"حیدرقریشی کا تعارف” پر محترمہ نجیدہ نظربائیوا کی بہترین کوشش
ازبکستان تاشقند سے اردو دنیا کیلئے محترمہ نجیدہ نظربائیوا صاحبہ نے "حیدرقریشی کا تعارف” اور پانچ سالہ ربط کا ثمر نام سے جو بروشر تیار کیا ہے، اس کو دیکھ کر دل خوش ہو گیا اور ایک ایک سطر کو پڑھے بغیر نا رہ سکا۔ میرے دل میں خواہش جاگی کہ اس بروشر کی تیاری میں جو محنت اور ذہنی ورزش ہوئی ہے اس کی تھوڑی پذیرائی ہونی چاہئے، جس پر یہ ہدیہ تشکرانہ تحریر لکھنے کیلئے مجبور ہو گیا۔
یہ بروشر اردو ادب کے فروغ، بین الاقوامی ادبی روابط اور تہذیبی ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ ازبکستان کے شہر تاشقند سے محترمہ نجیدہ نظربائیوا صاحبہ نے جس خلوص، محبت اور ادبی وابستگی کے ساتھ اردو زبان و ادب کے ممتاز ادیب جناب حیدر قریشی صاحب کی شخصیت اور خدمات کو پیش کیا ہے، وہ قابلِ ستائش اور لائقِ تحسین و مبارکباد ہے۔ یہیں پر بس نا کرتے ہوئے محترمہ نجیدہ نظر بائیوا نے اس بروشر میں حیدرقریشی کے تعارف میں دنیا بھر کے ادیبوں کا تاثرات شامل کیا ہے ۔ انڈوپاک سے باہر کی دنیا میں سے اردو جاننے والے ادیبوں کے تاثرات بھی شامل ہیں ۔ان میں روس،جرمنی،انگلینڈ، مصر،ازبکستان اور امریکہ کے لوگ شامل ہیں۔
"حیدرقریشی کا تعارف” پانچ سالہ مسلسل رابطے اور ادبی تعلق کا یہ ثمر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ زبانوں اور قوموں کے درمیان فاصلے محبت، علم اور ادب کے ذریعے کم کیے جا سکتے ہیں۔ محترمہ نجیدہ نظربائیوا صاحبہ نے نہ صرف جناب حیدر قریشی صاحب کی ادبی خدمات کو اجاگر کیا ہے بلکہ اردو زبان کے ساتھ اپنی گہری محبت، وابستگی اور والہانہ محبت کا بھی بھرپور اظہار کیا ہے۔
کتابچہ کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی تیاری میں محنت، تحقیق اور اخلاص شامل ہے۔ یہ کاوش اردو ادب کے قارئین کے لیے ایک بیش قیمتی تحفہ ہے اور مستقبل میں ازبکستان اور اردو دنیا کے درمیان ادبی و ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
محترمہ نجیدہ نظربائیوا صاحبہ کی یہ خدمت یقیناً شکریے اور ستائش کی مستحق ہے۔ ان کا یہ پُرخلوص ادبی تحفہ اردو زبان کے چاہنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا اور مجھے قوی امید ہے کہ اس قیمتی خاکہ اور کتابی سرمایہ کو کسی ڈجیٹل لائبریری میں بھی محفوظ کر کے اردو ادبی دنیا سے محبت رکھنے والوں کے لئے ایک نظیر اور مثال قائم کی جائے گی۔ ان شااللہ
منجانب:
مطیع الرحمن عزیز
ایڈیٹر پیغام مادر وطن
previous post

