السلام علیکم حیدر صاحب!
سب سے پہلے تو یہ عرض کروں کہ "بھید” پڑھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے افسانہ اور خود نوشت ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو گئے ہوں کہ ان کے درمیان حدِ فاصل جان بوجھ کر دھندلا دی گئی ہو۔ یہ محض روحانی وارداتوں کا بیان نہیں بلکہ یقین، شک، تجربے اور اظہار کے باہمی تعلق پر ایک نہایت باریک افسانہ ہے۔
ادبی تجزیہ
اس افسانے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں اصل سوال یہ نہیں کہ روحانی تجربہ حقیقت تھا یا وہم؛ اصل سوال یہ ہے کہ انسان کسی ایسے تجربے کے ساتھ کیا کرتا ہے جسے نہ پوری طرح ثابت کیا جا سکتا ہو اور نہ رد۔
ابتدا ہی میں جنت بی بی کے خواب کا واقعہ ایک ایسا ماحول قائم کرتا ہے جس میں قاری کا ذہن معمول کی دنیا سے ذرا اوپر اٹھ جاتا ہے۔ لیکن اسی لمحے بچے کی معصوم بات:
"نیند میں ان کی پِشی نکل گئی ہوگی۔”
پورے بیانیے میں ایک متوازن کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ یہاں آپ نے عقیدت کے ساتھ معصوم شک کو بھی جگہ دی ہے۔ یہی توازن آگے پورے افسانے کی بنیاد بنتا ہے۔
پھر حضرت ابو عبداللہ جلا اور حضرت حسن بصریؒ کے واقعات محض مذہبی حوالہ نہیں بنتے بلکہ مرکزی کردار کے ذہنی سفر کی سیڑھیاں ہیں۔ ان واقعات کو پڑھ کر اس کا شک بڑھتا ہے، اندھی عقیدت پیدا نہیں ہوتی۔ یہ نفسیاتی سچائی افسانے کو معتبر بناتی ہے۔
ساخت
افسانے کی ساخت تین واضح مرحلوں پر قائم ہے۔
- بچپن میں حیرت کا بیج بویا جاتا ہے۔
- جوانی میں پہلا ذاتی تجربہ ملتا ہے۔
- بیس برس بعد دوسرا تجربہ پہلے تجربے کو نئے معنی دیتا ہے۔
یہ بیس سال کا وقفہ صرف زمانی نہیں بلکہ فکری بھی ہے۔ قاری محسوس کرتا ہے کہ وقت کے ساتھ کردار کا اندر بھی پختہ ہوا ہے۔
"رضائی” والا منظر
میرے نزدیک پورے افسانے کا فنی نقطۂ عروج یہی ہے۔
بخار، تنہائی، ڈارک روم، اینٹ کا تکیہ، کپکپی، اور پھر اچانک رضائی کا احساس…
یہ منظر اس قدر سادہ زبان میں لکھا گیا ہے کہ اس کی تاثیر کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اگر یہاں غیر معمولی جذباتی زبان استعمال ہوتی تو شاید واقعہ کم مؤثر ہو جاتا۔
اور پھر جب جاگنے پر رضائی موجود نہیں—
یہی وہ لمحہ ہے جہاں افسانہ قاری کو فیصلہ کرنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر سوال چھوڑ دیتا ہے۔
دوسرا تجربہ
پینسلین والی واردات پہلے واقعے کی تکرار نہیں بلکہ اس کی تکمیل ہے۔
خاص طور پر یہ جملہ:
"گولیاں بے شک جوں کی توں موجود تھیں لیکن میرا اسرار بھرا تجربہ بھی سچ تھا۔”
یہ پورے افسانے کا فکری مرکز ہے۔
یہاں آپ خارجی ثبوت سے زیادہ داخلی صداقت کی بات کرتے ہیں۔ ادب میں یہی چیز اہم ہوتی ہے۔ انسان بعض اوقات ایسی حقیقت جیتا ہے جسے سائنسی پیمانے سے ثابت نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس کے اثرات اس کی پوری شخصیت بدل دیتے ہیں۔
"بھید” کا اصل مفہوم
عنوان صرف روحانی راز کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔
افسانے میں کم از کم چار بھید موجود ہیں:
- روحانی واردات کا بھید۔
- شک اور یقین کے تعلق کا بھید۔
- راز بیان کرنے سے اس کی تاثیر ختم ہونے کا بھید۔
- آخری جملے میں موت اور عمر کی خواہش کا بھید۔
یوں عنوان پورے افسانے پر سایہ کیے رکھتا ہے۔
آخری پیراگراف
میرے خیال میں افسانے کا سب سے خوبصورت حصہ آخری دو سطریں ہیں۔
"لیکن میں ۶۳ سال سے آگے جینے کی خواہش کیوں نہیں رکھتا؟
یہ بھی ایک بھید ہے…”
یہ اختتام قاری کو چونکا دیتا ہے۔
اس سے پہلے تک قاری روحانی تجربات کے بارے میں سوچ رہا ہوتا ہے، لیکن اچانک سوال زندگی اور موت کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ یہی اچھی کہانی کا وصف ہے کہ وہ آخری سطر میں پورے متن کو نئے زاویے سے روشن کر دے۔
اسلوب
حسبِ معمول آپ کا اسلوب سادہ، بے تکلف اور غیر نمائشی ہے۔ کہیں فلسفہ براہِ راست نہیں بولا جاتا بلکہ واقعات سے خود برآمد ہوتا ہے۔
یہ افسانہ اگر پیچیدہ علامتوں میں لکھا جاتا تو شاید اس کی تاثیر کم ہو جاتی۔ یہاں سادگی ہی اس کی اصل فنی طاقت ہے۔
اگر تنقیدی زاویے سے ایک بات کہوں
آج کا جدید تنقید نگار شاید یہ اعتراض کرے کہ بزرگانِ دین کے واقعات نسبتاً تفصیل سے آئے ہیں، جس سے آغاز میں افسانہ کچھ دیر کے لیے حکایت کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔
لیکن میں اسے کمزوری نہیں سمجھتا، کیونکہ یہی حکایات بعد کے دونوں ذاتی تجربات کو ایک تاریخی اور روحانی تناظر دیتی ہیں۔ اگر انہیں بہت مختصر کر دیا جاتا تو کردار کے اندر پیدا ہونے والا اشتیاق اور پھر شکوک کی شدت پوری طرح قائم نہ ہو پاتی۔
مجموعی تاثر
میرے نزدیک "بھید” آپ کے ان افسانوں میں شامل ہے جہاں واقعہ کم اور باطنی سفر زیادہ اہم ہے۔ یہ روحانیت کی تبلیغ نہیں کرتا، نہ معجزے کا دعویٰ کرتا ہے، نہ تشکیک کو رد کرتا ہے۔ بلکہ قاری کو اس نکتے پر لا کھڑا کرتا ہے کہ انسانی زندگی میں کچھ تجربات ایسے بھی ہوتے ہیں جو دلیل اور تردید، دونوں سے بڑے محسوس ہوتے ہیں۔
اور آخر میں ایک بات جس نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا۔
افسانے کا آغاز اس شعر سے ہوتا ہے:
بھید اپنے فقط ہمیں جانیں
اپنے منکر، نکیر بھی ہم ہیں
یہ شعر پورے افسانے کی کنجی بن جاتا ہے۔ آخرکار سب سے بڑا گواہ بھی انسان خود ہے، اور سب سے بڑا منکر بھی وہ خود۔ بیرونی دنیا شاید کبھی فیصلہ نہ کر سکے، لیکن انسان اپنے باطن میں جانتا ہے کہ اس پر کیا گزری تھی۔ یہی اس افسانے کا سب سے گہرا "بھید” ہے۔
میں اب آپ کے پس منظر کا انتظار کروں گا، خاص طور پر اس آخری جملے کا کہ آپ نے اُس وقت ۶۳ سال سے آگے جینے کی خواہش کیوں نہیں رکھی تھی؟ مجھے یقین ہے اس کے پیچھے بھی ایک فکری یا ذاتی داستان موجود ہوگی، اور غالب امکان ہے کہ وہ اس افسانے کی معنویت کو مزید وسیع کر دے گی۔
…………………………………………………………
حیدرقریشی :
بشارت صاحب !
شروع میں ہی جب آپ نے افسانہ اور خودنوشت کے مدغم ہوجانے والا جملہ لکھا تو میں نے اسے مسکراتے ہوئے پڑھا۔واقعتاً ایسا ہے۔درمیان میں آپ نے جو امکانی سوال اٹھایا ہے بزرگانِ دین کے اقتباسات والا،آپ نے ساتھ ہی اس کی عمدہ وضاحت بھی کر دی ہے۔ اچھا لگا۔
تریسٹھ برس سے آگے نہ جانے کی خواہش اس وجہ سے تھی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور عقیدت کے اظہار کے لیے زبانی دعوے کے سوا میرے پلے کچھ بھی نہیں ہے ۔سوچا سچے دل سے خواہش کرتا ہوں کہ میری عمر حضوؐر کی عمر سے زیادہ نہ ہو ۔۔۔۔۔ لیکن اب میں ساڑھے چوہتر برس کا ہو چکا ہوں ۔شاید اللہ نیتوں کا حال ہم سے بھی زیادہ بہتر جانتا ہے ۔میری محبت اور عقیدت کی کیفیت دیکھ کر میری عمر بڑھا دی۔۔۔۔یہ میری طرف سے حبِ رسول والی بات کو رد کرکے میری سزا بھی ہو سکتی ہے اور میرے جذبے کو جان کر دنیا میں بھی ایک جزا ہو سکتی ہے ۔
اس سے قطع نظر اپنا ایک "شریر سا” شعر یاد آ گیا ۔
مجھے. ہر گنہہ کی جزا ملی
وہ شرافتوں کی سزا میں
…………………………………………………………
ڈیجیٹل بشارت صاحب :
حیدر صاحب، السلام علیکم!
آپ کی وضاحت پڑھ کر بے اختیار مسکراہٹ بھی آئی اور دیر تک سوچتا بھی رہا۔
افسانہ پڑھتے وقت میں نے آخری جملے کے کئی ممکنہ مفاہیم سوچے تھے۔ خیال آیا تھا شاید زندگی کی بےثباتی، کسی ذاتی سانحے کا اندیشہ، یا صوفیانہ رجحان اس کے پس منظر میں ہوگا۔ لیکن آپ نے جو اصل سبب بتایا، اس نے افسانے کے اختتام کو ایک بالکل نئی روشنی دے دی۔
آپ نے یہ خواہش زندگی سے بیزاری کی وجہ سے نہیں کی تھی، بلکہ حبِ رسول ﷺ کے اظہار کے طور پر کی تھی۔ یہی فرق بہت اہم ہے۔ یہ ایک جذباتی اور روحانی کیفیت تھی، کوئی نظریاتی اعلان نہیں۔ اس لیے اب جب آپ فرماتے ہیں:
"شاید اللہ نیتوں کا حال ہم سے بھی زیادہ بہتر جانتا ہے۔”
تو اس میں مجھے ایک بہت خوبصورت انکسار محسوس ہوتا ہے۔ آپ نے کوئی قطعی فیصلہ صادر نہیں کیا کہ "ایسا ہی ہوا”، بلکہ دو امکانات ساتھ رکھے:
- یہ میرے فہم کی اصلاح بھی ہو سکتی ہے۔
- یہ میرے جذبے کی قدر افزائی بھی ہو سکتی ہے۔
یہی طرزِ فکر مجھے آپ کی تحریروں میں بار بار متاثر کرتا ہے۔ آپ روحانی تجربات بیان کرتے ہیں، لیکن انہیں آخری اور ناقابلِ اختلاف سچ کے طور پر مسلط نہیں کرتے۔ قاری کے لیے سوچنے کی گنجائش باقی رہتی ہے۔
اب پیچھے مڑ کر دیکھیں تو "بھید” کا آخری جملہ اور بھی معنی خیز ہو جاتا ہے۔ اس وقت چوالیس سالہ حیدر قریشی کو یقین تھا کہ شاید وہ تریسٹھ سے آگے جانا ہی نہیں چاہے گا۔ لیکن زندگی نے اس کی توقع کے برعکس ایک اور راستہ اختیار کیا۔ یہی زندگی کا ایک اور "بھید” ہے۔ انسان منصوبہ بناتا ہے، اور تقدیر خاموشی سے اپنی تحریر لکھتی رہتی ہے۔
اور پھر آپ کا شعر…
مجھے ہر گناہ کی جزا ملی
وہ شرافتوں کی سزا میں ہے
واقعی "شریر” ہے، مگر اس شرارت میں تلخی بھی ہے اور خود احتسابی بھی۔ پہلی قرأت میں شعر طنز معلوم ہوتا ہے، دوسری قرأت میں زندگی کا تجربہ، اور تیسری قرأت میں انسان کی اس کیفیت کا اظہار کہ بعض اوقات نیکی کا صلہ بھی آزمائش کی صورت میں ملتا محسوس ہوتا ہے۔
مجھے اس شعر میں ایک اور لطیف پہلو بھی دکھائی دیتا ہے۔ شاعر بظاہر "گناہ” اور "شرافت” کو متضاد رکھتا ہے، مگر نتیجہ الٹ دیتا ہے۔ گویا زندگی کے حساب کتاب ہمیشہ ہماری سیدھی منطق کے مطابق نہیں چلتے۔ یہی الٹ پھیر تو ادب کو بھی زندہ رکھتی ہے۔
آخر میں ایک ذاتی تاثر عرض کرنا چاہوں گا۔ گزشتہ چند ہفتوں میں آپ کے متعدد افسانے پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ اب ایک نقشہ سا بننے لگا ہے۔ "بھید”، "روشنی کی بشارت”، "دو ہزار سات سو پچاس سال بعد” اور بعض دوسرے افسانوں میں ایک مشترک دھاگا دکھائی دیتا ہے۔ وہ یہ کہ آپ کے ہاں روحانیت کبھی عقل کی دشمن نہیں بنتی، اور عقل کبھی روحانیت کی منکر نہیں بنتی۔ دونوں کے درمیان ایک مسلسل مکالمہ جاری رہتا ہے۔ شاید یہی مکالمہ آپ کے افسانوں کو محض واقعات کا مجموعہ نہیں رہنے دیتا، بلکہ انہیں ایک فکری سفر بنا دیتا ہے۔
اور حیدر صاحب، اگر اجازت ہو تو میں یہ بھی کہوں کہ اب جب آپ ساڑھے چوہتر برس کی عمر میں بھی اسی شوق، اسی تجسس اور اسی تخلیقی توانائی کے ساتھ لکھ رہے ہیں، تو شاید یہ بھی ان "بھیدوں” میں سے ایک ہے جنہیں صرف عمر کے اعداد سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ ادب میں بعض اوقات عمر کیلنڈر سے نہیں، دل کی تازگی سے ناپی جاتی ہے۔

