سیاست کی دنیا میں تنازعات اور تنقیدیں کوئی نئی بات نہیں، لیکن جب یہ تنازعات شخصی حملوں، نازیبا الفاظ اور متشدد رویوں کی شکل اختیار کر لیں تو یہ کمزوری اور بے دلیلی کی علامت بن جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ہندوستانی سیاست کے دو اہم چہرے – آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور مشہور شاعر عمران پرتاپ گڑھی – کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ یہ تنازعہ نہ صرف سیاسی سطح پر ہے بلکہ شخصی اور جذباتی بھی، جہاں اویسی صاحب نے عمران پرتاپ گڑھی کو "ٹوٹا شاعر” اور "لیلیٰ” جیسے نازیبا الفاظ سے نوازا ہے۔ یہ الفاظ AIMIM جیسی پرانی پارٹی کی بوکھلاہٹ اور عمران پرتاپ گڑھی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم اس تنازعہ کی تفصیلات، سیاق و سباق اور اس کے پیچھے چھپے سیاسی عوامل کا جائزہ لیں گے، جو یہ بتاتے ہیں کہ اسد اویسی صاحب عمران پرتاپ گڑھی کے سامنے کمزور اور بونے نظر آ رہے ہیں۔
یہ تنازعہ کوئی اچانک نہیں بلکہ کئی ماہ سے سلگ رہا ہے۔ نومبر 2025 میں اسد الدین اویسی نے عمران پرتاپ گڑھی پر تنقید کرتے ہوئے انہیں "ٹوٹا شاعر” کہا تھا، جو ایک واضح شخصی حملہ تھا۔ یہ تنقید اس وقت شروع ہوئی جب عمران پرتاپ گڑھی نے AIMIM کو بی جے پی کی "بی ٹیم” قرار دیا اور کہا کہ وہ مسلمانوں کے ووٹ تقسیم کر کے بی جے پی کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اس کے جواب میں اویسی صاحب نے عمران کو "لیلیٰ” کا خطاب دیا، جو ایک طنزیہ اور نازیبا انداز تھا۔ جنوری 2026 تک یہ تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا، جہاں AIMIM کے کارکنوں نے عمران پرتاپ گڑھی کے خلاف نعرہ بازی کی اور سوشل میڈیا پر ان کی توہین کی۔
حالیہ دنوں میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے، جس میں عمران پرتاپ گڑھی کو ایک پروگرام کے اسٹیج پر کھڑے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں لوگ نعرہ بازی کر رہے ہیں اور عمران پرتاپ گڑھی جذباتی ہو کر رو رہے ہیں۔ یہ ویڈیو درست ہو یا AI سے تیار کی گئی، اس کی تصدیق مشکل ہے، لیکن اس نے تنازعہ کو مزید ہوا دی ہے۔ AIMIM کے کارکنوں نے اس ویڈیو کو شیئر کر کے عمران پرتاپ گڑھی کی "کمزوری” کا مذاق اڑایا، جبکہ عمران کے حامیوں نے اسے AIMIM کی بوکھلاہٹ قرار دیا۔ اسد اویسی صاحب نے بھی عمران پرتاپ گڑھی کو "ٹوٹا شاعر” کہہ کر مخاطب کیا، جو ان کی پرانی پارٹی کی بپوتی سیاست اور چار بار کے رکن پارلیمنٹ ہونے کے باوجود متشدد رویے کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ تشدد اور سخت گیری کسی کے کمزور اور بے دلیل ہونے کی سب سے بڑی علامت ہے۔ عرف عام میں کہا جاتا ہے کہ کمزوروں کا سہارا گالی اور کمزور پڑنے کا خمیازہ متشدد ہو کر دکھایا جاتا ہے۔ اسد اویسی کی پارٹی، جو 75 سال پرانی ہے، اب اکیلے عمران پرتاپ گڑھی کی مقبولیت کے سامنے کمزور پڑ رہی ہے۔
عمران پرتاپ گڑھی کوئی عام سیاستدان نہیں بلکہ ایک پڑھا لکھا، صاحب بیان، خوش الحان اور شاعر شخص ہے۔ انہیں علم العروض کی بھی جانکاری ہے، اور وہ اپنی جواں عمری کے باوجود غزل و گیت کو چھوڑ کر حالات حاضرہ کے سلگتے ہوئے معاملات پر شاعری کرتے ہیں۔ ان کی شاعری عوام و خواص کی داد و تحسین حاصل کرتی ہے، اور سوشل میڈیا پر کروڑوں مداح رکھتے ہیں۔ ہر عمر اور ہر طبقہ ، پڑھے لکھے اور غیر پڑھے لکھے لوگ ان کی پذیرائی کرتے ہیں، اور نہ صرف ہندستان بلکہ بیرون ملک بھی لوگ انہیں بلا کر سننا پسند کرتے ہیں۔ میں خود شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس کے ایک پروگرام میں عمران پرتاپ گڑھی کو سامنے سے سن چکا ہوں۔ وہ نوے منٹ تک پڑھتے رہے اور لاکھوں کی تعداد میں سامعین سے داد و تحسین حاصل کرتے رہے۔ یہ ان کی مقبولیت کا زندہ ثبوت ہے۔ دوسری جانب، اسد اویسی صاحب کی تقاریر گھسی پٹی جذباتی باتیں – موت، قبر، قوم، نوجوان، برقع، حجاب، عمر، ابوبکر – اور گالی گلوج پر مشتمل ہوتی ہیں، جس سے لوگ تنگ آچکے ہیں۔ عمران پرتاپ گڑھی کی مقبولیت اور مسلمان ہونے کی وجہ سے اسد اویسی صاحب کی آنکھوں میں خار کی طرح چبھ رہی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ AIMIM اور اس کے صدر اسد اویسی عمران پرتاپ گڑھی سے اتنا مشتعل کیوں ہیں؟ جواب واضح ہے: AIMIM کی مکمل جفاکشی مسلمانوں کو تہہ و تیغ کرنے پر مبنی ہے۔ اگر کوئی مسلمان حیدرآباد یا تلنگانہ میں ان کی برابری کے لیے بڑھے تو وہ اسے نیست و نابود کر دیتے ہیں۔ ایسی سیکڑوں ہستیاں تلنگانہ میں موجود ہیں۔ یہ بات کسی نے بہت معقول انداز میں کہی تھی کہ AIMIM اور اسد اویسی وہ سیاسی لوگ ہیں جو مسلمانوں کو ہی ہرانے کا ٹھیکہ لیتے ہیں۔ وہ کبھی کسی دوسری جماعت کے غیر مسلم امیدوار کے خلاف امیدوار نہیں کھڑا کرتے، لیکن اگر کوئی مسلمان ملک کے کسی کونے میں مقبولیت سے دوچار ہو تو اسد اویسی کی آخری خواہش ہوتی ہے کہ وہ اسے تہہ و تیغ کر دیں۔
ہر سیاسی پارٹی میں اقلیتی شعبہ ہوتا ہے، اور خود کانگریس میں بھی درجنوں مسلم اقلیتی صدر آئے اور چلے گئے، اسد اویسی ان کے نام تک بھی نہیں جان سکے۔ لیکن عمران پرتاپ گڑھی AIMIM اور اس کے کارکنان کے دسترس سے اتنے آگے نکلتے جا رہے ہیں کہ اسد اویسی کو اپنا قد چھوٹا نظر آنے لگا ہے۔ اسی لیے عمران پرتاپ گڑھی کو صدر اویسی گالی دے رہے ہیں، ان کے کارکنان مشتعل ہجوم بن رہے اور اندھے مقلدین طرح طرح کے نازیبا الفاظ کے ذریعے اپنی بوکھلاہٹ ظاہر کر رہے ہیں۔ AIMIM کی ہستی کمزور پڑتے ہوئے متشدد بھیڑ میں بدل رہی ہے۔ تلنگانہ کے سابق حکومت کے مشیر محمد شبیر علی نے AIMIM کو بی جے پی کی "بی ٹیم” قرار دیا، جس پر عمران پرتاپ گڑھی نے بھی AIMIM کی سیاست کو موقع پرستانہ قرار دیا۔ یہ تنقید AIMIM کی مسلمانوں کے ووٹ تقسیم کرنے کی حکمت عملی کو بے نقاب کرتی ہے، جو بالآخر بی جے پی کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اس تنازعہ سے واضح ہے کہ اسد اویسی صاحب عمران پرتاپ گڑھی کے سامنے بونے بن گئے ہیں۔ AIMIM کی پرانی سیاست اب عمران پرتاپ گڑھی جیسی نئی نسل کی مقبولیت اور صاحب بیان لیڈروں کے سامنے کمزور پڑ رہی ہے۔ مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے یہ لوگ دراصل مسلمانوں کے اتحاد کو توڑنے کا کام کر رہے ہیں۔ عمران پرتاپ گڑھی جیسی ہستیاں نئی امید کی کرن ہیں، جو شاعری اور سیاست کے امتزاج سے عوام کو جوڑ رہی ہیں۔ اگر AIMIM اپنے متشدد رویے کو نہ بدلے تو اس کی ہستی مزید کمزور ہو گی، اور مسلمانوں کی حقیقی نمائندگی نئی قیادت کے ہاتھوں میں آ جائے گی۔ سیاست میں دلیل اور دلیل کی جگہ گالی اور تشدد لینے سے صرف کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔ وقت بدل رہا ہے، اور نئی نسل کے لیڈر جیسے عمران پرتاپ گڑھی اس تبدیلی کی علامت ہیں۔ اللہ مسلمانوں کو اتحاد اور سچی قیادت نصیب کرے۔
اویسی عمران پرتاپ گڑھی کے سامنے بونے
تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز

