ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی خدمت کے کاروبار
اویسی کی آنکھوں میں چبھتے خار – مسلم معیشت کیخلاف دشمنوں کا یلغار
تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز
ڈاکٹر نوہیرا شیخ مسلم سماج کا وہ معصوم اور بے گناہ چہرا ہے جسے حیدر آباد کے ممبرپارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے اپنے مرکزی آقاﺅں کی مدد سے نا صرف گرفتار کرایا بلکہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ سے منسلکہ تمام کاروبار بند کرا دیا، بلکہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے ذریعہ چلنے والے فلاحی، رفاہی، صحت اور تعلیمی سلسلے کو بند کرا دیا، ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی کمپنی پر ای ڈی کی ریڈ ڈلوا کر اس کے تمام اثاثوں کو منجمد کرایا اور اب حالیہ وقتوں میں ڈاکٹرنوہیرا شیخ اور ان کی کمپنی کی جائیدادوں کو ناجائز اور غیر قانونی بہت کم قیمتوں پر من پسند لوگوں کو فروخت کیا جا رہا ہے اور اسد اویسی اپنے زمین مافیاﺅں کے ذریعہ ہیرا گروپ کی جائیدادوں کو خرید رہا ہے، ممکن ہے کہ کچھ احباب کو اویسی کی ظاہری شبیہ کیخلاف یقین نا ہو، اگر غیر یقینی کا معاملہ ہے تو ایسے احباب کو مولانا سجاد نعمانی کو لفافہ باز اور علما کو گھروں سے نکلنا دوبھر کردوں گا یا اویسی کا تین ہزار کروڑ کی وقف جائیدادوں پر ناجائز قبضہ اور تمام سودی کاروبار کے عوض ملک بھر میں نفرتی بھاشن دینے کے عوض مودی اور امت شاہ حکومت کی چشم پوشی کو بھی نظر میں رکھنا چاہئے، آنے والے سطور میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے تمام کاموں پر تالہ ڈلوانے والے اویسی کی تمام حرکتوں اور اس کے وجوہات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔
1998 میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے اپنے تجارتی سفر کا آغاز کیا اور روز بروز دن رات کی لگن، محنت و جفاکشی سے ہیرا گروپ ترقی کرتی رہی، 2008 تک ہیرا گروپ آف کمپنی کئی تعلیمی ادارے اور کمپنیوں کے مجموعے کیلئے مارکیٹ میں متعارف ہو چکی تھی، اسی درمیان اسداویسی کی گندی نگاہ ہیرا گروپ پر پڑی اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی کمپنی میں اپنی حصہ داری کیلئے آفر بھیج دی، لیکن ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ جن کے بڑے کاروبار ہیں یا جو خود تجارت کر سکتے ہیں انہیں مزید اور امیر بنانے کے بجائے ان غریب افراد کو اپنی کمپنی میں جگہ دی جائے جو چند لاکھ روپئے رکھ کر کچھ نہیں کر سکتے۔ لہذا اویسی ہی نہیں ایسے تمام مالدار تاجروں کی آفر ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے ٹھکرا دی اور غریب عوام کے ساتھ کمپنی چلانے کا عہد کر لیا، مسلسل چار سال تک اویسی نے ہیرا گروپ میں شمولیت کیلئے ہاتھ پیر مارے، غنڈے بھیجے، سرکاری انتظامیہ سے زور ڈلوایا تاکہ اویسی کے رسوخ کا استعمال کرنے کیلئے ڈاکٹر نوہیرا شیخ اس سے رابطہ کرلیں، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، کئی بار اویسی نے دھمکی آمیز فون کالز بھی کرائے، مگر اویسی کے ہاتھ مایوسی اور ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔
اپنے تمام حربوں سے پریشان اور ناکام ہوکر ناجائز مطالبات کے نامکمل ہوتے ہوئے دیکھ کر اویسی نے اپنی قانونی بیرسٹری کی ڈگری کا استعمال کرنے کیلئے 2012 میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ پر ایف آئی آر کرا دیا، یہ ایف آئی آر چار سال تک بڑے سخت اور ٹارچر انداز میں چلایا گیا، ہیرا گروپ آف کمپنیز جو اب تک دنیا کے بیشتر حصوں میں پھیل چکی تھی اور سرمایہ کار مسلسل پندرہ سالوں سے مستفید ہو رہے تھے اس پر ہر طرح کے ظلم کا پہاڑ توڑا گیا، جانچ کے نام پر پولس کی ٹولیاں دفتروں پر چھاپے مارتیں، ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور ان کے خاندانی افراد کے گھروں پر دن ہو یا دیر رات آ دھمکتیں، دیر رات تک پورے خاندان کو ہاﺅس اریسٹ رکھا جاتا ہے، گھر کے بزرگوں اور بچوں و خواتین پر ٹارچر اور بدتمیزی کا سلوک کیا جاتا، ہیرا گروپ کی سی ای او ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور ان کے بورڈ آف ڈائرکٹر کو الگ الگ تھانوں میں جانچ کے نام سے بلا کر دن دن بھر بلا کسی وجہ کے بلا کر بٹھا لیا جاتا، کئی بار ایسا ہوتا کہ جانچ کے نام پر دو تین بجے رات کو پولس اہلکار گھر پہنچتے اور کہتے کہ ابھی کے ابھی ڈاکٹر نوہیرا شیخ سے پوچھ تاچھ کرنی ہے، ڈاکٹر نوہیرا شیخ بیرون ممالک سے فوری بلائی جاتیں۔ اسد اویسی کے ایک فرضی ایف آئی آر پر طرح طرح کے سیکڑوں ظلم روا رکھے گئے، لیکن ہیرا گروپ کی سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ اپنی حقانیت کے سہارے کبھی پسپا نہیں ہوئیں، اور آخرکار 2016 میں ہیرا گروپ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو جیت اور فتح میسر ہوئی اور انسانیت کے ظالم سود خوروں کے سرغنہ اسدالدین اویسی کو شکست فاش سے دو چار ہونا پڑا۔
یہ تو واضح ہے کہ اویسی نے چار سال تک اپنے لئے ہیرا گروپ میں شراکت کی ناکامی کے بعد ایف آئی آر کرایا، برسوں تک انتظامیہ اور اویسی کے غنڈوں کی مدد سے ظلم و اذیت اور دھمکی کا سلسلہ روا رکھا گیا، پہلے کمپنی میں شمولیت کی ضد تھی جس کا مقصد واضح تھا کہ ہیرا گروپ میں داخل ہو کر اسے نیست و نابود کردیا جائے۔ لیکن بعد میں اویسی کے ناپاک مغز میں ایک اور ناکامی اور ڈر کا کیڑا پنپنے لگا، وہ تھا اویسی کے دارالسلام سودی بینک کی آمدن میں کمی واقع ہونا، اویسی کے دارلسلام سودی بینک کے کارندوں نے بتایا کہ دارالسلام بینک میں اب لوگ زیوروں کے بدلے اور دوسرے طریقے کے لون اور قرض لینے پہنچنا کم ہو گئے ہیں، اور جو لوگ لاکھوں کی رقم دارلسلام بینک میں جمع کرتے تھے وہ اب ہیرا گروپ کے سود سے پاک تجارت میں شمولیت کرنے لگے ہیں، جس کے چلتے اویسی نے ہیرا گروپ کو برباد کرنے کا پہلا طریقہ کمپنی میں شمولیت کرنا سوچا تھا، دوسری کوشش میں ہیرا گروپ پر ایف آئی آر کراکے اسے برباد کرنے کا پلان بنایا گیا۔
لیکن حقانیت کے شانے پر سوار ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے ایک قانون داں بیرسٹر اسد اویسی کا دائر کیا ہوا مقدمہ جیت لیا، یہاں سے اویسی نے اپنے مرکزی آقاﺅں سے مل کر سرکاری طاقتوں ایجنسیوں اور عدالتوں کا سہارا لیا، اور ای ڈی لگوا کر کمپنی کے دفاتر پر تالے لگا دئے، جانچ کے نام پر کمپنی بند کرا دی، جتنے بینک اکاﺅنٹ تھے سب منجمد کرادئے اور تمام جائیدادوں پر ای ڈی کے بورڈ چسپاں کرا دئے، اب عدالت میں مقدمہ جاری ہے، کبھی بھی ہیرا گروپ کی سی ای او کو بلا وجہ گرفتار کر لیا جاتا ہے، کبھی بھی اس کی جائیدادوں کی نیلامی کرا دی جاتی ہے، ای ڈی کا بورڈ لگے ہونے کے باوجود تالے توڑ کر کسی بھی بنگلے اور فلیٹ پر قبضہ کر لیا جاتا ہے، خالی پڑی زمینوں پر ای ڈی کا بورڈ لگے ہونے کے باجود اویسی کے قریبی لوگ کثیر منزلہ بلڈنگیں بنا ڈالتے ہیں۔
ان سارے مظالم کے درمیان نتیجہ یہی نکل کر منظر عام پر آتا ہے کہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی تعلیمی مہم کو اپنے مہنگے اسکولنگ چین کو نقصان پہنچنے کے ڈر سے روکا جا رہا ہے، صحت سیکٹر میں اویسی کے اسپتالوں کو نقصان نا پہنچے اس لئے ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے ہیرا میڈیکل کالج کو نیلام کیا جا رہا ہے، غریب اور مجبور بھولی بھالی عوام جن کو ہیرا گروپ سے ماہانہ یا سالانہ آمدن ہوتی تھی اپنے دارالسلام بینک کے نقصان کو بچانے کیلئے روکا گیا، فلاحی، رفاہی اور سماجی خدمت سے روکنے کیلئے عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے ذریعہ قائم کی گئی سیاسی تنظیم کو بھی گزند پہنچائی گئی اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ و ہیرا گروپ کے کاروبار کو روکا گیا، ڈاکٹر نوہیرا شیخ کے تمام فلاح و بہبود اور ترقیاتی و خدمت کا کام اویسی کے بدبختی، بدنیتی اور بدچلنی پر کاری ضرب تھے، اویسی کے سود کے کاروبار، قوم کو گروی رکھ کر قوم کو پامال کرنے کا کام پنپ نہیں رہا تھا، اس لئے ہیرا گروپ اور ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا تمام کام اور تجارت و خدمت اویسی کے گلے کا پھانس اور اس کی آنکھوں میں خاردار کانٹا بن رہا تھا اس لئے اسکو پنپنے سے روکنے کیلئے اویسی کی جانب سے اس کے مرکزی آقاﺅں کی مدد سے ہر ظلم و سازش روا رکھا گیا اور اویسی کے مرکزی آقاﺅں کی غلام ایجنسیوں کا ظلم آج بھی جاری ہے۔


