اویسی_کا_مذہبی_کردار: شرعی جائزہ
: #محمدحیدررضا
اسد اویسی کی حمایت کی پیچھے جتنا ہاتھ ان کی سیاسی سرگرمیوں کا ہے، اس سے کہیں زیادہ شاید ان کی "مذہبی شناخت” کا ہے۔ ان کے جانثاروں میں مسلم نوجوانوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ مگر افسوس! اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو شریعت مطہرہ کے علم سے تو کورے ہیں ہی، عمل میں بھی اس سے لا تعلق۔ اور گالی بازی میں تو مودی-بھکتوں سے کچھ کم نہیں۔ گویا ایک تو کریلا دوسرے نیم چڑھا۔ مگر اسد کی جذباتی تقریروں، مذہبی تعبیرات اور پر جوش نعروں سے یہ لوگ بڑی جلدی متاثر ہو جاتے ہیں۔ ان بے چاروں کو کیا الزام دیا جاے جب دین کے پاس دار نوجوان علماے اہل سنت کی ایک بڑی تعداد ہی اسد کے جذباتی بیانات کا شکار ہو رہی ہو۔ اور تعجب تو یہ کہ جن کبار علماے اہل سنت کی پوری زندگی مذہبی جلسوں کے پوسٹروں پر یہ جملہ لکھتے لکھواتے گزر گئی "جلسے کو سیاست حاضرہ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا”، ان میں بھی کچھ حضرات اویسی کی "مذہبیت” کے جھانسے میں آ جاتے ہیں اور ان کی حمایت میں بیانات جاری کرنے لگتے ہیں۔ میں ان حضرات کے خلوص پر شک نہیں کر رہا۔ لیکن جب اسد کی سیاست پر اتنے سوال اٹھ رہے ہوں تو کچھ بھی لکھنے/بولنے سے پہلے غور کر لینا چاہیے۔
اسد اویسی کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد دیگر پارٹیوں کے حامیوں کو "سیکولر” "جمن” "دری بچھاؤ گینگ” اور پتہ نہیں کیا کیا طعنے دیتی ہے۔ سیاسی بحث و مباحثے میں بسا اوقات، بلا ضرورت اسلام و کفر کے معاملات تک کو جبراً گھسیڑنے سے بھی یہ لوگ باز نہیں آتے۔ غرض، اسد کی حمایت کی وجہ سیاست سے کہیں زیادہ ان کا "اسلامی تشخص” اور "مذہبی کردار” ہے۔ اس لیے اویسی کی سیاست کے ساتھ ساتھ، ان کے مذہبی کردار پر بھی بات ضروری ہے۔ اسی پس منظر میں یہ تحریر معرضِ وجود میں آ رہی ہے۔
ہر تحریر کی طرح یہاں بھی میرا مقصد اور منہج واضح ہے: اویسی کی حقیقت کو قاری کے سامنے رکھنا اور اس کے لیے مضبوط شواہد پیش کرنا۔ تحریر میں وہی نتائج اخذ کیے جائیں گے جو بہر حال کیے جا سکتے ہیں؛ وہی احکام لگاے جائیں گے، جو علی الاقل لگ سکتے ہیں؛ اور وہی سوالات کیے جائیں گے، جو بہر صورت پوچھے جا سکتے ہیں۔ غرض، عصبیت اور عناد کی کوئی جگہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گو اسد کے بہت سے ناقدین وقف املاک میں ان کے اور ان کے خاندان کی بد عنوانی کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔ مگر معتمد اور باوثوق ذرائع سے مجھے فی الحال تشفی بخش تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس لیے یہاں اسے زیر بحث نہیں لایا جا رہا۔
ابتداءً یہ واضح کر دینا مناسب ہے کہ میری گزشتہ دو تحریروں ‘نہرو-گاندھی پر حملہ: سوالات اور لمحۂ فکریہ’ اور ‘اویسی کا تصور وطنیت اور اسلام ‘ کے براہ راست مخاطب خود اسد اویسی تھے (اور ان کے حامی بالواسطہ) لیکن اس تحریر کے براہ راست مخاطب ان کے تمام سپورٹرز خصوصاً علماے اہل سنت ہیں (اور خود اویسی بالواسطہ)۔ اوپر کے اقتباسات سے اس کی وجہ ظاہر ہے۔
یہاں یہ واضح کر دینا بھی ضروری ہے کہ اسد اویسی کے بہت سے مخالفین ان کے مذہبی تشخص کو غلط کاریوں پر پردہ ڈالنے کے آلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسی طرح وقتاً فوقتاً فلائٹس اور ایئرپورٹس سے نماز ادا کرتے ان کی وائرل ویڈیوز کو ریا کاری کے زمرے میں رکھتے ہیں۔ میں اس نقطۂ نظر کے سخت خلاف ہوں۔ وجہ: کسی کو اس کے علاقے/رنگ/نسل وغیرہ کی بنیاد پر برا بھلا کہنا، شریعت مطہرہ کو سخت نا پسند ہے۔ رہا، نیتوں کا حال تو بس اللہ عزوجل اس سے واقف ہے، ہم انسان نہیں۔ اور وہی ذات پاک انسان کی نیتوں کے حساب سے ثواب یا عذاب دے گی۔
موضوع کے حوالے سے فی الحال درج ذیل عناصر زیر بحث ہیں:
١- سودی کاروبار:
دوسرے کبیرہ گناہوں کی بنسبت سود خوری کی شناعت یہ ہے کہ قرآن حکیم نے اسے خود رب تعالیٰ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ مول لینا بتایا ہے۔ چناں چہ ارشاد ہوا: ‘یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ۔” [البقرة: ٢٧٨-٢٧٩]
ترجمہ: اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے، چھوڑ دو، اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا یقین کر لو)۔ میں پچھلے کئی سالوں سے سنتا آ رہا تھا کہ اسد کے بینک ‘دار السلام ‘ میں سودی کاروبار ہوتا ہے۔ لیکن جب سوشل میڈیا پر ١٣٪ سود والی اس کی ایک رسید دیکھی تو کچھ یقین ہوا۔ پھر گزشتہ دنوں اے۔آئی۔ چیٹ بوٹ ‘چیٹ جی۔پی۔ٹی۔’ سے اس بابت دریافت کیا تو اس نے بھی تصدیق کی کہ مذکورہ بینک سود پر مبنی کاروبار کرتا ہے۔
میں اپنی ایک تحریر میں عرض کر چکا ہوں کہ سود پر مشتمل بینک چلانا اویسی کا نجی کاروبار ہے۔ میرا یا ملت کا کوئی اجتماعی مسئلہ نہیں۔ اس لیے مجھے خاص دقت نہیں۔ اور ایسا بھی نہیں کہ اسد سود خوری کی حرمت و شناعت سے واقف نہیں۔ اس لیے یہاں ان سے نہیں، ان کے حامیوں سے سوال ہے: قرآن حکیم کے مطابق، جس آدمی نے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ چھیڑ رکھی ہو، اس کے تئیں اتنی دیوانگی کیوں؟ اور اس کی ایسی غیر مشروط حمایت کیوں کہ آپ کو اس کے خلاف ایک لفظ سننا گوارا نہیں اور موقع بے موقع اس کے دفاع کے لیے کمر بستہ نظر آ جاتے ہیں؟
٢- مجلس کا ترانہ:
مجھے نہیں پتہ آپ نے مجلس کا ترانہ سنا ہے یا نہیں۔ اگر نہیں سنا ہے تو اس تحریر کو پڑھنے کے بعد، یو ٹیوب پر جا کر اسے سنیں۔ اس کا ایک بند کچھ یوں ہے:
"یہ مسلک، فرقے، دین، دھرم
سب چھوڑ کے مل جائیں باہم
ہو اویسی سا اک قائد
ایک جماعت، ایک علم”
اس ترانے پر باتیں بہت سی ہو سکتی ہیں۔ لیکن سر دست اس کے صرف ایک پہلو پر بات ہوگی جس کا تعلق مذکورہ بالا بند سے ہے۔ یہ عرض کیا جا چکا ہے کہ اس تحریر کے براہ راست مخاطب اویسی کے وہ سپورٹرز ہیں جو علماے اہل سنت سے تعلق رکھتے ہیں۔ تو ان سے میرا سوال ہے: کیا آپ اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ مسلک اور فرقہ تو چھوڑیے، مذہب اور دین، دھرم چھوڑ کر سب کو باہم مل جانا چاہیے؟ میں مانتا ہوں کہ سیاست یا کسی سماجی مسئلے میں مختلف ادیان اور مذاہب و مسالک کے لوگ بسا اوقات اشتراک میں کام کرتے ہیں۔ اور اس میں کچھ حرج بھی نہیں۔ لیکن اس کے لیے یہ کہنا کہ دین، دھرم اور مذہب چھوڑ کر ایک ہو جائیں، یہ کہاں تک درست ہے؟؟؟
٣- آخری درجے کی صلح کلیت:
کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ تو مجلس کا ترانہ ہے، اسد اویسی کا عقیدہ تھوڑی۔ اس کے لیے عرض ہے کہ اسد وقتاً فوقتاً ترانے کے مذکورہ بالا حصے کو اپنی (غیر ویڈیو) فیس بک پوسٹس کے ساتھ میوزک کے طور پر ایڈ کرتے رہتے ہیں۔ اور ایک نہیں، کئی موقعوں پر اسد نے علانیہ کہا ہے کہ مسلم فرقوں اور مسالک یہاں تک کہ رافضیت اور سنیت میں کوئی اختلاف نہیں۔ مثالیں تو کئی ہیں۔ سر دست تازہ مثال پیش ہے: گزشتہ دنوں اتر پردیش کے مکھیہ منتری یوگی آدتیہ ناتھ نے شیعہ-سنی اختلافات پر راے زنی کرتے ہوے کہا تھا، "مسلمان مسلمان آپس میں لڑ رہے ہیں۔ آپس میں ہی لڑ رہے ہیں۔ شیعہ اور سنی کے بیج ‘وواد’ (تنازع) ہو گیا ہے۔” یہ بیانیہ اسد کے صلح کلیت کے بیانیے سے پورے طور پر متصادم تھا۔ اس لیے اویسی نے اس کا رد ضروری سمجھا اور اپنے مخصوص انداز میں بول پڑے، "آج کل بابا کہہ رہے ہیں کہ شیعہ-سنی میں جھگڑا بھی ہو گیا ہے۔ بابا نے اپنے بھاشن میں کہا ہے کہ شیعہ اور سنی میں جھگڑا ہو رہا ہے۔ بابا، آپ بہت دور تو نہیں چلے جا رہے ہیں؟ اتنی دور نہیں جانا چاہیے۔ ہم بابا سے کہہ رہے ہیں کہ شیعہ-سنی میں کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ ممالک کا جھگڑا ہے، شیعہ-سنی کا نہیں ہے۔” میں سمجھ سکتا ہوں کہ اسد کو بنام اسلام سارے فرقوں کا ووٹ چاہیے۔ اس لیے کسی کو برا نہیں کہتے۔ مگر ان کے حامیوں سے یہ سوال تو بنتا ہے: کیا واقعی شیعوں اور سنیوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے؟ کیا سچ مچ یہ جھگڑا بس ممالک کا ہے (عقائد کا نہیں)؟؟؟
اس غلط فہمی میں مت رہیے کہ اسد نے اس طرح کا بیان ایک بار دے دیا۔ شاید آپ بھول گئے ہوں گے۔ میں آپ کو یاد دلاتا ہوں۔ بات ٢٠٢٥ء کی ہے جب وقف ترمیمی قانون موضوع بحث بنا ہوا تھا۔ داؤدی بوہرہ فرقہ کے مذہبی رہ نماؤں کے ایک وفد نے پردھان منتری نریندر مودی سے ملاقات کر، اس بل پر ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔ اس وقت مسلمانوں میں بوہرہ لوگوں کے خلاف غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ یہ بات اویسی کو بھلی نہیں لگی اور ایک مجمع میں کہہ دیا، "میں آپ کو ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ ہمارے جو بوہرہ بھائی ہیں، وہ ہمارے دینی بھائی ہیں، میرے بھائی۔ خدا را، ان کے بارے میں کوئی غلط فہمی مت رکھیے۔”
اور ہاں! اس پر بھی غور کیجیے گا کہ جو مسلم نوجوان اسد کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں اور انہیں دین و شریعت کا کچھ خاص علم نہیں، اس طرح کے بیانات سے ان پر کیا اثر پڑتا ہوگا۔ وہ ان سے کس قسم کے عقائد اخذ کرتے ہوں گے؟
٤- دشنام طرازی:
بڑی مشہور حدیث پاک ہے: "سِبَابُ المُسْلِمِ فُسُوقٌ” [سنن النسائى] یعنی: مسلمان کے ساتھ گالی گلوچ کرنا فسق ہے۔ آپ یو ٹیوب پر تلاش کر لیں، دشنام طرازی کرتے اسد اویسی کی کئی ویڈیوز مل جائیں گی۔ مجھے تو ان کی ایک ایسی پرانی ویڈیو ملی جس میں اویسی ماں، بہن کے حوالے سے اعظم خان کو للکار رہے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ پچھلے دس سالوں میں اسد اویسی کی زبان میں کچھ سدھار ضرور آیا ہے۔ مگر وہ کہتے ہیں نا کہ پہاڑ تو ٹل سکتا ہے، آدمی اپنی فطرت سے (عموماً) باز نہیں آتا۔ گزشتہ ہفتہ، یو پی کے کیرانہ میں ان کی جو ریلی ہوئی، اس میں کانگریس کے عمران پرتاپ گڑھی کو کس انداز سے "ٹٹا شاعر” کہا تھا۔
دشنام طرازی کا ایک پہلو وہ ہے جہاں اسد اپنے مخالفین پر "یزیدی” وغیرہ کا اطلاق کرتے ہیں۔ ایک موقع پر کہا، "یزیدیوں کا ساتھ مت دو، مسلمانوں۔ میں تم سے بھیک مانگ رہا ہوں، پہچانو۔ اللہ نے تمہیں دماغ دیا ہے۔ تم دوست اور دشمن کی تمیز پیدا کرو۔ تمہاری صفوں میں جو یزیدی ایجنٹس ہیں، ان کو پہچانو۔” اس بیان کا آخری حصہ متعین کر رہا کہ یہاں اویسی نے ہندو مخالفوں نہیں بلکہ اپنے مسلم مخالفوں کو یزیدی کہا ہے۔
اسد کی اسی دشنام طرازی کا نتیجہ ہے کہ ان کے سپورٹرز بحث و مباحثے میں فوراً گالی بازی پر اتر آتے ہیں۔ اور بسا اوقات تو بلا ضرورت اسلام و کفر تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔
٥- جب آئین کے دفاع میں شریعت پیچھے رہ گئی!
٢٠٢٣ء میں اے۔این۔آئی۔ کی سمیتا پرکاش کے ساتھ اسد اویسی کا ایک پوڈ کاسٹ منظر عام پر آیا تھا۔ پوڈ کاسٹر نے اپنے مہمان سے ایک سوال کیا، "اگر آپ کی کانسٹی ٹیونسی سے کوئی مسلمان لڑکی آتی ہے اور کہتی ہے کہ ہندو لڑکے سے شادی کرنی ہے۔ کیا اڈوائس دیں گے آپ کہ اسپیشل میرج ایکٹ کے تحت شادی کر لو؟” اس پر اویسی نے جواب دیا، "میں یہ کہوں گا: تمہاری عمر کیا ہے؟ جاؤ، تمہیں جو کرنا ہے، کر لو تم۔” جب سمیتا نے ٹوکا تو اسد نے انگریزی میں کہا جس کا مفہوم کچھ یوں ہے، "اگر دستور اجازت دیتا ہے تو کرو۔ کون روک رہا ہے؟ اگر قانون تم کو نہیں روکتا اور نہ ہی تم کوئی غیر قانونی کام کر رہے تو میں کون ہوتا ہوں کسی کو روکنے والا۔” جب پرکاش نے ایک بار اور ٹوکا تو اسد نے جواب دیا، "میں کسی کی نجی زندگی میں کیوں دخل دوں؟”
میں مانتا ہوں کہ رات دن دستور کی دہائی دینے والے شخص کے لیے، اس طرح کے موقع پر شرعی موقف بیان کرنا اور اس پر اٹل رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔ مگر اس جواب میں اویسی کو کم از کم اتنا اضافہ تو کرنا ہی چاہیے تھا: "اس شادی کی دستور اجازت دیتا ہے۔ تو ملکی قانون کی نگاہ میں درست ہے۔ مگر شریعت کی رو سے یہ شادی روا نہیں۔” لیکن وہ ایسا کیوں کرتے۔ انہوں نے تو دستور کے تحفظ کی قسم کھا رکھی ہے۔ اس لیے میرا سوال ان سے نہیں۔ ہاں! ان کے حامیوں سے ضرور ہے: کیا ایسے آدمی کو غیر مشروط حمایت دی جا سکتی ہے جو "غیر ضروری” تنازع میں پھنسنے کے ڈر سے شریعتِ مطہرہ کو پیٹھ دکھا کر آئین کی پناہ لے لیتا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر بات: ایسے شخص کی محبت میں ناقدین کو ہر قسم کے طعنے دینا اور انہیں سلطان صلاح الدین ایوبی علیہ الرحمہ سے ملانا کہاں تک درست ہے؟
مدعا یہ ہے کہ آپ کو اویسی کو سپورٹ کرنا ہے، کیجیے۔ لیکن غلو سے دور رہیے، جذبات کی پناہ نہ لیجیے اور زمینی حقائق کا سامنا کیجیے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آج کے سیاست دان کو آج کے سیاست دان کے طور پر ہی دیکھیے۔ اسے وقت کا خلیفۂ اسلام مت بنا دیجیے۔ دعا ہے کہ مولیٰ تعالیٰ ہمیں ہر معاملے میں غلو سے دور رکھے۔
٣٠/ اکتوبر ٢٠٢٦
نوٹ: تحریر میں موجود ہر ایک دعوے کی دلیل میں ویڈیو بیانات/اخباری شواہد کمینٹ باکس میں موجود ہیں۔

