Blog

ڈاکٹر خالد مبشر کے اسلوب کی انفرادیت متاثر کن ہے: پروفیسر اخترالواسع

ڈاکٹر خالد مبشر کے اسلوب کی انفرادیت متاثر کن ہے: پروفیسر اخترالواسع
ڈاکٹر خالد مبشر کی دو کتابوں ’تنقیدی تفاعل و تعامل‘ اور ’اپنی سی تعبیریں‘ کے اجرا اور مذاکرے کا انعقاد

نئی دہلی (21؍ ستمبر): معروف شاعر اور ناقد ڈاکٹر خالد مبشر کی دو تنقیدی کتابوں ’تنقیدی تفاعل و تعامل‘ اور ’اپنی سی تعبیریں‘ کا شاندار اجرا عمل میں آیا اور اس موقع پر نہایت بامعنی مذاکرے کا بھی انعقاد ہوا۔ دہلی کے موقر اہلِ علم کی موجودگی میں اس جلسے کا اہتمام جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شاندار نہروگیسٹ ہاؤس کے کمیٹی روم میں کیا گیا۔ جلسے کی صدارت کرتے ہوئے عہدِ حاضر کے ممتاز شاعر پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ خالد مبشر کا ادبی انسلاک صرف نثر اور تنقید ہی نہیں بلکہ شاعری سے بھی نہایت مستحکم ہے۔ ان کا نمایاں پہلو زبان و بیان کی پختگی ہے۔ خالد مبشر کے تنقیدی خیالات کا اچھوتاپن توجہ طلب ہے۔ مہمانِ خصوصی ممتاز دانشور پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ ڈاکٹر خالد مبشر کے اسلوب کی انفرادیت متاثر کن ہے۔ ان کے مطالعے کا دائرہ متنوع بھی ہے اور مختلف بھی۔ تنقید میں ان کی حیثیت غیرمقلد کی ہے۔ ممتاز ادیب پروفیسر خالد محمود نے دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر خالد مبشر پر جامعہ کو فخر ہے۔ ان میں بہت سی صلاحیتیں ہیں۔ ان کے مضامین نہایت دقیق موضوعات و مسائل کو محیط ہیں۔ صدر شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ اور معروف ادیب پروفیسر کوثر مظہری نے کہا کہ بجا طور پر خالد مبشر سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ شعبۂ اردو کی جو مستحکم علمی روایت رہی ہے، وہ اس سلسلے کو بہت آگے بڑھائیں گے۔ شعروادب کے سلسلے میں ان کا اپنا ایک مخصوص نظریہ اور رویہ ہے، جو انھیں اپنی نسل میں مختلف بناتا ہے۔ سابق پرووائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ اور ممتاز سائنس داں پروفیسر تسنیم فاطمہ نے کہا کہ خالد مبشر بہت کم لکھتے ہیں، لیکن جو کچھ لکھتے ہیں اس کی بنیادیں ٹھوس ہوتی ہیں۔ انھوں نے پیش لفظ میں اپنے تنقیدی موقف کا جرأت مندانہ اظہار کیا ہے۔ معروف محقق، فکشن نگار اور شاعرہ ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا نے کہا کہ خالد مبشر کی دونوں کتابوں کی تحریریں پڑھ کر دلی مسرت ہوئی کہ وہ غیرمعمولی ذہن و فکر کے نمائندہ ہیں۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ادق سے ادق علمی مسئلے کو بھی بوجھل اور گراں نہیں ہونے دیتے۔ معروف ادیب و نقاد سیفی سرونجی نے ازراہِ لطف کہا کہ خالد نامی جتنے بھی لوگ شعبۂ اردو سے وابستہ رہے، ان کی شخصیتیں غیرمعمولی ہیں۔ خالد مبشر کی نثر میں قاری کو کھینچنے اور جکڑنے کی صفت موجود ہے۔ وہ ہربات پورے استدلال کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس موقع پر نوخیز نسل کی نمائندہ ادیب استوتی اگروال نے منظوم خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خالد مبشر میرے بھائی ہیں اور ان کے مخلصانہ مشوروں کا میرے ادبی سفر میں اہم کردار رہا ہے۔ ان کی تحریریں بصیرت افروز ہوتی ہیں۔ معروف ترجمہ نگار اور شاعر ڈاکٹر اے نصیب خاں نے کہا کہ خالد مبشر کا تنقیدی وژن شفاف ہے۔ وہ نظریہ و عمل میں تضاد اور تصادم کے شکار نہیں ہیں۔ البتہ وہ فکری ارتقا سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ان کی تنقید کی جڑیں متن میں بہت گہرے طور پر پیوست ہیں اور کہیں کہیں ان کا رجحان ساخت شکنی کی طرف مائل نظر آتا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر عادل حیات، ڈاکٹر فیضان شاہد، ڈاکٹر زاہد ندیم احسن، ڈاکٹر حبیب الرحمن اور جناب مصدق مبین نے بھی دونوں کتابوںمیں شامل مضامین پر مبسوط تجزیاتی مقالات پیش کیے۔
جلسے میں نئی نسل کے نمائندہ شاعر سفیر صدیقی نے مہمانان کا تعارف کراتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔ نظامت کے فرائض نوجوان نسل کے معروف شاعر اور ناظمِ جلسہ آصف بلال نے انجام دیے۔ پروگرام آغاز سفیان مظفر کی تلاوت اور اختتام نوید یوسف کے اظہارِ تشکر پر ہوا۔ اس موقع پر سعید جامعی اور سفیان مظفر نے دونوں کتابوں سے منتخب اقتباسات کی بلندخوانی کی۔ اس شاندار تقریب میں پروفیسر محسن عثمانی، پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر محمد حبیب اللہ، پروفیسر جسیم احمد، پروفیسر شاہ عالم، پروفیسر سرورالہدیٰ، حقانی القاسمی، اشفاق احمد عارفی، شعیب رضا فاطمی، شمع افروز زیدی اور رخشندہ روحی کے علاوہ بڑی تعداد میں شہر کے اہم ادبا اور دانشوران کی شرکت ہوئی۔

Related posts

شاہ سلمان سے محمد بن سلمان تک : سعودی عرب کا نیا سفر- توحید کی سرزمین، حرمین کی خدمت اور جدید ریاست کی تشکیل

Paigam Madre Watan

ہیرا گروپ کے ساتھ برسوں سے جاری ظلم کی عظیم داستان

Paigam Madre Watan

حیدرقریشی کا تعارف” پر محترمہ نجیدہ نظربائیوا کی بہترین کوشش‘‘

Paigam Madre Watan