International بین الاقوامی خبریں

حیدر قریشی: عالمی ادیب، میرے مشفق و مربی

حیدر قریشی: عالمی ادیب، میرے مشفق و مربی

تحریر ….9911853902….مطیع الرحمن عزیز…. ایڈیٹر روزنامہ ”پیغام مادر وطن“
جرمنی میں سکونت اختیار کیے ہوئے عالمی پیمانے کے اردو ادیب، مفکر اور دور اندیش شخصیت، میرے مشفق، میرے مربی اور تحریری کاوشوں میں میرے استاذِ کامل جناب حیدر قریشی صاحب۔ زیرِ نظر تصویر ایک عرصہ سے میری تلاش میں تھی۔ تھک ہار کر بیٹھ جانے کے بعد اچانک ایک دن جناب حیدر قریشی صاحب کے وال پر نمودار ہوئی تو دل خوشی سے جھوم اٹھا۔ جناب حیدر قریشی صاحب نے بتایا کہ یہ تصویر مارچ 2012 کی ہے، جب وہ بھارت کے کچھ ادبی کانفرنسوں میں شرکت کیلئے آئے ہوئے تھے۔ دہلی میں قیام کے دوران غالب انسٹی ٹیوٹ میں ہماری ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت شاہد ماہلی صاحب (رحمہ اللہ) بھی موجود تھے۔ آپ کی اردو کیلئے مسلسل مہمات قابلِ ستائش ہیں۔ رشک آتا ہے کہ کوئی شخص ایک ہی مہم سے اس قدر گہرا تعلق قائم کر لے تو اپنی جستجو، لگن اور جہدِ مسلسل سے بامِ عروج تک پہنچ جاتا ہے۔ آپ کی کاوشیں دیکھ کر اردو ادب کے طلبہ و شائقین حیران و شادماں ہوتے ہیں۔ جناب کی وہ تمام کتابیں جو بھارت میں شائع ہوئی ہیں، خصوصاً آپ کی خود نوشت "عمر حاصل کا لاحاصل”، مجھ تک ضرور پہنچائیں۔ اس کتاب نے مجھے بہت کچھ سکھایا اور جینا بھی سکھایا۔ اسی کتاب کی مرہونِ منت ہے کہ میں اپنے والدِ مکرم جناب مولانا عزیز الرحمن سلفی سے عرض کر سکا کہ وہ بھی اپنی زندگی کے گزرے مراحل قلم بند فرمائیں۔ میرے والدِ گرامی ابتدا میں انکار کر چکے تھے۔ جب جناب حیدر قریشی صاحب نے انہیں سمجھایا تو وہ مان گئے۔ والدِ مکرم کے لبوں پر ایک ہی سوال تھا: "بھلا میری سوانح عمری کو کون شائع کرے گا؟” اس پر جناب حیدر قریشی صاحب نے بہت تاریخی اور یادگار الفاظ کہے تھے: "آپ لکھیں۔ اس کے پسند کرنے والے اور شائع کرنے والے آئندہ مل جائیں گے۔ جہاں تک راستہ نظر آتا ہے، چل نکلیں۔ آگے کا راستہ وہاں پہنچ کر نظر آنے لگے گا۔” اور ویسا ہی ہوا۔ میں نے والدِ گرامی کی گردِ غبار والی اٹیچی میں پڑے تمام مواد کو ترتیب دے کر شائع کرا دیا، جس میں ان کی سوانح عمری بھی شامل ہے۔ اب یہ کتاب "رشحاتِ قلم: خود نوشتِ عزیز الرحمن سلفی” کے نام سے دستیاب ہے۔
جناب حیدر قریشی صاحب کی محبتوں، عنایتوں، شفقتوں اور سرپرستی کا شمار کرنا مشکل ہی نہیں، بلکہ ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی ان کے حسنات کا بھرپور اجر عطا فرمائے، آمین۔ میرے والدِ گرامی مولانا عزیز الرحمن سلفی کی نایاب شعری تحریریں برسوں سے گھر کی ایک پرانی اٹیچی میں دھول اور خاک کی تہوں تلے دفن تھیں۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے ان تمام اشعار کو احتیاط سے کمپوز کیا ہوا تھا، مگر کئی درجنوں شخصیات سے درخواست کے باوجود کوئی اسے شائع کرنے کا حوصلہ نہیں کر پایا۔ سب کا یہی کہنا تھا کہ "شاعری اچھی ہے، مگر شائع کرنا مشکل ہے”۔ ایسے میں جناب حیدر قریشی صاحب نے جب اس شعری مجموعے کا ذکر سنا تو فوراً بذریعہ ای میل اسے طلب فرمایا۔ آپ نے نہ صرف اسے قبول کیا بلکہ خود اس کی نگرانی فرمائی اور ایجو کیشنل پبلشنگ ہاوس، نئی دہلی سے شائع کروا کر مجھ پر ایک ایسا احسان کیا جو زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔ صرف شائع کروانا ہی نہیں، بلکہ آپ نے اس مجموعے کی قدر و قیمت میں چار چاند لگا دیے۔ عالمی شہرت یافتہ ادیبوں، شعرا اور ناقدین سے قیمتی تاثرات اور تعارفات حاصل کیے، جنہوں نے اس کتاب کو ایک معیاری اور قابلِ قدر حیثیت عطا کر دی۔ یہ شعری مجموعہ "پرواز” کے نام سے منظرِ عام پر آیا۔ طباعتِ اوّل کے ایک ہزار نسخے مارکیٹ میں بے حد مقبول ہوئے اور اب دوسرا ایڈیشن بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔ الحمدللہ۔ اسی طرح میری 800 صفحات پر مشتمل تفصیلی کتاب "جذبہ شاہین: عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ” کیلئے بھی آپ نے اپنے گراں قدر مشوروں، رہنمائی اور قیمتی تاثرات سے نوازا۔ آپ کی رہنمائی نے اس کتاب کو ایک نئی جہت اور گہرائی عطا کی۔ اردو ایڈیشن کے ایک ہزار نسخے کھپ جانے کے بعد اب اس کا دوسرا ایڈیشن تیار ہو رہا ہے، جو اردو کے ساتھ ساتھ ہندی اور انگریزی زبان میں بھی شائع کیا جائیگا۔ اللہ تعالیٰ اس مبارک خواہش کو جلد از جلد مکمل فرمائے اور اس کتاب کو بھی "پرواز” کی طرح مقبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔
میں نے مخلص، جہد مسلسل کرنے والے اور ادبی مہم جو افراد کی ایک نمایاں خصوصیت مشترکہ طور پر دیکھی ہے کہ وہ اپنے متعارفین کو اپنے قد جیسے اعلیٰ افراد کے ساتھ رابطہ بڑھانے اور ان کی پہچان کرانے میں ذرہ برابر بھی تامل نہیں کرتے۔ وہ دوسروں کی صلاحیتوں کو پہچانتے ہی ہیں کہ انہیں عالمی ادبی حلقوں تک پہنچانے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔ جناب حیدر قریشی صاحب نے میرے ساتھ بھی یہی فیاضی اور بزرگ مروت کا معاملہ کیا۔ آپ نے نہ صرف عالمی پیمانے کے نامور ادیبوں، شعرا اور مفکروں سے میرا تعارف کرایا بلکہ باقاعدہ طور پر ایک دوسرے سے رابطے، تعاون اور باہمی مددگار بننے کی تلقین بھی فرمائی۔ آپ کی بدولت مجھے کنیڈا، جرمنی، اسکاٹ لینڈ (ہائی لینڈز)، انگلینڈ، فرانس اور دیگر ممالک کے علاوہ بھارت کے کئی نامور ادیبوں اور دانشوروں سے ملنے، بات چیت کرنے اور ان کے ساتھ ادبی رشتہ قائم کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ آج بھی جب ان ملاقاتوں اور تعلقات کو یاد کرتا ہوں تو دل میں ایک خاص قسم کی خوشی اور شکر گزاری جاگ اٹھتی ہے۔ الحمدللہ۔ جناب حیدر قریشی صاحب کی شخصیت میں اردو ادب کی خدمت اور لوگوں کے اندر اردو کے تئیں جذبہ اور لگن پیدا کرنے کی ایک مسلسل مہم نظر آتی ہے۔ آپ کی ایک تحریر میں میں نے پڑھا تھا کہ : ”بڑے بڑے نامور لکھنے پڑھنے والے لوگ تو اپنی کاوشوں کو تکمیل تک پہنچا لیتے ہیں، لیکن ہمیں ان دور دراز دیہی علاقوں میں گمنامی کی زندگی گزارنے والے نو عمر اردو ادیبوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی، ان کی آواز کو تقویت دینی ہو گی۔“ یہ محض قول نہیں تھا، بلکہ آپ نے اسے اپنے عمل سے ثابت بھی کیا۔ آپ نے دنیا بھر کے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے اردو ادیبوں، چھوٹے بڑے لکھنے والوں کے مقالات، مضامین اور تخلیقات کو جمع کرکے اپنے ضخیم اور معیاری رسالے ”جدید ادب“ میں شائع کیا۔ پھر ان رسائل کی کاپیاں نہ صرف بھارت بلکہ بیرونِ ملک تک پہنچائیں۔ مجھے اس بات کا خاص طور پر فخر اور خوشی ہے کہ آپ نے میری چھوٹی سی کاوش اور ادبی کوشش کو بھی بذریعہ نام ”جدید ادب“ میں شائع فرمایا۔ اس کی ایک یادگار مثال وہ دن ہے جب میرے ایک فاضل دوست رضی الدین سے دورانِ سفر ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کی عظیم لائبریری میں ”جدید ادب“ کا تازہ شمارہ پڑھ رہے تھے اور اس میں میرا نام اور تحریر دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ ان کے تعریفی کلمات سن کر مجھے احساس ہوا کہ یہ سب جناب حیدر قریشی صاحب کی وسیع القلبی، حوصلہ افزائی اور سرپرستی کا نتیجہ ہے۔ آپ نے مجھ جیسے ایک عام سے لکھنے والے کو بھی ادبی دنیا میں پہچان دلانے کا جو احسان کیا ہے، وہ میرے دل میں ہمیشہ تازہ رہے گا۔
جناب حیدر قریشی صاحب کی شفقتوں، عنایتوں اور بزرگ مروت کے بے شمار قصے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک قصہ احسان اور محبت کی ایک نئی داستان بیان کرتا ہے۔ آج جب دہلی کے اردو انسٹی ٹیوٹ میں کئی سال پہلے لی گئی میری تصویر اچانک مجھے مل گئی تو دل میں ایک طوفانِ یاد اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ ملاقات، وہ گفتگو، وہ ادبی ماحول، وہ شفقت بھری نگاہیں اور وہ حوصلہ افزائی کے الفاظ سب یاد آ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ایک چھوٹی سی تحریر لکھنے کیلئے بیٹھ گیا، جو در حقیقت ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات اور ان کے احسانات کے ایک چھوٹے سے اعترافِ شکر سے زیادہ کچھ نہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جناب حیدر قریشی صاحب کو صحت و تندرستی کے ساتھ لمبی، بابرکت اور کارآمد زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔ ایک استاذ کی سی شفقت، ایک مربی کی سی بصیرت اور ایک بزرگ ادیب کی سی دور اندیشی رکھنے والے جناب حیدر قریشی صاحب سے مجھے بہت کچھ سیکھنے، سمجھنے اور پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ ان کی تحریروں، ان کی بات چیت، ان کے طرزِ فکر اور ان کی عملی کاوشوں نے مجھ پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ ان کی ادبی مہمات، ان کی انتھک محنت اور اردو زبان و ادب کی خدمت کے جذبے کو دیکھ کر میرے دل میں بھی کئی ادبی، تخلیقی اور خدمتِ خلق کی مہمات کی خواہش پیدا ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اتنی توفیق، استقامت اور قوت عطا فرمائے کہ میں ان خوابوں اور خواہشوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکوں۔ رہتی زندگی میں کم از کم کچھ نہ کچھ ایسا کام کر سکوں جو اردو ادب کے لیے مفید ہو، جو آنے والی نسلوں کے کام آئے اور جو میرے مربی جناب حیدر قریشی صاحب کے دیے ہوئے حوصلے اور رہنمائی کے لائق ہو۔ آپ جیسے بزرگ ادیب کی دعائیں، شفقت اور سرپرستی میرے لیے ہمیشہ باعثِ فخر اور طاقت رہے گی۔

Related posts

جین جی تحریک کے سربراہ سدن کا بیان: ایک ایک بھرشٹاچاری سے ایک ایک پیسے کا حساب لیا جائے گا اور اب نیپال میں نیپالی ناگرک کی حکومت چلے گی

Paigam Madre Watan

جمعیت علمائے اہل حدیث کی مسجد میں مملکة سعودی عرب کے داعي وزارة الشؤون الإسلامية بالدعوة والإرشاد فضیلة الشيخ سالم محمد المري نے نماز جمعہ پڑھایا

Paigam Madre Watan

چند اہم تجاویز پر حتمی فیصلے کے ساتھ جمعیت علماء نیپال کا پروگرام بحسن وخوبی اختتام پذیر

Paigam Madre Watan