مولانا ابو الکلام آزاد کی عصری معنویت
ثناءاللہ صادق تیمی
مولانا ابوالکلام آزاد (11نومبر 1888- 22 فروری 1958)کی عصری معنویت کئی زاویوں سے دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مولانا آزاد کے یہاں حرکت و عمل اور فکر ونظر کے زاویے بھی متنوع ہیں اور انہوں نے مختلف سطحوں پر اپنے اثرات بھی مرتب کیے ہیں ۔ میں جان بوجھ کر مولانا کی شخصیت یا ان کی عمومی خدمات پر تمہید سے گریز کررہا ہوں کہ عصری معنویت کی تلاش میں وہ ساری چيزیں زير بحث آئيں گی ہی ۔ البتہ یہ اشارہ ضروری خیال کرتا ہوں کہ مولانا کو جاننے والا آدمی انہیں کسی ایک ہی دائرے میں رکھنے کی غلطی نہیں کرسکتا۔
آغاز مولانا کے سیاسی موقف سے کرتے ہیں،ا س حیثيت سے وہ نسبتا زيادہ معروف بھی ہیں اور مقبول بھی۔1905 کے آس پاس مولانا آزاد نے بنگال کے اربندوگھوش اور شیام سندر چکرورتی جیسے انقلابیوں کی جماعت سے منسلک ہوکر اپنے سیاسی سفر کا آغاز تب کیا جب بالعموم جد وجہد آزادی سے منسلک براداران وطن مسلمانوں کو اس خصوصی حوالےسے شک کی نظر سے دیکھتے تھے۔ مسلمانوں کا اشرافیہ سر سید احمد خاں کی پالیسی کے زير اثر ملکی سیاست سے خود کو الگ تھلگ رکھنے کی سیاست پر عمل پیراں تھا۔ مولانا نے الہلال نکالا تو پوری قوت وشدت سے اس رویے کی مخالفت کی اور قرآن وسنت کے دلائل سے معمور زبردست تحریریں لکھ کر مسلمانان ہند کو جد وجہد آزادی میں کود پڑنے کا مشور ہ دیا۔جلد ہی وہ کانگریس سے منسلک ہوئے اور1923 میں سب سے کم عمر صدر بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
مولانا نے متحدہ قومیت کی وکالت کی۔ برادران وطن کے ساتھ سیاسی اتحاد کی دعوت دی اور تقسیم کی آخری وقت تک مخالفت کی۔وہ انتہائی نازک وقت 1940 سے 1946 تک کانگریس کے صدر رہے اور ملک کو آزاد کرانے میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔تقسیم کے سانحے کے بعد آزاد ہندوستان میں وہ وزیر تعلیمات رہے اور ملک کی تعلیمی ترقی کی نیو رکھنے میں اپنی علمی و فکری گہرائی و گیرائی کا ثبوت دیا۔انہوں نے ہندو مسلم کے بیچ سیاسی و سماجی اتحاد پر زور دیتے ہوئے دونوں کی علاحدہ دینی شناخت کے تحفظ کو بھی ضروری قراردیا۔مختلف زبانوں اور تہذيبوں کی حفاظت پر بھی ان کی ویسی ہی توجہ مرکوز رہی۔مانا جاتا ہے کہ آئین ہندکی اس خوب صورت تشکیل میں بھی انہوں نے اپنا کردار ادا کیا۔
مولانا کےسیاسی نظریے کی معنویت ہندوستان میں ہمیشہ رہے گی۔ ہندو مسلم کے سیاسی اور سماجی اتحاد کے بغیر ملک نہ تو مضبوط ہو سکتا ہے اور نہ ترقی کر سکتاہے۔مولانا کےان الفاظ پر غور کیجیے ؛
"میں مسلمان ہوں، اور فخر کے ساتھ محسوس کرتاہوں کہ مسلمان ہوں، اسلام کی تیرہ سوبرس کی شاندار روایتیں میرے ورثے میں آئی ہیں، میں تیار نہیں کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں، اسلام کی تعلیم، اسلام کی تاریخ، اسلام کے علوم و فنون، اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے اور میرا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کروں، بحیثیت مسلمان ہونے کے میں مذہبی اور کلچرل دائرے میں اپنی ایک خاص ہستی رکھتا ہوں اور میں برداشت نہیں کرسکتا کہ اس میں کوئی مداخلت کرے؛ لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ ایک اور احساس بھی رکھتا ہوں جسے میری زندگی کی حقیقتوں نے پیدا کیا ہے، اسلام کی روح مجھے اس سے نہیں روکتی وہ اس راہ میں میری راہنمائی کرتی ہے، میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں، میں ہندوستان کی ناقابل تقسیم متحدہ قومیت کا ایک عنصر ہوں، میں اس متحدہ قومیت کا ایک ایسا اہم عنصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کاہیکل ادھورا رہ جاتا ہے میں اس کی تکوین (بناوٹ) کا ایک ناگزیر حامل (Factor) ہوں ۔میں اپنے اس دعوے سے کبھی دست بردار نہیں ہوسکتا۔(خطبات آزادص 297-298)
میں نے یہ اقتباس یہاں جان بوجھ کر نقل کیا ہے۔ آج کے منظر نامے میں سماجی و سیاسی سطح پر ہندو مسلم اتحاد کے ساتھ مسلمانوں کو اپنی علاحدہ ثقافتی اور دینی شناخت پر قائم رہنے ، اس کا مظاہرہ کرنے اور اس کے لیے کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔مولانا آزاد کے یہاں سیاسی و سماجی اتحاد کا مطلب اپنی شناخت کو معدوم کرنا بالکل بھی نہیں تھا۔ وہ خود بھی کانگریس میں ہوتے ہوئے اپنی منفرد دینی و فکری شناخت رکھتے تھے۔ راجندر پرشاد اور ولبھ بھائی پٹیل جیسے بڑے بڑے لیڈران کے بیانات اعتراف موجود ہیں کہ وہ گاندھی جی کے سامنے شاگرد کی حیثيت رکھتے تھے جب کہ مولانا آزاد اپنے مخصوص نقطہ نظر اور اپنی ذاتی شخصیت کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے ، وہ ہمیشہ ٹوپی لگاتے تھے اور جو محسوس کرتے تھے ، بولتے تھے۔مولانا اس بات کا بر ملا اظہار کرتےتھے کہ اردو کو اس کا جائز حق ملنا چاہیے ۔ آپ نے 15 فروری 1958کو پریڈگراؤنڈ دہلی میں منعقد کل ہند اردو کانفرنس میں جس کی صدارت وزیر اعظم پنڈت جواہرلال نہرو نے کی ، فرمایا:” اردو کو ہندوستان کے آئین میں جو جگہ دی گئی ہے، اسے گورنمنٹ تسلیم کرے اور ملک بھی مانے”(ایوان اردو کا مولانا ابوالکلام آزاد نمبرص 131)
مولانا آزاد سیاسی و سماجی سطح پرہندو مسلم کے اتحاد کے قائل تھے اور ان کی پکار صدا بہ صحرا بھی نہیں گئی۔ در اصل انہیں کی مضبوط ترین آواز تھی جس نے جد وجہد آزادی میں دونوں مذاہب کے ماننے والوں کو آزادی ہند کے لیے متحد کیا۔ اس آواز کو گاندھی جی کی سیاست و شخصیت سے مزيد تقویت ملی۔اس اتحاد کے ساتھ وہ یہ چاہتے تھے کہ ہندوستان کا مسلمان ملک کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار اداکرے، وہ تماشائی نہ رہے، وہ چاپلوسی اور کاسہ لیسی کی راہ نہ اپنائے ، وہ اس ملک پر ویسی ہی دعویداری رکھے جیسی کسی بھی دوسرے مذہب جیسے ہندومت کا ماننے والا رکھتا ہے ۔جامع مسجد کے مشہور خطاب میں ان کے یہ الفاظ تھے؛
"میں تم سے یہ نہيں کہتا کہ تم حاکمانہ اقتدار کے مدرسے سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ حاصل کرو اور کاسہ لیسی کی وہی زندگی اختیار کرو جو غیر ملکی حاکموں کے عہد میں تمہارا شعار رہا ہے۔میں کہتا ہوں کہ جو اجلے نقش ونگار تمہیں اس ہندوستان میں ماضی کی یاد گار کے طور پر نظر آرہے ہیں وہ تمہارا ہی قافلہ تھا،انہیں بھلاؤ نہیں ، انہیں چھوڑو نہیں۔ان کے وارث بن کر رہو اور سمجھ لو کہ اگر تم بھاگنے کے لیے تیار نہیں تو پھر تمہیں کوئی طاقت بھگا نہیں سکتی۔ آؤ عہد کرو کہ یہ ملک ہمارا ہے، ہم اس کے لیے ہیں، اور اس کی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے”(خطبات آزاد مرتبہ مالک رام)
سیاسی وقومی سطح پر میرے حساب سے مولانا کی عصری معنویت یہ ہے کہ اس موقف کا احیاء عمل میں آئے۔ سیکولر اور غیر سیکولر تمام سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کو ملک کے بنیادی مسائل سے علاحدہ کرکےایک ایسی جماعت کے طور پر دیکھتی ہیں جسے بس اپنے چند مسائل سے سروکار ہے ، ملک کے معاملات سے سروکار نہیں ، زيادہ تر مسلم سیاسی قائدین بھی اسی طرح بات کرتے ہیں جیسے لے دے کے وہ اسی خاص فریم کے لیے ہیں۔ اس رویے کو بدلنےکی ضرورت ہے اور اس کی شروعات مسلمانوں کو خود ہی کرنی ہوگی۔ ہمیں یہ اصرار کرنا ہوگا کہ یہ ملک ہمارا ہے ، اس کے مسائل ہمارے ہیں، اس کی خوشحالی ہماری ہے اور اس کی بدحالی ہماری ہے۔قومی منظر نامے سے الک تھلگ ہو کر اپنے ملی مفادات کا تحفظ بھی آسان نہیں ہوتا۔قومی منظر نامے سے دور کرنے کی کوشش در اصل ایک پوری ملت کو سیاسی و سماجی حیثيت سے بے وقعت کرنے کی سازش ہے۔ یاد رہے کہ قومی حیثيت میں جائز مقام کا مطلب ہماری مذہبی حیثيت کا اس میں گھل مل کر مٹ جانا نہیں ہے۔
مولانا آزاد کی ایک بڑی حیثيت مذہبی رہنما ، عالم دین، مفسر قرآن اور مصلح قوم کی ہے۔ انہوں نے الہلال اور ترجمان القرآن کے علاوہ اپنی بقیہ تحریروں سے بھی مسلمانوں کو دینی اعتبار سے بیدارکرنے کی کوشش کی۔رشید احمد صدیقی جیسے دانشور اس بات کو مانتےہیں کہ اردو میں قرآنی اسلوب میں لکھنے کا کام مولانا آزاد نے کیا اور بڑے بڑے ہمارے ادباء ، مفکرین اور دانشوران اعتراف کرتے ہیں کہ انہيں مولانا آزاد کی تحریروں سے قرآن کریم کی عظمت کا احساس ہوا اور انہوں نے قرآن کریم کو اپنی زندگی کا امام بنایا۔ مولانا کے دینی افکار کی عصری معنویت یہ ہے کہ قرآن وسنت کو مسلمان اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنائیں۔ قرآن سےہی روشنی لیں اور اسی کتاب ہدایت سے اپنے راستے متعین کریں۔یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ قرآن کریم کا فارسی زبان میں ترجمہ کرکے جو چراغ شاہ ولی اللہ دہلوی نے جلایا تھا اور قرآن کریم کی تعلیمات کو عام کرنے کی کوشش کی تھی، اسے ہر ہر معاملے میں قرآن سے استدلال کرکے اور آیات قرآنی کو حوالہ بنا کر مولانا آزاد نے مزید عام کرنے کی کامیاب سعی حمید کی۔
مولانا کے یہاں رب العالمین کی ربوبیت کے سایے میں اس کے عدل و رحمت پر بڑا زور ملتا ہے۔ وہ ان کی روشنی میں اسلام کو دنیا کے لیے متاع گمشدہ کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ آج کے حالات میں مولانا کے دینی افکار کی اس روشنی کو دنیا کے سامنے ٹھیک سے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح انہوں نے اجتہاد وتقلید کے سلسلے میں تذکرہ کے اندر ابن قیم رحمہ اللہ کے حوالے سے بڑی گہری اورعملی باتیں لکھی ہیں ، ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور عصر حاضر میں ان مسائل کو ان کے فرمودا ت کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
"صحیح راہ حق و اعتدال یہ ہے کہ دو اصل ہیں اور دونوں کا ملحوظ رکھنا ضروری۔ایک یہ کہ ہر حال میں کتاب و سنت و نصوص شرعیہ کو مقدم رکھنا چاہیے اور اسی پر حکم و علم کرنا چاہیے۔دوسری یہ کہ تمام ائمہ اسلام اور علماء حق سے حسن ظن اورمحبت وارادت رکھنی چاہیے۔اوران کے مراتب وحقوق کی رعایت سے کبھی غافل نہ ہونا چاہیے۔ یہی وہ اصل ہیں جن کے توازن و تناسب کوباعتدال ملحوظ نہ رکھنے سے ساری مصیبتیں پیش آتی ہیں اور بد بختانہ لوگوں نے ہمیشہ انہیں میں افراط وتفریط کی ہےیا دونوں میں سے کسی ایک ہی کے ہو رہے ہیں ۔ایک جماعت احکام ونصوص شرعیہ کے اتباع وتقدیم کا مطلب یہ سمجھتی ہےکہ جہاں کسی اہل علم کا قول بظاہر کسی حکم ونص کے خلاف نظر آیا، بلا تامل تضلیل وتکفیر پر آمادہ ہوگئےاورجھٹ حکم لگا دیا کہ وہ منکر شریعت ہے،اگرچہ اس نےاپنی ساری زندگی شریعت کے علم و عمل میں بسر کردی ہو ۔دوسری جماعت نےائمہ و اکابردین کی پیروی اور محبت و اعتقاد کے یہ معنی سمجھے کہ احکام ونصوص کو ان کا تابع و محکوم بنادیااور چند غیر معصوم انسانوں کی خاطرکتاب وسنت کو ترک کرکےاتخذوا احبارھم و رھبانھم اربابا من دون اللہ کی سرحد سے قریب ہوگئے۔اس دوسری جماعت کا عجیب حال ہے۔یہ جب کبھی اپنے پیشواؤں کے کسی قول کو احکام و نصوص شرعیہ کے خلاف دیکھتی ہے، تو اس کی جرات اپنے اندر نہیں پاتی کہ قرآن وسنت کو مقدم رکھ کر اس قول مخالف کی تاویل کرےاور اس طرح شریعت الہی کو بھی اپنی جگہ چھوڑنے کی زحمت نہ دےاور پیشوایان اسلام کے دامن کو بھی مخالفت شریعت کے دھبے سے بچالے۔بلکہ برعکس اس کے کوشش کرتی ہےکہ اپنے پیشواؤں کی باتوں، رایوں کو مقدم رکھ کرکسی نہ کسی طرح قرآن وحدیث کو ان کے مطابق کردکھائے،اگرچہ ایسا کرنے میں تاویل نصوص،تحریف نصوص تک پہنچ جائے!پہلی راہ باعتبار اصل کے راہ یہود ہےاور دوسری راہ راہ نصاری ہےاور اسلام نے دونوں کو بند کرنا چاہا۔غیر المغضوب علیھم ولا الضالین۔اور مجددین ملت کا یہ کام بتلایا کہ ینفون عنہ تحریف الغالین و انتحال المبطلین وتاویل الجاھلین(تذکرہ:55-56)
مولانا ابوالکلام آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم بھی تھے۔اس حیثيت سے انہوں نے ہندوستان میں نئی تعلیم کی نیو رکھی، سائنس، ٹکنالوجی ، آرٹ کے میدان میں تعلیم کی وہ بنیادیں فراہم کیں جنہوں نے بعد میں ہندوستان کو اس خاص حیثیت سے عالمی سطح پر نمایاں پہچان دلانے میں زبردست کردار ادا کیا۔یوینورسٹی گرانٹس کمیشن، ساہتیہ اکیڈمی ، للت کلا اکیڈمی اورسائنس و ٹکنالوجی کے بہت سے قومی ادارے مولانا کے ہی فکر وشعور کا عملی مظہر ہیں۔
مولانا ابوالکلام آزاد کے محبین و وابستہ گان کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ ان کی معنویت کو یہاں بھی تلاش کریں اور اس وژن اور اعلا نقطہ نظر کو اپنائیں اور قوم وملت کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں ۔مولانا آزاد کی یہ وہ عصری معنویت ہے جس کی طرف توجہ کم کم ہی جاتی ہے۔مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ ہم نظریاتی جوش اور اس کے علمبرداروں کو اپنا رہنما تسلیم کرنے میں عجلت سے کام لیتے رہے ہیں جب کہ عملی سطح پر کام کرکے دکھانے والوں اور عملی زندگی کی ناہمواریوں کو جھیلتے ہوئے متوازن فکروعمل کے نمونے پیش کرنے والوں کو وہ اہمیت دینے کو تیار نہیں رہے ہیں۔نتیجہ سامنے ہے کہ نظریاتی تشدد عمل میں ڈھل نہیں پاتا اور عملی راہوں سے گزر کر نمودار ہونےوالے توازن کی وقعت و اہمیت ابھی تک ہمیں ٹھیک سے سمجھ میں آئی ہی نہیں ہے۔ تقسیم ہند کے وقت مولانا کو اپنی ملت کی طرف اسی لیے اذيتوں کا سامنا رہا کہ ملت نظریاتی جوش میں مدہوش تھی ، وہ عملی حقائق کا سامنا کرنے کو تیار نہیں تھی اور مولاناعملی حقائق کی روشنی میں اس جوش کے نقصانات چشم بصیرت سے صاف دیکھ رہے تھے۔
مولانا ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ علم و ادب کی تمام وادیوں کی آپ نے سیر کرنے کی کوشش کی تھی۔اپنے وقت کے تمام علوم وفنون سے آگاہ رہنے کی کوشش کرتے تھے۔چنانچہ علوم شرعیہ میں علوم عقلیہ و نقلیہ کے ساتھ ساتھ آپ سائنس و فلسفہ اور فنون لطیفہ سمیت طب وصحت کے معاملات میں بھی حیرت انگيز معلومات رکھتے تھے اور عربی ، فارسی اور اردو کے علاوہ انگریزی اورفرانسیسی سے واقف تھے اور ان کے ادب سے استفادہ کرتے تھے۔ فلسفہ میں آپ کی اپنی مخصوص روش تھی جس کا احساس غبار خاطر کا مطالعہ کرتے ہوئے اصحاب ذوق کرتے ہيں ۔ نہرو خود کو فلسفہ وعلوم میں ان کے آگے طفل مکتب سمجھتے تھے جب کہ وہ خود اس میدان کے بڑے انسان تھے۔ عرض یہ کرنا تھا کہ مولانا کی معنویت ان کی ہمہ جہتی سے ہی پھوٹتی ہے۔ ہم اگر مولانا کے جیسی شخصیت چاہتے ہیں تو ان جیسی ہمہ جہتی بھی پیدا کرنی ہوگی۔
یہاں ایک اور حیثیت سے میں زور دینا چاہوں گا اور وہ ہے مولانا کی شخصی عظمت۔ وہ اوصاف حمیدہ اور خصائل عالیہ جس نے انہیں اتنا بڑا بنایا۔ انسان کے افکار کی معنویت کے ساتھ ساتھ اس کی شخصیت کی معنویت کو نظر انداز نہيں کیا جانا چاہیے۔ پوری زندگی ملت کی تعمیر و ترقی میں لگانے والے اس عظيم قائد کو کیسی کیسی گالی نہیں دی گئی، کیا کیا برا نہ کہا گیا، لیکن اس بطل جلیل نے کبھی کسی سے ذاتی انتقام لینے کا سوچا بھی نہیں ، ہمیشہ افکار وتصورات کی غلطیاں واضح کیں اور ہر طرح کا ذاتی ظلم پوری خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔مولانا کی عصری معنویت کی تلاش میں مجھے مولانا کی شخصیت کے یہ اوصاف بہت مہمیز کرتے ہیں۔اب بڑے قائد اس لیے بھی نہیں بن پاتے کہ بڑی شخصیتیں نہیں بن پارہیں ۔مالک رام اپنی کتاب” کچھ مولانا آزاد کے بارے میں” میں، یہ تفصیل لکھنے کے بعد کہ کس طرح ماہر القادری اپنےرسالے فاران میں مولانا کے خلاف لکھ رہے تھے اور مالک رام چاہ رہے تھے کہ ان کے مضامین کا جواب دیا جائےجس کے لیے انہوں نے مولانا آزاد سے معلومات لینی چاہی ، اس پر مولانا آزاد نے جوابا انہیں کیا کہا؟ وہ لکھتے ہیں:فرمایا:کیا آپ کے پاس کرنے کو کوئی اور کام نہیں کہ آپ کو لوگوں کے اعتراضات کا جواب لکھنےکی سوجھی ہے۔یہ بالکل فضول اور بے کار کام ہے۔اگر معترض نےکوئی صحیح بات لکھی ہے ، تو اپنی اصلاح کرلیجیے۔اور اگرغلط لکھا ہے تو اس سے درگزرکیجیے۔اس سے آپ کا کچھ نہیں بگڑےگااور تلخی میں اضافہ نہیں ہوگا۔ اس سے جو وقت بچے گا اس میں کوئی اورمفید کام کیجیے۔(ص 14)
مولانا آزاد کی عصر ی معنویت پر گفتگو کرتے ہوئے یہ بات خود بخود سامنے آجاتی ہے کہ مولانا آزادکے بعد ہندوستانی مسلمانوں کو مولانا آزاد جیسا کوئی بڑا لیڈر کیوں نہيں ملا؟ میرےخیال میں یہ سوال بظاہر چاہے جتنا بھی ویلڈ لگتا ہو لیکن اصلا وہ اتنا ویلڈ نہيں ہے۔ مولانا آزاد کے خاندانی اور سماجی حالات الگ تھے، انہیں تعلیم کچھ اور ملی تھی، ان کے ساتھ کام کرنے والے اور لوگ تھے، تب کی تہذیبی بنیادیں اور رکھ رکھاؤ کا عالم کچھ اور تھا، تب کے سیاسی اور سماجی حالات یکسر مختلف تھے،تقسیم سے پہلے مسلمانوں کی حالت بطور خاص قیادت کی حالت ویسی غیر نہیں تھی، تقسیم کے بعد کے حالات میں خود مولانا کو بھی احساس تھا کہ زمین بدل چکی ہے۔اس لیے نہ اس کی ضرورت ہے کہ ہم آج مولانا آزاد جیسے کسی قائد کو تلاش کریں اور نہ یہ ممکن ہے۔انہوں نے اپنے حالات و ظروف اور اپنی صلاحیت واہلیت کے مطابق کام کیا اور راہ دکھائی ، ہمیں اپنی اہلیت وصلاحیت اوران کی دکھائی ہوئی راہ کے حساب سےاپنےحالات وظروف کے مطابق کام کرنا چاہیے۔
مولانا آزاد مخلص اور بے پناہ تھے۔بےغرض تھے۔ جہاں دیدہ تھے۔ علوم و فنون کے جامع تھے اوراپنی فراست و دانائی پر اعتماد رکھتے تھے۔تاریخ کے اہم موڑ پر انہوں نے جامع رہنمائی کا فريضہ انجام دیا۔ہمیں ان سے روشنی حاصل کرنی چاہیےلیکن اپنی بصیرت کے چراغ جلانے سے شرمانا نہیں چاہیے۔یہی مولانا آزاد کی فکری وعلمی وراثت کو آگے بڑھانے کا طریقہ ہے اور یہی در اصل اس سیاسی و سماجی او ردینی و علمی مفکر و دانش ور کو درست خراج عقیدت ہے اور یہی اس کی عصری معنویت ہے۔

