Delhi دہلی

قلم اور کاغذ انسانی افکار و علمی ورثہ کے تحفظ و فروغ کا موثر وسیلہ ہیں/ جنید حارث

قلم اور کاغذ انسانی افکار و علمی ورثہ کے تحفظ و فروغ کا موثر وسیلہ ہیں/ جنید حارث
بزم طلبہ کی جانب سے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں ’’مضمون نگاری تربیت ورک شاپ‘‘ کا انعقاد

(نئی دہلی)پریس ریلیز/14/اکتوبر2026-/مضمون نگاری ایک ایسا فن ہے جس میں موضوع کی واضح تفہیم، زبان و بیان پر قدرت اور عبارت کی مسلسل تہذیب و تنقیح بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ نیز اس میں تحریر کی حقیقی تاثیر اسی وقت نمایاں ہوتی ہے جب خیالات میں گہرائی، جملوں میں روانی اور اسلوب میں ایسی دل کشی ہو کہ قاری ابتدا سے انتہا تک مضمون سے وابستہ رہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد مشتاق، ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے شعبہ میں ’’مضمون نگاری تربیت ورک شاپ‘‘ میں کیا۔انہوں نے تحقیقی مقالہ میں حوالہ جات کی صحت، ماخذ کی درست نشان دہی اور علمی دیانت کی اہمیت کوواضح کرتے ہوئے زبان کی سادگی، جملوں کی موزونیت، عبارت کی نظر ثانی اور املا و قواعد کی اصلاح پر بھی زور دیا تاکہ وہ اپنے علمی معیار کے ساتھ حسن اظہار سے بھی آراستہ ہو۔واضح رہے کہ اس ورک شاپ کا اہتمام بزم طلبہ کے ترجمان ’’صدائے جوہر‘‘ کی مجلس ادارت نے کیا تھا اوراس کا بنیادی مقصد طلبہ و طالبات کو مضمون نگاری کے اصول و ضوابط، حوالہ جات کے مختلف طریقوں اور مضامین کی اشاعت کے امکانات سے روشناس کرانا تھا۔اس موقع پر ڈاکٹر محمد ارشد، ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے فرمایا کہ مطالعہ، مشاہدہ، افکار اور جملہ سازی مضمون نگاری کے بنیادی عناصر ہیں اور ان کی باہمی ہم آہنگی ہی تحریر کو فکری گہرائی، معنوی روابط اور اسلوبی حسن عطا کرتی ہے۔مزید برآں انہوں نے ایک معیاری مضمون کی تیاری کے لیے موضوع کی درست تفہیم، مقصد کے تعین، مواد کی جمع آوری و ترتیب، واضح خاکہ کی تشکیل، جامع اور پرکشش عنوان کا انتخاب، موثر ابتدائیہ، خیالات کی منطقی پیش کش، مستند شواہد و دلائل کی فراہمی، مناسب پیراگراف بندی، مربوط اختتامیہ اورحاصل بحث کی جامع ترجمانی کو ضروری قرار دیا۔جناب جنید حارث، صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز نے اپنے صدارتی خطاب میں قلم کی اہمیت اور علمی ورثہ کے تحفظ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ زبان و بیان اور قلم و کاغذ انسانی افکار کے اظہار کے بنیادی ذرائع ہیں۔ تقریر کی تاثیر عموماً وقت اور مجلس تک محدود رہتی ہے، جب کہ تحریر انسانی افکار، تجربات اور علمی نتائج کو محفوظ کرکے نسل در نسل منتقل کرنے کا وسیلہ بنتی ہے۔اس دوران انہوں نے اسلامی علمی روایت کے تاریخی پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ یونانی، ہندوستانی اور دیگر قدیم تہذیبوں میں علوم و فنون کا گراں قدر سرمایہ موجود تھا اور اسے مسلمانوں نے اسلام کے ظہور کے بعد مختلف ادوار میں جمع کرنے، محفوظ رکھنے، ترجمہ کرنے اور تحقیق و تنقید کے ذریعے فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیاہے، نیز اسی علمی تعامل نے انسانی دانش کو نئی وسعتیں عطا کیں اور بعد کے ادوار میں علوم و فنون کی ترقی کی راہیں ہموار کی ہیں۔ موصوف نے اس علمی ورثے کو نئی نسل کے لیے ایک عظیم امانت قرار دیتے ہوئے طلبہ و طالبات کو اساتذہ کی رہ نمائی میں سنجیدہ مطالعے، مسلسل تحقیق اور معیاری تحریر کی طرف متوجہ کیا تاکہ ماضی کی علمی روایت عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر مستقبل کی فکری و علمی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرسکے۔پروگرام کا آغاز محمد ریان کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جب کہ نظامت کے فرائض خدیجہ نے انجام دیے۔فوٹو گرافی محمد حمزہ نے کی۔ اس موقع پر شعبے کے اساتذہ ڈاکٹر محمد عمر فاروق، ڈاکٹر خورشید آفاق، ڈاکٹر انیس الرحمن اور ڈاکٹر محمد اسامہ کے علاوہ ریسرچ اسکالرز، ایم اے اور بی اے کے طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ پروگرام کو کام یاب بنانے میںبزم طلبہ کے نائب صدر محمد گلفام، جوائنٹ سکریٹری احسن اعجاز، ’’صدائے جوہر‘‘ کی مدیرہ زویا ہارون، نائب مدیران خدیجہ، عبدالعلیم اور ابوالبشر، نیز مجلس ادارت کے ارکان محمد زاہد، عبدالرحمن، علما زید، زینت انصاری، محمد ریان، محمد حمزہ، قنوت فیروز، محمد عثمان، سارہ احمد خان اور اقراء پروین نے اہم کردار ادا کیا۔

Related posts

President of the Minority Wing of All India Mahila Empowerment Party, Mutiur Rahman Aziz, honored with an invitation to the International Workshop on Peace and Development by the London School.

Paigam Madre Watan

بی جے پی نے یہاں تک کہ کچھ قابل اعتراض پوسٹروں میں دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی تصویر کا استعمال کیا: آتشی

Paigam Madre Watan

قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام طب اور صحافت کے حوالے سے دومذاکروں کا انعقاد

Paigam Madre Watan