مہاراشٹر کے وزیر اور بی جے پی لیڈر نتیش رانے نے حال ہی میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) اور اس کے صدر اسدالدین اویسی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے اے آئی ایم آئی ایم کو "دہشت گرد تنظیم” قرار دیا ہے، اویسی کا موازنہ اسامہ بن لادن سے کیا ہے، اور مطالبہ کیا کہ اس پر پابندی لگائی جائے جیسا کہ پی ایف آئی پر لگائی گئی تھی۔ یہ بیان ناسک کے ٹی سی ایس کیس یا اویسی کے "حجاب والی وزیراعظم” والے بیان کے تناظر میں سامنے آیا، جس نے سیاسی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا۔ میرے نقطہ نظر کے مطابق، نتیش رانے کا یہ بیان کوئی تعجب کی بات نہیں بلکہ دوراندیشی کی مثال ہے۔ نتیش رانے نے اپنے غصے کو معصوم مسلمان افراد پر موب لنچنگ کی شکل میں نہیں اتارا، بلکہ سیاسی اور نظریاتی سطح پر جواب دیا۔ اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کی رائے میں اویسی اور ایم آئی ایم اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں جو نتیش رانے نے کہا۔ آئیے اس پر تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔
نتیش رانے نے کہا کہ "اے آئی ایم آئی ایم ایک دہشت گرد تنظیم ہے“۔ اسامہ بن لادن اور اسدالدین اویسی میں کوئی فرق نہیں۔ جو کام بن لادن القاعدہ کے ذریعے کرتا تھا، وہی اویسی ایم آئی ایم کے ذریعے کر رہا ہے۔ اویسی اور ایم آئی ایم کے منشور میں صرف ایک ایجنڈا ہے ”الگاواداور علاحدگی پسندی”۔ انہوں نے منتخب حلقوں میں ایم آئی ایم کے کاموں پر بھی سوال اٹھایا اور پابندی کا مطالبہ کیا۔ یہ بیان خالی اشتعال انگیز نہیں، بلکہ متعدد واقعات پر مبنی ہے۔ ایم آئی ایم کی تاریخ (رضاکار پارٹی) سے جڑی ہے، جو 1940 کی دہائی میں حیدرآباد میں مسلمانوں کی بالادستی اور علیحدگی پسندی کی علامت تھی۔ آزادی کے بعد بھی اس کی سیاست فرقہ وارانہ خطوط پر چلتی رہی ہے۔ اویسی خاندان کی تقریروں میں اکثر "مسلم پہچان”، "علاحدگی پسندی” جیسے الفاظ، اور ہندوستان کو "ہندو راشٹر” کہنے پر تنقید شامل ہوتی ہے۔ اویسی کے حالیہ "حجاب والی بیٹی وزیراعظم بنے گی” والے بیان نے بہت سے ہندوستانیوں میں تشویش پیدا کی، کیونکہ یہ سیکولرزم کے نام پر ایک خاص ایجنڈے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
نتیش رانے کا بیان ان لوگوں کے لیے تعجب کی بات نہیں جو بھارتی سیاست اور سماجی حقیقت کو قریب سے دیکھتے ہیں۔ ایم آئی ایم اکثر انتخابات میں ووٹ کی پولرائزیشن کرتی ہے۔ مہاراشٹر، تلنگانہ اور دیگر ریاستوں میں اس کی موجودگی ہندو-مسلم تقسیم کو بڑھاوا دیتی ہے۔ بی جے پی اور دیگر پارٹیاں اسے ”جعلی سیکولر یا دکھاوٹی سیکولر” سیاست کا حصہ قرار دیتی ہیں جو صرف مسلم ووٹ بینک کو ٹارگٹ کرتی ہے۔اگرچہ ایم آئی ایم خود کو سیکولر اور مسلم مفادات کی پارٹی کہتی ہے، مگر اس کی تقریروں، پوسٹروں اور بعض لیڈروں کے بیانات میں اسلامک سپریمسی یا علاحدگی پسند سوچ کی بو آتی ہے۔ ناسک مہاراشٹر جیسے کیسز میں ایم آئی ایم کارپوریٹر کے ملوث ہونے کے الزامات نے اسے مزید تنقید کا نشانہ بنایا۔
نتیش رانے کا سوال جائز ہے کہ جہاں ایم آئی ایم منتخب ہوئی، وہاں تعلیم، صحت، روزگار جیسے شعبوں میں کیا قابل ذکر کام ہوا؟ بجائے اس کے، سیاست مذہبی نارے، فلسطین، حجاب اور اینٹی ہندو بیانیے پر چلتی رہی۔ ٹھیک ہی کہا کہ عام طور پر "نیچ اور لفنگے” لوگ غصے میں معصوم مسلمانوں پر موب لنچنگ یا تشدد کر دیتے ہیں، جو قابل مذمت ہے۔ نتیش رانے نے اس کے برعکس سیاسی سطح پر جواب دیا۔ یہ دوراندیشی ہے کیونکہ یہ قانون اور جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے چیلنج ہے۔ عوام کو بیدار کرتا ہے کہ ووٹ بینک کی سیاست ملک کی وحدت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ہندوستان ہندو اکثریتی ملک ہے (تقریباً 80-85% آبادی)، مگر یہ سب کے لیے ہے۔ ایک طرفہ سیکولرزم جو صرف اکثریت پر پابندیاں لگاتا ہے، قبول نہیں۔
اگر ایم آئی ایم واقعی ترقی پسند ہوتی تو وہ مسلم نوجوانوں کو جدید تعلیم، ہنر، اور قومی دھارے میں شامل کرنے پر توجہ دیتی، نہ کہ مسلسل مظلومیت اور علاحدگی پسندی کے بیانیے پر۔ اویسی اور ایم آئی ایم اس سے بھی گئی گزری چیزہیں؟ بہت سے تجزیہ کاروں اور عام عوام کی رائے میں جی ہاں۔ اویسی کی تقریریں اکثر ہندوستان کی تہذیب، تاریخ (اورنگزیب کی تعریف وغیرہ) اور آئین کی تشریح پر ایک مخصوص اینٹی ہندو زاویہ رکھتی ہیں۔ "حجاب والی پی ایم” والا بیان بہت سے لوگوں کو لگا کہ یہ ڈیموگرافک تبدیلی اور اسلامک ریاست کے خواب کی طرف اشارہ ہے۔
ایم آئی ایم بی جے پی کے خلاف "مسلم اتحاد” کی بات کرتی ہے مگر عملی طور پر بعض معاملات میں ووٹ شیئرنگ یا تقسیم کا فائدہ اٹھاتی ہے۔ جہاں دیگر مسلم لیڈر (جیسے بعض کانگریس یا علاقائی پارٹیوں والے) ترقی پر بات کرتے ہیں، اویسی کا فوکس زیادہ تر مذہبی شناخت اور شکایات پر رہتا ہے۔ یہ نوجوان نسل کو انتہا پسندی رجحان کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اگرچہ ثابت شدہ نہیں، مگر فلسطین، اینٹی اسرائیل اور گلوبل اسلامسٹ بیانیوں سے ایم آئی ایم کی قربت الزامات کو ہوا دیتی ہے۔
نتیش رانے کا بیان ایک آواز ہے جو بہت سے خاموش ہندوستانیوں کے دل کی بات کہتی ہے۔ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اکثریت کی تہذیب، جذبات اور تشویش کو نظر انداز کیا جائے۔ ایم آئی ایم جیسے پارٹیوں کو اگر ترقی پسند بننا ہے تو انہیں اپنے بیانیے کو تبدیل کرنا ہوگا، علاحدگی پسندی کی بجائے تعلیم، اتحاد کی بجائے قومی یکجہتی، اور مظلومیت کی بجائے خود احتسابی پر زور دینا ہوگا۔ نتیش رانے نے جو کہا، وہ غصے کا نہیں بلکہ حقیقت کا بیان ہے۔ اور جیسا کہا جاتا ہے کہ اویسی اور ایم آئی ایم اس سے بھی آگے کی چیز ہیں۔ سیاسی بحث میں اشتعال اور جوابی اشتعال دونوں ہوتے ہیں، مگر اصل حل یہ ہے کہ عوام ووٹ کے ذریعے فیصلہ کریں کہ کون سا بیانیہ ملک کو آگے لے جائے گا — تقسیم کا یا اتحاد کا۔ ہندوستان اول، باقی سب بعد میں۔ یہ دوراندیشی ہے، نہ کہ نفرت۔
نتیش رانے: اویسی، اسامہ بن لادن۔ میم ۔القاعدہ؟
تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز

