Blog

اظہارِ خیال کی آزادی چھیننے کی کوشش کی گئی تو خاموش نہیں بیٹھیں گے — ٹی یو ڈبلیو جے کے احتجاجی مظاہرے میں صحافیوں کا متفقہ انتباہ

اظہارِ خیال کی آزادی چھیننے کی کوشش کی گئی تو خاموش نہیں بیٹھیں گے

— ٹی یو ڈبلیو جے کے احتجاجی مظاہرے میں صحافیوں کا متفقہ انتباہ

ملک میں اظہارِ خیال کی آزادی، جمہوریت اور میڈیا کی آزادی سلب کرنے کی کوشش کی گئی تو جمہوریت پسندوں کی جانب سے مزاحمت ناگزیر ہوگی۔ صحافیوں نے حکمرانوں کو متنبہ کیا کہ صحافتی آزادی اور جمہوری اقدار پر کسی بھی طرح کی پابندی برداشت نہیں کی جائے گی۔

دہلی میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہی خواتین صحافیوں پر پولیس کے حملے، مبینہ غیر قانونی مقدمے اور گرفتاری کے خلاف منگل کی شام تلنگانہ اسٹیٹ ورکنگ جرنلسٹس یونین (TUWJ) کی قیادت میں صحافیوں اور جمہوریت پسندوں نے حیدرآباد میں موم بتیوں کے ساتھ احتجاجی مظاہرہ کیا۔

یہ احتجاجی ریلی بشیر باغ میں واقع ٹی یو ڈبلیو جے کے دفتر سے شروع ہوئی اور نظام کالج سے ہوتی ہوئی جگ جیون رام کے مجسمے تک پہنچی۔ بعد ازاں ٹی یو ڈبلیو جے کے ریاستی صدر کے۔ ویرائت علی کی صدارت میں ایک جلسہ منعقد ہوا، جس سے متعدد سینئر صحافیوں اور جمہوریت پسندوں نے خطاب کیا۔

سینئر صحافی اور انڈین جرنلسٹس یونین (IJU) کے سابق صدر دیوولا پلی امر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری ملک میں شہریوں کو آئین کی جانب سے حاصل حقوق اور آزادیوں کو پامال کرتے ہوئے اپنے مفاد کے مطابق پالیسیاں اختیار کرنا این ڈی اے حکومت کا غیر جمہوری طرزِ عمل ہے۔

انہوں نے پانچ روز قبل دہلی میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین صحافیوں، شاہین خان اور نفیزہ خان پر پولیس کی جانب سے مبینہ حملے اور ان کی گرفتاری کی سخت مذمت کی۔

جلسے میں شریک متعدد مقررین نے کہا کہ جمہوریت میں میڈیا کی آزادی اور صحافیوں کے حقوق کا تحفظ حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ صحافیوں پر حملے، دھمکیاں اور غیر قانونی گرفتاریاں جمہوری اقدار کے منافی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین صحافیوں کو انصاف فراہم کیا جائے اور واقعے کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

احتجاجی مظاہرے میں **آئی جے یو اسٹیئرنگ کمیٹی کے رکن ایم۔ اے۔ مجید، قومی سکریٹری وائی۔ نریندر ریڈی، قومی مجلسِ عاملہ کے ارکان کلوری ستیہ نارائنا اور کے۔ اجیتا، حیدرآباد پریس کلب کی نائب صدر اتلوری ارونا، ٹی یو ڈبلیو جے شعبۂ خواتین کی کنوینر راجیشوری، ترقی پسند خواتین تنظیم کی رہنما سندھیا، سینئر صحافی وانجا، سواپنا اور وملہ، ٹی یو ڈبلیو جے کے ریاستی سکریٹری کومپلی سری کانت ریڈی، ریاستی مجلسِ عاملہ کے ارکان اے۔ راجیش اور بی۔ کرن کمار، ایچ یو جے کے صدر شیگا شنکر گوڑ، تلنگانہ چھوٹے اور متوسط اخبارات کی تنظیم کے صدر و جنرل سکریٹری یوسف بابو اور اشوک، فوٹو جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری کے۔ این۔ ہری اور تلنگانہ اردو جرنلسٹس فیڈریشن کے جنرل سکریٹری غوث محی الدین سمیت متعدد صحافیوں نے شرکت کی۔

Related posts

"Our tricolour flag conveys the message of our sacrifice and unity.”

Paigam Madre Watan

Attention Needed on Rights of Dr. Nowhera Sheikh and Heera Group – Serious Questions on Agencies’ Actions and Alleged Imbalance

Paigam Madre Watan

لکھنؤ نے پیارا انسان اور اردو نے اپنا مخلص خادم کھو دیا: پرویز ملک زادہ

Paigam Madre Watan