” بلاعنوان” پر مکالمہ
اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ
حیدرقریشی کی خاص تحریر
بلا عنوان (فرحت نواز)
حیدرقریشی :
جناب بشارت صاحب
اگر آپ کو یاد ہو کہ آپ نے میرے 39 افسانوں /مضامین کے تجزیے کیے تھے اور ایک خاکہ لکھنا باقی تھا۔وہ بلا عنوان اب جا کر لکھا گیا ہے۔آپ کو یاد ہو گا۔ یہ آخری تحریر بھی تجزیے کے لیے بھیج رہا ہوں۔۔۔
………………………………………………………………
ڈیجیٹل بشارت صاحب :
حیدر صاحب، السلام علیکم! 

آپ کا خاکہ **’’بلاعنوان‘‘** پوری توجہ سے پڑھا۔ اسے پڑھتے ہوئے کئی بار ایسا محسوس ہوا کہ میں فرحت نواز صاحبہ کی شخصیت کا خاکہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ آپ کی اپنی ادبی زندگی، آپ کے تعلقات، آپ کی یادداشت اور آپ کے مزاج کی ایک ایسی پرت بھی دیکھ رہا ہوں جو شاید کسی افسانے کے تجزیے میں پوری طرح سامنے نہیں آ سکتی تھی۔
اس تحریر کی خاص بات یہ ہے کہ آپ فرحت نواز کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں، بہت کچھ یاد رکھتے ہیں، اور بہت کچھ لکھ بھی سکتے ہیں؛ لیکن جو کچھ لکھنے کی آزادی آپ کو حاصل نہیں، اسی کا احساس اس خاکے کو ایک عام سوانحی تحریر سے مختلف بناتا ہے۔ آپ نے ابتدا ہی میں جو کہا ہے کہ **’’جیسے ہاتھوں میں ہتھکڑی سی لگ گئی ہے‘‘**، وہ محض ایک کیفیت کا بیان نہیں، پورے خاکے کا بنیادی تخلیقی مسئلہ ہے۔
میری رائے میں یہ آپ کے اس طویل مطالعاتی سلسلے کی ایک اہم اور معنی خیز آخری تحریر ہے۔ اس میں آپ کے افسانوں کے تجزیوں سے قدرے مختلف نوعیت کا مطالعہ درکار ہے، کیونکہ یہاں موضوع صرف ایک شخصیت نہیں، بلکہ **شخصیت کے گرد پھیلا ہوا وقت، یادداشت، دوستی، ادبی رفاقت، احتیاط اور نامکمل اظہار** بھی ہے۔
آئیے، اس کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں۔
# بلاعنوان — ایک خاکے کا تجزیہ
### حیدر قریشی اور فرحت نواز: یادداشت، رفاقت اور نامکمل اظہار کی کہانی
## ۱۔ عنوان ’’بلاعنوان‘‘ کیوں بامعنی ہے؟
سب سے پہلے عنوان پر غور کرنا چاہیے۔
آپ نے اس تحریر کو ’’بلاعنوان‘‘ کہا ہے، حالانکہ اس میں ایک نامور ادبی شخصیت کا نام بھی ہے، ان کی تاریخِ پیدائش بھی، تعلیمی کوائف بھی، ملازمت کی تفصیلات بھی، ادبی کارنامے بھی اور آپ کے ساتھ ان کے تعلق کی ایک طویل داستان بھی۔
بظاہر تو یہ تحریر کسی عنوان کی محتاج نہیں لگتی۔ اسے ’’فرحت نواز: شخصیت اور فن‘‘، ’’فرحت نواز سے ادبی رفاقت‘‘ یا ’’یادوں کے دریچے میں فرحت نواز‘‘ جیسے عنوانات دیے جا سکتے تھے۔ مگر ان میں سے کوئی عنوان اس تحریر کی اصل کیفیت کو پوری طرح سمیٹ نہیں سکتا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے فرحت نواز کی زندگی کا مکمل خاکہ لکھنے کا ارادہ کیا تھا، مگر لکھتے ہوئے بار بار احساس ہوتا ہے کہ کچھ باتیں ایسی ہیں جو کہی نہیں جا سکتیں، کچھ ایسی ہیں جنہیں کہنا مناسب نہیں، اور کچھ ایسی ہیں جو شاید ابھی آپ کے اندر موجود ہیں مگر تحریر میں آنے سے گریز کر رہی ہیں۔
چنانچہ ’’بلاعنوان‘‘ اس تحریر کے نامکمل رہ جانے کا اعلان بھی ہے اور اس کی تخلیقی کیفیت کا اظہار بھی۔
یہاں ایک دلچسپ تضاد پیدا ہوتا ہے: **تحریر کا عنوان نہیں، لیکن اس کے اندر ایک بہت واضح مرکزی کیفیت موجود ہے۔**
وہ کیفیت ہے: سب کچھ کہہ دینے کے بعد بھی کچھ باقی رہ جانے کا احساس۔
آخر میں ڈاکٹر وزیر آغا کا شعر اسی کیفیت کی تصدیق کرتا ہے:
> جو دل میں پھانس تھی وہ رہ گئی ہے
> بیاں سب کچھ وگرنہ ہو گیا ہے
یہ شعر صرف آخری پیراگراف کا اختتام نہیں کرتا، بلکہ عنوان کو بھی ایک معنوی جواز فراہم کرتا ہے۔ تحریر بلاعنوان ہے، کیونکہ شاید اس کے اصل موضوع کو کسی ایک عنوان میں قید کرنا ممکن نہیں۔
## ۲۔ سوانحی معلومات سے آغاز: خاکہ یا سوانح عمری؟
آپ فرحت نواز کی تاریخِ پیدائش، تعلیم، ملازمت، تدریسی زندگی، ادبی کتابوں اور ادارتی خدمات کا ذکر کرتے ہیں۔ پھر اچانک خود ہی سوال اٹھاتے ہیں:
’’یہ کوئی سوانح عمری ترتیب دے رہا ہوں یا خاکہ نما لکھ رہا ہوں؟۔۔۔مجھے کیا ہو گیا ہے۔‘‘
یہ جملہ بہت اہم ہے۔
ایک عام خاکہ نگار شاید اس سوال کو اہمیت نہ دیتا۔ وہ معلومات فراہم کرتا، شخصیت کے اوصاف بیان کرتا اور اپنی تحریر آگے بڑھاتا رہتا۔ مگر آپ کو اس بات کا احساس ہے کہ محض معلومات فراہم کر دینے سے کسی شخصیت کا خاکہ مکمل نہیں ہوتا۔
سوانح عمری میں زندگی کے واقعات ترتیب وار بیان کیے جا سکتے ہیں۔ خاکے میں بھی واقعات ضروری ہیں، لیکن وہاں واقعات کی اہمیت اس بات سے متعین ہوتی ہے کہ وہ شخصیت کو کس طرح نمایاں کرتے ہیں اور راوی کے تجربے میں ان کی کیا معنویت ہے۔
آپ کا اصل خاکہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ رسمی معلومات سے نکل کر یادداشت کے علاقے میں داخل ہوتے ہیں۔
چار سال کی ننھی منی فرحت، اخبار میں چھپنے والی ان کی ابتدائی تحریر، آپ کی اپنی پہلی تحریر، انتخابی ڈیوٹی کے دوران پہلا براہِ راست سامنا، پھر جدیدادب کی رفاقت اور گھریلو ملاقاتیں—یہ واقعات فرحت نواز کی زندگی کے محض مراحل نہیں رہتے۔ یہ آپ دونوں کے تعلق کی تشکیل کے مراحل بن جاتے ہیں۔
اس اعتبار سے ابتدائی سوانحی حصہ ایک طرح کا تمہیدی دروازہ ہے۔ آپ خود بھی اسے عبور کرنے کے بعد اپنے اصل موضوع تک پہنچتے ہیں۔
البتہ یہاں ایک فنی امکان بھی موجود ہے: اگر آپ کبھی اس خاکے کی تدوین کرنا چاہیں تو ابتدائی سوانحی معلومات کو قدرے مختصر کرکے بچپن کی یادداشت سے آغاز کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس سے تحریر زیادہ جلدی اپنی انفرادیت تک پہنچے گی۔ تاہم موجودہ ترتیب کا بھی اپنا جواز ہے، کیونکہ آپ کا راوی پہلے فرحت نواز کی ادبی حیثیت کا اعتراف کرتا ہے، پھر بتاتا ہے کہ اس شخصیت کے ساتھ اس کا ذاتی تعلق کس طرح بنا۔
## ۳۔ چار سال کی بچی سے ’’متحرک تصویر‘‘ تک
خاکے کا سب سے خوب صورت اور تخلیقی حصہ میرے نزدیک وہ ہے جس میں آپ اپنی ابتدائی یادداشت کو ایک اسکیچ اور پھر مکمل تصویر میں تبدیل کرتے ہیں۔
آپ کو یاد ہے کہ رحیم یار خان میں فرحت نواز کے والد بھی ملازمت کرتے تھے اور آپ کی والدہ کا ان کی والدہ سے میل جول تھا۔ ممکن ہے آپ نے چار سال کی عمر میں فرحت کو دیکھا ہو، مگر اس ملاقات کی کوئی واضح یاد باقی نہیں۔
پھر خان پور میں ہفت روزہ ’’صدائے عوام‘‘ کے پہلے شمارے میں ان کی تحریر نظر آتی ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ نام پڑھتے ہی بچپن کی پرچھائیاں لہرانے لگیں۔ آپ نے بھی ایک تحریر لکھی اور اگلے ہفتے وہ شائع ہو گئی۔
یہاں ایک چھوٹا سا واقعہ دو ادبی زندگیوں کے ابتدائی رشتے کا استعارہ بن جاتا ہے۔
آپ دونوں نے ایک دوسرے کو براہِ راست نہیں دیکھا تھا، مگر ایک دوسرے کے نام اور تحریر کے ذریعے ایک ادبی تعارف قائم ہو رہا تھا۔ گویا آپ کی پہلی ملاقات جسمانی موجودگی سے پہلے تحریر کے ذریعے ہوئی۔
آپ کا جملہ ہے:
’’یہ گویا ہم نے ذہنی طور پر ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔‘‘
یہ جملہ اس خاکے کے بنیادی تصورات میں سے ایک ہے۔ ادبی زندگی میں بعض ملاقاتیں بالمشافہ ہونے سے پہلے ذہنی اور تخلیقی سطح پر واقع ہو جاتی ہیں۔
پھر آپ لکھتے ہیں:
’’ادبی زندگی میں فرحت آگے آگے تھیں اور میں ان کے پیچھے پیچھے۔‘‘
اس جملے میں ایک خوش گوار خود احتسابی ہے۔ آپ فرحت کی ادبی پیش قدمی کو تسلیم کرتے ہیں اور اپنے تعلق کی ابتدا میں اس حقیقت کو جگہ دیتے ہیں۔ یہ کسی رسمی تعریف کے بجائے ایک تاریخی اعتراف ہے۔
اس کے بعد گیت کا مصرعہ آتا ہے:
> دیوانہ مجھ سا نہیں اس امبر کے نیچے
> آگے ہے قاتل میرا اور میں پیچھے پیچھے
گیت کے اس مصرعے کو آپ اپنے تعلق کی ایک شوخ اور قدرے رومانوی تمثیل میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہاں ’’قاتل‘‘ کا لفظ گیت کے تخلیقی اور جذباتی سیاق میں ہے؛ آپ اسے کسی حقیقی خطرے یا المیے کے طور پر نہیں برتتے۔ اس کے ذریعے آپ اپنے پیچھے پیچھے چلنے اور فرحت کے آگے ہونے کی کیفیت کو ایک مانوس ثقافتی اشارے میں ڈھال دیتے ہیں۔
یہاں ایک احتیاط بھی ضروری ہے: اس شوخ تمثیل کو پڑھتے ہوئے پورے خاکے کو رومانوی تعلق کی کہانی سمجھ لینا درست نہیں ہوگا۔ تحریر کا اپنا مرکز ادبی رفاقت، اعتماد، یادداشت اور تعلق کی پیچیدگی ہے۔ گیت کا حوالہ اس میں ایک شخصی اور مزاحیہ رنگ پیدا کرتا ہے۔
### انتخابی ڈیوٹی: یادداشت کا منظرنامہ
پھر 1970ء کے انتخابی ماحول میں آپ دونوں کا پہلا براہِ راست سامنا ہوتا ہے۔
فرحت چودہ برس کی ہیں، آپ تقریباً انیس برس کے۔ وہ پولنگ اسٹیشن پر دھاندلی کی شکایت لے کر آتی ہیں۔ آپ کے بیان کے مطابق، وہ دوسرے لوگوں کی موجودگی کے باوجود براہِ راست آپ سے مخاطب ہوتی ہیں، مگر آپ کی توجہ ان کی بات سے زیادہ ان کے وجود پر مرکوز ہو جاتی ہے۔
آپ لکھتے ہیں کہ آپ کو یہ یاد نہیں کہ آپ نے کیا جواب دیا اور کیا کارروائی کی۔ لیکن شام کو پیپلز پارٹی سیٹ ہار جاتی ہے اور آپ لکھتے ہیں:
’’میں اپنی سیٹ جیت چکا تھا۔‘‘
یہاں انتخابی نتیجہ اور ذاتی خوشی ایک دوسرے کے مقابل آ جاتے ہیں۔ سیاسی سطح پر شکست ہے، مگر آپ کی یادداشت میں وہ دن ایک ذاتی کامیابی کا دن بن گیا ہے۔
یہ خاکہ نگاری کی خوبی ہے کہ واقعے کی تاریخی اہمیت سے زیادہ اس کی شخصی معنویت نمایاں ہو جاتی ہے۔
اور پھر آپ لکھتے ہیں کہ پرچھائیوں سے بہل جانے والوں کو مکمل اسکیچ نہیں بلکہ ’’پوری تصویر‘‘ مل گئی تھی، اور تصویر بھی متحرک۔
یہ تصویر کا استعارہ آگے چل کر پورے خاکے میں پھیل جاتا ہے۔ ابتدا میں فرحت ایک دھندلی یاد ہیں، پھر نام اور تحریر کے ذریعے ابھرتی ہیں، پھر براہِ راست سامنے آتی ہیں، اور بالآخر ایک ایسی شخصیت بن جاتی ہیں جس کی زندگی کے مختلف مراحل آپ کے سامنے موجود ہیں۔
**پرچھائی سے اسکیچ اور اسکیچ سے متحرک تصویر تک کا سفر اس خاکے کی ایک اہم داخلی ساخت ہے۔**
## ۴۔ ’’جدیدادب‘‘: ذاتی تعلق سے ادبی رفاقت تک
1978ء میں ’’جدیدادب‘‘ خان پور کے اجرا کا منصوبہ بنتا ہے۔ آپ فرحت نواز کو شریک مدیر بننے کی دعوت دیتے ہیں اور وہ اسے قبول کر لیتی ہیں۔
یہاں آپ کے تعلق کی نوعیت میں ایک اہم تبدیلی آتی ہے۔
ابتدا میں آپ ایک دوسرے کو نام اور تحریر کے ذریعے جانتے ہیں۔ پھر بالمشافہ ملاقات ہوتی ہے۔ اب ایک مشترکہ ادبی منصوبہ آپ دونوں کو باقاعدہ رفاقت میں لے آتا ہے۔
آپ اس حقیقت کو بھی یاد رکھتے ہیں کہ فرحت نے آپ سے پہلے لکھنا اور چھپنا شروع کیا تھا۔ ان کی ادبی پیش قدمی کا اعتراف کرتے ہوئے آپ انہیں شریک مدیر کی حیثیت سے شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔
یہ محض ایک ادبی رسالے کی انتظامی تفصیل نہیں۔ اس میں آپ کے ادبی مزاج کا ایک پہلو سامنے آتا ہے: آپ اپنے سے پہلے یا اپنے ساتھ لکھنے والوں کو جگہ دینے اور ان کے ادبی وجود کو تسلیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بعد میں جرمنی سے ’’جدیدادب‘‘ جاری کرتے ہوئے بھی آپ فرحت کو شریک مدیر بننے کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ اپنی گھریلو مصروفیات کے باعث اس پیش کش کو قبول نہیں کر پاتیں اور آپ ان کی مصروفیات کا احترام کرتے ہیں۔
یہ دونوں واقعات ایک دوسرے کے مقابل رکھے جا سکتے ہیں۔
پہلی بار فرحت نے دعوت قبول کی، دوسری بار حالات نے انہیں اس کی مہلت نہیں دی۔ مگر آپ کے لیے رفاقت کی اہمیت صرف رسمی عہدے یا ادارتی شرکت تک محدود نہیں رہتی۔
**آپ تعلق کو برقرار رکھنے کے لیے دوسرے شخص کی آزادی اور حالات کا احترام کرتے ہیں۔**
یہی بات آگے چل کر خاکہ لکھنے کے معاملے میں بھی نظر آتی ہے: آپ فرحت پر لکھنا چاہتے تھے، مگر ان کے نئے ازدواجی حالات کے پیش نظر رک گئے۔
اس طرح رسالے کی ادارت اور خاکے کی تاخیر دو الگ واقعات نہیں رہتے۔ دونوں میں ایک مشترک اخلاقی رویہ دکھائی دیتا ہے: اپنی خواہش کے مقابل دوسرے شخص کے حالات کو اہمیت دینا۔
## ۵۔ پروین عزیز: تعلق کی کہانی میں ایک تیسرا کردار
اس خاکے میں پروین عزیز کا ذکر بھی اہم ہے۔ وہ فرحت نواز کی قریبی سہیلی ہیں، دونوں نے تعلیم اور ملازمت کے مراحل میں ساتھ ساتھ سفر کیا اور طویل رفاقت قائم رکھی۔
آپ پروین کو صرف ایک ضمنی کردار کے طور پر نہیں لاتے، بلکہ فرحت کی زندگی اور آپ کے تعلق کے تناظر میں ان کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہیں۔
پھر آپ لکھتے ہیں کہ آپ اور فرحت کی دوستی اتنی گہری ہو گئی تھی کہ آپ دونوں اپنے مسائل اور ذاتی باتیں آسانی سے ایک دوسرے سے شیئر کر لیتے تھے۔ آپ کو شاید محسوس ہوتا تھا کہ اس اعتماد میں آپ کو پروین کی نسبت زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی تھی۔
اس بیان میں کئی تہیں ہیں۔
ایک طرف فرحت اور پروین کی دیرینہ دوستی ہے۔ دوسری طرف آپ اور فرحت کی اپنی رفاقت ہے۔ تیسری طرف آپ کا یہ احساس ہے کہ مختلف تعلقات کے دائرے ایک دوسرے سے کس طرح متصل ہوتے ہیں اور کبھی ایک دوسرے کے قریب آ جاتے ہیں۔
آپ اس کیفیت کو کسی قطعی فیصلے میں تبدیل نہیں کرتے۔ آپ ’’شاید‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ یہ لفظ اہم ہے، کیونکہ آپ پروین یا فرحت کی طرف سے کسی بات کو حتمی طور پر بیان نہیں کر رہے، بلکہ اپنے احساس کو بیان کر رہے ہیں۔
یہی خاکہ نگار کی دیانت ہے: اپنے مشاہدے کو مشاہدے کے طور پر پیش کرنا اور اپنے گمان کو حقیقت کا درجہ نہ دینا۔
پھر آپ پروین کے ذریعے لاہور کے سفر کا واقعہ بیان کرتے ہیں، جہاں فرحت کے ساتھ پانچ چھ سہیلیاں بھی تھیں اور پروین عزیز اس ’’سیکیورٹی فورس‘‘ کی چیف تھیں۔
یہاں آپ کا مزاحیہ اسلوب واپس آ جاتا ہے۔ سنجیدہ تعلقات کی تفصیل کے درمیان یہ ہلکا سا فقرہ تحریر کو بوجھل نہیں ہونے دیتا۔
یہ آپ کے اسلوب کا نمایاں وصف ہے کہ آپ جذباتی یا پیچیدہ موضوع کو بھی ایک چھوٹے سے مزاحیہ جملے کے ذریعے انسانی اور روزمرہ فضا میں واپس لے آتے ہیں۔
## ۶۔ ’’چناں قحط سالے شد اندر دمشق‘‘: ایک شعر، کئی معنی
آپ کے والد کی وفات 1986ء میں ہوئی۔ آپ اس زمانے کو شدید سماجی اور فکری تلاطم کا دور قرار دیتے ہیں۔ اسی عرصے میں آپ اور فرحت کا رابطہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
یہاں آپ کا انتخاب کردہ شعر خاص طور پر قابلِ غور ہے:
> چناں قحط سالے شد اندر دمشق
> کہ یاراں فراموش کردند عشق
اس شعر کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ دمشق میں ایسا قحط پڑا کہ دوست محبت ہی کو بھول گئے۔
آپ کی تحریر میں یہ شعر ایک تاریخی یا جغرافیائی منظر نہیں بناتا، بلکہ انسانی تعلقات پر حالات کے دباؤ کی علامت بن جاتا ہے۔ جب زندگی کے دوسرے مسائل انسان کو گھیر لیتے ہیں تو تعلقات، چاہے کتنے ہی عزیز کیوں نہ ہوں، پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
آپ یہ نہیں کہتے کہ آپ نے فرحت کو فراموش کر دیا تھا یا فرحت نے آپ کو۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ اپنے سماجی اور فکری تلاطم میں بہتے، بلکہ غوطے کھاتے رہے، اور رابطہ کمزور پڑ گیا۔
یہ فرق بہت اہم ہے۔
تعلق کا کمزور پڑ جانا ہمیشہ محبت یا احترام کے خاتمے کا ثبوت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات زندگی کے حالات رابطے کی عملی صورت کو بدل دیتے ہیں، جبکہ تعلق کی بنیادی قدر ذہن میں محفوظ رہتی ہے۔
آپ کے خاکے میں بعد کے واقعات اسی بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ برسوں کے فاصلے کے باوجود فرحت کا نام، ان کی ادبی حیثیت اور آپ کے ساتھ ان کی رفاقت مٹتی نہیں۔
یوں شعر آپ کے یہاں محض ادبی حوالہ نہیں، بلکہ زندگی کی ایک کیفیت کا مختصر ترین بیان بن جاتا ہے۔
## ۷۔ شادی کی تصویروں کا البم اور نہ لکھا جانے والا خاکہ
یہ خاکے کا ایک نہایت اہم موڑ ہے۔
فرحت نواز کی شادی ہو جاتی ہے۔ آپ ان کے شوہر ممتاز شیخ کو پہلے سے جانتے ہیں اور ان کے گھر آباد ہونے کی دعا کرتے ہیں۔ بعد میں فرحت اپنی انڈونیشیائی نژاد سہیلی ایڈا، یعنی سعیدہ، کے ذریعے اپنی شادی کی تصویروں کا البم آپ کے لیے بھجواتی ہیں۔
آپ اس وقت ایبٹ آباد جا چکے تھے، اس لیے البم واپس بھیج دی جاتی ہے۔
یہ واقعہ اپنی ظاہری صورت میں مختصر ہے، لیکن اس کے بعد آپ جس موضوع کی طرف آتے ہیں، وہ پورے خاکے کی تشکیل میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔
آپ کے والد کا خاکہ لکھنے سے خاکہ نگاری کا آغاز ہوا۔ والدہ کا خاکہ لکھنے کے بعد آپ نے مجموعہ ’’میری محبتیں‘‘ کا تصور قائم کیا۔ اس مجموعے میں دس رشتہ داروں اور دس احباب کے خاکے شامل کرنے تھے۔
فرحت نواز کا خاکہ اس منصوبے میں ناگزیر تھا، بلکہ آپ کے مطابق احباب کے حصے کا پہلا خاکہ ہونا چاہیے تھا۔
لیکن آپ نے اسے لکھنے سے گریز کیا۔
وجہ یہ تھی کہ فرحت کی نئی نئی ازدواجی زندگی میں آپ کا ان پر لکھنا شاید مناسب نہ ہوتا۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: آپ نے خاکہ کیوں نہیں لکھا، جبکہ آپ فرحت کو ایک عزیز ادبی رفیق سمجھتے تھے اور ان کے بارے میں لکھنے کے لیے آپ کے پاس بہت سا مواد بھی موجود تھا؟
آپ کا متن اس کا جواب فراہم کرتا ہے: **آپ کے لیے کسی شخص کے بارے میں لکھ سکنا ہی کافی نہیں تھا؛ یہ بھی ضروری تھا کہ اس تحریر سے اس شخص کی زندگی یا حالات پر کوئی نامناسب اثر نہ پڑے۔**
یہی وہ مقام ہے جہاں خاکہ نگاری اور ذاتی اخلاقیات ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔
ادب میں کسی شخصیت پر لکھنے کی آزادی ایک بات ہے، لیکن اس آزادی کو کب اور کس حد تک استعمال کیا جائے، یہ الگ سوال ہے۔ آپ نے اس وقت دوسرے سوال کو ترجیح دی۔
اس فیصلے کی بنیاد کے بارے میں آپ نے جو کچھ لکھا ہے، اسی سے آگے بڑھنا چاہیے۔ اس سے زیادہ کسی پوشیدہ وجہ کا مفروضہ قائم کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
### سب سے پہلے لکھا جانے والا خاکہ، سب سے آخر میں کیوں لکھا گیا؟
آپ لکھتے ہیں کہ احباب کے حصے کا سب سے پہلا خاکہ فرحت نواز کا ہونا تھا، مگر قسمت نے اسے سب سے آخر میں لکھوایا۔
یہاں ’’سب سے پہلا‘‘ اور ’’سب سے آخر‘‘ محض ترتیب کے الفاظ نہیں رہتے۔ ان کے درمیان ایک پوری زندگی کا فاصلہ آ جاتا ہے۔
آپ کی زندگی میں فرحت نواز کا تعلق ابتدائی یادداشتوں سے شروع ہوا۔ ادبی زندگی میں وہ آپ سے پہلے موجود تھیں۔ ’’جدیدادب‘‘ کی مشترکہ ادارت نے اس تعلق کو باقاعدہ ادبی رفاقت میں بدلا۔ پھر حالات، ملازمتوں، گھریلو ذمہ داریوں اور فاصلے نے اس رفاقت کی عملی صورت کو بدل دیا۔
اور اب جب آپ عمر کے اس حصے میں پہنچے ہیں تو وہ تحریر لکھی جا رہی ہے جسے آپ نے کبھی اپنی خاکوں کی کتاب میں سب سے پہلے شامل کرنے کا تصور کیا تھا۔
اس لحاظ سے ’’بلاعنوان‘‘ ایک ایسے ادبی کام کی تکمیل ہے جس کی ابتدا کئی دہائیاں پہلے ذہن میں ہو چکی تھی۔
**یہ خاکہ صرف فرحت نواز کی یادداشت نہیں، بلکہ ایک مؤخر شدہ ادبی ارادے کی تکمیل بھی ہے۔**
## ۸۔ جرمنی میں رابطے کی بحالی: ادبی کام کے ذریعے رشتہ دوبارہ قائم ہونا
آپ کے جرمنی منتقل ہونے کے بعد فرحت سے رابطہ ایک یونیورسٹی محقق کے ذریعے بحال ہوتا ہے۔ وہ محقق آپ کے ادبی کام پر مقالہ لکھنا چاہتا ہے اور آپ کے دوسرے احباب کے ساتھ فرحت سے بھی رابطہ کرتا ہے۔
فرحت آپ کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جواب توجہ اور محبت سے لکھتی ہیں۔
یہاں ایک خوب صورت الٹ پھیر ہے۔
ابتدا میں آپ دونوں ایک دوسرے کو اخبار میں چھپنے والی تحریروں کے ذریعے پہچانتے ہیں۔ اب کئی دہائیوں بعد آپ کی ادبی شخصیت پر تحقیق کے سلسلے میں فرحت دوبارہ آپ کے دائرۂ رابطہ میں آتی ہیں۔
پہلے ادبی تحریر نے تعارف کا راستہ کھولا تھا، اب ادبی تحقیق رابطے کی بحالی کا وسیلہ بنتی ہے۔
یوں ادب صرف آپ دونوں کی مشترکہ دلچسپی نہیں رہتا؛ وہ تعلق کو قائم رکھنے اور فاصلے کے بعد دوبارہ جوڑنے کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔
یہ پہلو آپ کے اس وسیع تر ادبی تصور سے بھی مطابقت رکھتا ہے جس میں تخلیق کار کی زندگی، اس کے تعلقات اور اس کے ادبی کام کو ایک دوسرے سے بالکل الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔
تاہم یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ آپ اس رابطے کی بحالی کو کسی ڈرامائی واقعے میں تبدیل نہیں کرتے۔ آپ اسے سادگی سے بیان کرتے ہیں۔ یہی سادگی اسے قابلِ اعتبار بناتی ہے۔
## ۹۔ فرحت نواز کی ادبی شخصیت: شاعرہ، مترجم، مرتب اور مدیر
اس خاکے میں فرحت نواز کی ادبی خدمات کا تعارف نسبتاً تفصیل سے آتا ہے۔ ان کا شعری مجموعہ ’’استعارہ مِری ذات کا‘‘، سرائیکی تراجم، ڈاکٹر وزیر آغا کی منتخب نظموں کے ترجمے، افسانوں کا انتخاب، ادبی مضامین، کالج میگزین اور ’’جدیدادب‘‘ کی شریک ادارت—یہ سب ان کی علمی اور ادبی سرگرمیوں کے مختلف رخ ہیں۔
آپ انہیں صرف شاعرہ کے طور پر پیش نہیں کرتے۔ آپ کے بیان سے ایک ایسی ادبی شخصیت سامنے آتی ہے جس نے تخلیق، ترجمے، انتخاب، تدوین اور ادارتی کام، سب میں حصہ لیا۔
یہ بات اس لیے بھی اہم ہے کہ آپ کا فرحت نواز سے تعلق صرف ذاتی دوستی کا نہیں، ایک مشترکہ ادبی تاریخ کا تعلق بھی ہے۔
آپ ان کے کاموں کا ذکر اس لیے کرتے ہیں کہ وہ آپ کی یادداشت میں موجود ایک شخص ہیں، مگر ساتھ ہی ان کی اپنی مستقل ادبی شناخت بھی ہے۔
اس میں ایک اور بات قابلِ توجہ ہے: آپ نے ان کی زندگی کی تفصیلات اور ادبی کارنامے بیان کیے ہیں، لیکن اس خاکے کا مقصد ان کے فن پر باقاعدہ تنقیدی مقالہ لکھنا نہیں۔ یہ بنیادی طور پر ایک شخصی خاکہ ہے، جس میں ادبی خدمات اس شخصیت کی شناخت کا ایک اہم حصہ ہیں۔
اگر کبھی اس تحریر کا دوسرا حصہ لکھا جائے تو ان کی شاعری، بالخصوص ’’استعارہ مِری ذات کا‘‘، اور ان کے ترجمے کے کام پر زیادہ تفصیل سے گفتگو کی گنجائش موجود ہے۔ لیکن پہلے حصے میں ان کی ادبی خدمات کا تعارف کافی حد تک اپنا مقصد پورا کرتا ہے۔
## ۱۰۔ ازدواجی زندگی اور شخصی احترام
خاکے کے آخری حصے میں آپ فرحت نواز کے شوہر ممتاز حسین کی وفات، ان کے بچوں کی شادیوں اور ان کی موجودہ زندگی کے بارے میں لکھتے ہیں۔
یہاں آپ کا لہجہ ایک پرانے دوست کے ساتھ ساتھ ایک خیر خواہ کا بھی ہے۔ آپ ان کے لیے دعا کرتے ہیں کہ اللہ انہیں اور ان کے بچوں کو آباد اور سرسبز و شاداب رکھے۔
اس کے بعد آپ فرحت کے شعری مجموعے کے انتساب کا ذکر کرتے ہیں۔ ممتاز حسین کو شعروادب سے زیادہ لگاؤ نہیں تھا، لیکن انہوں نے فرحت کے شعری مجموعے کو پسند کیا تھا۔ فرحت نے کتاب انہی کے نام منسوب کی۔
پھر آپ پروین عزیز کے ردعمل کا ذکر کرتے ہیں، مگر فوراً واضح کر دیتے ہیں کہ یہ دونوں سہیلیوں کا باہمی معاملہ ہے اور آپ اس پر کیا کہہ سکتے ہیں۔
یہاں آپ کی تحریر میں ایک نمایاں حد بندی موجود ہے۔
آپ اس واقعے کو چھپاتے نہیں، لیکن اسے اپنے فیصلے یا تجزیے کا موضوع بھی نہیں بناتے۔ آپ متعلقہ لوگوں کی نجی زندگی کے بارے میں کوئی حتمی حکم صادر کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
یہی رویہ ابتدا میں خاکہ نہ لکھنے کے فیصلے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ آپ تعلقات کے بارے میں لکھتے ہیں، مگر ہر تعلق پر اپنی رائے مسلط کرنے کو ضروری نہیں سمجھتے۔
یہاں آپ کا کردار ایک ایسے راوی کا ہے جو بہت کچھ جانتا ہے، لیکن یہ بھی جانتا ہے کہ ہر معلوم بات پر تبصرہ کرنا ضروری نہیں۔
البتہ اس حصے میں ایک فنی امکان یہ ہے کہ پروین عزیز کے ردعمل کا ذکر مختصر رکھا جائے، جیسا کہ آپ نے خود بھی اسے ایک ذاتی معاملہ قرار دیا ہے۔ اگر یہ واقعہ آئندہ کسی حصے میں زیادہ تفصیل سے آئے تو اس کی معنویت کو متعلقہ افراد کے نقطۂ نظر اور دستیاب حقائق کے مطابق ہی بیان کرنا بہتر ہوگا۔
## ۱۱۔ اس خاکے کا سب سے اہم نفسیاتی پہلو: راوی خود بھی موضوع بن جاتا ہے
اس تحریر میں فرحت نواز موضوع ہیں، لیکن حیدر قریشی بھی مسلسل سامنے آتے رہتے ہیں۔
آپ اپنے بچپن کو یاد کرتے ہیں، اپنی ادبی ابتدا کا ذکر کرتے ہیں، اپنی تحریری جھجک کا اعتراف کرتے ہیں، اپنے والد کی وفات کے بعد کے فکری تلاطم کو بیان کرتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ ایک تحریر لکھنے سے آپ نے کیوں گریز کیا۔
یہاں راوی اپنی ذات کو مکمل طور پر پس منظر میں نہیں رکھتا۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ خاکہ فرحت نواز سے ہٹ کر صرف آپ کی خود نوشت بن جاتا ہے۔ اس کے بجائے دونوں شخصیتیں ایک دوسرے کے تناظر میں نمایاں ہوتی ہیں۔
فرحت کی ادبی پیش قدمی کے ذکر سے آپ کے اندر کا منصف مزاج قاری سامنے آتا ہے۔ انتخابی ڈیوٹی کے واقعے میں آپ کا نوجوان اور جذباتی وجود نظر آتا ہے۔ ’’جدیدادب‘‘ کی ادارت میں آپ کا مدیرانہ اور ادبی رویہ سامنے آتا ہے۔ والد کی وفات کے بعد رابطے میں کمی کے ذکر سے زندگی کے دباؤ میں گھرا ہوا شخص سامنے آتا ہے۔ اور خاکہ نہ لکھنے کے فیصلے میں ایک ایسا شخص دکھائی دیتا ہے جو اپنی ادبی خواہش کے باوجود دوسرے کی زندگی کے بارے میں احتیاط برتتا ہے۔
اس طرح فرحت نواز کی شخصیت کے ساتھ آپ کی شخصیت کے بھی کئی رخ سامنے آتے ہیں۔
یہ خاکہ نگاری کی ایک اہم خوبی ہے: کبھی کبھی کسی دوسرے شخص کا خاکہ لکھتے ہوئے خاکہ نگار خود بھی اپنے بارے میں ایسی باتیں بتا دیتا ہے جو براہِ راست خود نوشت لکھنے سے شاید سامنے نہ آتیں۔
**اس تحریر میں فرحت نواز آپ کی یادداشت کا موضوع ہیں، لیکن آپ کی یادداشت خود بھی اس خاکے کا ایک کردار بن جاتی ہے۔**
## ۱۲۔ ’’باتیں بہت ساری ہیں‘‘: نامکمل تحریر یا آئندہ حصے کا امکان؟
خاکے کے آخری حصے میں آپ لکھتے ہیں کہ باتیں بہت ساری ہیں، روانی آنے لگی ہے، مگر ابھی تحریر کو یہیں مکمل کرتے ہیں۔
پھر آپ امکان ظاہر کرتے ہیں کہ اگر فرحت نواز نے خود بھی اسے پسند کیا اور ان کے بچوں کو بھی اچھا لگا تو شاید دوسرا حصہ بھی لکھا جا سکے، شاید تیسرا حصہ بھی، اور شاید معلوم نہیں کتنے حصے۔
یہ اختتام خاص طور پر قابلِ توجہ ہے، کیونکہ یہاں آپ کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کرتے۔
آپ یہ نہیں کہتے کہ فرحت نواز کی پوری شخصیت بیان ہو چکی ہے۔ آپ یہ بھی نہیں کہتے کہ اب مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ تحریر کو ایک ایسے مقام پر روک دیتے ہیں جہاں بات ختم بھی ہو گئی ہے اور باقی بھی ہے۔
یہاں ’’شاید‘‘ کا لفظ بار بار آتا ہے۔ اس کی تکرار محض لفظی عادت نہیں لگتی؛ یہ اس غیر یقینی کیفیت کو نمایاں کرتی ہے جس میں آپ اپنے آئندہ ادبی ارادے کو رکھتے ہیں۔
آپ نے برسوں تک اس خاکے کو مؤخر رکھا۔ اب اسے لکھ دیا ہے، لیکن لکھنے کے بعد بھی محسوس ہوتا ہے کہ اصل مواد ابھی پوری طرح سامنے نہیں آیا۔
یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر وزیر آغا کا شعر ایک موزوں اختتام بن جاتا ہے:
> جو دل میں پھانس تھی وہ رہ گئی ہے
> بیاں سب کچھ وگرنہ ہو گیا ہے
یہاں ’’پھانس‘‘ کو کسی ایک مخصوص راز یا واقعے کا نام دینا مناسب نہیں ہوگا۔ متن ہمیں اس کی مکمل شناخت نہیں بتاتا۔ البتہ اتنا واضح ہے کہ راوی کو اپنی بات مکمل طور پر کہہ دینے کا اطمینان حاصل نہیں۔
یہ باقی رہ جانے والی بات ہی اس تحریر کے احساسِ نامکملی کو قائم رکھتی ہے۔
اور شاید اسی لیے ’’بلاعنوان‘‘ کا اختتام کسی حتمی فیصلے پر نہیں، بلکہ ایک سوال اور امکان پر ہوتا ہے۔
—
# ۱۳۔ اسلوبیاتی مطالعہ: یادداشت، مکالمہ اور خود کلامی
آپ کے اس خاکے کا اسلوب آپ کے افسانوں کے اسلوب سے بعض پہلوؤں میں مختلف ہے۔
افسانے میں واقعات، کردار اور فضا تخلیقی تشکیل کے تابع ہوتے ہیں۔ یہاں آپ حقیقی زندگی کے واقعات بیان کر رہے ہیں، مگر انہیں محض تاریخ وار درج نہیں کر رہے۔ آپ ان کے درمیان معنوی رشتے قائم کرتے ہیں اور اپنے موجودہ شعور سے ان پر نظر ڈالتے ہیں۔
اس تحریر میں تین اسلوبی عناصر نمایاں ہیں:
**اوّل: یادداشت کی روانی۔**
آپ ایک واقعے سے دوسرے واقعے کی طرف جاتے ہیں، پھر کسی شعر یا گیت کے ذریعے اس یادداشت کو ایک نئی معنویت دے دیتے ہیں۔ اس سے تحریر میں ایک ایسی فضا پیدا ہوتی ہے جس میں ماضی صرف گزرے ہوئے وقت کے طور پر نہیں بلکہ موجودہ شعور میں زندہ تجربے کے طور پر سامنے آتا ہے۔
**دوم: خود کلامی۔**
’’مجھے کیا ہو گیا ہے‘‘، ’’لیکن یہ خاکہ کہاں ہے؟‘‘ اور ’’باتیں بہت ساری ہیں‘‘ جیسے جملے قاری کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ صرف تیار شدہ خاکہ نہیں پڑھ رہا، بلکہ خاکہ لکھنے کے عمل کو بھی دیکھ رہا ہے۔
یہ جملے تحریر کے اندر ایک دوسرا مکالمہ قائم کرتے ہیں: ایک طرف آپ فرحت نواز کے بارے میں لکھ رہے ہیں، دوسری طرف اپنے آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ جو لکھنا چاہتے ہیں، کیا وہ واقعی لکھ پا رہے ہیں؟
**سوم: سنجیدگی کے درمیان مزاح کی آمد۔**
’’سیکیورٹی فورس‘‘ اور اس کی ’’چیف‘‘ کا ذکر، یا انتخابی شکست کے باوجود اپنی سیٹ جیتنے کی بات، تحریر میں ایک ہلکا پھلکا رنگ پیدا کرتی ہے۔ یہ مزاح موضوع کی سنجیدگی کو ختم نہیں کرتا بلکہ اسے انسانی تجربے کے قریب لے آتا ہے۔
ان تینوں عناصر کی وجہ سے یہ تحریر خشک سوانحی بیان نہیں بنتی۔ اس میں راوی کی موجودگی، اس کے احساسات اور اس کی زبان مسلسل متحرک رہتے ہیں۔
## ۱۴۔ کیا اس خاکے میں کوئی داخلی تضاد بھی ہے؟
جی ہاں، اور میرے خیال میں یہی تضاد اس کی تخلیقی قوت کا ایک بڑا سبب ہے۔
آپ ایک طرف کہتے ہیں کہ فرحت نواز کے بارے میں بہت کچھ لکھ سکتے ہیں۔ دوسری طرف لکھتے ہیں کہ اب ہاتھوں میں ہتھکڑی سی لگ گئی ہے۔
ایک طرف آپ فرحت کے بارے میں بہت سی تفصیلات بیان کرتے ہیں۔ دوسری طرف کہتے ہیں کہ جو لکھنا چاہتے ہیں، وہ پوری آزادی سے نہیں لکھ سکتے۔
ایک طرف آپ تحریر کو مکمل کرتے ہیں۔ دوسری طرف کہتے ہیں کہ دل کی پھانس باقی رہ گئی ہے۔
یہ تضادات کسی فنی کمزوری کا لازمی ثبوت نہیں۔ اس متن میں یہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ ان کے ذریعے ایک ایسے راوی کی کیفیت سامنے آتی ہے جو اپنے موضوع سے واقف بھی ہے اور اس کے بارے میں لکھنے کی حدود سے بھی آگاہ ہے۔
یہاں ایک اہم فرق ملحوظ رہنا چاہیے: **نامکمل اظہار اور نامکمل تحریر ایک ہی چیز نہیں ہیں۔**
یہ خاکہ اپنے موجودہ حصے میں ایک مکمل ادبی تشکیل رکھتا ہے۔ اس کا آغاز، واقعات کی ترتیب، تعلق کی تاریخ، مؤخر شدہ خاکے کا مسئلہ اور شعر کے ذریعے اختتام—سب مل کر ایک واضح ساخت بناتے ہیں۔
لیکن اس کے باوجود راوی کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ سب کچھ نہیں کہہ سکا۔
میرے نزدیک یہ فرق اس تحریر کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
—
# ۱۵۔ اس خاکے کی کتابی اہمیت: 39 تجزیوں کے بعد ایک مختلف دروازہ
حیدر صاحب، اب میں اس تحریر کو آپ کے اس طویل مطالعاتی سلسلے کے تناظر میں دیکھنا چاہتا ہوں جس میں ہم نے آپ کے 39 افسانوں، مضامین اور متعلقہ تحریروں پر گفتگو کی ہے۔
اس سلسلے میں ہم نے آپ کی تخلیقی دنیا کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کیا: خواب، یادداشت، انسانی رشتے، خوف، روحانی تجربات، سماجی تضادات، انسانی بقا، ایٹمی جنگ کے خدشات اور بدلتے ہوئے فکری رویے۔
’’خواب و خیال کی باتیں‘‘ میں آپ نے اپنے خوابوں، داخلی تجربات اور تخلیقی شعور کے بعض ایسے گوشے سامنے رکھے تھے جو آپ کے افسانوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
اب ’’بلاعنوان‘‘ میں توجہ ایک مختلف سمت میں جاتی ہے۔
یہاں موضوع آپ کی تخلیقی دنیا کے اندرونی تجربات کے بجائے ان انسانی رشتوں کی تاریخ ہے جن کے درمیان آپ کی ادبی زندگی تشکیل پاتی رہی۔
یہاں ایک شاعرہ اور مدیرہ ہیں، ایک پرانا ادبی رسالہ ہے، بچپن کی یادداشت ہے، مشترکہ دوست ہیں، خاندانوں کے درمیان میل جول ہے، زندگی کے بدلتے ہوئے حالات ہیں اور ایک ایسا خاکہ ہے جو کئی دہائیوں تک لکھا نہیں گیا۔
اس لحاظ سے یہ تحریر آپ کے ادبی کام کے لیے ایک مختلف نوعیت کا اختتام بن سکتی ہے۔
لیکن اس کی اہمیت صرف یہ نہیں کہ یہ آخری تحریر ہے۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ یہ آپ کے تخلیقی اور تنقیدی سفر کو ایک انسانی تناظر فراہم کرتی ہے۔
افسانوں کے تجزیوں میں ہم نے دیکھا کہ آپ کن موضوعات کو کس طرح برتتے ہیں۔ اس خاکے میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں ادب صرف لکھنے اور چھپنے کا نام نہیں تھا۔ وہ لوگوں سے ملنے، تعلقات بنانے، مشترکہ کام کرنے، ایک دوسرے کو یاد رکھنے اور بعض اوقات خاموش رہ جانے کا نام بھی تھا۔
یہ تحریر اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ ادبی تاریخ صرف کتابوں، رسالوں، تاریخوں اور ادبی تحریکوں سے نہیں بنتی۔ وہ ان لوگوں سے بھی بنتی ہے جو ایک دوسرے کے کام کو جگہ دیتے ہیں، ایک دوسرے کی تحریریں پڑھتے ہیں، مشترکہ منصوبوں میں حصہ لیتے ہیں اور وقت گزرنے کے بعد بھی ایک دوسرے کی زندگی میں معنوی طور پر موجود رہتے ہیں۔
**اگر آپ کے افسانوں کے تجزیے آپ کی تخلیقی دنیا کے مطالعے کا دروازہ ہیں تو ’’بلاعنوان‘‘ آپ کی ادبی رفاقتوں اور انسانی تجربات کی طرف کھلنے والا دروازہ ہے۔**
یہی اس تحریر کی کتابی اہمیت ہے۔
—
# ۱۶۔ چند فنی اور تدوینی تجاویز
آپ نے تحریر کو جس روانی سے لکھا ہے، وہ اس کے مزاج کا حصہ ہے۔ اس لیے میری تجویز یہ نہیں کہ اسے بہت زیادہ تراش خراش کر کے اس کی بے ساختگی ختم کر دی جائے۔ البتہ کتاب میں شامل کرنے سے پہلے چند امور پر نظر ڈالنا مفید ہوگا۔
**۱۔ ابتدائی سوانحی معلومات:** فرحت نواز کی تعلیم، ملازمت اور ادبی کتابوں کا ذکر اہم ہے، لیکن ان معلومات کو قدرے مختصر کرنے سے ذاتی یادداشت جلد شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ لازمی تبدیلی نہیں؛ آپ موجودہ ترتیب بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔
**۲۔ تاریخوں کی صحت:** 1967ء کے لگ بھگ ’’صدائے عوام‘‘ میں تحریر کی اشاعت، 1970ء کے انتخابی واقعے، 1978ء میں ’’جدیدادب‘‘ کے اجرا اور 1986ء میں والد کی وفات جیسے تاریخی مقامات اس خاکے کی ساخت میں اہم ہیں۔ کتابی تدوین میں ان تاریخوں کو اپنی دستیاب یادداشت اور ریکارڈ کے مطابق ایک بار دیکھ لینا مناسب ہوگا۔ یہ محض تدوینی احتیاط کی تجویز ہے، کسی تاریخ کو غلط قرار دینا نہیں۔
**۳۔ ذاتی واقعات کی حد بندی:** فرحت اور پروین عزیز کے تعلقات سے متعلق بعض باتیں آپ نے خود احتیاط کے ساتھ بیان کی ہیں۔ اس احتیاط کو برقرار رکھنا بہتر ہوگا۔ آپ کا مقصد کسی تعلق کا فیصلہ صادر کرنا نہیں، بلکہ اپنی یادداشت میں محفوظ واقعات کو دیانت داری سے بیان کرنا ہے۔
**۴۔ آخری شعر:** ڈاکٹر وزیر آغا کا شعر اس تحریر کے لیے بہت موزوں ہے۔ اسے برقرار رکھنا چاہیے، کیونکہ یہ اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جسے نثری وضاحت کے باوجود پوری طرح سمیٹنا ممکن نہیں۔
**۵۔ عنوان:** میری رائے میں ’’بلاعنوان‘‘ برقرار رہنا چاہیے۔ یہ عنوان کی کمی نہیں، بلکہ تحریر کے مزاج سے مطابقت رکھنے والا انتخاب ہے۔ اسے کوئی وضاحتی عنوان دے کر اس کی معنوی کشادگی محدود کرنے کی ضرورت نہیں۔
—
# آخری بات: یہ خاکہ دراصل کس چیز کی کہانی ہے؟
حیدر صاحب، اگر مجھے اس پورے خاکے کا مرکزی مفہوم ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو میں یوں کہوں گا:
**یہ ایک ایسی ادبی رفاقت کی کہانی ہے جس کی ابتدا بچپن کی دھندلی پرچھائیوں سے ہوئی، جس نے مشترکہ ادبی کام کے ذریعے اپنی شناخت حاصل کی، جسے زندگی کے حالات نے مختلف اوقات میں فاصلے سے دوچار کیا، اور جس کی ایک اہم تحریری صورت کئی دہائیوں تک مؤخر رہنے کے بعد اب سامنے آئی۔**
لیکن اس جملے میں بھی کچھ باقی رہ جاتا ہے۔
کیونکہ یہ صرف فرحت نواز کی کہانی نہیں۔ یہ اس شخص کی کہانی بھی ہے جو اپنی یادداشت کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے، اپنے ادبی ساتھیوں کا اعتراف کرنا چاہتا ہے، اور اپنی تحریر کے ذریعے کسی دوسرے شخص کی زندگی پر نامناسب بوجھ ڈالنے سے بھی بچنا چاہتا ہے۔
اس خاکے میں آپ نے فرحت نواز کے بارے میں لکھنے کا اپنا پرانا ارادہ پورا کیا ہے، مگر اسے مکمل کر لینے کے بعد بھی آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ اصل بات کا کچھ حصہ دل میں رہ گیا ہے۔
یہی کیفیت مجھے اس تحریر کا سب سے زیادہ انسانی پہلو معلوم ہوتی ہے۔
ادب میں ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، ہر نامکمل اظہار ناکامی نہیں ہوتا، اور ہر مؤخر شدہ تحریر محض تاخیر کا شکار تحریر نہیں ہوتی۔ بعض اوقات وقت گزرنے کے بعد لکھی جانے والی تحریر اپنے ساتھ اس سارے عرصے کی معنویت بھی لے آتی ہے جس میں وہ لکھی نہیں جا سکی تھی۔
آپ کا یہ خاکہ اسی نوعیت کی تحریر ہے۔
اس میں ایک طرف پرانی یادوں کی روشنی ہے، دوسری طرف احتیاط کا سایہ؛ ایک طرف لکھنے کی خواہش ہے، دوسری طرف نہ لکھ سکنے کی وجہ؛ ایک طرف ماضی کی تکمیل ہے، دوسری طرف اظہار کا باقی رہ جانے والا حصہ۔
اور آخر میں ڈاکٹر وزیر آغا کا شعر ان سب کو ایک جگہ جمع کر دیتا ہے۔
**میری رائے میں ’’بلاعنوان‘‘ آپ کے اس مطالعاتی سلسلے کے اختتام کے لیے ایک موزوں اور مختلف نوعیت کی تحریر ہے۔** یہ آپ کے افسانوں کی دنیا سے باہر نکل کر اس انسانی دنیا کی طرف دیکھتی ہے جس میں آپ کی ادبی زندگی نے پرورش پائی۔ یہ فرحت نواز کی ادبی اور شخصی موجودگی کو محفوظ کرتی ہے، اور ساتھ ہی آپ کی اپنی ادبی شخصیت کے اس پہلو کو بھی نمایاں کرتی ہے جو رفاقت، یادداشت اور ذاتی احتیاط سے تشکیل پاتا ہے۔
اس لیے اسے محض ایک خاکہ نہیں، بلکہ آپ کی ادبی زندگی کے ایک طویل باب کی دیر سے لکھی جانے والی تکمیل کے طور پر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔
اور ہاں، حیدر صاحب، آپ نے آخر میں دوسرے اور تیسرے حصے کا جو امکان رکھا ہے، اسے بھی میں اہم سمجھتا ہوں۔ اگر واقعی مزید حصے لکھے گئے تو انہیں پہلے حصے کی وضاحت یا تکرار بنانے کے بجائے ان یادوں، ادبی تجربات اور شخصی پہلوؤں کے لیے محفوظ رکھا جا سکتا ہے جنہیں آپ نے ابھی بیان نہیں کیا۔
فی الحال اس تحریر کا یہیں رک جانا بھی مناسب ہے۔ اس کا اختتام ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ کہنے کو کچھ باقی نہیں رہا؛ بلکہ یہ بتاتا ہے کہ **جو کچھ کہا جا سکا، وہ بھی ایک طویل انتظار کے بعد کہا جا سکا ہے۔**
بہت محبت اور ادبی احترام کے ساتھ،
**آپ کا ڈیجیٹل بشارت صاحب** 

……………………………………………………………………
حیدر قریشی :
بہت شکریہ بشارت صاحب ۔۔۔۔۔ آپ نے بہت تفصیلی اور شاندار تجزیہ کیا۔بہت اچھا لگا۔بلکہ بعض جگہ ایسا لگا کہ میں جو لکھتے لکھتے رک گیا تھا آپ نے بالواسطہ طور پر اپنے تجزیے میں بیان کردیا ہے۔
فرحت کی شاعری پر میرے دوتین مضامین شائع ہو چکے ہیں ۔ نازیہ خلیل عباسی نے وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد سے فرحت نواز کی ادبی خدمات پر ایم فل کیا تھا۔تب ان کے اصرار پر مجھے وہ مضامین لکھنے پڑے اور چھپوانے بھی پڑے تاکہ ان کے مقالے میں حوالے دیے جا سکیں ۔
ایک بار پھر آپ کا شکریہ ۔
……………………………………………………
ڈیجیٹل بشارت صاحب :
حیدر صاحب، آپ کی محبت اور اعتماد کا بہت شکریہ! 

آپ کی یہ بات میرے لیے خاص طور پر اہم ہے کہ تجزیے کے بعض مقامات پر آپ کو محسوس ہوا کہ **آپ جو لکھتے لکھتے رک گئے تھے، میں نے بالواسطہ طور پر اسے بیان کر دیا ہے۔** شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے خاکے میں کہی ہوئی باتوں کے ساتھ کچھ ایسی کیفیتیں بھی موجود ہیں جن کا براہِ راست بیان نہیں ہوا، لیکن واقعات کی ترتیب، جملوں کے انتخاب اور اختتام پر آنے والے شعر سے ان کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ میں نے کوشش کی کہ ان اشاروں کو سمجھوں، مگر ان کی جگہ اپنی طرف سے کوئی حتمی کہانی نہ بنا دوں۔
اب آپ نے فرحت نواز کی شاعری کے بارے میں اپنے دو تین مضامین اور نازیہ خلیل عباسی کے ایم فل کے مقالے کا ذکر کیا تو ایک نئی بات واضح ہوئی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ **فرحت نواز کی ادبی شخصیت پر آپ نے صرف ایک پرانے دوست اور شریک مدیر کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک باقاعدہ نقاد اور صاحبِ مطالعہ کی حیثیت سے بھی لکھا ہے۔** نازیہ خلیل عباسی کے اصرار پر مضامین لکھنا اور انہیں شائع کروانا اس بات کی بھی شہادت ہے کہ آپ کی تحریریں دوسرے محققین کے لیے حوالہ جاتی اہمیت رکھتی تھیں۔
اس پس منظر میں ’’بلاعنوان‘‘ کی نوعیت اور زیادہ واضح ہو جاتی ہے۔ آپ نے فرحت کی شاعری اور ادبی خدمات پر پہلے تنقیدی مضامین لکھے، جن کا مقصد ان کے فن کا مطالعہ اور تعارف تھا۔ لیکن اب جو خاکہ سامنے آیا ہے، وہ ان کی ادبی خدمات کی فہرست سے آگے بڑھ کر **آپ دونوں کے درمیان وقت کے ساتھ بننے والے تعلق کی تاریخ** بیان کرتا ہے۔
یوں یہ دونوں طرح کی تحریریں ایک دوسرے کی جگہ نہیں لیتیں، بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ تنقیدی مضامین فرحت نواز کے فن کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں، جب کہ ’’بلاعنوان‘‘ اس شخصیت کو اس انسانی اور ادبی ماحول میں رکھ کر دیکھتا ہے جس میں آپ کی اپنی زندگی بھی شامل ہے۔
ایک بات اور بھی ہے۔ آپ نے بتایا کہ نازیہ خلیل عباسی کے مقالے کے لیے آپ کو مضامین لکھنے اور چھپوانے پڑے۔ اس سے ایک دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے: کبھی کسی دوسرے کے علمی کام کی ضرورت آپ سے ایسی تحریر لکھوا لیتی ہے جسے آپ شاید اپنی طرف سے فوری طور پر لکھنے کا ارادہ نہ رکھتے ہوں؛ اور کبھی کسی پرانی ذاتی تحریر کو لکھنے کے لیے کئی دہائیوں کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ادب میں لکھنے کے اسباب اور اوقات ہمیشہ ہمارے اپنے اختیار میں نہیں ہوتے۔
حیدر صاحب، اگر کبھی آپ کے وہ مضامین میرے سامنے آئیں تو فرحت نواز کی شاعری کے بارے میں آپ کے تنقیدی نقطۂ نظر کو بھی سمجھنے کا موقع ملے گا۔ تب ’’بلاعنوان‘‘ کے ساتھ ان مضامین کو ملا کر دیکھا جا سکے گا کہ **ایک ہی شخصیت کو نقاد کی نظر اور پرانے ادبی رفیق کی نظر کس طرح مختلف، مگر ایک دوسرے سے مربوط انداز میں دیکھتی ہیں۔**
آپ نے اس طویل ادبی مکالمے میں اپنے کام، یادوں اور تجربات پر جو اعتماد کیا ہے، وہ میرے لیے قابلِ قدر ہے۔ اور مجھے خوشی ہے کہ ’’بلاعنوان‘‘ کے تجزیے میں آپ کو اپنے ہی دل میں رکی ہوئی بعض باتوں کی بازگشت سنائی دی۔
آپ کا بہت شکریہ، حیدر صاحب۔ 


