Blog

نئی نسل میں سائنٹفک ٹیمپرامنٹ پیدا کرنا اہم تعلیمی تقاضا : ڈاکٹر شمس اقبال – نوجوان سائنٹسٹ کانکلیو کا شری کرشن سائنس سینٹر، پٹنہ میں انعقاد

نئی نسل میں سائنٹفک ٹیمپرامنٹ پیدا کرنا اہم تعلیمی تقاضا : ڈاکٹر شمس اقبال
نوجوان سائنٹسٹ کانکلیو کا شری کرشن سائنس سینٹر، پٹنہ میں انعقاد

پٹنہ: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، کائنات فاؤنڈیشن،جہان آباد ، شری کرشنا سائنس سینٹر، وزارتِ ثقافت، حکومتِ ہند اور بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، حکومتِ بہار کے باہمی اشتراک سے منعقد ہونے والے ’نوجوان سائنٹسٹ کانکلیو‘ کا انعقاد آج شری کرشن سائنس سینٹر، پٹنہ کے آڈیٹوریم میں ہوا۔ کانکلیو میں بہار کے 24 اضلاع سے تقریباً 250 طلبہ و طالبات نے شرکت کی، جن میں 74 مدارس کے طلبہ بھی تھے ۔ اس موقعے پر طلبہ میں سائنس کے تئیں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت شری کرشن سائنس سینٹر، پٹنہ کے سینٹر ہیڈ انجینئر سرینواپی کنڈا نے کی، جب کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال بطور مہمانِ خصوصی شریک رہے۔ افتتاحی تقریب میں بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین جناب سلیم پرویز ، بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے چیئرمین جناب محمد ارشاداللہ، روبن گروپ آف ہاسپٹلس کے بانی و مینیجنگ ڈائرکٹر ڈاکٹر ستیہ جیت کمار سنگھ، پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر جناب سید شمائل احمد، بہار اسٹیٹ شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین جناب ارشاد علی اور زینب انٹرنیشنل گرلس پبلک اسکول، کٹیہار کے فاؤنڈر چیئرمین ڈاکٹر شکیل احمد خان سمیت متعدد معزز شخصیات، اساتذہ اور طلبہ و طالبات موجود تھے۔
صدارتی تقریر میں انجینئر سرینواپی کنڈا نے کہا کہ نوجوان سائنٹسٹ کانکلیو کے افتتاحی پروگرام میں بچوں کی بڑی تعداد اور سائنس کے تئیں ان کی دلچسپی دیکھ کر انھیں بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نوجوان نسل کسی بھی ملک کا مستقبل ہوتی ہے اور اگر اس کے اندر سوال کرنے، تجربہ کرنے اور نئی چیزیں دریافت کرنے کا جذبہ پیدا کر دیا جائے تو وہ ملک کی سائنسی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سائنس کو صرف کتابوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے تجربات اور عملی سرگرمیوں سے جوڑنا ضروری ہے۔
افتتاحی تقریر کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے کہا کہ سائنسی مزاج کے بغیر نہ تو اچھی تحقیق وجود میں آسکتی ہے اور نہ ہی تنقید و تخلیق کا حق ادا کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نئی نسل میں سائنٹفک ٹیمپرامنٹ پیدا کرنا محض ایک تدریسی ضرورت نہیں بلکہ اکیسویں صدی کا اہم تعلیمی تقاضا ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں بھی سائنسی مزاج، تخلیقی و تنقیدی فکر اور اختراع کے فروغ پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، اس لیے ان کے اندر سوال کرنے، تجربہ کرنے، تحقیق کرنے اور مسائل کے سائنسی حل تلاش کرنے کا جذبہ پیدا کرنا ضروری ہے۔
انھوں نے اردو زبان کے حوالے سے کہا کہ اردو محض شاعری، تنقید اور تحقیق کی زبان نہیں ہے بلکہ اس میں سائنس اور جدید علوم کے فروغ کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کو جدید سائنسی علوم کے اظہار اور ترسیل کا موثر وسیلہ بنایا جائے اور نوجوان نسل کو اپنی زبان کے ذریعے سائنس اور ٹیکنالوجی سے جوڑا جائے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کانکلیو اسی سمت میں ایک منفرد کوشش ہے، جہاں سائنس، نوجوان اور اردو ایک مشترکہ فکری پلیٹ فارم پر جمع ہو رہے ہیں۔
اس سے قبل کائنات فاؤنڈیشن کے فاؤنڈر سکریٹری جناب شکیل احمد کاکوی نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے تمام مہمانوں، اساتذہ، طلبہ و طالبات اور شرکائے کانکلیو کا خیرمقدم کیا۔ انھوں نے کانکلیو کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں سائنسی ذوق و شوق پیدا کرنا، ان کی اختراعی صلاحیتوں کو سامنے لانا اور اردو کے ذریعے سائنسی علوم کے فروغ کی راہیں تلاش کرنا ہے۔
جناب سلیم پرویز، چیئرمین، بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے کہا کہ موجودہ دور میں اس نوع کے پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ایسے پروگرام بچوں کے ذہن و دماغ پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں اور ان میں نئی چیزیں سیکھنے، غور و فکر کرنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔
جناب محمد ارشاداللہ، چیئرمین، بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ نے کہا کہ یہ دور سائنس، ایجادات اور اختراعات کا دور ہے۔ ایسے میں نوجوان نسل کو سائنسی سرگرمیوں سے جوڑنا اور ان کے اندر سائنس کا ذوق پیدا کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس طرح کے پروگرام بچوں کو سائنسی دنیا سے متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
اس موقعے پر ڈاکٹر ستیہ جیت کمار سنگھ، جناب سید شمائل احمد، جناب ارشاد علی اور جناب شکیل احمد خان نے بھی سائنس، تعلیم اور نوجوانوں کے باہمی تعلق کے حوالے سے اظہار خیال کیا اور نوجوان سائنٹسٹ کانکلیو کے انعقاد کو ایک اہم اور قابلِ تحسین کوشش قرار دیا۔
افتتاحی اجلاس کے بعد کانکلیو کے مختلف سیشنز کا انعقاد ہوا۔ پہلے سیشن ’سائنس دانوں سے ملاقات: سائنسی گفتگو اور نوجوان ذہنوں سے مکالمہ‘ میں طلبہ و طالبات کو ماہرینِ سائنس سے براہِ راست گفتگو اور سوال و جواب کا موقع ملا۔ اس سیشن میں پروفیسر (ڈاکٹر) ڈولی سنہا، ڈاکٹر کماری نمیشا اور انجینئر سرینواپی کنڈا نے سائنسی موضوعات پر گفتگو کی، جب کہ ڈاکٹر اظفر احمد نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔
دوسرے سیشن ’عملی سائنس: سائنس کے عملی مظاہرے‘ میں مختلف سائنسی اصولوں کو تجربات اور عملی مظاہروں کے ذریعے طلبہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس سیشن میں محمد آفتاب حسین نے سائنسی مظاہرے پیش کیے، جب کہ جناب ستیش رنجن نے نظامت کی۔ سیشن کی صدارت ڈاکٹر پروفیسر ارون کمار نے کی۔
تیسرا سیشن ’اردو بازگشت: بیت بازی و طلبہ کا تمثیلی مشاعرہ‘ پر مشتمل تھا، جس میں مختلف اسکولوں کے طلبہ نے شرکت کی اس سیشن میں سائنس، زبان اور تخلیقی اظہار کے دوران ایک خوبصورت ربط قائم کیا۔
کانکلیو کا آخری سیشن’ اختتامی تقریب و تقسیم انعامات‘ پر مشتمل تھا جس میں مختلف سرگرمیوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کی گئی اور انھیں انعامات سے نوازا گیا۔ اس سیشن کی صدارت جناب شفیع مشہدی،سابق چیئرمین، اردو ایڈوائزری کمیٹی، حکومتِ بہار نے کی اور پروفیسر اعجاز علی ارشد، وائس چانسلر مولانا مظہرالحق عربی و فارسی یونیورسٹی، پٹنہ اور پروفیسر ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی، چیئر مین، فرحان فاؤنڈیشن، انڈیا بطور مہمان خصوصی موجود تھے۔

Related posts

کیا یہی اسلام ہے؟ تبلیغ کے نام پر گھر

Paigam Madre Watan

سائیکل گھوٹالے پر وزیر آشییش سود کے استعفے کا مطالبہ، آپ کے رہنما سائیکل سے اسمبلی پہنچے

Paigam Madre Watan

 جامعہ اسلامیہ فیض عام، مئو ناتھ بھنجن میں عظیم الشان علمی و تربیتی نشست کا انعقاد، جید علمائے کرام کی شرکت

Paigam Madre Watan