لاشوں پر سیاست اور گدھ صفت سودخور یہودی ایجنٹ
تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز
عیاری، مکاری، فریب کاری ، گھڑیالی آنسو بہانا کوئی اس سودخور یہودی ایجنٹ سے سیکھے۔ ایک جانب سودخور گدھ صفت لاشوں پر سیاست اور چیخ و پکار کرنے والا مکروہ زبان و بیان اور چہرے کا مالک، ملک کے کونے کونے میں ہو رہے مظالم اور متاثرین و مظلومین کا نام لے کر صرف گڑھیالی آنسو بہاتا ہے، بہروپیہ اور درندہ صفتی کا حد تو دیکھئے کہ ایک بھیڑیا بوڑھا لاچار اور معصوم و مجبور بن کر بکری کے بچوں کے سامنے آنسو بہاتا ہے اور جب بکری کے بچے رحم کھا کر اپنے گھر سے باہر آتے ہیں تو انہیں شکار کر لیتا ہے، ٹھیک اسی طرح اتر پردیش میں آئے ہوئے سودخور بہروپئے، درندہ صفت لاشوں پر سیاست کرنے والا گدھ یوپی کے ہر اس مظلوم کا نام لے لے کر جذباتی اور مشتعل کرتا اور گڑھیالی آنسو بہاتا ہے اور پھر انہیں مظلومین کے بیٹوں اور اہل خانہ کو شکست دینے کیلئے کے ان کے سامنے اپنے امید وار کھڑا کرتا ہے، یہی بہروپ میر صادق اور میر جعفر کا لقب دلانے کیلئے اس سودخور کے حق میں کافی ہے کہ پہلے ہی اتر پردیش میں مسلمان مظلوم ہو چکے ہیں، ان کے نامور لیڈران کو مارا اور جیل میں ڈال کر ختم کیا جا رہا ہے، مسلمانوں کی سیاست میں بچی ہوئی حصہ داری کو مسخ کرنے کیلئے یہ گدھ مسلمانوں کو اور کتنا مجبور اور لاچار دیکھنا چاہتا ہے۔
سیاست اگر عوام کی خدمت، مظلوموں کی آواز اور جمہوری حقوق کے تحفظ کا نام ہے تو پھر سیاست دانوں کے کردار کا جائزہ ان کی تقریروں سے نہیں، بلکہ ان کے عملی رویّے، سیاسی فیصلوں اور عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں سے لیا جانا چاہیے۔ لیکن جب سیاست کا مقصد عوام کے دکھ درد کو انتخابی سرمایہ بنانا، مرحوم شخصیات کے نام پر جذبات بھڑکانا اور محروم خاندانوں کی مجبوریوں سے سیاسی فائدہ اٹھانا بن جائے تو ایسے طرزِ سیاست پر سوال اٹھانا ہر باشعور شہری کا حق ہے۔ ہندوستان کی سیاست میں جذباتی نعروں، مذہبی و سماجی شناخت، سیاسی انتقام اور مظلومیت کے بیانیے کا استعمال کوئی نئی بات نہیں۔ مختلف جماعتیں اور رہنما اپنے سیاسی مقاصد کے لیے مختلف ادوار میں ایسے حربے اختیار کرتے رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عوام اب بھی سیاسی نعروں کے سحر میں مبتلا رہیں گے، یا وقت کے ساتھ سیاسی کردار اور انتخابی مفادات کے درمیان فرق کرنا سیکھیں گے؟
عتیق احمد، مختار انصاری اور اعظم خان ہندوستان کی سیاست میں الگ الگ سیاسی سفر، تنازعات اور عوامی مباحث کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ ان شخصیات کے بارے میں لوگوں کی رائے مختلف ہو سکتی ہے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ ان کے ناموں کو سیاسی تقریروں اور انتخابی مباحث میں بار بار استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ عتیق احمد اور مختار انصاری کی اموات کے بعد ان کے ناموں سے وابستہ سیاسی مباحث نے بھی مختلف شکلیں اختیار کیں، جبکہ اعظم خان کی سیاسی زندگی اور ان سے متعلق معاملات الگ نوعیت رکھتے ہیں۔ ان سب کو ایک ہی پیمانے پر رکھ کر فیصلہ صادر کرنا درست نہیں؛ تاہم ان کے ناموں کے سیاسی استعمال کا جائزہ ضرور لیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کسی سیاسی شخصیت کی موت، گرفتاری، قانونی مشکلات یا اس کے خاندان کی پریشانی کو تقریروں میں نمایاں کیا جاتا ہے تو کیا اس کا مقصد واقعی انصاف، قانون کی بالادستی اور متاثرہ خاندانوں کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے؟ یا یہ جذباتی ماحول پیدا کرکے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش ہوتی ہے؟ اگر کوئی رہنما کسی مرحوم کی موت پر جذباتی تقریر کرتا ہے، اس کے خاندان کے دکھ کو اپنی سیاست کا موضوع بناتا ہے اور عوام کے سامنے ہمدردی کا اظہار کرتا ہے تو عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کے بعد کے سیاسی اقدامات کا بھی جائزہ لیں۔ محض تقریر میں ہمدردی کا اظہار کسی رہنما کے اخلاص کا قطعی ثبوت نہیں بن سکتا۔
انتخابات کے موسم میں سیاسی زبان اکثر بدل جاتی ہے۔ کسی علاقے میں کسی شخصیت کی مقبولیت ہو تو اس کے نام کو انتخابی فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کسی خاندان کے ساتھ ہمدردی کا ماحول ہو تو اس کے دکھ کو سیاسی تقریر کا موضوع بنایا جا سکتا ہے۔ اور اگر کسی برادری میں کسی معاملے پر غصہ پایا جاتا ہو تو بعض سیاست دان اس غصے کو مزید بھڑکا کر اپنی سیاسی جگہ مضبوط کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کوئی سیاست دان ایک طرف مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کا دعویٰ کرے اور دوسری طرف اس کے سیاسی فیصلے انہی خاندانوں یا ان کے حامیوں کے مفادات سے متصادم دکھائی دیں تو کیا عوام کو اس تضاد پر سوال نہیں اٹھانا چاہیے؟ کسی سیاسی جماعت کا امیدوار کھڑا کرنا بذاتِ خود غیر جمہوری عمل نہیں۔ ہر جماعت کو انتخابات میں حصہ لینے اور اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کا حق حاصل ہے۔ اسی طرح کسی مرحوم رہنما کے خاندان کے افراد کو بھی سیاست میں حصہ لینے کا پورا حق ہے۔ اصل سوال امیدوار کھڑا کرنے کے حق کا نہیں، بلکہ سیاسی دعووں، نیتوں اور عملی کردار میں مطابقت کا ہے۔ اگر کسی مخصوص انتخاب میں یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ ایک جماعت نے پہلے کسی شخصیت کی موت یا اس کے خاندان کی مجبوریوں کو جذباتی تقریروں کے ذریعے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا اور اب اسی خاندان کے افراد کے مقابل امیدوار اتار کر الگ سیاسی حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے، تو اس الزام کا جائزہ حقائق، امیدواروں کی فہرست، سابقہ بیانات اور متعلقہ سیاسی فیصلوں کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔ سیاست میں اصل امتحان یہ نہیں کہ کون کتنی جذباتی تقریر کرتا ہے؛ اصل امتحان یہ ہے کہ کون اپنے اصولوں پر کتنا قائم رہتا ہے۔
جمہوری سیاست میں کسی فرد یا خاندان کے ساتھ ناانصافی کا معاملہ ہو تو اس پر آواز اٹھانا قابلِ قدر عمل ہے۔ لیکن اگر مظلومیت کو صرف اس وقت یاد کیا جائے جب انتخابات قریب ہوں، اور انتخابی موسم گزرنے کے بعد متاثرہ افراد کے مسائل پسِ پشت ڈال دیے جائیں، تو ایسی ہمدردی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ عوام کو یہ پوچھنا چاہیے کہ اگر کسی رہنما نے کسی معاملے پر انصاف کی بات کی تھی تو اس نے انصاف کے حصول کے لیے کون سے عملی اقدامات کیے؟ کیا اس نے قانونی مدد، آئینی حقوق، منصفانہ کارروائی اور متاثرہ خاندان کے تحفظ کے لیے کوئی ٹھوس کوشش کی؟ کیا اس نے نفرت کم کرنے اور سماجی ہم آہنگی بڑھانے کا کردار ادا کیا، یا اس کے بیانات نے سیاسی کشیدگی میں اضافہ کیا؟ یہ سوال کسی ایک جماعت یا ایک سیاسی رہنما تک محدود نہیں۔ یہی معیار تمام سیاسی جماعتوں، مذہبی و سماجی رہنماوں اور انتخابی امیدواروں پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔
ہندوستان جیسے کثیرالمذہبی اور کثیرالثقافتی ملک میں سیاسی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ اختلافات کے باوجود آئینی اقدار، قانون کی بالادستی اور شہریوں کے مساوی حقوق کا احترام کیا جائے۔ سیاسی اختلاف کو مذہبی دشمنی میں تبدیل کرنا معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ جب کوئی سیاست دان عوام کے غصے، خوف یا محرومی کو اس انداز میں استعمال کرتا ہے کہ مختلف مذہبی یا سماجی گروہوں کے درمیان نفرت بڑھے تو اس کا نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ روزگار، تعلیم، صحت، کاروبار اور روزمرہ زندگی کے حقیقی مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں، جبکہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے والے افراد اپنی مہم جاری رکھتے ہیں۔ کسی سیاسی رہنما یا جماعت پر تنقید کرتے وقت بھی مذہبی شناخت کو گالی یا الزام کا ذریعہ بنانا درست نہیں۔ کسی شخص کے یہودی، مسلمان، ہندو یا کسی دوسرے مذہب سے تعلق کی بنیاد پر اس کے کردار کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح کسی فرد کو بلا ثبوت کسی غیر ملکی طاقت کا ایجنٹ، سود خور یا دھوکے باز قرار دینا بھی ذمہ دارانہ صحافت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اگر کسی شخص کے خلاف مالی بدعنوانی، دھوکا دہی یا کسی بیرونی طاقت سے تعلق کا الزام موجود ہے تو اسے قابلِ اعتماد شواہد، دستاویزات اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر پیش کیا جانا چاہیے۔ سیاسی تنقید جتنی سخت ہو، اس کی بنیاد اتنی ہی مضبوط ہونی چاہیے۔
سیاسی شعور کا مطلب یہ نہیں کہ عوام کسی ایک جماعت کو ہمیشہ کے لیے مسترد کر دیں یا کسی دوسری جماعت کے ہر فیصلے کو درست مان لیں۔ سیاسی شعور کا مطلب یہ ہے کہ ہر جماعت سے سوال کیا جائے، ہر وعدے کا حساب مانگا جائے اور ہر رہنما کے عمل کو ایک ہی معیار پر پرکھا جائے۔ اگر کوئی رہنما خود کو مظلوموں کا نمائندہ کہتا ہے تو اس سے پوچھا جائے کہ اس نے مظلوموں کے لیے کیا کیا؟ اگر کوئی جماعت مسلمانوں، پسماندہ طبقات یا کسی محروم برادری کی سیاسی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے تو اس کے امیدواروں، پالیسیوں، قانون سازی اور عوامی مسائل پر عملی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔ اسی طرح کسی جماعت کی مخالفت کرنے والے افراد بھی محض مخالفت کی بنیاد پر عوام کی حمایت کے مستحق نہیں ہو جاتے۔ ہر امیدوار سے یہ سوال ہونا چاہیے کہ اس کے پاس تعلیم، روزگار، صحت، امن، سماجی انصاف اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے کیا منصوبہ ہے۔ عوام کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کسی مرحوم رہنما کے نام پر ووٹ مانگنا اور اس کے خاندان کے حقیقی مسائل حل کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ جذباتی وابستگی اپنی جگہ، لیکن جمہوری فیصلہ مستقبل کی ضروریات اور عملی کارکردگی کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔

