امریکہ میں موہن بھاگوت
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اگست میں امریکہ میں تھے، امریکہ پہنچنے پر مختلف تنظیموں اور سوسائٹی نے ان کی آمد پر احتجاج کیا، نیویارک کے میئر زہران ممدانی نے بھی آر ایس ایس کے نظریات کو اخراج پسند تصور قرار دیا اور اس کی مخالفت کی، لیکن امریکہ ہندوستان نہیں ہے، جہاں گھر اور دروازوں پر باجماعت نماز پڑھنے پر بھی ایف آئی آر درج ہو جاتا ہے، زہران ممدانی نے صاف کہا کہ میرے مخالف ہونے کے باوجود چونکہ یہ پروگرام نجی مقام پر منعقد ہو رہا ہے، اس لیے قانونی طور پر اس کے روکنے پر وہ قادر نہیں ہیں، چنانچہ 29/اگست کو نیویارک میں یونیورسل آئٹنس سلیبریشن کے عنوان سے پروگرام کا انعقاد ہوا، دو سو پچاس سے زائد ہندو امریکی تنظیموں سے وابستہ کوئی پانچ ہزار افراد نے اس میں شرکت کی، اکسٹھ (61) تنظیمیں آر ایس ایس کو ہندو نمائندہ ماننے سے منکر تھیں، ان میں سے کئی نے بھاگوت کے ویزے کو رد کرنے کی مانگ کی، لیکن ہندوستانی حکومت ان کے پیچھے کھڑی تھی، اس لیے مخالفین کو اس میں کامیابی نہیں ملی، موہن بھاگوت نے موضوع کی مناسبت سے اتحاد، روحانی ہم آہنگی اور دنیا ایک خاندان کے عنوان پر تقریر کی، جو ہندوستان ہی نہیں، پوری دنیا میں چرچا کا موضوع بن گیا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ موہن بھاگوت جو کچھ ہندوستان میں بولتے رہتے ہیں، یہ تقریر اس سے بالکل الگ تھی، آر ایس ایس کی بنیاد ہی فرقہ واریت، نفرت اور ہندتوا تھیالوجی پر ہے، آر ایس ایس کے مبلغین ہر دور میں اس کا پرچار کرتے رہے ہیں، موہن بھاگوت کم بولتے ہیں، لیکن ان کے معتقدین اس معاملہ میں آگے بڑھنے کی دوڑ میں بنے رہتے ہیں، موہن بھاگوت نے نیویارک میں کہا کہ ”ہندوستان کی شناخت تنوع میں اتحاد ہے اور مسلمانوں کو ہندوستان سے خارج کرنے والا شخص حقیقی ہندو نہیں ہو سکتا“، ان کے بقول ہندوستان کے لیے تنوع اور اتحاد اس کے ڈی این اے میں شامل ہے، ہندوستان کے معاملات ومسائل پر جن کی نظر ہے وہ موہن بھاگوت کی اس تقریر کو قول وعمل کے تضاد سے تعبیر کرتے ہیں، ہندوستان میں سارے قوانین اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف بنائے جا رہے ہیں، تین طلاق، سی اے اے، این آر سی، وقف مخالف قانون، ایس آئی آر کے ذریعہ مسلمانوں کو ووٹرلسٹ سے نکالنے کی مہم، مدارس و مساجد پر بغیر عدالتی فیصلے کے بلڈوزر کا استعمال یہ وہ اعمال ہیں جو تنوع میں اتحاد کی پالیسی سے قطعاً الگ ہیں اور تکثیری سماج میں بقاء باہم کے بنیادی اصول کے بھی خلاف ہے، اس کی وجہ سے تنوع میں اتحاد کی فضا ہندوستان میں نہیں بن پا رہی ہے اور یہاں کے دستوری حقوق اور گنگا جمنی تہذیب کا دن بدن جنازہ نکلتا جا رہا ہے، موہن بھاگوت کے اس بیان پر راجیہ سبھا کے رکن اور سنیر وکیل کپل سبل نے بجا طور پر اسے بیرون ملک دانشورانہ باتیں اور اندرون ملک خاموشی کا معاملہ قرار دیا، انہوں نے کہا کہ صرف بیانات اہمیت نہیں رکھتے، بلکہ کام بھی نظر آنا چاہیے، ہندوستان میں ان کی طرف سے ایسا کوئی کام نظر نہیں آتا جو تنوع میں اتحاد کی نظیر ہو۔
واقعہ یہی ہے کہ آر ایس ایس کے لوگ بی جے پی کے ارکان اور خود ہمارے وزیر اعظم جب ہندوستان سے باہر ہوتے ہیں تو ان کے سُر بدل جاتے ہیں، ہمارے وزیراعظم تمام مسلم ممالک سے جو وہاں کا اعلیٰ اعزاز حاصل کر رہے ہیں، اس کی خاص وجہ یہی ہے، ہندوستان آ کر یا تو وہ ان مسائل پر خاموش ہو جاتے ہیں یا ان کے رویے بدل جاتے ہیں۔

