ہیرا گروپ کو بے سہارا، لاچار و بے یار و مددگار کرنے کیلئے
ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی ذاتی قانونی صلاح کار کو گرفتار کر لیا
نئی دہلی / حیدرآباد (رپورٹ: مطیع الرحمن عزیز)ہیرا گروپ آف کمپنیز کی چیئرپرسن اور سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی دوبارہ گرفتاری کے فوراً بعد ان کی ذاتی قانونی صلاح کار نازنین عابدہ کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ اس اقدام نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) حیدرآباد زونل آفس کے خلاف شکوک و شبہات کو مزید تقویت دی ہے کہ محکمہ کے پاس ہیرا گروپ کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں۔ پس منظر اور کیس کی تاریخ بتاتی ہے کہ ای ڈی حیدرآباد زونل آفس 2018 سے ہیرا گروپ آف کمپنیز کے خلاف تفتیش کر رہا ہے۔ 2021 میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو عدالت سے ضمانت مل چکی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس کیس میں یہ رائے ظاہر کی تھی کہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ اور ان کی کمپنی کو سیاسی عناد کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اب جون 2026 میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی دوبارہ گرفتاری، عدالت کی جانب سے دی گئی جائیدادوں پر کارروائی کے بجائے ای ڈی کی جانب سے MSTC ویب سائٹ پر 50 جائیدادوں کی من مانی نیلامی کا اعلان کیا گیا ہے۔ ماہرین اور متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ای ڈی کی قانونی کمزوری اور ثبوتوں کی عدم دستیابی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 2018 میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی گرفتاری کے وقت ای ڈی نے کمپنی کی تمام جائیدادوں پر اٹیچمنٹ آرڈرز چسپاں کر دیے، دفتروں پر تالے لگا دیے اور کارپوریٹ ہیڈ آفس سے ہارڈ ڈسکس سمیت تمام ڈیٹا ضبط کر لیا گیا۔ اس وقت حیدرآباد پولیس کمشنر انجنی کمار کے بیانات بھی تنازع کا باعث بنے تھے۔ ان کارروائیوں کی جڑ 2012 میں اسد اویسی کی جانب سے درج کیے گئے ایف آئی آر سے ملتی ہے، جس میں بعد میں اویسی کو عدالت میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور ان پر ہتک عزت کا سو کروڑ روپے کا مقدمہ بھی قائم ہوا۔ اب 2026 میں تقریباً ایک جیسے انداز میں دوبارہ گرفتاریاں اور جائیدادوں کی کارروائی کی جا رہی ہے۔ نازنین عابدہ کی گرفتاری کو ای ڈی کی بے بسّی کا واضح ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔ 8 سال گزرنے کے باوجود ای ڈی اب تک کمپنی کے خلاف کوئی پکا ثبوت پیش نہیں کر سکی۔ ماہرین کے مطابق یہ بوکھلاہٹ ہے جو طاقت کے زور پر کیس کو آگے بڑھانے کی کوشش کی شکل اختیار کر رہی ہے، خاص طور پر جب عدالتوں میں گرمی کی تعطیلات جاری ہیں۔
ای ڈی کی 2018 کی کارروائیوں کے دوران ہیرا گروپ کی متعدد قیمتی جائیدادوں پر زمین مافیا نے ناجائز قبضہ کر لیا تھا۔ چند نمایاں مثالیں یہ ہیں، ٹولی چوکی، ایس اے کالونی، مہنگی زمینوں پر ایس اے بلڈرز کے سید اختر اور ان کے داماد عبد الرحیم نے قبضہ کر کے ملٹی اسٹوری عمارتیں تعمیر کر لیں۔بنجارہ ہلز کے ایک مہنگے بنگلے پر فلم پروڈیوسر بنڈلہ گنیش نے قبضہ جما لیا۔اور جبلی ہلزکے ایک بنگلے پر سید معین الدین (وقف معاملات کے صدر) نے قبضہ کر لیا۔ایسے درجنوں دیگر ناجائز قبضوں کی مثالیں موجود ہیں۔ الزام ہے کہ ای ڈی ان ناجائز قبضہ مافیا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہا، الٹا ہیرا گروپ کی مزید جائیدادوں کو عدالت سے حاصل کر کے MSTC پر 50 جائیدادوں کی نیلامی کا اعلان کر کے اپنی من مانی کر رہا ہے۔اب سوال اٹھتا ہے کہ کیا ای ڈی کے پاس واقعی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں؟کیا سیاسی دباو یا بیرونی طاقتیں اس کارروائی کے پیچھے ہیں؟جائیدادوں پر مافیا کے قبضے کیوں نظر انداز کیے جا رہے ہیں جبکہ کمپنی کی جائیدادوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ یہ سوالات وقت کے ساتھ مزید شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ہیرا گروپ کیس نہ صرف ایک کاروباری ادارے کی کہانی ہے بلکہ انصاف، ثبوت کی بنیاد پر کارروائی اور سیاسی انتقام کے الزامات کا آئینہ بھی بن چکا ہے۔ای ڈی کی جانب سے کوئی جواب سامنے آئے تو کیس کی حقیقت مزید واضح ہو سکتی ہے۔ فی الحال 8 سالہ تفتیش، گرفتاریاں، جائیدادوں کی من مانی نیلامی اور مافیا کے ناجائز قبضوں کی خاموشی، سب مل کر عوام کے ذہن میں سنگین سوالات پیدا کر رہے ہیں۔
انفارسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے ہیرا گروپ آف کمپنیز پر جاری نئی گرفتاری کی کارروائیوں کے پیچھے کوئی طاقت کار فرما ہے، یہ بات وقت بتائے گا، لیکن یہ بات واضح ہے کہ 2018میں ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی گرفتاری کے وقت ہیرا گروپ کی جائیدادوں پر حیدرآبادی زمین مافیاﺅں نے نا صرف قبضہ کر لیا تھا، بلکہ ٹولی چوکی ایس اے کالونی کی مہنگی ترین زمینوں کے بڑے رقبے پر ایس اے بلڈر کا سید اختراور اس کے داماد عبد الرحیم نے قبضہ کرکے ملٹی اسٹوری بلڈنگ بنا ڈالی۔ دوسری جانب بنجارہ ہلز کے ایک مہنگے بنگلے پر بنڈلہ گنیش نامی فلم پروڈیوسر نے قبضہ کرلیا، اور جبلی ہلز کے ایک بنگلے پر سید معین الدین وقف معاملات کا صدر نے قبضہ جما لیا۔ یہ چند قبضے ہیں جو نامزد ہوئے، لیکن ایسے درجنوں ناجائز قبضے ہیں جن پر انکروچمنٹ اور قبضے ای ڈی کے اٹیچمنٹ کے درمیان ہوئے کارروائی ہونا باقی ہے، لیکن ان سب کے باوجود ای ڈی مزید جائیدادیں عدالت سے طلب کرتی رہی، عدالت نے 16جائیداد دئے تو ای ڈی نے اپنی من مانی طریقے سے ایم ایس ٹی سی پر 50مزید جائیداد کا اعلان کرکے عوام کے شکوک و شبہات کو مزید تقویت دے دیا کہ انفارسمنٹ ڈائرکٹوریٹ حیدر آباد زونل دفتر صرف ہیرا گروپ پر اپنی طاقت آزمائی کر رہی ہے، دوسری جانب زمین مافیاﺅں کے ناجائز قبضوں پر چشم پوشی کر رہی ہے۔

