جامعہ خیر العلوم ڈومریا گنج میں بیت بازی کا دلچسپ مقابلہ، فریقِ حالی نے میدان مار لیا
ڈومریا گنج، 15 اکتوبر: جامعہ اسلامیہ خیر العلوم، ڈومریا گنج کے کانفرنس ہال میں طلبہ کی علمی، ادبی اور لسانی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے اور ان میں ادبی ذوق و شوق پروان چڑھانے کے مقصد سے سالانہ ثقافتی پروگرام کے تحت چھٹا پروگرام منعقد کیا گیا۔ زمرۂ اول، جس میں متوسطہ اولیٰ سے ثانویہ اولیٰ تک کے طلبہ شامل ہیں، کے درمیان بیت بازی کا شاندار مقابلہ ہوا۔ اس مقابلے میں طلبہ نے اردو ادب کے ممتاز شعراء علامہ اقبال، مرزا غالب، مولانا الطاف حسین حالی اور میر تقی میر کے اشعار پیش کرکے اپنی ادبی صلاحیتوں، شعری حافظے اور حاضر جوابی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
پروگرام کے دوران طلبہ کے درمیان سخت اور دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ فائنل مقابلہ فریقِ حالی اور فریقِ میر کے درمیان ہوا، جس میں دونوں ٹیموں نے عمدہ شعری انتخاب اور ادبی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ تاہم، بہترین کارکردگی کی بنیاد پر فریقِ حالی نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے مقابلے میں پہلی پوزیشن اپنے نام کرلی۔
پروگرام کے اختتام پر تمام شرکاء کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں انعامات سے نوازا گیا۔
ادبی و تعلیمی سرگرمیوں کی اہمیت: اس طرح کے ثقافتی اور ادبی پروگرام طلبہ کی ہمہ جہت تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بیت بازی جیسی سرگرمیاں نہ صرف طلبہ کے شعری حافظے کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ انہیں اردو زبان و ادب سے قریب لانے، اساتذہ اور اکابر شعرا کے ادبی ورثے سے روشناس کرانے، خود اعتمادی پیدا کرنے اور تقریری و لسانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کا مؤثر ذریعہ بھی بنتی ہیں۔
بلاشبہ، تعلیمی اداروں میں نصابی تعلیم کے ساتھ ایسی ادبی سرگرمیوں کا تسلسل نئی نسل میں زبان و ادب سے محبت، صحت مند مسابقت اور علمی و فکری بالیدگی کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہم ہے۔
رپورٹ: مطیع الرحمن عزیز
ایڈیٹر، روزنامہ پیغام مادرِ وطن


