غلام مزمل عطاؔ اشرفی
سہرسہ، بہار
موجودہ دور کی عالمی سیاست ایک عجیب تضاد کا شکار نظر آتی ہے۔ ایک طرف دنیا انسانی حقوق، عالمی انصاف اور امن کے قیام کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے، جبکہ دوسری طرف مختلف خطوں میں جاری جنگیں اس حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہیں کہ طاقت اور مفادات کے سامنے انسانیت اکثر بے بس دکھائی دیتی ہے۔ خاص طور پر جب جنگوں میں معصوم بچوں کی ہلاکتوں کی خبریں سامنے آتی ہیں تو یہ صرف ایک انسانی سانحہ نہیں بلکہ عالمی ضمیر کے لیے ایک گہرا سوال بن جاتا ہے۔
آج دنیا کے کئی علاقوں میں جنگ کے نتیجے میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ بمباری، محاصرے اور تباہی کے مناظر میں معصوم بچوں کی زندگیاں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ کبھی اسکولوں پر حملے ہوتے ہیں، کبھی اسپتال تباہ کیے جاتے ہیں اور کبھی پورے کے پورے رہائشی علاقے ملبے کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں وہ بچے جو ابھی زندگی کی حقیقتوں سے بھی واقف نہیں ہوتے، جنگ کی ہولناکیوں کا شکار بن جاتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون اور جنگی اصولوں کے مطابق جنگ کے دوران عام شہریوں، خصوصاً بچوں، عورتوں اور بیماروں کو نشانہ بنانا ایک سنگین جرم ہے۔ جنیوا کنونشن اور دیگر عالمی معاہدوں میں واضح طور پر یہ اصول طے کیے گئے ہیں کہ جنگ میں بھی انسانیت کی بنیادی اقدار کا احترام ضروری ہے۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ موجودہ جنگی حالات میں ان اصولوں کی کھلی خلاف ورزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
معصوم بچوں کی ہلاکتوں کا مسئلہ صرف انسانی ہمدردی کا نہیں بلکہ عالمی اخلاقیات کا بھی مسئلہ ہے۔ ایک بچہ کسی بھی قوم یا مذہب کا ہو، اس کی جان کی قدر یکساں ہونی چاہیے۔ بچے کسی بھی سیاسی تنازع یا عسکری حکمتِ عملی کا حصہ نہیں ہوتے، اس لیے ان کی جانوں کا ضیاع پوری انسانیت کے لیے ایک اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔
اس صورت حال میں سب سے زیادہ حیران کن پہلو عالمی قیادت کی خاموشی ہے۔ بہت سے ممالک اور عالمی ادارے ایسے واقعات پر رسمی بیانات تو دیتے ہیں، مگر عملی اقدامات کے حوالے سے ان کی سنجیدگی اکثر سوالات کو جنم دیتی ہے۔ عالمی سیاست کا تلخ پہلو یہ ہے کہ اکثر فیصلے اخلاقیات کے بجائے مفادات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ جب کسی جنگ میں بڑی طاقتوں کے سیاسی یا معاشی مفادات شامل ہوتے ہیں تو انسانی حقوق کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عالمی اداروں کی ساخت ایسی ہے کہ ان کے فیصلے بڑی طاقتوں کے اثر و رسوخ سے آزاد نہیں رہ پاتے۔ اقوام متحدہ جیسے ادارے بظاہر عالمی امن کے محافظ ہیں، مگر سلامتی کونسل کے ویٹو نظام کی وجہ سے کئی اہم فیصلے رُک جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مظلوموں کے لیے انصاف کا راستہ پیچیدہ اور طویل ہو جاتا ہے۔
اس عالمی خاموشی کا ایک اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ جنگی جرائم کرنے والے عناصر کو یہ پیغام ملتا ہے کہ انہیں فوری اور سخت احتساب کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ جب ظلم کے خلاف مؤثر ردعمل نہ آئے تو ظلم کرنے والوں کے حوصلے بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی جنگی تنازعات میں عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات بار بار سامنے آتے ہیں۔
دوسری طرف یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ عالمی میڈیا اور رائے عامہ کا کردار بعض اوقات غیر متوازن ہو جاتا ہے۔ کچھ سانحات کو دنیا بھر میں بھرپور توجہ ملتی ہے جبکہ کچھ واقعات عالمی توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس عدم توازن کے باعث بھی کئی مظلوم قوموں کی آواز پوری شدت کے ساتھ دنیا تک نہیں پہنچ پاتی۔
لیکن اس تاریک صورت حال کے باوجود امید کی کرن ابھی باقی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم اپنی حد سے بڑھا ہے تو انسانی ضمیر نے بالآخر بیدار ہو کر انصاف کی آواز بلند کی ہے۔ دنیا کے اہلِ فکر، دانشور، ادیب، صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن ہمیشہ ایسے مواقع پر ظلم کے خلاف قلم اور زبان کے ذریعے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی برادری جنگی اصولوں کے نفاذ کو محض کاغذی قوانین تک محدود نہ رکھے بلکہ عملی اقدامات کرے۔ جنگی جرائم کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، عالمی عدالتوں کو مضبوط بنانا اور مظلوموں کو فوری انسانی امداد فراہم کرنا ایسے اقدامات ہیں جو حالات کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ دنیا کی بڑی جمہوریتیں اور عالمی قیادتیں اپنے اخلاقی کردار کو مضبوط کریں۔ طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے، اور اگر عالمی قیادت مظلوموں کے حق میں آواز بلند نہ کرے تو اس کی اخلاقی حیثیت کمزور ہو جاتی ہے۔
آخرکار ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر جنگیں ان کے خوابوں کو تباہ کر دیں، اگر ان کا بچپن بارود اور خوف کے سائے میں گزرے، تو اس کے اثرات صرف ایک نسل تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری انسانیت کے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔
اس لیے آج دنیا کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا عالمی نظام واقعی انصاف اور انسانیت پر قائم ہے یا پھر یہ صرف طاقت کے توازن کا کھیل ہے؟ اگر دنیا کو ایک پرامن اور مہذب مستقبل کی طرف بڑھنا ہے تو اسے معصوم بچوں کے خون کے سامنے خاموش رہنے کے بجائے انصاف اور انسانیت کے حق میں کھڑا ہونا ہوگا۔ کیونکہ تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوئیں اور ان کو بھی جو خاموش تماشائی بن کر دیکھتی رہیں۔

