حضرت مولانا سلمان حسینی ندویؒ: اس صدی کی عبقری شخصیت
ظفر سریش والا
بروز 7؍ اگست ۲۰۲۶ء کو مجھے لکھنؤ جانے کا موقع ملا اور حضرت مولانا سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کے گھر حاضری ہوئی۔یہ وہی گھر ہے جس سے میرا کوئی چھتیس، چالیس برس کا تعلق رہا ہے؛ مولانا سے بھی اور ان کے گھر کے بچوں سے بھی۔خصوصاً مولوی یوسف حسینی ندوی اور مولوی یونس حسینی ندوی سے میرا گہرا اور دیرینہ تعلق رہا ہے۔ خود حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک نہایت مضبوط اور محبت بھرا تعلق قائم رہا۔
میں بلا تکلف یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہماری زندگی کو دین کی طرف جانے کا جو ایک نیا اور صحیح رخ ملا، اس میں حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت اور رفاقت کو ہی سب سے بڑا دخل ہے۔ اگرچہ ہماری زندگی پہلے ہی تبلیغ سے وابستہ تھی، لیکن مولانا سے ملاقات سے قبل مروجہ تبلیغ ہی کو مکمل دین سمجھتا تھا، لیکن حضرت مولانا سے ملاقات اور قربت کے بعد دین کی عالم گیریت، وسعت اور ہمہ جہتی میرے سامنے واضح ہوتی گئی۔ مجھے احساس ہوا کہ تبلیغ دین کا ایک اہم شعبہ ہے، پورا دین نہیں؛ دین کے بہت سے دوسرے پہلو اور شعبے بھی ہیں، جن سے ہم غافل یا بے خبر تھے۔ یہ ہمیں مولانا سے ملاقات کے بعد پتہ چلا۔
مولانا متعدد مرتبہ ہمارے گھر تشریف لائے، قیام فرمایا اور ہمارے ساتھ وقت گزارا۔ مجھے ان کے ساتھ مختلف اسفار کا بھی موقع ملا۔ امریکہ کا سفر ان کے ساتھ کیا، برطانیہ میں ان کے ہمراہ تفصیلی سفر رہا، متحدہ عرب امارات، کویت، ابوظبی اور دوسرے مقامات کے سفر بھی ان کی رفاقت میں ہوئے۔ انہی کے توسط سے جامعہ ازہر جانے اور وہاں کے اساتذہ و اہلِ علم سے ملاقات کا موقع ملا۔
یہ اسفار محض سفر نہ تھے؛ ان کے ذریعے ہماری زندگی کے سامنے دین، علم، دعوت اور فکر کا ایک نیا رخ کھلتا چلا گیا۔ حضرت مولانا کی صحبت میں گزرے ہوئے یہ لمحات، یہ اسفار اور یہ تعلق میری زندگی کی ان یادوں میں شامل ہیں جنہیں وقت گزرنے کے باوجود فراموش کرنا ممکن نہیں۔
میں ایک ایسے خانوادے سے تعلق رکھتا ہوں جس کے دروازے کم از کم ایک صدی سے ہندوستان اور عالمِ اسلام اور دیگر ممالک کی ممتاز علمی شخصیات کے لیے کھلے رہے ہیں۔ ہندوستان کے بڑے بڑے علماء ہی نہیں، بیرونِ ہند سے آنے والے جلیل القدر اہلِ علم بھی ہمارے گھر میں قیام فرماتے رہے، اور مجھے خود ان نابغۂ روزگار علماء کی صحبت اور قربت سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا ہے۔
اسی طویل پس منظر، مسلسل صحبت اور اہلِ علم کی قربت کی روشنی میں میں یہ بات پورے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ حضرت مولانا سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ جیسا عالمِ دین اِس صدی میں پیدا نہیں ہوا۔ ان کی علمی وسعت، فکری گہرائی، دینی حمیت اور دعوتی مزاج نے انہیں اپنے عہد کی ان ممتاز شخصیات میں شامل کر دیا تھا جن کی مثال ایک طویل عرصے تک نہیں ملتی۔
مولانا کی ایک نمایاں خصوصیت جس نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا، وہ وقت کی قدر اور اس کا غیر معمولی احساس تھا۔ مجھے حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ہوائی جہاز کے متعدد اسفار کا موقع ملا؛ بیرونِ ملک سفر میں بھی ان کی رفاقت رہی اور ہوٹلوں میں ساتھ قیام بھی ہوا۔ قریب سے دیکھے ہوئے ان لمحات میں، میں نے کبھی مولانا کو ایک لمحہ بھی بے مقصد گزارتے نہیں دیکھا۔
جہاز میں نشست سنبھالتے ہی وہ اپنا ضروری کام نکال کر مصروف ہو جاتے، اور ہوٹل میں داخل ہوتے ہی پڑھنے لکھنے کا سلسلہ شروع کر دیتے۔ خصوصاً جب وہ قرآنِ مجید کی تفسیر یا ترجمے کی تدوین میں مشغول تھے، تو سفر کے دوران ذرا سی فرصت یا اطمینان کا موقع ملتے ہی فوراً اپنے کام میں لگ جاتے۔ گویا سفر ان کے لیے مصروفیت کا وقفہ نہیں، بلکہ علمی کام کو آگے بڑھانے کا ایک اور موقع تھا۔
میں نے انہیں قریب سے دیکھا ہے؛ واقعی ایک لمحہ بھی بے مقصد ضائع کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ان کے لیے وقت محض گزرنے والی چیز نہیں تھا، بلکہ ایک امانت تھا، جسے وہ علم، قرآن اور دین کی خدمت میں صرف کرتے تھے۔
مولانا سے جب بھی کوئی سوال پوچھا گیا، میں نے ہمیشہ دیکھا کہ وہ براہِ راست قرآنِ مجید یا حدیثِ رسول ﷺ سے اس کا جواب دیتے اور حوالہ پیش کرتے۔ کسی مسئلے میں قرآن و حدیث سے ہٹ کر محض اپنی رائے پیش کرنا ان کا معمول نہیں تھا؛ اگر کوئی رائے دیتے تو اسے بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کرتے، حالاں کہ مولانا مفتی نہیں تھے،لیکن میں اپنے تقریباً تیس سال کے مشاہدے کی بنیاد پر یہ بات پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ ہندوستان اور بیرونِ ملک کے بڑے بڑے مفتیوں کے سامنے پیش آنے والے ایسے متعدد پیچیدہ اور غیر معمولی مسائل بھی، جن کا تشفی بخش حل کہیں سے نہ مل سکا، حضرت مولانا نے قرآن و حدیث کی روشنی میں نہایت بصیرت اور وضاحت کے ساتھ حل فرمائے۔ یہی وہ خصوصیت تھی جو ان کی علمی شخصیت کو میرے نزدیک غیر معمولی امتیاز عطا کرتی تھی۔
مولانا کے علم کی سطح کی ستائش کا حق بھلا الفاظ کہاں ادا کر سکتے ہیں! میں نے اپنی زندگی میں متعدد بڑے اہلِ علم کو قریب سے دیکھا اور ان کی صحبت سے فیض پایا ہے، لیکن حضرت مولانا سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی علمی وسعت اور فکری گہرائی اپنی جگہ ایک منفرد حیثیت رکھتی تھی۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ معروف عالمِ دین حضرت مولانا یعقوب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ بھی ان اہلِ علم میں تھے جن کی زندگی دعوت و تبلیغ کے لیے وقف رہی۔ ان پر مولانا یوسف کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کی دعوتی فکر و تربیت کا گہرا اثر تھا ۔
غالباً سنہ 2000 ء میں مولانا علی میاں ندوی – رحمہ اللہ – پر ایک بڑا سیمینار انگلینڈ میں منعقد ہوا تھا، اس میں مولانا وہاں (خصوصی دعوت پر) تشریف لے گئے تھے، مولانا رحمۃ اللہ علیہ سے میں نے مولانا یعقوب قاسمی اور مفتی تقی عثمانی کا رابطہ انگلینڈ میں کرایا۔خصوصی طور پران دو نوںاکابرین، مولانا یعقوب قاسمی نے اور مفتی تقی عثمانی صاحب نے مجھ سے کہا: ’’مولانا سلمان حسینی ندوی جیسا عالم تو میں نے دیکھا ہی نہیں۔‘‘ اور پھر اسی موقع پر حضرت مولانا(سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ) نے عربی زبان میں جو خطاب فرمایا، وہ اپنی طلاقتِ لسانی، فصاحت و بلاغت، علمی گہرائی اور دینی بصیرت کے اعتبار سے نہایت مؤثر اور دل نشیں تھا۔ خطاب ایسا تھا کہ الفاظ میں زبان کی شگفتگی، بیان میں علم کی پختگی اور فکر میں دینی بصیرت نمایاں تھی۔ مولانا یعقوب قاسمی صاحب خود میرے پاس آئے اور اس خطاب سے اپنے گہرے تأثر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ” حضرت مولانا سلمان حسینی ندوی جیسے صاحبِ علم اور صاحبِ بیان عالم کو میں نے آج تک نہیں دیکھا ہے۔، ’’میں نے تو کسی عرب کو بھی اس طرح سے مخاطب کرتے ہوئے نہیں دیکھا جس طرح مولانا سلمان صاحب حق بیان کرتے ہوئے خطاب کرتے ہیں “ ۔ اور میں خود اس کا چشم دیدگواہ ہوں ؛ اس لیے کہ مولانا کے ساتھ میں نے سفر کیے، مولانا کو مصر میں جامعہ ازھر کے ذمہ داروں نے خطاب کرنے کیلئے اصرار کیا۔ میں نے دبئی کی وہاں کی جو سب سے بڑی مسجد ہے، وہاں مولانا کو میں نے خطاب کرتے ہوئے سنا۔ عرب ممالک میں جب حضرت مولانا جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے تو بڑے بڑے عربی داں اہلِ علم بھی ان کی فصاحت و بلاغت ،طلاقتِ لسانی اور شگفتگیِ بیان پر دانتوں تلے انگلیاں دبا لیتے۔ ان کی زبان پر عربی ایسی رواں اور برجستہ ہوتی کہ اہلِ زبان بھی انگشت بہ دنداں رہ جاتے؛ علم کی گہرائی، بیان کی روانی اور دینی بصیرت اس طرح یکجا ہوتی کہ سامعین دیر تک ان کے سحرِ بیان میں گرفتار رہتے۔ بڑے بڑے عربی داں حضرت مولانا کی فصاحت و بلاغت پر دانتوں تلے انگلیاں دبا لیتے اور حیرت و استعجاب سے بے اختیار کہتے: ’’بھائی! یہ کون ہندی ہے جو ایسی شیریں، شستہ اور نفیس عربی بولتا ہے؟‘‘ علم و فضل میں مولانا کا جو مقام تھا، اس کی عظمت کا حق بھلا الفاظ کہاں ادا کر سکتے ہیں!
بلکہ ایک مرتبہ جب مولانا یعقوب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ ہندوستان واپس تشریف لائے تو انہوں نے خود مجھ سے کہا: ’’بھائی! میں نے مولانا سلمان جیسا عالم نہیں دیکھا۔‘‘
ہم نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا اور قریب سے محسوس کیا ہے؛ اس لیے مولانا کی علمی سطح اور مقام کی جتنی بھی تعریف کی جائے، وہ کم ہے۔ ان کے علم کی وسعت اور علمی شخصیت کی بلندی کا صحیح اندازہ شاید الفاظ کبھی پوری طرح بیان نہ کر سکیں۔
مولانا کی بہت سی نمایاں خصوصیات میں ایک غیر معمولی خصوصیت ان کی سادگی تھی۔ مجھے ان کے ساتھ متعدد اسفار کا موقع ملا؛ میں نہیں سمجھتا کہ اس طویل عرصے میں میں نے کبھی انہیں باربار لباس بدلنے کی فکر کرتے دیکھا ہو۔ ان کے جوتے تک میں پیوند لگے ہوئے دیکھے۔ ایسی بے تکلف، بے نیاز اور حقیقی سادگی رکھنے والا عالمِ دین میں نے اپنی زندگی میں بہت کم دیکھا ہے۔ یہی سادگی ان کی شخصیت کا ایک ایسا وصف تھی جو قریب سے دیکھنے والوں کے دل میں ان کے لیے مزید احترام پیدا کرتی تھی۔
رہی بات مولانا سے ہمارے نظریاتی اختلاف کی، تو اختلاف اپنی جگہ تھا، لیکن دل میں ان کی عزت و وقعت ہمیشہ قائم رہی۔ بعض مسائل، خصوصاً سعودی عرب اور ( UAE)متحدہ عرب امارات کے بارے میں مولانا کی رائے سے ہماری رائے مختلف تھی۔ ہم ان کے سامنے اپنا موقف رکھتے اور ان سے کھل کر گفتگو کرتے، مگر ہم نے کبھی ان کے مزاج میں یہ بات نہیں پائی کہ اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھ کر اسے دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کریں اور اسی کو بنیاد بنا کر عداوت پر اتر آئیں(جیسا کہ بہت سے لوگ آج کل کرتے نظر آتے ہیں۔
ہم ان کے ساتھ بیٹھتے، بحث کرتے، اپنی رائے پیش کرتے اور مولانا بھی اپنی رائے بیان فرماتے۔ وہ فرماتے: ’’آؤ بھائی! ہماری بات سنو اور اپنی باتیں کہو‘‘ اور وہ ہماری بات پوری توجہ سے سنتے۔ خاص طور پر سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کے بارے میں ہمارا اپنا موقف تھا؛ ہم اسے بے تکلفی سے ان کے سامنے رکھتے اور مولانا اسے تحمل اور وسعتِ قلبی کے ساتھ سنتے۔ یہی علمی اختلاف کے باوجود باہمی احترام اور تعلق کی وہ خوب صورتی تھی جو مولانا کی شخصیت کا نمایاں وصف تھی۔
امیر معاویہ – رضی اللہ تعالیٰ عنہ – اور واقعۂ کربلا کے بارے میں مولانا کی جو رائے تھی، اس سلسلے میں بھی ہماری ان سے گفتگو ہوتی ۔ لیکن میں نے کبھی مولانا کو اس انداز میں نہیں دیکھا کہ وہ جوش میں آکر اپنی بات کو حرفِ آخر قرار دے دیں اور دوسروں سے بلا دلیل اسے مان لینے کا مطالبہ کریں۔ وہ ہمیشہ اپنے موقف کے دلائل پیش کرتے، اپنی بات کی بنیاد واضح کرتے اور گفتگو کو دلیل کے دائرے میں رکھتے تھے۔ یہی ان کے علمی مزاج کی ایک نمایاں خصوصیت تھی۔
امیر معاویہ کے بارے میں اور ان واقعات کے بارے میں مولانا کی جو رائے تھی، وہ اسے محض دعوے کے طور پر پیش نہیں کرتے تھے؛ اپنے موقف کے ساتھ دلائل بھی رکھتے تھے۔ اسی زمانے کے بڑے بڑے علامہ اور محدثین کی کتابیں سامنے رکھ دیتے اور کہتے: ’’لیجیے، پڑھیے؛ یہ سب اسی دور کے بڑے بڑے ائمہ و علما ءکی کتابوں میں موجود ہیں۔‘‘ ان کی گفتگو میں متعلقہ کتب کی احادیث اور اقوال کے حوالے بھی آتے اور وہ اپنے موقف کی بنیاد انہی ماخذ پر واضح کرتے۔ اس کے باوجود ہم ان سے اختلاف کرتے رہے، ان کے ساتھ بیٹھتے، گفتگو کرتے اور جہاں موقع ملتا، سفر و حضر میں ان کی رفاقت بھی حاصل رہتی۔ اختلاف اپنی جگہ قائم رہا، مگر اس نے نہ تعلق کو کم کیا، نہ احترام کو مجروح ہونے دیا۔
آج کل یوٹیوب پر جلوہ گر ہونے والے بعض مولوی، بالخصوص پاکستان کے بعض وہ حضرات جو اب شیخ الحدیث بنے بیٹھے ہیں، حضرت مولانا کی شان میں جس طرح کے نامناسب اور ناشائستہ فقرے کہہ رہے ہیں، وہ نہایت افسوس ناک اور قابلِ تشویش امر ہے۔ اس لیے کہ مولانا کی جو بھی رائے تھی، جس سے ہمیں اور بہت سے اہلِ علم کو اختلاف تھا،انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ لوگ مجھ سے اختلاف کیوں کرتے ہیں۔ ان کا طریقہ یہ تھا کہ فرماتے: ’’میری مجلس میں بیٹھو، جہاں موقع ملے میرے ساتھ گفتگو کرو، میری دلیلیں سنو اور سمجھنے کی کوشش کرو کہ میں کن بنیادوں پر یہ آراء قائم کرتا ہوں۔‘‘
امیر معاویہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہ-، عمرو بن العاص،اور واقعۂ کربلا کے سلسلے میں، مولانا نے صاف اور واضح الفاظ میں کہا کہ: ’’میں وہی بات کہہ رہا ہوں جو احادیث کی کتابوں میں موجود ہے۔‘‘
تو میں اپنے زمانے کے ان حضرات سے، جو آج شیخ الحدیث بنے بیٹھے ہیں، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ: ’’اگر یہ باتیں احادیث کی ان کتابوں میں موجود ہیں تو کیا آپ ان کتابوں میں مذکور ان احادیثِ رسول ﷺ اور ان باتوں کو بھی نکال دیں گے؟ کیا حدیث کی کتاب میں کسی حدیث ،یا واقعے یا قول کا موجود ہونا، محض اس بنا پر قابلِ انکار ہو جائے گا کہ وہ ہماری پسند یا ہمارے موجودہ فکری رجحان کے مطابق نہیں؟‘‘
مجھے آج کے علمی ماحول کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے موجودہ علماء میں ایک ایسا گروہ اٹھ کھڑا ہوا ہے جس کے ہاں دو ہی عنوان باقی رہ گئے ہیں: یا تو کسی کو گمراہ قرار دیا جائے، یا کافر۔بیچ کا کوئی راستہ ہی نہیں ہے! میرے خیال میں اب اس طرزِ فکر اور اس رویے پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
میں ان حضرات سے، جو آج کے زمانےکے شیخ الحدیث بنے بیٹھے ہیں، مؤدبانہ طور پر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ امیر معاویہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہ – کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے منقول ایک واقعہ کتابوں میں موجود ہے، مشہور ہے، اور میں نے خود اسے پڑھا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قنوتِ نازلہ میں امیر معاویہ ودیگرکے خلاف بددعا فرمایا کرتی تھیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعہ کتابوں میں مذکور ہے تو اس کی صحت و عدمِ صحت کے بارے میں علمی اور تحقیقی گفتگو کیوں نہیں کی جاتی؟ اگر یہ روایت درست ہے تو اس کے پس منظر اور محل کو سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی، اور اگر درست نہیں ہے تو علمی دلائل کے ساتھ اس کی تردید کیوں نہیں کی جاتی؟
لیکن اس بنیادی سوال کو نظر انداز کرکے براہِ راست حضرت مولانا پر حملہ آور ہونا، ان کی علمی شخصیت کو مجروح کرنا، اور یہاں تک بحث پہنچا دینا کہ ان کے لیے دعائے مغفرت کی جائے یا نہ کی جائے، آخر یہ طرزِ عمل کس علمی اصول اور کس منہجِ انصاف کے تحت درست قرار دیا جا سکتا ہے؟
حضرت مولانا کی پوری زندگی ایک مقصد اور ایک مشن کے لیے وقف رہی۔ انہوں نے علم حاصل کیا، علم کی خدمت کی، دین کی دعوت دی، امت کے مسائل پر غور کیا اور اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ تعلیم و اصلاح اور دینی رہنمائی وافراد سازی وعہد سازی ،تدریس اور تصنیف وتالیف میں صرف کیا۔ ان کی بعض آرا سے اختلاف ہو سکتا ہے، ان پر علمی نقد بھی کیا جا سکتا ہے؛ لیکن اختلافِ رائے کو شخصی تنقیص، الزام تراشی اور طعن و تشنیع کی صورت اختیار نہیں کرنی چاہیے۔
ارے بھئی! تم ہو کون؟ پدی، چپدی، پدی دا شوربا! تمہاری حیثیت ہی کیا ہے کہ تم ایسے بے نظیر عالم کی پوری زندگی اور علمی و دینی خدمات پر حکم لگانے بیٹھ جاؤ؟ مولانا کی پوری زندگی علم، دعوت، تعلیم، تصنیف وتالیف اور دینی جدوجہد میں گزری ہے۔ اختلاف کا حق سب کو ہے، لیکن کسی بزرگ عالم کی تمام خدمات کو محض چند اختلافی مسائل کی بنیاد پر نظر انداز کر دینا نہ علمی انصاف ہے، نہ دینی دیانت۔
مولانا کی بعض باتوں سے ہمیں اختلاف تھا، ہمیشہ رہے گا۔ چند ماہ قبل جب ہم مولانا کے گھر گئے تو اپنا وہ اختلاف بھی ان کے سامنے صاف لفظوں میں رکھ دیا۔ لیکن مولانا کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنی رائے زبردستی کسی پر تھوپتے نہیں تھے ، بلکہ اپنی دلیلیں پیش کرتے ،اور دوسروں کی باتوں کو نہایت اطمینان اور کھلے دل سے سنتے ۔
میں سمجھتا ہوں کہ میری زندگی کے خوش نصیب اور یادگار ادوار میں سے ایک وہ تھا جب سنہ ۱۹۸۹ء میں حضرت مولانا سے میری پہلی ملاقات ہوئی اور تعلق کا یہ مبارک سلسلہ قائم ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تعلق مزید گہرا ہوتا گیا اور ایک تناور درخت کی طرح اپنی شاخیں پھیلاتا چلا گیا؛ آج بھی مولانا کے بچوں کے ساتھ اسی محبت، اعتماد اور اپنائیت کا رشتہ پوری گرم جوشی کے ساتھ قائم ہے۔
تو میں یہی کہوں گا کہ حضرت مولانا سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا ہم سے رخصت ہو جانا محض ایک فرد کی جدائی نہیں، بلکہ ہمارے عہد کے ایک تاریخ وعہدساز عالمِ دین، صاحبِ فکر و نظر اور علم و دعوت کے ایک درخشاں چراغ کا خاموش ہو جانا ہے۔ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ محض ایک شخص کے اٹھ جانے کا خلا نہیں؛ یہ ایک ایسی آواز کی خاموشی ہے جسے سننے والے بہت تھے، ایک ایسے چراغ کا بجھ جانا ہے جس سے بہت سے دلوں نے روشنی پائی۔
بعض شخصیات کے جانے پر صرف آنکھیں نم ہوتی ہیں، لیکن بعض کے رخصت ہونے پر دل یہ محسوس کرتا ہے کہ اس سے کہیں زیادہ کچھ ہم سے چھن گیا ہے۔ حضرت مولانا سلمان حسینی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات بھی ایسی ہی جدائی ہے؛ جس کا درد وقت کے ساتھ شاید کم نہ ہو، بلکہ یادوں کے ساتھ اور گہرا ہوتا چلا جائے۔اللہ تعالیٰ مولانا کی مغفرت فرمائے، ان کی تمام خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اپنے مقرب بندوں کے ساتھ اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ Hazrat Maulana Salman Hussaini Nadwi (Rahmatullah Alayh): A Geniuse of the Century
Zafar Sareeshwala
On 7 August 2026, I had the opportunity to travel to Lucknow and visit the home of Hazrat Maulana Salman Hussaini Nadwi (may Allah have mercy upon him). This is the very home with which I have had a relationship spanning some thirty-six to forty years—both with Maulana himself and with the children of his family. In particular, I have had a deep and longstanding relationship with Maulvi Yusuf Hussaini Nadwi and Maulvi Yunus Hussaini Nadwi. I myself also maintained a very strong and affectionate relationship with Hazrat Maulana (may Allah have mercy upon him).
I can say without hesitation that the new and correct direction in which my life turned towards religion owed more than anything else to the companionship and association of Hazrat Maulana (may Allah have mercy upon him). Although I had already been associated with the work of Tabligh, before meeting Maulana I considered the prevalent form of Tabligh to be synonymous with the whole of religion. But after meeting Maulana and becoming close to him, the universality, breadth and comprehensive nature of Islam gradually became clear to me. I came to realize that Tabligh is an important branch of religion, but it is not the whole of religion. There are many other dimensions and fields of religion of which we had been unaware or which we had neglected. I came to understand this only after meeting Maulana.
Maulana visited our home on numerous occasions, stayed with us and spent time with us. I also had the opportunity to undertake various journeys with him. I travelled with him to America; I accompanied him extensively during his travels in Britain; and I also travelled with him to the United Arab Emirates, Kuwait, Abu Dhabi and other places. Through him, I also had the opportunity to visit Al-Azhar University and meet its teachers and scholars.
These journeys were not merely journeys. Through them, a new dimension of religion, knowledge, Dawah and thought gradually opened before us. The moments spent in Hazrat Maulana’s company, those journeys and that relationship are among the memories of my life that, despite the passage of time, can never be forgotten.
I belong to a family whose doors have been open for at least a century to distinguished scholars from India, the Muslim world and other countries. Not only the great scholars of India, but also eminent scholars from abroad have stayed in our home, and I myself have had the opportunity to benefit from the companionship and closeness of many such extraordinary scholars.
In light of this long background, continuous companionship and close association with people of knowledge, I can say with a full sense of responsibility that an Islamic scholar like Hazrat Maulana Salman Hussaini Nadwi (may Allah have mercy upon him) was not born in this century. His breadth of knowledge, depth of thought, religious passion and spirit of Dawah made him one of the outstanding personalities of his era—one whose equal will be difficult to find for a very long time.
One of Maulana’s outstanding qualities that always impressed me was his extraordinary appreciation of time and his exceptional awareness of its value. I had the opportunity to travel with Hazrat Maulana on numerous flights; I accompanied him on foreign journeys and also stayed with him in hotels. Having observed him closely in those moments, I never saw Maulana spend even a single moment meaninglessly.
As soon as he took his seat on an aircraft, he would take out whatever work he needed to do and immediately become engaged in it. As soon as he entered a hotel, he would begin reading and writing. Particularly when he was engaged in preparing his commentary or translation of the Holy Qur’an, whenever he found even a little free time or a moment of peace during a journey, he would immediately return to his work.
For him, therefore, travel was not a break from his responsibilities; it was another opportunity to advance his scholarly work.
I saw him closely. Truly, I never saw him waste even a single moment without purpose. For him, time was not merely something that passed; it was a trust, which he devoted to the service of knowledge, the Qur’an and religion.
Whenever anyone asked Maulana a question, I always observed that he would answer directly from the Holy Qur’an or the Hadith of the Prophet ﷺ and provide the relevant reference. It was not his practice to simply offer his personal opinion on an issue apart from the Qur’an and Hadith. If he expressed an opinion, he would explain it in the light of the Qur’an and Hadith.
Although Maulana was not a Mufti, I can say with complete confidence, on the basis of nearly thirty years of my own observation, that there were numerous complex and unusual issues that had been presented before major Muftis in India and abroad, for which satisfactory solutions could not be found elsewhere, yet Hazrat Maulana resolved them with remarkable insight and clarity in the light of the Qur’an and Hadith.
This was one of the qualities that, in my view, gave his scholarly personality an extraordinary distinction.
How can words possibly do justice to the greatness of Maulana’s knowledge? I have seen many great scholars closely in my life and benefited from their companionship, but the breadth of Hazrat Maulana Salman Hussaini Nadwi’s knowledge and the depth of his thought occupied a unique position of their own.
I remember very well that the renowned Islamic scholar Hazrat Maulana Yaqub Qasmi (may Allah have mercy upon him) was also among those scholars whose lives were devoted to Dawah and religious work. He had been deeply influenced by the Dawah philosophy and training of Maulana Yusuf Kandhlawi (may Allah have mercy upon him).
Around the year 2000, there was, I believe, a major seminar on Maulana Ali Mian Nadwi (may Allah have mercy upon him) in England. Maulana Yaqub Qasmi attende


