Blog

فراق کی شاعری نے اردو کو باوقار عاشق سے متعارف کرایا: ڈاکٹر خالد علوی

فراق کی شاعری نے اردو کو باوقار عاشق سے متعارف کرایا: ڈاکٹر خالد علوی
غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سمینار ’فراق گورکھ پوری: شخصیت اور ادبی میراث‘ کا افتتاحفراق نے اردو شاعری کو نیا عاشق دیا ہے۔ فراق کی غزل کے عاشق و معشوق کی بڑی نمایاں خصوصیات یہ ہیں کہ ان میں وقار پایا جاتا ہے جو ہماری چار سو سال کی روایت میں نئی چیز ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر خالد علوی نے غالب انسٹی ٹیوٹ کے منعقد کردہ سمینار ’فراق گورکھ پوری: شخصیت اور ادبی میراث‘ کا کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے مزید کہا: فراق نے ہندی اور سنسکرت کا وہ سرمایہ جو بکھرا پڑا تھا اس کو سمیٹ کر اپنی رباعیوں میں پیش کیا اور اس کوشش کو ’رنگوں‘ کا نام دیا۔ فراق نے جنسیت اور کسی حدتک بوالہوسی کو لطیف بنا کر رمزیت کے لطیف پردے ڈال دیے ہیں کہ جنسیت بھی پاکیزگی کا احساس دلاتی ہے۔ سمینار کا افتتاح انگریزی کے ممتاز اسکالر پروفیسر ہریش ترویدی نے کیا۔ انھوں نے کہا غزل کے فنی تقاضوں پر فراق کی گرفت اتنی گہری تھی کہ میر اور غالب کے رنگِ سخن کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے انہوں نے غزل کو ایک نئی بلند آہنگی بخشی۔ فراق کا سب سے بڑا ادبی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے کلاسیکی سرمائے کو ضائع کیے بغیر جدید انسانی نفسیات اور دکھی روح کی ترجمانی کی، جس نے اردو شاعری کو ایک ایسی آفاقی جہت بخشی جو ہمیشہ زندہ رہے گی۔ اجلاس کی صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدائی نے کی۔ انھوں نے کہا فراق کی شاعری نے اردو غزل کو نیا آہنگ دیا۔ وہ اس دور میں شاعری کر رہے تھے جب اقبال کا طوطی بول رہا تھا اور اس زمانے کے شاعر کا اقبال کے اثر سے نکلنا بہت دشوار تھا لیکن اس کوشش میں سب سے زیادہ کامیابی کے فراق کے ہاتھ آئی۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم نے ایسے لوگوں کو جمع کرلیا ہے جو شاعری اور ادب پر بہت گہری نظر رکھتے ہیں جن سے بجا طور پر یہ امید وابستہ ہے کہ وہ فراق کو نئے تناظر میں پیش کریں گے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا: فراق نے اردو غزل کے کینوس کو وسعت دی اور اس میں ہندی گیتوں کی لے، رتوں، تہواروں اور پوربی تہذیب کے استعاروں کو اس فنکارانہ مہارت سے سمویا کہ زبان کی تاثیر دوچند ہو گئی۔ ان کے یہاں ہجر و وصال کے روایتی موضوعات ایک نئے نفسیاتی اور فکری شعور کے ساتھ ابھرتے ہیں۔ سمینار کے تکنیکی اجلاس 29اگست کو صبح 10بجے سے شام 5بجے تک ہوں گے۔
تصویر میں دائیں سے: پروفیسر ہریش ترویدی، ڈاکٹر ادریس احمد، ڈاکٹر خالد
علوی،پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی

Related posts

صحافت میں سچائی اور دیانت داری وقت کی اہم ضرورت: اختر کاظمی

Paigam Madre Watan

ہیرا گروپ حامیوں کا صدر جمہوریہ۔ وزیراعظم اور چیف جسٹس کو خط -ایجنسیوں کی غیر منصفانہ و عدالتی احکام کے مخالف کارروائی پر جانچ کا مطالبہ

Paigam Madre Watan

ہریانہ میں’ بدلاؤ جن سبھا’ کر بولے ا روند کیجریوال آپ کی حکومت بنادو، میں بجلی 24 گھنٹے اور مفت کر دوں گا

Paigam Madre Watan