Urdu Literature & A.I. اردو ادب اور اے آٸ

افسانہ ” روشنی کی بشارت” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ

افسانہ ” روشنی کی بشارت” پر مکالمہ
اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ 
حیدرقریشی کا افسانہ 
"روشنی کی بشارت”
حیدرقریشی :
صبح بخیر بشارت صاحب
افسانہ "روشنی کی بشارت ” ارسالِ خدمت ہے۔ 1981 میں ایک ہی لہر میں مجھ سے دو افسانے لکھے گئے تھے ۔ایک "میں انتظار کرتا ہوں ” اور دوسرا "روشنی کی بشارت”….. نیطشے کا مشہور اعلان پڑھا تو میں نے جیسے نفی کی بجائے اثبات کا اعلان کیا ۔ روشنی کی بشارت اثبات ہستیء باری تعالیٰ ہے۔۔۔ لیکن افسانہ اپنی عمومی اور مجموعی صورت میں کیسا ہے؟ یہ تو آپ بتائیں گے۔
………………………………….
ڈیجیٹل بشارت صاحب :
 صبح بخیر، حیدر صاحب۔

میں نے "روشنی کی بشارت” کو پوری توجہ سے پڑھا۔ اس افسانے کو صرف ایک علامتی یا فلسفیانہ افسانہ کہنا کافی نہیں ہوگا۔ میرے نزدیک یہ آپ کے ابتدائی فکری سفر کی ایک بنیادی دستاویز ہے۔ بعد کی تحریروں میں جو روحانی، وجودی اور تہذیبی سوالات مختلف صورتوں میں سامنے آتے ہیں، ان کا بیج یہاں موجود ہے۔ اسی لیے مجھے شمس الرحمٰن فاروقی کا وہ جملہ یاد آتا ہے جس کا آپ نے چند روز پہلے ذکر کیا تھا کہ بڑے تخلیق کار کی ہر صنف میں ایک ہی شخصیت کا فکری سفر دکھائی دیتا ہے۔ "روشنی کی بشارت” اس سفر کی اولین اور نہایت واضح منزلوں میں سے ایک ہے۔

چند نکات عرض کرتا ہوں۔

عنوان کی معنویت

"روشنی کی بشارت” ایک غیر معمولی عنوان ہے۔ یہاں "روشنی” محض روشنی نہیں بلکہ نور، شعور، حقیقت، معرفت اور الٰہی اثبات کی علامت ہے، جبکہ "بشارت” اس حقیقت کے آنے کی خبر ہے۔ عنوان ہی افسانے کے پورے فکری نظام کی کنجی بن جاتا ہے۔

نیطشے سے مکالمہ

افسانے کا آغاز نیطشے کی تمثیل سے کرنا ایک نہایت بامعنی فنی فیصلہ ہے۔

نیطشے کے "دیوانے” نے چراغ اس لیے اٹھایا تھا کہ خدا کی عدم موجودگی کا اعلان کرے؛ آپ کا راوی چراغ اس لیے اٹھاتا ہے کہ نور کی موجودگی کی خبر دے۔ یوں افسانہ نیطشے کی نفی کا براہِ راست رد نہیں کرتا بلکہ اس کے مقابل ایک تخلیقی جواب پیش کرتا ہے۔

یہاں مجھے سب سے زیادہ پسند آنے والی بات یہی لگی کہ آپ نے فلسفے کا جواب فلسفیانہ مقالے سے نہیں بلکہ افسانے سے دیا ہے۔

وقت کی علامت

افسانے کا سب سے طاقت ور استعارہ "اپنے وقت سے پہلے آنا” ہے۔

پچاس سال…
سو سال…
دو سو…
چار سو…
آٹھ سو…
سولہ سو…

اور پھر یہ فاصلہ مسلسل دوگنا ہوتا جاتا ہے۔

یہ محض سائنسی تخیل نہیں بلکہ ایک روحانی اور تہذیبی استعارہ ہے۔

جتنا انسان مادّی ترقی کرتا جاتا ہے، اتنا ہی نورِ باطن سے دور ہوتا جاتا ہے۔

اس ایک خیال نے پورے افسانے کو وسعت عطا کردی ہے۔

"صفر مدت”

میرے خیال میں پورے افسانے کا مرکزی استعارہ یہی ہے۔

"صفر مدت” وقت کی نفی نہیں بلکہ وقت کی تکمیل ہے۔

یہ وہ لمحہ ہے جب حقیقت کو کسی خارجی دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

اسی لیے آخری جملہ

"میں کس صفر مدت کا انتظار کررہا ہوں”

پڑھنے کے بعد افسانہ ختم نہیں ہوتا بلکہ قاری کے اندر شروع ہوتا ہے۔

چراغ کا استعارہ

چراغ مسلسل کئی سطحوں پر کام کرتا ہے۔

  • روشنی کی علامت
  • نبوت و ہدایت کی علامت
  • انسانی شعور کی علامت
  • اور آخر میں گواہی کی علامت

آخر میں راوی کہتا ہے

"جب مٹی کا کوئی چراغ گواہی کے لیے نہیں لانا ہوگا۔”

یہ جملہ پورے افسانے کو ایک نئی جہت دیتا ہے۔

یعنی حقیقت کا ایسا ظہور جہاں دلیل بھی غیر ضروری ہوجائے۔

کردار

اس افسانے میں روایتی معنوں میں کردار نہیں ہیں۔

ماں…

بہن…

مبارکہ…

عفت…

شہر…

یہ سب دراصل انسانی رویوں کی مختلف صورتیں ہیں۔

ماں عقیدت اور محبت ہے۔

بہن معصوم خوف ہے۔

مبارکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت ہے۔

عفت ادب اور تخلیق کی دنیا ہے، اسی لیے وہ پوچھتی ہے:

"کہیں آپ افسانہ لکھنے کے موڈ میں تو نہیں ہیں؟”

یہ جملہ بظاہر سادہ ہے لیکن اس میں ایک لطیف خود آگاہی موجود ہے؛ گویا افسانہ خود اپنی تخلیق پر بھی تبصرہ کررہا ہے۔

آگ

یہاں آگ سزا بھی ہے اور نتیجہ بھی۔

چراغ توڑنے سے پورا شہر جل اٹھتا ہے۔

اس منظر کو مختلف انداز سے پڑھا جاسکتا ہے۔

میری قرأت میں یہ آگ آسمانی عذاب سے زیادہ انسان کی اپنی پیدا کی ہوئی آگ ہے۔

جب نور کی تحقیر ہوتی ہے تو آگ خود تقدیر بن جاتی ہے۔

یہ تعبیر آج کی دنیا پر بھی پوری اترتی ہے۔

اختتام

افسانے کا سب سے اچھا فیصلہ آخری منظر ہے۔

پہلے ہم سمجھتے ہیں شاید راوی کسی مابعد الطبیعی حقیقت میں ہے۔

آخر میں اچانک منظر بدل جاتا ہے۔

وہ بیمار ہے۔

نبض دیکھی جارہی ہے۔

عیادت کرنے والے آرہے ہیں۔

قاری ایک لمحے کے لیے سوچتا ہے:

کیا یہ سب خواب تھا؟

کیا یہ مکاشفہ تھا؟

کیا یہ جنون تھا؟

یا یہی حقیقت تھی؟

آپ ان سوالوں کا جواب نہیں دیتے۔

یہی فن ہے۔

صرف ایک معمولی تنقیدی اشارہ

اگر میں کسی ایک پہلو کی نشاندہی کروں تو وہ یہ ہوگی کہ درمیانی حصے میں "سولہ سو، بتیس سو، چونسٹھ سو…” والی تکرار اپنی فکری اہمیت کے باوجود قدرے طویل محسوس ہوتی ہے۔ اگر چند جملوں کی اختصار کے ساتھ یہی مفہوم ادا ہوتا تو بیانیے کی رفتار شاید اور زیادہ مرتکز ہوجاتی۔ تاہم یہ کوئی بنیادی کمزوری نہیں، بلکہ اس دور کے علامتی افسانوں کی ایک عمومی خصوصیت بھی رہی ہے کہ خیال کی تکرار سے اس کی گونج پیدا کی جاتی تھی۔

مجموعی تاثر

میرے نزدیک "روشنی کی بشارت” کو تین سطحوں پر پڑھا جاسکتا ہے:

  1. نیطشے کے فکری اعلان کے جواب میں ایک تخلیقی اثبات۔
  2. انسان کی روحانی تاریخ پر ایک تمثیلی افسانہ۔
  3. ایک ایسے ادیب کا داخلی منشور جو یقین رکھتا ہے کہ تخلیق کا کام محض کہانی سنانا نہیں بلکہ روشنی کی بشارت دینا بھی ہے۔

اور شاید اسی لیے یہ افسانہ 1981 میں لکھے جانے کے باوجود آج بھی تازہ محسوس ہوتا ہے، کیونکہ اس کا اصل موضوع وقت نہیں، انسان اور نور کا تعلق ہے۔ یہی وہ سوال ہے جو ہر دور میں نئے معنی کے ساتھ واپس آتا رہتا ہے۔

 

………………………………….

حیدرقریشی :

آپ کا تجزیہ اور تاثر جان کر اچھا لگا۔۔۔ آگ کو عمومی طورپر عذاب اور سزا کے طورپر ہی لیا جاتا ہے یہاں بھی لگ بھگ یہی تاثر ہے لیکن آگے چل کر مجھے اپنے ہی ایک سوال کا سامنا رہا۔۔۔۔ نار اور نور میں فرق کیسے کیا جائے؟

ایک دوست نے کہا آگ جلا دیتی ہے جبکہ نور جلاتا نہیں ۔میں نے کہا مذہبی روایت کے مطابق موسیٰ علیہ السلام کے اصرار پر نور الہٰی کی ایک ہلکی سی جھلک سے کوہِ طور جل گیا تھا ۔۔۔وہ دوست مسکرا کر رہ گئے ۔۔۔۔ آگ سزا کے متوازی ایک خوبی رکھتی ہے۔اشیاء کی ماہیت تبدیل کر دیتی ہے۔ گویا مذہبی زبان میں گناہگار کے گناہ دھو کر اسے پاک کر دیتی ہے۔

روشنی اور آگ بھی کہیں ایک ہی چیز کے دو رخ تو نہیں ہیں؟

………………………………….

ڈیجیٹل بشارت صاحب :

حیدر صاحب، آپ نے گفتگو کو افسانے سے اٹھا کر ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں ادب، تصوف، الٰہیات اور علامت ایک دوسرے میں مدغم ہونے لگتے ہیں۔ یہی سوال دراصل "روشنی کی بشارت” کے پس منظر میں بھی کام کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

میرا خیال ہے کہ نار اور نور ایک نہیں ہیں، لیکن ان کا سرچشمہ ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ فرق زیادہ تر ظہور (Manifestation) کا ہے، اصل کا نہیں۔

قرآن کی زبان پر غور کریں تو ایک لطیف فرق سامنے آتا ہے۔

  • نار مادّی دنیا میں توانائی، حرارت، احتراق اور تبدیلی کی قوت ہے۔
  • نور ادراک، ہدایت، کشف اور بصیرت کی قوت ہے۔

لیکن بعض مقامات پر دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب آ جاتے ہیں۔

حضرت موسیٰؑ نے پہلے آگ دیکھی تھی:

"إِنِّي آنَسْتُ نَارًا”

وہ آگ لینے گئے تھے، مگر وہاں کلامِ الٰہی ملا۔ گویا ابتدا نار سے ہوئی اور انتہا نور پر۔ ایسا لگتا ہے کہ انسان کی نگاہ جسے نار سمجھتی ہے، وہ حقیقت میں نور کا ظہور بھی ہو سکتا ہے۔

آپ نے کوہِ طور کا حوالہ دیا۔ وہ واقعہ اس فرق کو اور باریک کر دیتا ہے۔ وہاں نور نے جلایا، لیکن اس جلانے کی نوعیت آگ کے جلانے جیسی نہیں تھی۔ آگ مادّے کو راکھ کرتی ہے، جبکہ نور انا، وہم اور محدود ادراک کو فنا کرتا ہے۔ کوہِ طور کا ریزہ ریزہ ہونا محض ایک طبعی حادثہ نہیں بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ محدود ظرف لامحدود تجلی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔

آپ کی یہ بات بھی بہت معنی خیز ہے کہ آگ اشیاء کی ماہیت بدل دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آگ صرف سزا نہیں، تطہیر کی علامت بھی رہی ہے۔ سونا آگ میں تپ کر خالص ہوتا ہے۔ لوہا آگ میں نرم ہو کر نئی صورت اختیار کرتا ہے۔ مٹی آگ میں پک کر برتن بنتی ہے۔ یعنی آگ فنا بھی کرتی ہے اور تشکیل بھی دیتی ہے۔

تصوف میں یہی بات نفس کے بارے میں کہی جاتی ہے۔ مجاہدہ ایک طرح کی باطنی آگ ہے، جو انسان کو جلا کر ختم نہیں کرتی بلکہ اس کی ماہیت بدل دیتی ہے۔

اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ آپ کے افسانے میں شہر کو لگنے والی آگ صرف عذاب نہیں ہے۔ وہ ایک ناگزیر تبدیلی بھی ہے۔ جنہوں نے نور کا انکار کیا، وہ نار سے گزریں گے؛ شاید اس لیے کہ نار انہیں اس قابل بنا دے کہ کسی دور میں نور کو قبول کر سکیں۔ یہ تعبیر افسانے کو محض سزا کی کہانی سے بلند کرکے ایک ارتقائی تمثیل بنا دیتی ہے۔

البتہ ایک فرق میں پھر بھی قائم رکھوں گا۔

اگر نور اور نار کو بالکل ایک قرار دے دیا جائے تو ان کے علامتی امتیازات مٹ جائیں گے۔ میرے نزدیک بہتر بات یہ ہے کہ:

  • نور حقیقت کا انکشاف کرتا ہے۔
  • نار حقیقت کے لیے رکاوٹ بننے والی چیز کو ختم کرتی ہے۔

گویا نور منزل ہے، نار تطہیر کا مرحلہ۔

آپ کے افسانے کا چراغ بھی اسی لیے دلچسپ علامت ہے۔ چراغ میں آگ بھی ہے اور روشنی بھی۔ اگر کوئی صرف شعلہ دیکھے گا تو اسے نار نظر آئے گی، اور اگر وہ اسی شعلے سے پھیلنے والا اجالا دیکھے گا تو اسے نور دکھائی دے گا۔ ایک ہی چراغ میں دونوں جمع ہیں، لیکن انسان کا زاویۂ نظر طے کرتا ہے کہ وہ کیا دیکھتا ہے۔

شاید اسی لیے آپ کے افسانے میں چراغ ٹوٹنے پر شہر آگ میں جل اٹھتا ہے، مگر راوی کی نگاہ اب بھی "روشنی کی بشارت” پر قائم رہتی ہے۔ یہ تضاد نہیں، بلکہ افسانے کا سب سے گہرا استعارہ ہے کہ کبھی کبھی نور تک پہنچنے کا راستہ نار کی وادی سے ہو کر گزرتا ہے۔

مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ 1981 میں لکھتے ہوئے بھی آپ کے ذہن میں سوال جواب سے زیادہ اہم تھا۔ آپ نے کوئی عقیدہ بیان نہیں کیا، بلکہ ایک ایسا سوال تخلیق کیا جس پر چالیس پینتالیس برس بعد بھی اسی انہماک سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔ میرے نزدیک یہی کسی علامتی افسانے کی کامیابی کی نشانی ہے۔

حیدرقریشی :

واہ واہ ۔۔۔۔ بشارت صاحب مزہ آ گیا ۔۔۔ آپ نے بڑی علمی شان کے ساتھ نور اور نار کو واضح کیا ہے۔مثالیں بھی زبردست دی ہیں ۔ معین الفاظ تو یاد نہیں لیکن داؤد یا سلیمان علیہم السلام کے اقوال میں سے بائبل میں پڑھا تھا کہ ہم انسان کو سونے آزماتے ہیں اور سونے کو آگ سے۔۔۔ یہاں اپنی غزل کا ایک شعر یاد آ گیا۔

روح میری بھی ہے کھرا سونا

تیری دنیا اگر کٹھالی ہے

………………………………….

ڈیجیٹل بشارت صاحب :

حیدر صاحب، اب تو لطف دوبالا ہوگیا۔ آپ کا شعر گویا ہماری پوری گفتگو کا شعری نچوڑ بن کر سامنے آگیا۔

روح میری بھی ہے کھرا سونا
تیری دنیا اگر کٹھالی ہے

یہ شعر محض ایک خوبصورت تشبیہ نہیں، بلکہ ایک مکمل روحانی تصور اپنے اندر رکھتا ہے۔ "کٹھالی” کا لفظ یہاں غیر معمولی قوت رکھتا ہے۔ اگر دنیا کو کٹھالی مان لیا جائے تو پھر آزمائش، دکھ، محرومی، ناکامی، بیماری، ہجرت—یہ سب آگ کی مختلف صورتیں بن جاتی ہیں۔ مقصد سونے کو جلانا نہیں، کھرا کرنا ہے۔

آپ نے بائبل کے جس خیال کا ذکر کیا، اس کی بازگشت بائبل کی متعدد کتابوں میں ملتی ہے، خصوصاً امثال اور زکریاہ میں، جہاں انسان کے امتحان کو سونے اور چاندی کے آگ میں تپنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہی استعارہ اسلامی روایت میں بھی مختلف انداز سے موجود ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک مذہبی روایت نہیں بلکہ انسانی تہذیب کا مشترک روحانی استعارہ ہے۔

مجھے اس گفتگو کے بعد آپ کے افسانے کا ایک اور پہلو زیادہ واضح دکھائی دینے لگا ہے۔ پہلے میں شہر کی آگ کو زیادہ تر "نتیجہ” یا "عذاب” کے طور پر دیکھ رہا تھا، لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ اس میں تطہیر کا پہلو بھی پوشیدہ ہے۔ شاید اس لیے آپ کا راوی لوگوں سے انتقام نہیں لیتا، نہ خوشی مناتا ہے، نہ خود کو فاتح سمجھتا ہے۔ وہ صرف اگلی "صفر مدت” کا انتظار کرتا ہے۔ گویا آگ آخری منزل نہیں، ایک عبوری مرحلہ ہے۔

اور آپ نے ایک اور نہایت باریک بات کی، جو شاید ہمارے پہلے مکالمے میں پوری طرح سامنے نہیں آئی تھی۔ اگر چراغ میں آگ نہ ہو تو روشنی پیدا نہیں ہوتی۔ اس اعتبار سے نور، نار کے بغیر ظہور میں نہیں آتا۔ لیکن جب نور ظاہر ہو جاتا ہے تو انسان کی توجہ شعلے پر نہیں رہتی، اجالے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔

یہی شاید روحانی سفر بھی ہے۔

ابتدا میں آدمی آگ محسوس کرتا ہے؛ ریاضت کی آگ، محرومی کی آگ، سوالوں کی آگ، محبت کی آگ۔

آخر میں اگر کچھ باقی رہتا ہے تو وہ روشنی ہوتی ہے۔

اسی لیے صوفیہ "سوز” کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ سوز دراصل نار کی باطنی کیفیت ہے، اور نور اس کا حاصل۔

اور آخر میں، آپ کے شعر سے متاثر ہو کر ایک خیال ذہن میں آیا، جسے تنقیدی جملے کے طور پر عرض کرتا ہوں:

"روشنی کی بشارت” کا راوی دراصل آگ سے خوف زدہ نہیں ہے، کیونکہ اسے یقین ہے کہ جو روح کھرا سونا ہے، اس کے لیے دنیا کی کٹھالی فنا نہیں، تکمیل کا وسیلہ ہے۔

میرا خیال ہے کہ اگر کبھی آپ کے افسانوں پر باقاعدہ تنقیدی کتاب لکھی گئی تو "نور، نار اور کٹھالی” کے عنوان سے ایک باب ضرور ہونا چاہیے، کیونکہ یہ صرف ایک افسانے کا مسئلہ نہیں، آپ کی مجموعی فکر میں بار بار لوٹ آنے والا استعارہ معلوم ہوتا ہے۔

………………………………….

حیدرقریشی :

جی بشارت صاحب! آپ نے خوب تفہیم کی ۔۔۔ سب اچھا لگا۔۔۔۔ میں نے ایک مرحلے پر خود کو یوں بھی مطمئن کرنے کی کوشش کی تھی کہ جیسے بجلی کے ذریعے ہیٹر بھی چلتا ہے اور فرج بھی۔۔۔ بس نور کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہو سکتا ہے ۔

………………………………….

ڈیجیٹل بشارت صاحب :

حیدر صاحب، یہ مثال بھی بہت بامعنی ہے، بلکہ جدید ذہن کے لیے شاید زیادہ قابلِ فہم ہے۔

بجلی بذاتِ خود نہ گرم ہے، نہ ٹھنڈی۔ وہ ایک قوت ہے۔ اس قوت کا ظہور اس آلے کی ماہیت کے مطابق ہوتا ہے جس سے وہ گزرتی ہے۔

  • ہیٹر میں وہ حرارت بن جاتی ہے۔
  • فرج میں وہ برودت کا نظام قائم کرتی ہے۔
  • بلب میں روشنی بن جاتی ہے۔
  • موٹر میں حرکت۔
  • اسپیکر میں آواز۔

قوت ایک ہے، مظاہر مختلف ہیں۔

اسی قیاس سے اگر صرف تمثیل کے طور پر سوچیں تو کہا جا سکتا ہے کہ حقیقتِ الٰہیہ ایک ہے، مگر اس کے مظاہر مختلف ہیں۔ انسان کا ظرف، اس کی استعداد اور اس کی کیفیت طے کرتی ہے کہ وہ اس حقیقت کو کس صورت میں قبول کرتا ہے۔

اس سے مجھے ایک قرآنی تعبیر بھی یاد آتی ہے۔ بارش ایک ہی برستی ہے، لیکن مختلف وادیاں اپنی اپنی وسعت کے مطابق اسے سمیٹتی ہیں۔ یعنی فیض ایک ہے، مگر ظرف الگ الگ ہیں۔

آپ کی ہیٹر اور فرج والی مثال کا ایک اور پہلو بھی دلچسپ ہے۔ عام آدمی کو لگتا ہے کہ فرج "ٹھنڈک پیدا” کرتا ہے، حالانکہ سائنسی اعتبار سے وہ حرارت کو منتقل کرتا ہے؛ وہ حرارت کا خاتمہ نہیں کرتا بلکہ اس کا رخ بدل دیتا ہے۔ یہ بات علامتی سطح پر بھی خوبصورت ہے۔ کبھی کبھی تبدیلی فنا نہیں ہوتی، بلکہ انتقال ہوتی ہے؛ ایک کیفیت دوسری کیفیت میں ڈھل جاتی ہے۔

اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی فکر میں "نور” کوئی جامد شے نہیں بلکہ ایک متحرک حقیقت ہے۔ وہ جس ظرف میں جلوہ گر ہوتا ہے، اسی کے مطابق اپنا اثر دکھاتا ہے۔

آپ کی آج کی گفتگو نے مجھے ایک اور چیز کی طرف متوجہ کیا ہے۔ آپ کے افسانوں میں مذہبی علامتیں موجود ہیں، لیکن وہ وعظ کی صورت میں نہیں آتیں۔ وہ سوال بن کر آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر مکالمہ ممکن ہوتا ہے۔ اگر تخلیق صرف جواب دے تو گفتگو ختم ہو جاتی ہے، لیکن جب وہ سوال پیدا کرے تو ہر عہد کا قاری اس میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ "روشنی کی بشارت” پڑھتے ہوئے مجھے بار بار یہ احساس ہوا کہ راوی خود بھی تلاش میں ہے۔ وہ محض بشارت دینے والا نہیں، بلکہ "صفر مدت” کا منتظر بھی ہے۔ اس کا انتظار اسے ایک داعی کے ساتھ ساتھ ایک سالک بھی بنا دیتا ہے۔ میرے نزدیک یہی اس افسانے کا سب سے انسانی اور سب سے خوبصورت پہلو ہے۔

………………………………….

Related posts

 افسانہ ” آپ بیتی” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ (حیدرقریشی کا افسانہ)

Paigam Madre Watan

افسانہ ” ایک کافر کہانی” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ 

Paigam Madre Watan

اویسی سے اتحاد موہن بھاگوت سے قربت؟

Paigam Madre Watan