Articles مضامین

ہجومی تشددکے بڑھتے واقعات، لمحۂ فکریہ

رفیع الدین حنیف قاسمی
ادارہ کہف الایمان ، بورابنڈہ ، حیدرآباد 

اس وقت ملک عزیز میں ہجومی تشدد کے واقعات روز افزوں ہیں، ویسے ہجومی تشدد کے معاملات ملک ہند میں کوئی نئی چیز نہیں ہے، ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں کی سر زمین پر ایک ایسا تکثیری معاشرہ آباد رہاہے، جس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے موجود رہے ہیں، کبھی ذات پات، چھوت چھات، کبھی توہمات،اور سماجی روایات کے زیر اثر، یا بچوں کے اغواء یا چوری میں ملوث ہونے کے شبہ میں، یا ناجائز جنسی تعلقات یا مذہبی نفرت وعداوت یہ اور اس جیسے بے شمار اسباب ہیں جو ایک گروہ یا جماعت کو اس بات پر ابھارتے ہیں کہ وہ کسی بھی شخص کو بےجا تشدد کا نشانہ بنائیں، اسے زدوکوب کریں، یا پیٹ پیٹ کر اس کو ابدی نیند سلادیں۔
ابھی 4/جنوری 2026کو ایک رپورٹ نگاہوں سے گذری جس میں ملک عزیز میں ماب لنچنگ اور چن چن کر ہجومی تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ کی بات کہی گئی، رپورٹ کے مطابق ملک میں 2025میں فرقہ وارانہ فسادات میں تو کمی واقع ہوئی ہے ، لیکن ہجومی تشدد اور شناخت کی بنیاد پر تشدد وامتیاز برتنے کے معاملات میں اضافہ دیکھا جار ہا ہے، جس سے کئی سنگین اندیشے پیدا ہورہے ہیں، سنٹر فاراسٹیڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرزم (سی ایس ایس ایس ) کی رپورٹ کے مطابق جیسے جمعہ 2/فروری کو جاری کیا گیا، جس کے مطابق 2025میں 28 فرقہ وارانہ فسادات ہوئے، جو 2024میں ہوئے 59 فسادات کے مقابلے 52 فیصد کم ہیں، مغربی بنگال ، گجرات اور مہاراشٹرا اس معاملہ میں سرفہرست رہے ، ان فسادات کے نیتجے میں 4 اموات ہوئیں اور زائد از 360 افراد زخمی ہوئے، رپورٹ کے مطابق ہجومی تشدد میں 14 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجہ میں 8 افراد  کی جانیں گئی، ماب لنچنگ کے تقریبا 95 فیصد واقعات بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں در پیش ہوئے، اس معاملہ میں اترپردیش اور مدھیہ پردیش سر فہرست رہے ، یہ بھی جان لیں سی ایس ایس ایس ممبئی کی ایک سماجی تنظیم ہے ، جو امن بھائی چارہ اور ہم آہنگی کے فروغ کے لئے تگ ودو کرتی ہے ، ان سارے واقعات کے پس پردہ جو چیز کارفرما ہے ، وہ ہے فرقہ وارانہ دشمنی، نفرت انگیز تقریر یں، ادارہ جاتی امتیازات اور بھید بھاؤ ، مذہبی تشدد ، غصہ، دیگر مذاھب اور اس کے پیروکاروں کے خلاف منفی پروپیگنڈہ
موجودہ وقت میں خصوصا جن وجوہات کی بناء پر کسی بھی شخص کو افراد کی جانب سے ماب لنچنگ اور ہجومی تشدد کا شکا ر بنایا جاتا ہے ، اس میں مزعومہ گاؤ کشی، یا گایوں کی خرید وفروخت کا الزام، یا غیر ملکی ہونے کاشبہ یا بین  مذہب میں شادیاں، یہ ساری وجوہات ہوتی ہیں جو وحشیانہ ہجومی تشدد کا باعث ہوتی ہیں، جس میں بیشتر افراد کو جان سے ہاتھ دھو بیٹھنا پڑتا ہے
بلکہ بعض مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ حکومت جب سے برسراقتدار آئی ہے ، ان واقعات میں روز افزوں اضافہ دیکھا جارہا ہے ، ان واردات میں عموما مجرم یا ملزمین عموما عدالتوں سے کم زور پیروی کی وجہ سے بری ہوجاتے ہیں، یا اولین کوششوں ہی میں یعنی تھانوں اور ایف آئی آر کی شروعاتی سطح پر ہی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوتی، سیاسی دباؤ اور مذہبی خاص طور پر کار فرما ہوتا ہے، جس سے جرم کی سزا کا تعین ہی محال ہوجاتا ہے، بلکہ ہجومی تشدد پر آمادہ ہجوم میں بعض افراد کی جانب سے یہ غیر انسانی پہلو بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ وہ لوگ اس پورے تشدد کی ویڈیو بناتے ہیں، پھر ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر ان کو دھڑلے سے نشر کیا جاتا ہے ، جس سے جرم کے مرتکبین میں شرم وحیاء کے فقدان، قانون  سے بے خوف ہونا اور کسی بھی طرح کی پشیمانی کا عدم احساس صاف طور پر چھلکتا ہے ، بلکہ انہیں گرفت کے چند دن بعد ضمانت پر رہائی مل جاتی ہے اور انہیں پھول اور مالا پہنایا جاتا ہے، بلکہ کسی بڑے عہدے سے بھی نواز دیا جاتا ہے، جیسا کہ قریبی زمانے میں کرسمکس اور دیگر ہجومی تشدد کے واقعات کے بعد ہوا، کہ ان  موقع سے ہجوم نے توڑ پھوڑ کی، ان کی گرفتاریاں عمل میں آئیں، پھر انہیں باعزت بری کردیا گیا، انہیں کسی ہیرو کی شکل میں پھولوں اور ہاروں سے ان کا استقبال ہوا۔
یہاں کچھ ایک واقعات جو جنوری اس سال کی ابتداء یا سال گذشتہ کی آخر ی دنوں میں در پیش ہوئے، ایک واقعہ 24 دسمبر کو مغربی بنگال کے لیبر جوئیل رانا کو اڈیشہ کے سنبھل پور میں پیش آیا، دی وائر کے مطابق پانچ لوگ جوئیل کے کرایہ کے کمرے میں گھس آئے اور آئی ڈی کا مطالبہ کرنے لگے، انہو ں نے جوئیل اوردیگر مزدروں کو بھی اپنی ہندوستانی شہریت کا ثبوت دینے کے لئے زبردستی کی، اس سے پہلے کہ رانا اپنی شناخت بتاتا حملہ آوروں نے اسے مارنا شروع کردیا ، راڑ اور لاٹھیوں سے حملہ کیا، قبل اس کے اس کے ساتھی اسے ہسپتال لے جاتے ، وہ زخموں سے جانبر نہ ہوسکا۔
اسی طرح رواں سال کے اوائل میں بہار کے نالندہ میں ایک اطہر حسین نامی ایک سبزی فروش کو ہجومی تشدد میں چوری کے الزام میں مار دیا گیا، بلکہ اس کے کان، انگلیاں اور پیر کاٹ دیئے گئے، اسی طرح ایک قبائلی لڑکا انجل چکمہ جو تریپورہ کا رہنے والا تھا، ایم بی اے کررہا  تھا ، اس کا چہرہ دیکھ کر اس پر طنز کر کے مارپیٹ کر اس کو ہلاک کردیا گیا۔
گوپال گنج بہار کے ایک سعد اللہ پور مٹھیا گاؤں میں احمد آزاد پر ”ممنوعہ گوشت” لے جانے کا الزام لگایا گیا، پھر اسے بجلی کے کھمبے سے باندھ کر اس قدر پٹائی کی گئی کہ وہ نیم مردہ ہوگیا۔
اسی طرح اسی ضلع کے ماکھر گاؤں میں محمد عمران نامی شخص کو اس لئے مارا پیٹا گیا کہ وہ سڑک کے کنارے پنکچر بنانے کا کام کرتا تھا اور شرپسندوں کو اس کے مسلمان ہونے اور پنکچر بنانے کے کام پر اعتراض تھا۔
ایک واقعہ مدھوبنی بہار کا ہے جو ٢/جنوری کو در پیش ہوا، جس میں ایک اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے مزدور نورشید عالم کو مبینہ طور پر بنگلہ دیشی قرار دے کر ہجوم کے ذریعے تشدد کا نشہ بنایا گیا، واقعہ سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائر ل ہوگیا، جس میں دیکھا جارہا ہے کہ نورشید عالم خون میں لت پت زمین پر پڑا ہے اور ہجوم میں شامل ایک نوجوان کئ بار اس کے چہرے پر گھونسا مار رہا ہے ، جب کہ لوگ بنگلہ دیشی کہہ کر نعرے لگارہے ہیں، ابتدائی جانچ سے پتہ چلا کہ متاثرہ شخص بنگلہ دیشی نہیں بلکہ ضلع سوپول کا رہایشی ہے۔
ابھی تازہ خبر ہے کہ جھارکھنڈ کے ضلع گوڈا میں بدھ (7 جنوری ) کو مویشی چوری کے شبہ میں ایک 45 سالہ مسلم شخص کو ہجوم نے مبینہ طور پر پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا۔جس میں حملہ آوروں نے کلہاڑی، درانتی اور تیر جیسے تیز دھار ہتھیاروں کا استعمال کیا۔موقع پر ہی ان کو ہلا ک کرکے ان کی نعش کوایک کھیت میں پھینک دیا۔یہ واقعہ رات کے  ١١ بجے پیش آیا، جب کہ پپو انصار ی مویشیوں کو قانونی طور پر ایک منڈی سے دوسری منڈی لے جاتے ہیں،اور یہی ان کا ذریعہ معاش تھا۔
یہ واردات مجموعی حکمرانی، سماجی توازن اور جمہوری اقدار پر ایک سنگین سوال کھڑا کردیتے ہیں، ملک جو کبھی سماجی انصاف، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سیاسی شعور اور جمہوری اقدار کے لئے جانا جاتا تھا، مگر آج اسی سرزمین پر مذہبی شناخت کی بنیاد پر انسانیت کو ہجوم کے رحم وکرم پر چھوڑا جارہا ہے جو ایک تلخ حقیقت ہے ، اس سے بڑھ کر یہ کہ ان واقعا ت پر سخت نوٹس نہ لینا؛ بلکہ ان ریاستوں میں حکومتوں کی بے حسی و خاموشی اور سرد مہری ریاستی حکمرانی کے اخلاقی معیار پر گہری چوٹ ثابت ہورہے ہیں۔
اس طرح کے واقعات موجودہ دور حکومت میں پیش آتے رہے ہیں اور پیش آرہے ہیں، جس میں حکومت کی سرد مہری ، خاموش سرپرستی اور مذہبی منافرت کے نام پر قانون کا عدم خوف بھی شامل ہے انس عارف اور ناظم اترپردیش کے 2/ اگست 2015کو ماب لانچنگ کے شکار ہونے سے لے کر محمد اخلاق دادری اتر پردیش، 28/ستمبر2015، نعمان اختر ہماچل پردیش ، 14/ اکتوبر ، 2015، مستعین عباس (ہریانہ)5/مارچ 2016، مظلوم انصاری اور امتیاز خان ، 18/مارچ 2016، منہاج انصاری (جھار کھنڈ) 19/کتوبر 2016، پہلو خان(راجستھان) یکم اپریل ، 2017، علیم الدین انصاری (جھارکھنڈ)29جون2017، عمر خان (راجستھان) 10/نومبر2017،اکبر خان (راجستھان) 21/جولائی، 2018،  تبریز انصاری ، 25/جولائی، 2019۔
بدھ28/اگست کو دھولے-سی ایس ایم ٹی ایکسپریس میں پیش آیا،جو بہت مشہور ہوا،جلگاؤں کے رہنے والے بزرگ اپنی بیٹی سے ملنے کلیان جا رہے تھے، جب کچھ لوگوں نے ان پر غیر قانونی طور پر گائے کا گوشت لے جانے کا الزام لگاتے ہوئے حملہ کر دیا۔ ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس نے بتایا ہے کہ بزرگ بھینس کا گوشت لے جا رہے تھے، جس پر پابندی نہیں ہے۔
اسی طرح ایک ریلویز سیکیورٹی اہلکار (Railway Protection Force یعنی RPF کا کانسٹیبل نام Chetan Singh نے 31 جولائی 2023 کو Jaipur-Mumbai Central Express ٹرین میں اچانک فائرنگ شروع کر دی۔
اس نے پہلے اپنی سینئر افسر کو گولی ماری، پھر ٹرین کے مختلف بوگیوں میں تین مسلمان مسافروں پر گولیاں چلائیں، انہیں بے دردی سے قتل کر دیا، واقعے کے دوران ملزم نے ویڈیو میں ہندو قوم پرست سیاسی رہنماؤں کے حق میں نعرے لگائے
اس طرح کے بے شمار واقعات ہیں جس میں ہجومی تشدد نے اقلیتی طبقے کو خاص طور پر گاؤ کشی کے نام پر مارپیٹ اور زدوکوب کا نشانہ بنایا ۔
ہمارا ملک ایک ہمیشہ ہی سے  بنیادی طور پر ایک مذہبی ملک رہا ہے ، یہاں مختلف مذاہب اور عقائد کے باوجود فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک شاندار روایت رہی ہے ، تاہم یہ وراثت خطرے میں پڑ گئی ہے ، موجودہ وقت میں فرقہ وارانہ بیان بازی، اسلاموفوبیا، نفرت انگیز تقریریں ، ہجومی تشدد اور مذہبی منافرت میں روز بروز اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔
جماعت اسلامی ہند نے بھی اپنی 3 جنوری کو جاری کردہ ایک پریس کانفرنس میں جنوبی ایشیاء جسٹس کیمپین کے انڈیا پر سیکیوشن ٹریکر 2025کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ کے مطابق مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں پر ملکی سطح پر زیادتیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، ان میں جھوٹے انکاؤنٹر، ہجومی تشدد، من مانی گرفتاریاں، مکانات کی مسماری سمیت بے لگام نفرت انگیز تقریریں اور جبری بے دخلیاں شامل ہیں۔
کچھ طاقتیں سیاسی فائدے کی غرض سے مذہب کا غلط استعمال کر کے سماج میں فرقہ وارانہ خلیج پیدا کررہی ہیں،
ایسے جرائم معاشرتی ہم آہنگی اور امن و بقاء باہمی کے لئے بڑے نقصان دہ ہوتے ہیں اور قانونی حکمرانی پر سوالیہ نشان کھڑے کردیتے ہیں-
اس موقع سے تمام ملک کے باسیوں کو امن واتحاد اور انصاف اور ملک کی جامع اور پائیدار ترقی کے حوالہ سے جدوجہد کرنا ہے ، جس میں تمام مذہبی اور سماجی رہنماؤں سے بھی یہ گذارش ہے کہ وہ ملک میں امن وانصاف اور ملک کی سماجی تانے بانے کو بکھیرنے سے بچانے اور ملک کی ہمہ گیر ترقی کے لئے جدوجہد کریں۔

Related posts

اصلاحی تحریر

Paigam Madre Watan

संदेशखाली का सच स्वीकार करें ममता 

Paigam Madre Watan

Urdu’s New Voice: Rohinee Singh’s Journey from Learner to Author

Paigam Madre Watan

Leave a Comment