National قومی خبریں

غیر افسانوی اردو ادب پر ادبی نشست، مثنوی ’’مت چُوکو چوہان‘‘ کا اجرا

غیر افسانوی اردو ادب پر ادبی نشست، مثنوی ’’مت چُوکو چوہان‘‘ کا اجرا

دھرم شالہ(ہماچل پردیش) 12؍اکتوبر(پریس ریلیز)ادبی نشست کے دوران اردو کے ممتاز شاعر آنجہانی بھگوان داس شعلہ کی تصنیف مثنوی ’’مت چُوکو چوہان‘‘ کا اجرا عمل میں آیا۔ یہ تقریب دھرم شالہ ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی اور کانگڑا لوک ساہتیہ پریشد کے اشتراک سے تپوون میں واقع گنجن آرگنائزیشن فار کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ نشست کا موضوع ’’غیر افسانوی اردو ادب‘‘ تھا۔ پروگرام میں اہلِ علم اور ادیبوں نے مثنوی کی ادبی روایت اور بھگوان داس شعلہ کی تخلیقی خدمات پر تفصیلی گفتگو کی۔تقریب کی صدارت معروف اردو شاعر اور ادیب ڈاکٹر چندر بھان ’’خیال‘‘ نے کی، جبکہ کانگڑا لوک ساہتیہ پریشد کے بانی و ڈائریکٹر ڈاکٹر گوتم شرما ’’ویَتھت‘‘، اردو ادیب ڈاکٹر بھوپیندر عزیز پرہار، شعلہ کے کلام کے مرتب زاہدؔابرول اور ان کے پوتے امن سود سمیت متعدد ادیب اور دانش ور موجود تھے۔ ڈاکٹر گوتم شرما نے مہمانوں کا استقبال کیا، جبکہ زاہدؔ ابرول نے افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے مرحوم شعلہ کی ادبی زندگی اور تخلیقات پر روشنی ڈالی۔
مقررین نے بتایا کہ بھگوان داس شعلہ نے اپنی زندگی میں بڑی تعداد میں ادبی تخلیقات کیں، لیکن ان کا بیشتر سرمایہ کتابی شکل میں شائع نہیں ہوسکا۔ ان کے انتقال کے بعد بھی ان کی متعدد تحریریں قلمی نسخوں اور کاغذات میں محفوظ رہیں۔ خاندان میں اردو زبان سے واقفیت محدود ہونے کے سبب یہ ادبی سرمایہ طویل عرصے تک قارئین تک نہیں پہنچ سکا۔ بعد ازاں زاہد ابرول نے شعلہ کے اہلِ خانہ سے رابطہ کرکے ان کی تخلیقات کو جمع کرنے اور مرتب کرنے کا کام شروع کیا۔اسی کوشش کے دوران مثنوی ’’مت چُوکو چوہان‘‘ بھی سامنے آئی۔ یہ مثنوی نامکمل تھی، جسے زاہد ابرول نے مکمل اور مرتب کیا۔ شعلہ کے پوتے امن سود کے تعاون سے اسے شائع کیا گیا۔ تقریب میں اسی اہم ادبی تصنیف کا اجرا کیا گیا، جسے مرحوم شاعر کی ادبی وراثت کو محفوظ کرنے کی جانب ایک قابلِ ذکر قدم قرار دیا گیا۔
معروف اردو شاعر، نقاد اور مترجم ڈاکٹر بھوپیندر عزیز پرہار نے اردو ادب کی مختلف اصناف، مثنوی کی ادبی روایت اور ’’مت چُوکو چوہان‘‘ کے فنی و ادبی پہلوؤں پر گفتگو کی۔ ڈاکٹر چندر بھان ’’خیال‘‘ نے اپنے صدارتی خطاب میں اردو زبان و ادب کی ثروت مندی اور موجودہ دور میں ادبی ورثے کے تحفظ، فروغ اور اشاعت کی ضرورت پر زور دیا۔نشست کے ایک حصے میں ڈاکٹر عزیز پرہار کی صدارت میں علمی گفتگو بھی ہوئی۔ اس میں ڈاکٹر ریحان حسن، عمران عظیم، ڈاکٹر عبد الکریم اور جاوید الفت نے مثنوی ’’مت چُوکو چوہان‘‘ کے ادبی، تاریخی اور لسانی پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ مقررین نے اردو ادب میں مثنوی کی روایت اور اس صنف کی اہمیت پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ساہتیہ اکادمی، نئی دہلی کے رنجن کمار اور کانگڑا لوک ساہتیہ پریشد کے بانی ڈاکٹر گوتم شرما ’’ویَتھت‘‘ نے کہا کہ اس پروگرام نے نہ صرف مرحوم بھگوان داس شعلہ کی ادبی خدمات کو منظرِ عام پر لانے میں مدد دی، بلکہ اردو ادب کی روایت اور اس کے تحفظ کی جانب بھی ایک اہم پیش رفت کی۔پروگرام کے دوسرے سیشن میں مشاعرہ اور کوی سمیلن منعقد ہوا، جس میں ریاست کے مختلف علاقوں سے آئے 23 شعرا اور شاعروں نے اپنی تخلیقات پیش کیں۔ مشاعرے کا آغاز للت موہن شرما کی تخلیق سے ہوا۔ اس موقع پر پرتاپ جرِیال، کلدیپ شرما، جاوید الفت، پروفیسر چندر ریکھا اڈوال، پونندر ’’پون‘‘، تیج کمار سیٹھی، زاہد ابرول، نوینت شرما، ہری کرشن مراری، اشونی دھیمان، کنور کرتار، یوگل کشور ڈوگرا، ستپال دھوت ویشی، رمیش چندر مستانہ، پرومیلا، دیویندر دِوج، عزیز پرہار، راجیو ترگرتی، رتن چند نِر جھَر، درگیش نندن، ونود ’’بھاؤک‘‘ اور ڈاکٹر چندر بھان خیال نے کلام پیش کیا۔

Related posts

مولانا آزاد جیسی عبقری شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں ۔ شیلندر ساگر ۔

Paigam Madre Watan

مسجد دار السلام بھنڈی بازار، اون، سورت میں دینی مجلس کا کامیاب انعقاد

Paigam Madre Watan

اہم اعلان

Paigam Madre Watan