Articles مضامین

بڑھتی عالمی کشیدگی اور انسانیت کا مستقبل: کیا دنیا ایک نئے بحران کے دہانے پر ہے؟

غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار
موجودہ عالمی منظرنامہ غیر معمولی بے چینی، اضطراب اور غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، طاقت کے توازن کی بدلتی صورتِ حال، اور سفارتی محاذ پر ناکامیوں نے ایک ایسے عالمی ماحول کو جنم دیا ہے جہاں ہر لمحہ کسی بڑے بحران کے خدشات منڈلا رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم واقعی ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں جنگ محض ایک امکان نہیں بلکہ ایک حقیقت بننے کے قریب ہے؟
بین الاقوامی سیاست میں طاقتور ممالک کے درمیان رسہ کشی کوئی نئی بات نہیں، لیکن حالیہ برسوں میں اس کشیدگی کی شدت اور اس کے اثرات نے عالمی امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر یورپ اور ایشیا تک، مختلف خطے کسی نہ کسی سطح پر عدم استحکام کا شکار ہیں۔ بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت نے نہ صرف علاقائی تنازعات کو ہوا دی ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
توانائی کے بحران، مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ، اور خوراک کی قلت جیسے مسائل اب صرف پسماندہ ممالک تک محدود نہیں رہے بلکہ ترقی یافتہ ممالک بھی ان چیلنجز سے نبرد آزما ہیں۔ عام آدمی، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہے، اب عالمی سیاست کے اثرات کا براہِ راست نشانہ بن رہا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ جنگیں صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات ہر گھر، ہر فرد اور ہر معاشرے تک پہنچتے ہیں۔
مزید برآں، عالمی اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ وہ ادارے جو امن و استحکام کے ضامن سمجھے جاتے تھے، آج اکثر بے بسی کی تصویر نظر آتے ہیں۔ سفارتی کوششیں وقتی حل تو فراہم کرتی ہیں، لیکن دیرپا امن کے لیے جو سنجیدہ اور مشترکہ حکمتِ عملی درکار ہے، اس کا فقدان واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اطلاعات کی تیز رفتار ترسیل جہاں آگاہی کا ذریعہ ہے، وہیں افواہوں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ نے خوف اور بے یقینی کو بڑھا دیا ہے۔ عوامی رائے کو متاثر کرنے کے لیے اطلاعات کا استعمال ایک نئے محاذ کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات نہایت دور رس ہیں۔
ایسے نازک حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی قیادت سنجیدگی، تدبر اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرے۔ طاقت کے اظہار کے بجائے مکالمے کو فروغ دیا جائے، اور وقتی مفادات کے بجائے انسانیت کے اجتماعی مفاد کو ترجیح دی جائے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جنگیں کبھی بھی مسائل کا مستقل حل فراہم نہیں کرتیں، بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہیں۔
اگر دنیا کو ایک محفوظ اور پُرامن مستقبل کی جانب لے جانا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک باہمی احترام، انصاف اور تعاون کے اصولوں کو اپنائیں۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی ایک ایسے بحران میں تبدیل ہو جائے گی جس کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں گے۔

Related posts

جوش ملیح آبادی اور نظم ’’حالاتِ حاضرہ‘‘کاتجزیہ

Paigam Madre Watan

حماس کا حملہ اور فلسطین کی موجودہ صورت حال پر ہمارا موقف

Paigam Madre Watan

नीतीश की विदाई के मायने 

Paigam Madre Watan

Leave a Comment