Delhi دہلی National قومی خبریں

رواداری ہندوستانی تہذیب کی فطرت میں داخل ہے: منوج سنہا ہندوستان مختلف مذاہب اور زبانوں کا سنگم ہے: ڈاکٹر کرن سنگھ

رواداری ہندوستانی تہذیب کی فطرت میں داخل ہے: منوج سنہا
ہندوستان مختلف مذاہب اور زبانوں کا سنگم ہے: ڈاکٹر کرن سنگھ
ڈائلاگ کے ذریعے تمام کنفلیکٹ کو ختم کیا جا سکتا ہے: ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی اور انٹر فیتھ ہارمونی فاو¿نڈیشن آف انڈیا کے باہمی اشتراک سے
یک روزہ سمینار بعنوان "بین المذاہب مکالمہ: اردو، کشمیریت اور مشترکہ تہذیبی روایات” کا انعقاد

سری نگر/ دلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی اور انٹر فیتھ ہارمونی فاو¿نڈیشن آف انڈیا کے باہمی اشتراک سے آج ونٹر ہال، ایس کے آئی سی سی، سری نگر میں یک روزہ سمینار بعنوان "بین المذاہب مکالمہ: اردو کشمیریت اور مشترکہ تہذیبی روایات” منعقد کیا گیا۔ اس سمینار کا افتتاح صبح گیارہ بجے ہوا جس میں مہمان خصوصی جناب منوج سنہا (عزت مآب لیفٹیننٹ گورنر، جموں و کشمیر)، مہمان اعزازی ڈاکٹر کرن سنگھ (عزت مآب سابق صدر ریاست و گورنر جموں و کشمیرو سابق مرکزی وزیر، حکومت ہند) نے خاص طور پر شرکت کے۔
مہمان خصوصی جناب منوج سنہا نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں گیان کی پرمپرا بہت قدیم ہے۔ یہاں کی تہذیب میں ابتدا ہی سے ایک دوسرے کے تئیں قبولیت پائی جاتی ہے۔ یہی صحیح معنوں میں بھارتیتا ہے۔ انھوں نے زبان اور تہذیب کے رشتوں پر گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ بھارتیتا ہی ہندوستانیت اور کشمیریت ہے۔ ہندوستان کی ہر زبان اور تہذیب کو پھلنے پھولنے کا حق ہے۔ اپنی گفتگو کا اختتام انھوں نے علامہ اقبال کی مشہور نظم "نیا شوالہ” سنا کر کیا۔
مہمان اعزازی ڈاکٹر کرن سنگھ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہندوستان کی سرزمین لوگوں کو جوڑنے کی حیثیت سے منفرد شناخت رکھتی ہے۔ یہ ہمیشہ سے مختلف مذاہب اور زبانوں کا سنگم رہی ہے اور انھیں تحفظ بھی فراہم کیا ہے۔ انھوں نے اردو زبان کی شیرینی، قوت اظہار اور روانی پر خصوصی روشنی ڈالتے ہوئے اسے اردو کی بقا کا ایک اہم وصف قرار دیا۔ نمونے کے طور پر انھوں نے فیض احمد فیض کی ایک نظم بھی پیش کی۔
اس سے قبل استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے تمام مہمانوں کا استقبال کیا اور اس اہم موضوع پر سمینار کے انعقاد کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔ انھوں نے قومی اُردو کونسل اور کشمیر کے حوالے سے کہا کہ مختلف اسکیموں کے نفاذ سے لے کر اسکل ڈیولپمنٹ تک میں کشمیر اور اہل کشمیر نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ انھوں نے کونسل کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کی فطرت میں مشارکت اور رواداری پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کونسل نے بین المذاہب ہم آہنگی کو اردو زبان و ادب کے ذریعے فروغ دینے کی قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ یہ سمینار بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد (صدر، انٹر فیتھ ہارمنی فاو¿نڈیشن آف انڈیا) نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے بین المذاہب آہنگی کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ڈائیلاگ کو بڑھاوا ملے کیونکہ یہ واحد راستہ ہے جس سے تمام کنفلیکٹ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ پروفیسر نیلوفر خان (وائس چانسلر، یونیورسٹی آف کشمیر، سری نگر) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قومی اردو کونسل اور کشمیر یونیورسٹی نے مل کر کئی اہم پروگرام منعقد کیے ہیں اور اس طرح کے پروگراموں کا انعقاد ادارہ جاتی اشتراک کا بہترین نمونہ ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر مقررین میں ڈاکٹر جیوتسنا سنگھ (بانی و ڈائرکٹر، داراشکوہ سینٹر، سری نگر)، ڈاکٹر نسرین شمع (ڈائرکٹر، آپریشنس، انٹرفیتھ ہارمنی فاو¿نڈیشن آف انڈیا)، ڈاکٹر فدا فردوس (صدر، کشمیر رائٹرس ایسوسی ایشن) شامل رہے۔ افتتاحی اجلاس نوید الاسلام خان (نیشنل کو آرڈینیٹر ،انٹرفیتھ ہارمنی فاو¿نڈیشن آف انڈیا) کے کلمات تشکرپر اختتام پذیر ہوا۔
افتتاحی اجلاس کے بعد دو تکنیکی اجلاس بھی منعقد ہوئے۔ پہلا تکنیکی اجلاس دوپہر 1 بجے تا 2.30 بجے جاری رہا۔ اس سیشن میں سردار دلبیر سنگھ سوڈھی (بارہمولہ ، جموں و کشمیر)، ڈاکٹر گوتم کول (صدر، کشمیری ہندو ویلفیئر ایسوسی ایشن، ممتاز ماہر تعلیم و اسکالر)، پروفیسر راشد مقبول (شعبہ ابلاغیات و صحافت، یونیورسٹی آف کشمیر، سری نگر)، ڈاکٹر محمد معروف شاہ (ڈپٹی ڈائرکٹر( ریسرچ)، شیپ ہسبنڈری ڈپارٹمنٹ کشمیر) اور ڈاکٹر رافعہ نثار (اسسٹنٹ پروفیسر، ایس ایچ ایم ایم گورنمنٹ ڈگری کالج ، اننت ناگ جموں و کشمیر) نے اظہار خیال کیا۔
دوسرا تکنیکی اجلاس دو پہر 3.30 بجے سے 5 بجے شام تک جاری رہا۔ اس اجلاس کی صدارت پروفیسر(ڈاکٹر)نصیر اقبال (رجسٹرار، یونیورسٹی آف کشمیر سری نگر) نے کی جبکہ پروفیسر اعجاز محمد شیخ (ڈین، اسکول آف آرٹس لنگویج اینڈ لٹریچر یونیورسٹی آف کشمیر)، پروفیسر عرفان احمد ملک (صدر شعبہ¿ اردو، یو نیورسٹی آف کشمیر)، پروفیسر ستیش ومل (شیخ العالم سینٹر فار ملٹی ڈسپلنری اسٹڈیز، یونیورسٹی آف کشمیر) اور پروفیسر الطاف انجم (ڈائرکٹر، مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم ، یو نیورسٹی آف کشمیر) نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ یہ سمینار ڈاکٹر خواجہ افتخار احمد کے اختتامی کلمات پر اپنے اختتام کو پہنچا۔ حاضرین میں علماءو دانشور کی بڑی تعداد موجود رہی اور سبھی نے نہایت دلجمعی اور سنجیدگی کے ساتھ مہمانوں کے خیالات سنے۔

Related posts

احمدآبادمیں یوم خواتین کے موقع پر شاندار پروگرام اور ای ٹی وی(بھارت) کی اردو نمائندہ ڈاکٹر روشن آرا کا اعزاز

Paigam Madre Watan

محمد منیب خان (عرف عبد اللہ )اور محمد عقیل (عرف راشد )نے ہیرا گروپ آف کمپنیز سے غداری کی

Paigam Madre Watan

مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

Paigam Madre Watan