Urdu Literature & A.I. اردو ادب اور اے آٸ

 افسانہ ” دو ہزار سات سو سال بعد” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی

 افسانہ ” دو ہزار سات سو سال بعد” پر مکالمہ
اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ 
حیدرقریشی کا افسانہ 
دو ہزار سات سو سال بعد
حیدرقریشی :
بشارت صاحب سلام
تین دن سے ہم سادہ بیانیہ پڑھ رہے ہیں ۔ "بھولے کی پریشانی ” اور ” انکل انیس” تو سیدھی راہ پر چلتی کہانیاں تھیں جبکہ سادہ بیانیہ کے باوجود "شناخت ” کچھ الگ تھی۔لیکن اب ہم پھر اپنی پہلی ڈگر کی طرف چلتے ہیں ۔افسانہ پیش کر رہا ہوں "دو ہزار سات سو پچاس سال بعد” ۔۔۔۔۔ آپ کے تجزیے اور رائے کا انتظار رہے گا۔
………………………………………………
ڈیجیٹل بشارت صاحب :
 بشارت صاحب کا سلام قبول فرمائیے۔

سب سے پہلے تو ایک بات۔ آج واقعی ایسا محسوس ہوا کہ ہم پھر آپ کے اسی تخلیقی علاقے میں واپس آ گئے ہیں جہاں "حوّا کی تلاش”، "روشنی کی بشارت”، "غریب بادشاہ”، "شناخت” اور دوسرے علامتی افسانے سانس لیتے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں کی سادہ بیانیہ کہانیوں کے بعد یہ افسانہ قاری سے ایک بالکل مختلف ذہنی آمادگی کا تقاضا کرتا ہے۔ یہاں واقعہ نہیں، استعاروں کا نظام اصل کہانی ہے۔

یہ افسانہ میں ایک نشست میں ختم کرنے کے بعد دوبارہ اس کے بعض حصے پڑھنے پر مجبور ہوا، کیونکہ اس کی اصل پرتیں پہلی قرأت میں پوری طرح نہیں کھلتیں۔

عنوان

"دو ہزار سات سو پچاس سال بعد”

یہ عنوان ابتدا ہی میں قاری کو چونکا دیتا ہے۔

پہلے خیال آتا ہے کہ شاید یہ مستقبل (Science Fiction) کی کوئی کہانی ہوگی، لیکن چند سطروں بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ مستقبل کی کہانی نہیں بلکہ تاریخ کے مسلسل لوٹ آنے کی کہانی ہے۔

"دو ہزار سات سو پچاس سال” ایک تاریخی فاصلے کا استعارہ ہے۔ گویا انسان نے ہزاروں برس گزار لیے، لباس بدل لیے، قانون بدل لیے، سلطنتیں بدل لیں، لیکن اقتدار، تعصب، وفاداری، سازش اور جبر کی بنیادی نفسیات اب بھی وہی ہے۔

یہ عنوان اسی لیے بہت کامیاب ہے کہ وہ قاری کی توقع کو بدل دیتا ہے۔


افسانے کی بنیادی ساخت

یہ روایت کے اعتبار سے افسانہ کم اور اساطیری خود کلامی (Mythic Monologue) زیادہ ہے۔

راوی خود کو اوڈیسس قرار دیتا ہے لیکن فوراً کہتا ہے:

"میں وہ اوڈیس ہوں جسے کوئی ہومر نصیب نہیں۔”

یہ جملہ میرے نزدیک پورے افسانے کی کنجی ہے۔

اس کا مطلب صرف یہ نہیں کہ اس کے حالات لکھنے والا کوئی شاعر موجود نہیں، بلکہ اس کا مفہوم کہیں زیادہ گہرا ہے۔

یعنی:

"مجھے اپنی جنگ بھی خود لڑنی ہے اور اپنی تاریخ بھی خود لکھنی ہے۔”

یہ جدید ادیب کی تقدیر بھی ہے۔


سب سے بڑی فنی کامیابی

آپ نے یونانی اساطیر کو نقل نہیں کیا۔

آپ نے انہیں دوبارہ زندہ کیا ہے۔

فرق دیکھیے۔

پرانی داستان میں:

  • ہیلن اغوا ہوتی ہے۔
  • ٹرائے تباہ ہوتی ہے۔
  • ایگامیمنن قتل ہوتا ہے۔

آپ کے افسانے میں:

  • اغوا کی جگہ طلاق آ جاتی ہے۔
  • قتل کی جگہ قانونی علیحدگی آ جاتی ہے۔
  • جنگ کی جگہ سیاسی کشمکش آ جاتی ہے۔

یعنی

زمانہ بدل گیا۔

لیکن

طاقت کے کھیل نہیں بدلے۔

یہ بہت عمدہ تخلیقی تدبیر ہے۔


پوسی ڈان

میرے نزدیک پورے افسانے کا سب سے طاقتور استعارہ یہی ہے۔

پوسی ڈان صرف سمندر کا دیوتا نہیں رہتا۔

وہ

اقتدار

مذہبی اختیار

سیاسی طاقت

ادارہ

مرکز

سب کا مجموعہ بن جاتا ہے۔

خاص طور پر یہ جملہ:

"اس کے مقرر کردہ مشیروں کی مذمت کرنا خود دیوتا کی مذمت کرنے کے مترادف ہے۔”

اس ایک جملے میں آمریت، شخصیت پرستی، مذہبی اجارہ داری اور سیاسی مرکزیت سب آ گئے ہیں۔

بہت کم لفظوں میں بہت بڑا مفہوم۔


بڑی مچھلیاں اور مگرمچھ

یہ بھی دلچسپ علامت ہے۔

آپ انہیں نام نہیں دیتے۔

اس لیے وہ ہر زمانے میں زندہ رہتے ہیں۔

وہ

بیوروکریسی بھی ہو سکتے ہیں۔

طاقتور مذہبی گروہ بھی۔

ریاستی اہلکار بھی۔

سرمایہ دار بھی۔

سیاسی حلیف بھی۔

اور یہی علامت کی کامیابی ہے۔


پینی لوپی

یہاں آ کر افسانہ صرف سیاسی نہیں رہتا۔

انسانی بھی ہو جاتا ہے۔

یہاں مجھے محسوس ہوا کہ شاید اس کردار میں کہیں نہ کہیں آپ کی اپنی ذاتی زندگی کی روشنی بھی شامل ہے۔

وہ خود پوسی ڈان کی عقیدت مند ہے۔

اس کا خاندان بھی۔

اس کے باوجود

وہ شوہر کا ساتھ نہیں چھوڑتی۔

یہ وفاداری جذباتی نہیں بلکہ شعوری ہے۔

یہ فرق بہت اہم ہے۔


ہومر والا استعارہ

افسانے میں کئی جگہیں قابلِ ذکر ہیں لیکن سب سے زیادہ دیر تک میرے ذہن میں یہی جملہ رہا:

"مجھے ہومر کے حصے کا کام بھی خود کرنا ہے۔”

یہ جملہ دراصل ہر اس لکھنے والے کی قسمت بیان کرتا ہے جو اپنی سچائی خود لکھنے پر مجبور ہو۔

کئی ادیبوں کو مورخ مل جاتے ہیں۔

کئی کو نقاد۔

کئی کو ریاست۔

لیکن بعض لوگوں کو

اپنی داستان بھی خود لکھنی پڑتی ہے۔


آنکھوں کا استعارہ

افسانے کا شاید سب سے خوبصورت جملہ یہ ہے:

"ہومر کے برعکس میری دونوں آنکھیں سلامت ہیں۔”

یہ صرف جسمانی آنکھوں کی بات نہیں۔

یہ شعور کی آنکھ ہے۔

اور اس کے فوراً بعد:

"آنکھیں کھلی ہوں تو دیکھنے کا عذاب جھیلنا پڑتا ہے۔”

یہ جملہ پورے افسانے کو وجودی سطح تک لے جاتا ہے۔


تاریخ

آپ کا ایک مستقل فکری موضوع یہ رہا ہے کہ

تاریخ واقعات نہیں دہراتی،

نفسیات دہراتی ہے۔

یہ افسانہ اسی نظریے کا شاید سب سے منظم اظہار ہے۔


زبان

یہاں زبان نسبتاً سادہ ہے۔

اصل پیچیدگی جملوں میں نہیں،

علامتوں میں ہے۔

یہ خوبی ہے۔

اگر زبان بھی اسی قدر پیچیدہ ہوتی تو افسانہ بوجھل ہو جاتا۔


ایک چھوٹا سا تنقیدی سوال

یہ سوال اعتراض نہیں بلکہ ادبی مکالمے کے لیے ہے۔

افسانے کے آخر کے حصے میں بعض سیاسی اشارات نسبتاً زیادہ واضح ہو جاتے ہیں۔

اس سے ایک جگہ مجھے یوں محسوس ہوا کہ علامت چند لمحوں کے لیے تمثیل بننے لگتی ہے۔

اگر ان دو تین مقامات پر ابہام کی مقدار ذرا سی اور رہتی تو شاید افسانے کی فنی طاقت اور بڑھ جاتی، کیونکہ تب ہر زمانے کا قاری اسے اپنی صورتِ حال پر منطبق کر سکتا۔

البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے شعوری طور پر یہ راستہ اختیار کیا ہو تاکہ اپنے عہد کی شہادت ریکارڈ ہو جائے۔ اس صورت میں یہ انتخاب فنی نہیں بلکہ اخلاقی اور تاریخی ہے۔


مجموعی تاثر

میرے نزدیک یہ افسانہ آپ کے ان افسانوں میں شامل ہے جنہیں صرف "پڑھا” نہیں جا سکتا، بلکہ ان کے ساتھ قاری کو یونانی اساطیر، مذہبی حوالوں، تاریخ اور معاصر سیاست کے درمیان مسلسل سفر کرنا پڑتا ہے۔

ایک بات اور بھی میرے ذہن میں آئی۔ آپ کے بہت سے افسانوں میں راوی کسی نہ کسی شکل میں "شاہد” ہے، لیکن اس افسانے میں وہ صرف شاہد نہیں بلکہ اپنی تاریخ کا مؤرخ بھی ہے۔ اسی لیے "مجھے ہومر کے حصے کا کام بھی خود کرنا ہے” محض ایک خوبصورت جملہ نہیں، بلکہ پورے افسانے کا فکری منشور بن جاتا ہے۔

آخر میں، مجھے اس افسانے کا آخری اعتماد بہت پسند آیا۔ یہ اعتماد جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسے انسان کی آواز ہے جو مسلسل آزمائشوں سے گزرنے کے بعد یہ کہتا ہے کہ تاریخ کا آخری فیصلہ جبر نہیں، شعور کرے گا۔

میرے نزدیک "دو ہزار سات سو پچاس سال بعد” آپ کے علامتی اور اساطیری افسانوں کی روایت میں ایک نمایاں اور پختہ تخلیق ہے، جس میں ذاتی تجربہ، تہذیبی حافظہ، یونانی اساطیر، سیاسی تمثیل اور وجودی بصیرت ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو جاتے ہیں کہ انہیں الگ کرنا ممکن نہیں رہتا۔ یہی اس افسانے کی اصل ادبی قوت ہے۔

………………………………………………………

حیدرقریشی :

شکریہ بشارت صاحب

آپ نے ٹھیک اندازہ لگایا ۔۔۔۔یہ افسانہ ہلکا سا نہیں بہت زیادہ میری زندگی کے ایک مرحلے کی داستان ہے ۔آپ نے آخر میں جس اعتماد کو سراہا ہے تب وہ سب کچھ رونما ہو رہا تھا۔بعد میں میرا اعتماد سچ ثابت ہوا ۔۔۔۔سب کچھ میری امید کے مطابق ہوا اور میں جرمنی پہنچ گیا ۔

………………………………………………………

ڈیجیٹل بشارت صاحب:

لاکھ صحرا اور سمندر بچھ گئے تھے راہ میں

اِن فقیروں نے جہاں سے پار ہونا تھا ، ہوئے

آج شام کو اپنی یہی غزل پیش کروں گا۔

……………………………………………………………

ڈیجیٹل بشارت صاحب :

حیدر صاحب، السلام علیکم!

یہ جان کر مجھے حقیقی خوشی ہوئی کہ میرے تاثر کی آپ نے تصدیق کر دی۔ اب افسانے کی ایک اور تہہ پوری طرح روشن ہو گئی ہے۔

اب مجھے اس افسانے کا ایک جملہ پہلے سے بھی زیادہ معنی خیز محسوس ہو رہا ہے:

"مجھے ہومر کے حصے کا کام بھی خود کرنا ہے۔”

پہلی قرأت میں یہ ایک عظیم ادبی استعارہ لگا تھا، لیکن اب معلوم ہوا کہ یہ محض استعارہ نہیں، بلکہ آپ کی اپنی زندگی کا حاصل بھی تھا۔ آپ صرف اوڈیسس کے کردار میں نہیں تھے، بلکہ اپنی جلاوطنی، اپنے انتظار، اپنی امید اور اپنی داستان کے خود مؤرخ بھی تھے۔

آپ نے فرمایا:

"بعد میں میرا اعتماد سچ ثابت ہوا۔۔۔ سب کچھ میری امید کے مطابق ہوا اور میں جرمنی پہنچ گیا۔”

یہ جاننے کے بعد افسانے کا اختتام ایک نئے معنی اختیار کر لیتا ہے۔ اب وہ محض ایک آرزو نہیں رہتی بلکہ پیش بینی کی سی قوت رکھتی ہے۔ گویا راوی تاریخ کے اندھیرے میں بھی اس سمت کو دیکھ رہا تھا جہاں آخرکار اس نے پہنچنا تھا۔

اور پھر آپ کا یہ شعر…

لاکھ صحرا اور سمندر بچھ گئے تھے راہ میں
اِن فقیروں نے جہاں سے پار ہونا تھا، ہوئے

یہ شعر دراصل اسی افسانے کا شعری خلاصہ معلوم ہوتا ہے۔

"صحرا” اور "سمندر” یہاں صرف جغرافیہ نہیں، آزمائشیں ہیں۔
"فقیر” صرف درویش نہیں، وہ انسان ہے جو طاقت کے بغیر بھی یقین کی دولت رکھتا ہے۔
اور "پار ہونا” صرف ہجرت نہیں، ایک اخلاقی اور روحانی کامیابی بھی ہے۔

مجھے تو اب یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ "دو ہزار سات سو پچاس سال بعد” آپ کے اُن افسانوں میں شمار ہونا چاہیے جنہیں خود نوشت کے علامتی ابواب کہا جا سکتا ہے۔ یہ روایتی خودنوشت نہیں، بلکہ اساطیر کے آئینے میں اپنی زندگی کو دیکھنے کی ایک تخلیقی صورت ہے۔ اردو افسانے میں اس اسلوب کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔

میں شام کو آپ کی یہ پوری غزل سننے کا منتظر رہوں گا۔ اگر اس غزل میں بھی اسی سفر، اسی یقین اور اسی داخلی تجربے کی بازگشت ہے، تو یقیناً افسانے اور غزل ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہوئے محسوس ہوں گے۔

بشارت صاحب کی حیثیت سے ایک چھوٹی سی ذاتی بات بھی عرض کروں گا۔ گزشتہ کئی دنوں سے آپ کے افسانوں کے ساتھ جو سفر جاری ہے، اس میں یہ افسانہ میرے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے، کیونکہ یہاں پہلی بار مجھے واضح طور پر محسوس ہوا کہ حیدر قریشی کی زندگی اور حیدر قریشی کی علامتیں الگ الگ نہیں چل رہیں؛ ایک دوسرے کے اندر سانس لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کے علامتی افسانے محض فکری مشق نہیں بنتے، ان میں جیتی جاگتی زندگی کی حرارت بھی موجود رہتی ہے۔

شام کی نشست کا انتظار رہے گا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ غزل اس افسانے کی بازگشت کو ایک اور خوبصورت زاویہ عطا کرے گی۔

Related posts

افسانہ ” اندھی روشنی” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ 

Paigam Madre Watan

افسانہ ” حوا کی تلاش” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ 

Paigam Madre Watan

 افسانہ ” روشن نقطہ” پر مکالمہ اور ڈیجیٹل بشارت صاحب کا تجزيہ : حیدرقریشی کا افسانہ

Paigam Madre Watan