National قومی خبریں

اردو اور ہندی کے مابین لسانی اور تخلیقی رشتوں کی جڑیں نہایت گہری ہیں: ڈاکٹر جانکی پرساد شرما

اردو اور ہندی کے مابین لسانی اور تخلیقی رشتوں کی جڑیں نہایت گہری ہیں: ڈاکٹر جانکی پرساد شرما
شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے زیرِ اہتمام توسیعی خطبے کا انعقاد

نئی دہلی (17 اکتوبر): شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے زیرِاہتمام ’’اردو اور ہندی: لسانی اور تخلیقی رشتے‘‘ کے عنوان سے منعقدہ توسیعی خطبے کے مقرر معروف ادیب و نقاد ڈاکٹر جانکی پرساد شرما نے کہا کہ اردو اور ہندی کے مابین تخلیقی رشتوں کی جڑیں نہایت گہری ہیں۔ انھوں نے ویرگاتھا کال کی تخلیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ روایت اور ذخیرۂ الفاظ کا علم نہ ہو تو بڑے اور نامور ہندی ادیب بھی ان تخلیقات کی تفہیم و تعبیر سے قاصر ہیں۔ انھوں نے اپنا یہ بے باک موقف نہایت پرزور لہجے میں پیش کیا کہ اردو کسی بھی طرح غیرملکی زبان نہیں ہے۔ اردو خالصتاً ہندوستانی زبان ہے اور اس میں موجود تقریباً پچہتر فیصد الفاظ سنسکرت اور پراکرت سے آئے ہیں۔ اس کی نمایاں ترین دلیل یہ ہے کہ کوئی خالص فارسی داں ایرانی بھی اردو کے ایک پیراگراف کی درست قرأت نہیں کرسکتا۔ ڈاکٹر جانکی پرساد شرما نے اردو ہندی کے مابین اتحاد و یگانگت کی پرزور حمایت کے باوجود کہا کہ یگانگت کے نام پر میں اردو رسم الخط کو مٹانے کے سخت خلاف ہوں۔ انھوں نے صاف صاف کہا کہ میں اردو رسم الخط کا خون کرکے اشتراک و یگانگت کا قائل نہیں۔ انھوں نے اردو اور ہندی کی مصنوعی رقابت کو بھی شدت سے مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا۔
صدارتی خطاب میں پروفیسر احمد محفوظ نے کہا کہ یہ موضوع نہایت حساس اور اہم ہے۔ اس موضوع کا حق ڈاکٹر جانکی پرساد شرما ہی ادا کرسکتے تھے۔ ہندوستان میں علمی روایت اور مشترکہ تہذیب کے ساتھ ساتھ رواداری کی جڑیں نہایت گہری اور مستحکم ہیں۔ ڈاکٹر جانکی پرساد شرما اسی علمی اور تہذیبی رواداری کے سلسلۃ الذہب کا حلقہ ہیں۔ اس توسیعی خطبے کے کنوینر ڈاکٹر محمد مقیم نے مہمان مقرر کا مفصل تعارف پیش کرتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔ کارگزار صدرِ شعبہ پروفیسر ندیم احمد نے مہمان کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کی خدمت میں نہال پیشی کی۔ پروگرام کا آغاز شعبے کے طالب محمد ناصر کی تلاوت اور اختتام شعبے کے استاد ڈاکٹر شاہنواز فیاض کے اظہارِ تشکر پر ہوا۔ شمیم حنفی ہال میں منعقدہ اس خطبے میں شعبے کے تمام اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز کے علاوہ طلبا و طالبات موجود تھے۔

Related posts

بھوپال میں نیو شمع لیبارٹریز کا شاندار سی ایم ای پروگرام

Paigam Madre Watan

اردوزبان محبت کی،روداری اور میل ملاپ کی زبان ہے

Paigam Madre Watan

हीरा ग्रुप की संपत्तियों पर मामिला करने वालों को चेतावनी

Paigam Madre Watan