فضل اللہ ندوی
مفتاح العلوم سے ذرا برابر بھی ربط رکھنے والے احباب کو کچھ انچھوئی اور انکہی داستان بھی بتاتا چلوں۔
سن 1954 میں مظہر العلوم اوسان کوئیان ترک کرنے کے بعد والد ماجد مولانا شکر اللہ فیضی رحمہ اللہ نے ایک مدرسہ کی داغ بیل ڈالنے کی باتیں شروع کردی، اور اطراف وجوار کے تمام سرکردہ شخصیات سے صلاح ومشورہ کے بعد یہ طے پایا کہ اس جوار میں مظہر العلوم اوسان کوئیان کے علاوہ بھی ایک مدرسہ کی ضرورت ہے سو رائے پاس ہوگئی۔ اب معاملہ زیر غور تھا کہ اس علاقے کے کس گاؤں میں مدرسہ کی بنیاد رکھی جائے، عمائدین مضافات نے موضع رسول پور میں مدرسہ مفتاح العلوم کو قائم کرنے کی صلاح دی اور یہ رائے بالاتفاق پاس ہوگئی۔ رسول پور کے اصحاب ثروت زمینیں ہبہ کرنے کیلئے راضی بھی ہو گئے۔
تقریبا یہ طے تھا کہ موجودہ مدرسہ مفتاح العلوم ٹکریا رسول پور میں ہی قائم ہوجاتا۔ اور یہ بھی طے تھا کہ اس مدرسہ مفتاح العلوم کے بانی مولانا شکر اللہ فیضی رحمہ اللہ ہی ہیں۔
مگر عمائدین ٹکریا اور رفقاء والد مولانا شکر اللہ صاحب فیضی رحمہ اللہ نے اپنے گاؤں ہی میں مدرسہ قائم کرنے کی رائے دی اور ضد کرنے لگے، اس کے ما سوا یہ کہ آپ کو روز بروز رسول پور آمد ورفت کی کوفت بڑا تکلیف دہ مرحلہ ہوگا، اور رسول پور میں بارش کے ایام میں سیلابی کیفیت بھی بن جاتی ہے۔ نیز ٹکریا میں زمینوں کا مسئلہ حل کرنے کی باتیں کیں، پچھم باغ والوں نے زمین کی پیشکش کی اور عیدگاہ کے پاس مدرسہ قائم کرنے کیلئے زمین کی تعیین ہوئی اور ، ابا کے رفقاء واہالیان ٹکریا کے اصرار پر مفتاح العلوم کا قیام رسول پور کے بجائے ٹکریا میں عمل میں آیا۔
اب یہ کلام کہ مدرسہ کا قیام کس سن میں ہوا اور اسکا بانی کون ہے ، لا یعنی سے سوال ہیں۔
جو مولانا شکر اللہ فیضی رحمہ اللہ مفتاح العلوم رسول پور کے بانی ہوتے، وہی مولانا شکر اللہ فیضی رحمہ اللہ مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم ٹکریا کے بانی ہیں۔
اور مدرسہ عربیہ مفتاح العلوم ٹکریا کا قیام سن 1954 میں ہوا۔
یہ سچائیاں ہیں، کسی کی بدخواہی سے حقیقتیں تبدیل نہیں ہوتیں۔
والسلام

