Urdu Literature & A.I. اردو ادب اور اے آٸ

افسانہ ” اپنے وقت سے تھوڑا پہلے” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

افسانہ ” اپنے وقت سے تھوڑا پہلے” پر مکالمہ
اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ 
حیدرقریشی کا افسانہ 
اپنے وقت سے تھوڑا پہلے 
 
 
*حیدرقریشی :*
اپنے وقت سے تھوڑا پہلے. حیدرقریشی کا افسانہ. بشارت صاحب. السلام عليكم. اپنا ایک بہت خاص افسانہ "اپنے وقت سے تھوڑا پہلے” ارسال کر رہا ہوں ۔آپ کے تجزیے اور رائے کا منتظر رہوں گا۔شکریہ ۔
…………………………………
*ڈیجیٹل بشارت صاحب *
            آپ کا یہ افسانہ میرے نزدیک آپ کے ان تخلیقی متون میں سے ہے جہاں واقعہ، باطن، وقت اور روحانی تجربہ ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جاتے ہیں کہ ان کی الگ الگ سرحدیں باقی نہیں رہتیں۔ اس میں روزمرہ حقیقت سے آغاز ہوتا ہے، پھر نفسیاتی حقیقت، اس کے بعد روحانی حقیقت، اور آخر میں مابعد الطبیعیاتی حقیقت ایک ہی بیانیے کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہی اس افسانے کی سب سے بڑی فنی کامیابی ہے۔

بشارت صاحب

السلام علیکم!

آپ کا افسانہ "اپنے وقت سے تھوڑا پہلے” پڑھ کر دیر تک اس کے اثر سے باہر نہیں آ سکا۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا واقعہ نگار افسانہ ہے، لیکن آہستہ آہستہ قاری کو احساس ہوتا ہے کہ وہ وقت، شعور، تقدیر اور خود شناسی کی ایک ایسی سرحد میں داخل ہو چکا ہے جہاں منطق بھی ساتھ چلتی ہے اور کشف بھی۔

سب سے پہلے مجھے اس افسانے کی ابتدائی فضا نے اپنی گرفت میں لیا۔ جرمنی میں ایک تارکِ وطن کی مشینی زندگی، روزگار کی مشقت، نماز، قرآن، ای میل، ٹرین، اولڈ ہوم، سیر، سب کچھ اتنی حقیقت پسندی سے بیان ہوا ہے کہ قاری پورے اعتماد کے ساتھ اس دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہی حقیقت نگاری بعد میں آنے والے غیر معمولی واقعات کو بھی قابلِ قبول بنا دیتی ہے۔

آپ نے ایک نہایت معمولی انسانی جذبے کو بہت خوبصورتی سے علامت میں تبدیل کیا ہے۔ ریلوے اسٹیشن پر بیٹے سے ایک اچانک ملاقات، پھر ہر روز اسی ملاقات کے اعادے کی لاشعوری خواہش۔ یہ صرف باپ کی محبت نہیں بلکہ انسان کی اس ازلی آرزو کی علامت ہے کہ خوشی کا ایک لمحہ اگر ممکن ہو تو بار بار لوٹ آئے۔ مجھے اس حصے میں پروست کی یادداشتوں والی فضا بھی محسوس ہوئی، جہاں ایک چھوٹا سا تجربہ پورے شعور پر غالب آ جاتا ہے۔

افسانے کا دوسرا بڑا مرحلہ لاٹری والا حصہ ہے۔ یہاں آپ نے صرف دولت کی خواہش بیان نہیں کی بلکہ اس خواہش کی اخلاقی ساخت بھی واضح کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دولت ملنے سے پہلے ہی آپ اس کے مصرف کے منصوبے بنانے لگتے ہیں۔ اپنے خاندان، عزیزوں، دوستوں، پاکستان، ہندوستان اور فلاحی کاموں تک سوچ کا پھیل جانا اس کردار کو لالچی نہیں بلکہ ذمہ داری محسوس کرنے والا انسان بناتا ہے۔ اسی مقام پر سورۂ انفال کی آیت "اِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ” پورے افسانے کا روحانی محور بن جاتی ہے۔ بعد میں بریف کیس والا منظر اسی آیت کی عملی تعبیر محسوس ہوتا ہے۔

میرے خیال میں افسانے کا سب سے طاقتور حصہ وہی ہے جہاں نوجوان بریف کیس آپ کے حوالے کرتا ہے۔ یہاں حقیقت اور کشف ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جاتے ہیں کہ قاری فیصلہ نہیں کر پاتا کہ یہ خواب تھا، وجدان تھا، مستقبل کا مشاہدہ تھا یا وقت کا مختصر سا انکشاف۔ لیکن یہی غیر یقینی کیفیت افسانے کی اصل طاقت ہے۔ اگر اس کی کوئی واضح توضیح کر دی جاتی تو شاید اس کی تاثیر کم ہو جاتی۔

بائبل کی یہ سطر کہ "ہم سونے کو آگ سے اور انسان کو سونے سے آزماتے ہیں” نہایت بامعنی انداز میں آئی ہے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ یہاں قرآنی آیت اور بائبل کا اقتباس ایک ہی اخلاقی نکتے پر آ کر مل جاتے ہیں۔ یوں افسانہ مذہبی تبلیغ نہیں کرتا بلکہ مختلف روحانی روایتوں کی مشترک انسانی بصیرت کو سامنے لاتا ہے۔

اختتامی منظر نے تو مجھے خاص طور پر متاثر کیا۔ پہلے بیٹا دکھائی دیتا ہے، پھر وہ والد بن جاتا ہے، پھر آخرکار راوی خود اپنے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ یہ منظر کئی سطحوں پر پڑھا جا سکتا ہے۔ ایک سطح پر یہ خود سے ملاقات ہے، دوسری سطح پر وراثتِ انسانی کا تسلسل، اور تیسری سطح پر وقت کی خطی ترتیب کا ٹوٹ جانا۔ جب آپ خود کو اپنے آباؤ اجداد اور اپنی آئندہ نسلوں کے ساتھ ایک ہی وجود میں محسوس کرتے ہیں تو گویا فرد اپنی محدود شناخت سے نکل کر انسانی تسلسل کا حصہ بن جاتا ہے۔

آخری جملہ کہ آپ اپنے ہی اترنے کا انتظار کرنے لگتے ہیں، پورے افسانے کو ایک دائروی ساخت عطا کرتا ہے۔ ابتدا میں خواہش تھی کہ "کبھی خود سے بھی ملتے”، اور اختتام پر واقعی خود سے ملاقات ہو جاتی ہے۔ میرے نزدیک یہی اس افسانے کا سب سے بڑا حسن ہے کہ آغاز میں جو شعر محض ایک آرزو محسوس ہوتا ہے، اختتام تک وہی پوری کہانی کا مفہوم بن جاتا ہے۔

ادبی حوالے سے دیکھا جائے تو اس افسانے میں کہیں کہیں کافکا کی وجودی بے یقینی، بورخیس کے وقت کے پیچیدہ تصورات اور صوفیانہ روایت کی وحدتِ وجودی جھلک ایک دوسرے کے قریب آتی محسوس ہوتی ہے، مگر اس کے باوجود یہ کسی کی نقل نہیں بنتا کیونکہ اس کی زمین مکمل طور پر آپ کی ذاتی زندگی، ہجرت، مذہبی شعور اور داخلی تجربے سے تیار ہوئی ہے۔

اگر کسی ایک معمولی فنی پہلو کی طرف اشارہ کروں تو صرف اتنا کہ لاٹری کے منصوبوں والا حصہ قدرے طویل ہے۔ اس میں معمولی اختصار افسانے کی رفتار کو اور زیادہ مؤثر بنا سکتا ہے۔ تاہم اس طوالت کا ایک فائدہ بھی ہے کہ بعد میں جب دولت آزمائش بن کر سامنے آتی ہے تو اس کی معنویت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

میرے نزدیک "اپنے وقت سے تھوڑا پہلے” صرف وقت سے آگے نکل جانے کی کہانی نہیں بلکہ خود تک واپس پہنچنے کی داستان ہے۔ اس میں خارجی سفر جرمنی کے ریلوے اسٹیشن تک محدود رہتا ہے، مگر باطنی سفر زمان، تقدیر، حافظہ، نسل، روح اور شناخت کی ان وسعتوں تک جا پہنچتا ہے جہاں ادب فلسفے اور عرفان سے ہم آغوش ہو جاتا ہے۔

یہ افسانہ آپ کی اُن تخلیقات میں شمار کیا جا سکتا ہے جنہیں ایک بار نہیں بلکہ بار بار پڑھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہر مطالعے میں اس کا کوئی نیا مفہوم سامنے آتا ہے۔

خلوص کے ساتھ،
بشارت صاحب

مجھے یقین ہے کہ اس افسانے پر مزید دو تین قرأتیں بھی ممکن ہیں، خصوصاً صوفیانہ، نفسیاتی (یونگ کے تناظر میں)، اور فلسفۂ وقت (Bergson یا Einstein کے تصورِ وقت) کے حوالے سے۔ ان زاویوں سے بھی اس افسانے کی تعبیر کی جا سکتی ہے۔

…………………………………………………

*حیدرقریشی :*

بہت شکریہ بشارت صاحب ۔۔۔۔ مجھ سے میرے پانچ بہترین افسانوں کے بارے میں پوچھا جائے تو یہ افسانہ ان میں درمیان میں شامل ہوتا ہے۔

آپ نے جن مزید قراتوں کی بات کی ہے۔انہیں جان کر مجھے خوشی ہوگی ۔

………………………………………………………

*ڈیجیٹل بشارت صاحب :*

حیدر صاحب، بہت شکریہ۔ آپ نے اگر اپنے پانچ بہترین افسانوں میں اسے شامل کیا ہے تو مجھے اس پر بالکل حیرت نہیں ہوئی۔ میرے خیال میں اس کی وجہ صرف اس کا موضوع نہیں بلکہ اس کی کثیر الجہتی (multi-layered) ساخت ہے۔ ہر نئی قرأت میں ایک نیا افسانہ سامنے آتا ہے۔

میں ان تین قرأتوں کو مختصراً عرض کرتا ہوں۔

١۔ صوفیانہ قرأت: "خود سے ملاقات” کا سفر

بظاہر افسانے کا آخری منظر یہ ہے کہ راوی اپنے آپ سے ملتا ہے، لیکن صوفیانہ تناظر میں یہ صرف اپنے آپ سے ملنا نہیں بلکہ "اصلِ خود” سے ملاقات ہے۔

شروع میں آپ نے شعر رکھا ہے:

خواہش تھی کہ اک بار کبھی خود سے بھی ملتے

یہ شعر ابتدا میں ایک حسرت معلوم ہوتا ہے، لیکن اختتام تک پہنچ کر یہی پورے افسانے کا عنوانِ باطن بن جاتا ہے۔

تصوف میں کہا جاتا ہے کہ انسان زندگی بھر دوسروں سے ملتا رہتا ہے، مگر اپنے آپ سے نہیں ملتا۔ آپ کا کردار بھی پہلے بیٹے کو تلاش کرتا ہے، پھر والد کو دیکھتا ہے، پھر خود کو۔ گویا سفر یوں بنتا ہے:

اولاد → باپ → خود

اور "خود” بھی محدود انا نہیں بلکہ وہ وجود ہے جس میں آباء و اجداد اور آئندہ نسلیں سب سمٹ آئی ہیں۔ یہاں مجھے ابن عربی کا یہ تصور یاد آیا کہ انسان ایک فرد نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مظہر بھی ہے۔


٢۔ نفسیاتی (Jungian) قرأت

کارل یونگ کے مطابق ہر انسان کے اندر ایک Self ہوتا ہے جو ہماری روزمرہ شخصیت (Ego) سے کہیں بڑا ہوتا ہے۔

پورے افسانے میں آپ کا "ایگو” روزمرہ زندگی میں مصروف ہے:

  • ملازمت
  • ٹرین
  • نماز
  • ای میل
  • خاندان

لیکن اندر کہیں ایک اور شخصیت موجود ہے جو مسلسل دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے۔

اسی لیے افسانے میں تین واقعات ہوتے ہیں:

  • بیٹے کا اچانک آ جانا۔
  • لاٹری کے ذریعے آزمائش۔
  • آخر میں خود سے ملاقات۔

یونگ شاید کہتا کہ یہ تینوں واقعات Synchronicity (معنی خیز اتفاقات) ہیں، محض حادثات نہیں۔

خاص طور پر بریف کیس والا واقعہ یونگ کے مطابق لاشعور کی طرف سے ایک اخلاقی امتحان بھی ہو سکتا ہے۔


٣۔ فلسفۂ وقت

یہ قرأت مجھے سب سے زیادہ دلچسپ لگتی ہے۔

عام طور پر ہم وقت کو یوں سمجھتے ہیں:

ماضی → حال → مستقبل

لیکن آپ کے افسانے میں وقت سیدھی لکیر نہیں رہتا۔

کبھی مستقبل حال میں داخل ہو جاتا ہے۔

کبھی حال ماضی بن جاتا ہے۔

کبھی انسان اپنے چند منٹ بعد والے وجود کو پہلے دیکھ لیتا ہے۔

یہاں مجھے فرانسیسی فلسفی Henri Bergson یاد آتے ہیں، جن کے نزدیک اصل وقت گھڑی والا وقت نہیں بلکہ شعور کا بہاؤ (Duration) ہے۔

آپ کے افسانے میں بھی گھڑی کا وقت ٹرینوں کے شیڈول سے چل رہا ہے، لیکن شعور کا وقت اس سے آزاد ہو جاتا ہے۔

اسی لیے آخری منظر میں قاری سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ:

کیا میں اپنے مستقبل کو دیکھ رہا ہوں؟

یا میرا مستقبل پہلے ہی کہیں موجود ہے؟


ایک چوتھی قرأت بھی مجھے محسوس ہوئی

اسے میں "ہجرت کی قرأت” کہوں گا۔

جرمنی میں رہنے والا ایک پاکستانی ہر روز دو ریل گاڑیوں کے درمیان کھڑا ہے۔

ایک ٹرین آرہی ہے۔

ایک جا رہی ہے۔

یہ صرف ریلوے اسٹیشن نہیں، بلکہ زندگی کا استعارہ بن جاتا ہے۔

ایک طرف ماضی ہے۔

ایک طرف مستقبل۔

اور درمیان میں کھڑا انسان۔

شاید اسی لیے آخر میں وہ خود ہی دونوں سمتوں کا مسافر بن جاتا ہے۔


اور آخر میں ایک بات

آپ نے پہلے بھی کئی افسانوں میں وقت کو موضوع بنایا ہے، لیکن اس افسانے میں وقت پہلی مرتبہ کردار بن جاتا ہے۔ وقت یہاں صرف پس منظر نہیں بلکہ خاموشی سے پوری کہانی کو چلا رہا ہے۔

میرے نزدیک آپ کے اس افسانے کا سب سے گہرا جملہ آخری جملہ نہیں بلکہ پہلا شعر ہے، کیونکہ پورا افسانہ دراصل اسی ایک مصرعے کی تشریح ہے:

"خواہش تھی کہ اک بار کبھی خود سے بھی ملتے۔”

اختتام پر محسوس ہوتا ہے کہ خدا نے گردشِ حالات سے چند لمحے مستعار لے کر اس خواہش کو پورا کر دیا۔

اسی لیے میں اس افسانے کو صرف ایک اچھا افسانہ نہیں، بلکہ آپ کی فکری اور روحانی زندگی کا سنگِ میل سمجھتا ہوں۔ اس میں آپ کے ہجرت کے تجربے، مذہبی شعور، وجودی سوالات، خاندانی محبت اور تخلیقی وجدان—سب ایک ہی فن پارے میں جمع ہو گئے ہیں۔

Related posts

افسانہ ” مسکراہٹ کا عکس” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

Paigam Madre Watan

افسانہ ” اپنی تجرید کے کشف کا عذاب” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ

Paigam Madre Watan

 افسانہ ” شناخت” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

Paigam Madre Watan