حکیم رئیس یونانی میڈیکل کالج سنبھل میں پرنسپل ہیں۔ اور وہ ہمیشہ ادبی، سماجی اور طبی خدمات بڑھ چڑھ کر انجام دیتے رہتے ہیں، نہایت ہمدرد اور دوستوں کے دکھ درد کے ساتھی ہیں۔

جلسہ میں امریکن انسٹی ٹیوٹ آف انڈین اسٹڈیز کے ہیڈ ڈاکٹر احتشام احمد خان، اسلامیہ انٹر کالج کے استاد اور معروف ادبی شخصیت پرویز ملک زادہ، انٹگرل یونیورسٹی کے ڈاکٹر سید محمد صبیح ندوی، ناگرک ادھیکار پریشد کے صدر رفیع احمد، گلریز ندیم، ظفر حسین، مطیع اللہ صدیقی، حافظ مجیب اللہ صدیقی، ذکاء اللہ صدیقی ندوی، ڈاکٹر یوسف بیاروی، ڈاکٹر ساجد غفران، محمد راشد خان ندوی وغیرہ نے اپنے تعزیتی کلمات میں کہا کہ مرحومہ ایک ایسی باوقار اور مخلص شخصیت تھیں جن کی نیکی، شرافت، محبت اور حسنِ سلوک ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کا دنیا سے رخصت ہونا اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور تمام واقفین کے لیے یقیناً ایک ناقابلِ تلافی صدمہ ہے۔

اللہ تعالیٰ مرحومہ کی تمام نیکیوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، قبر کو نور سے بھر دے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو یہ عظیم صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ایسے نیک اور محبت بانٹنے والے لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں، مگر اپنی اچھی یادیں اور نیک اثرات لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے چھوڑ جاتے ہیں۔ اللہ رب العزت مرحومہ کو اپنی رحمتِ کاملہ میں جگہ عطا فرمائے۔ اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

Related posts

حضرت مولانا سلمان حسینی ندویؒ: اس صدی کی عبقری شخصیت : ظفر سریش والا

Paigam Madre Watan

ہیرا گروپ کی جانچ کر رہی ایس ایف آئی او کی فہرست پر سوالات کے باوجود ای ڈی پراپرٹیز کی نیلامی پر قائم

Paigam Madre Watan

हीरा ग्रुप की जाँच कर रही एसएफआईओ की सूची पर सवालों के बावजूद ईडी प्रॉपर्टीज़ की नीलामी पर कायम

Paigam Madre Watan