Delhi دہلی

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام فخر الدین علی احمد یادگاری خطبے کا انعقاد

غالب انسٹی ٹیوٹ ہر سال فخر الدین علی احمد یادگاری خطبے کا انعقاد کرتا ہے۔ 30مئی کو شام 5 بجے ایوان غالب میں اس سال کا فخر الدین علی احمد یادگاری خطبہ ’ہماری تہذیب کے مشترک پہلو‘ کے عنوان سے پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مہمان مقرر اور معروف مورخ جناب سہیل ہاشمی نے خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کوئی تہذیب خالص نہیں ہوتی خصوصاً ہمارے ملک میں تو لباس رہن سہن اور طرز تعمیر میں مختلف تہذیبوں کا رنگ شامل ہے۔ یہ رنگ اس طرح شامل ہوگیا ہے کہ جب تک ان کو غور سے نہ دیکھا جائے یہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ اس کے اجزا اتنے مختلف ہیں۔ یہاں کے طرز تعمیر کو ہی دیکھیے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس میں مختلف اقوام کی طرز فکر جلوہ دے رہی ہے۔ عوامی اور شخصی تعمیرات کے علاوہ مذہبی عمارتوں میں بھی یہ رنگا رنگی آپ کو نظر آجائے گی۔ مسجد میں محراب اور گنبد سب سے نمایاں اجزا ہیں گنبد رومیوں نے اور محراب سمیر والوں کی ایجاد ہے اس کا اسلام سے ان معنوں میں کوئی رشتہ نہیں جس طرح ہمیں محسوس کرایا جاتا ہے۔ نہ کوئی طرز تعمیر اسلامی ہے نہ ہندو یہ انگریزوں کی پیدا کردہ تخصیص ہے جو انھوں نے خاص مقصد کے تحت پیدا کی تھی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان گوشوں پر غیر جانبدارانہ انداز میں غور کریں کیوں کہ آزاد ملک کا مطلب صرف اپنا نظام نافذ کرنا نہیں ہے بلکہ آزاد فکر کا رواج بھی ہے۔ خطبے کی صدارت غالب انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین اور سابق چیف جسٹس جموں، کشمیر جناب بدر درریز احمد نے کی۔ صدارتی تقریر میں انھوں نے کہا مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ یہ خطبہ جس معیار کے لیے جانا جاتا ہے آج سہیل ہاشمی صاحب کی گفتگو نے اسے ثابت بھی کیا۔ میں بھی ایک زمانے سے ان گوشوں پر سوچتا رہا ہوں اور کئی بار خود سے سوال کیا کہ جسے خالص کا نام دیا جاتا ہے اگر واقعی اسی کو اپنا لیا جائے تو ہم کتنی ایجادات سے محروم ہوجائیں گے۔ انسانی ایجاد کسی تقسیم کو نہیں مانتی۔ یہ اے آئی کا زمانہ ہے کیا ہم اسے کسی ایک قوم کی ایجاد کہہ سکتے ہیں؟ یقینا اس میں دنیا کی اقوام نے اپنا حصہ ڈالا ہے تب جاکر ہم کسی بڑی ایجاد سے فیض یاب ہو سکے ہیں۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے کہا فخر الدین علی احمد یادگاری خطبہ اس لیے بھی بہت اہم ہوجاتا ہے کہ اس میں خالص ادبی گفتگو نہیں ہوتی بلکہ کچھ مختلف موضوعات کی تلاش کا عمل اسے منفرد بناتا ہے۔ اسی لیے ہمیں ایسی شخصیت کی تلاش رہتی ہے جو اس کی دیرینہ شان کو قائم رکھ سکے۔ سہیل ہاشمی کے کام سے ساری دنیا واقف ہے۔ ان کی معلومات اور حافظے سے وہ لوگ بہت متاثر ہیں جنھوں نے ان کی گفتگو سنی ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا فخرالدین علی احمد یادگاری خطبہ غالب انسٹی ٹیوٹ کا باوقار خطبہ ہے اہل علم حضرات کو اس کا انتظار رہتا ہے اور اکثر لوگ اس کے بارے میں دریافت بھی کرتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہم سال بھر اردو ادب و ثقافت کے سلسلے میں مذاکروں کا اہتمام کرتے ہیں لیکن یہ ایسا موقع ہوتا ہے جس میں کچھ مختلف موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ فخرالدین علی احمد صاحب کی شخصیت ہی ایسی ہشت پہلو تھی۔ یادگاری خطبے میں علم و ادب سے وابستہ اہم شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

Related posts

कंपनी से पैसे वापसी के बाद भी 50 फीसदी लोगों ने ट्रेडिंग जारी रखने का ऐलान किया

Paigam Madre Watan

वर्तमान समय के मीर सादिक और मीर जाफ़र

Paigam Madre Watan

عآپ ممبر پالیمنٹ سنجے سنگھ ایک پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے

Paigam Madre Watan